یوم دفاع

میریا ڈھول سپاہیا، تینوں رب دیاں رکھاں

متعدد جنگی و قومی نغموں کے خالق صوفی غلام مصفطیٰ تبسم کے حوالے سے اُن کی پوتی ڈاکٹر فوزیہ تبسم کی ہلال کے لئے ایک خصوصی تحریر
 ستمبر1965 کی جنگ  کے وقت گو بہت چھوٹی تھی مگر ہمارے گھر میں سب ایک نئے جذبے کے ساتھ اپنے ملک' پاکستان 'کی محبت سے سرشار تھے۔ جن میں صوفی تبسم ،میرے دادا، بھی بے حد بے چین و پریشان تھے۔ اُنہیں اپنے فوجی جوانوں کی فکر تھی جو بارڈر پر بہادری کے کارناموں سے نئی تاریخ رقم کررہے تھے۔ مجھے یاد ہے اس بے چینی کے عالم میں انہوں نے ریڈیو پاکستان فون کیا کہ میں ریڈیو آنا چاہتا ہوں وہ فوراً تیار ہوئے اور کچھ ہی دیر میں ریڈیو پاکستان کی گاڑی آئی اور وہ چلے گئے۔شام کا وقت قریب تھا جس میں روزانہ فوجی بھائیوں کا پروگرام نشر ہوتا تھا۔ ہمارے گھر کے سب افراد فوجی بھائیوں کا پروگرام سننے کے لئے ریڈیو لگا کر اُس کے اِرد گرد بیٹھ جاتے۔ 6 ستمبر1965 کو جو ترانہ سب سے پہلے فوجی بھائیوں کے پروگرام میں ہی نشر ہوا اُس کے بول آپ سب جانتے ہیں۔
میریا ڈھول سپاہیاں تینوں رب دیاں رکھاں
آج تکدیاں تینوں سارے جگ دیاں اکھاں
قلم ہاتھ میں پکڑتے ہی میری یادوں کے کواڑ آہستہ آہستہ کھلنے لگتے ہیں اور میں اُس مکتب میں آپہنچتی ہوئی جہاں چاروں طرف اَدب اور فلسفے کا ڈیرہ تھا۔ایک دانا درویش اُس ڈیرے کی روح تھا اور ہم سب اُس کا ہالا۔ میرے لئے اُن کا کچھ کہنا حرفِ آخر تھا جن کی نظرعقابی، جن کے لفظ خوشبو تھے جن کی گفتار اور کردار میں ہمیشہ مماثلت دیکھی۔ اُن کی پیار بھری نظروں کے حصار میں رہنا ہماری خوش قسمتی تھی اُن کی تربیت ہمارا نصیب تھا۔ یہ درویش شاعر اَدیب و مفکر اور اُستاد صوفی غلام مصطفی تبسم ہمیں ہمارے دادا کی صورت میں ملے تھے۔ میری چھوٹی سی عمر میں اُنہوں نے ہماری عقل وفہم کے لئے کئی دریچے وَا کئے تھے۔ وہ ہماری تربیت میں لگے رہتے۔ مہمانوں کو سلام کیسے کرنا ہے، اُن کے پاس تمیز سے کیسے بیٹھنا ہے۔ مہمان کی عزت، اس کا احترام کیسے کیا جاتا ہے، محبتوں کو کیسے پالا جاتا ہے، گھر کا سلیقہ کیا ہوتا ہے، گھر کا سکون اور خاموشی کیا معنی رکھتی ہے۔ سبز چائے کیسے بنائی جاتی ہے۔
انہوں نے ہمیں بتایا کتاب کی کیا اہمیت ہے ،اُسے ہاتھ میں کس سلیقے سے پکڑا جاتا ہے، اُس کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے اور پڑھ کر کہاں اورکیسے رکھا جاتا ہے ۔غرض یہ کہ کتاب سے لے کر گھر داری کی ہر چیز کس طرح سلیقہ مندی سے اپنی اپنی جگہ رکھی جاتی ہے۔
اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ اچھا انسان وہ ہے جس کے اخلاق و اطوار اچھے ہیں۔ انہوں نے اپنے عمل سے بتایا بناوٹ کی کوئی اہمیت نہیں، دھن دولت کچھ بھی نہیں دنیا میں دولت ہے تو صرف علم کی دولت ہے، جسے حاصل کرنے کے بعد اپنی روح میں اُتارنا ہے ورنہ یہ زہر بن جاتا ہے۔ 
اس تربیت کے ساتھ ساتھ میری نظر اُن پر مرکوز رہتی ، اُن کے لکھے فقروں اور جملوں پر غور کرتی اُن کی شاعری کو سمجھنے کی کوشش کرتی۔
آہستہ آہستہ میرے شعور کی گرہیں کھلنے لگیں اور میںنے، جس سے ہنسنا سیکھا، ہاتھ پکڑ کر چلنا سیکھا، اُن کی صحبتوں میں علم کو جذب کرنا سیکھا اَب وہ یہ سب دیکھ کر خوش ہونے لگے اور پھر وہ ایک دِن چپ چاپ ہمیشہ کے لئے لمبے سفر پر چلے گئے…
اُنہی کا شعر ہے
    کیوں چھین کے گلشن سے قضا لے گئی تجھ کو
تو موجۂ گل تھا کہ صبا لے گئی تجھ کو
سوچ میں ڈوبی میری عقل ، کانپتی روح اور آنسوئوں سے تر پلکوں سے چند اشعاراُبھرے اور گم ہوگئے۔ ایک سرگوشی ہوئی اور ہوا کی لہروں میں کہیں کھوگئی۔پھر ایک دن دِلِ مضطر نے ہاتھ میں قلم اُٹھایا اور کچھ لکھ ڈالا اور پھر یہ سلسلہ ایسا چلا کہ آج تک قائم ہے۔ اُن کے عمل میں اُن کے افکار ، اُن کی کتابیں ، اُن کے اشعار  ہمارے ورثے کے روپ میں آج بھی ہمارے ساتھ ہیں۔
صوفی غلام مصطفےٰ تبسم 4 اگست1899 کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔صوفی صاحب نے جس شہر میں آنکھ کھولی وہ'' امبر سر'' کہلاتا تھا۔ جس کا پانی میٹھا تھا اور اُس کی شیرینی صوفی صاحب کی کتابوں میں موجود تھی۔ یہ شہر ایسا تھا جہاں بڑے بڑے شہرت یافتہ شاعر، ادیب علماء، فضلاء اور مشائخ بستے تھے۔
1931 سے1954 تک کا زمانہ تدریسی فرائض انجام دینے میں گزارا۔ اُنہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور کے لئے بے انتہاخدمات انجام دیں، وہ وہاں صدر شعبہ اُردو اور صدر شعبہ فارسی رہے۔ اُنہوں نے ڈرامیٹک  سوسائٹی کا بھی اجراء کیا ۔شیکسپیئر کے کئی ڈراموں کا ترجمہ کیا اور پھر سٹیج ڈرامے بھی کروائے۔ اُن کے شاگردوں میں بہت سے ایسے نام ہیں جنہوں نے اُستادکی کی طرح شہرت پائی۔ ان میں سعادت حسن منٹو، قدرت اﷲ شہاب، الطاف گوہر، تجمل حسن ، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، کشور ناہید، فیض احمدفیض، اعجاز بٹالوی، جسٹس نسیم حسن شاہ، حنیف رامے، شہزاد احمد ، ڈاکٹر عبدالسلام اور پروفیسر مشکور حسین یادجیسے لاتعداد معروف لوگ شامل ہیں۔
پاکستان بننے کے بعد لاہور میں ایک علمی و ادبی حلقہ نیاز مندانِ لاہور کے نام سے مشہور ہے۔ جس میں پطرس بخاری، ایم ڈی تاثیر، عبدالمجید سالک، چراغ حسن حسرت ، حفیظ جالندھری، پنڈت ہری چند اختر، کرنل مجید ملک، امتیاز علی تاج اور عبدالرحمن چغتائی شامل تھے۔ صوفی صاحب کے گھر میں بھی ادبی مجالس کا سلسلہ جاری و ساری رہا۔ اُن مجالس میں اُستاد دامن، احسان دانش، فیض احمدفیض ، کشور ناہید، یوسف کامران، ڈاکٹر حمیدالدین، عابدعلی عابد اور کئی نامور شخصیات شامل ہوتی تھیں۔
صوفی صاحب نے علامہ اقبال ، غالب اور امیر خسرو کے کلام کے منظوم تراجم بھی کئے،  علاوہ ازیں بہت سے انگلش شعراء کی تخلیقات کے تراجم بھی آپ کی علمی وفکری ساکھ کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
صوفی صاحب آخری وقت تک اقبال اکیڈمی کے وائس پریذیڈنٹ رہے۔  وہ لاہور آرٹس کونسل کے پہلے چیئرمین رہے۔ صوفی صاحب ابتدائی دور سے ہی اُردو ، فارسی اور پنجابی تینوں زبانوں میں اپنا لوہا منواچکے تھے۔


پھر ایک وقت ایسا آیا جب دشمن بھارت نے چونڈہ کے مقام پر ٹینکوں سے حملہ کیا وہاں گھمسان کی جنگ ہوئی۔ ہمارے فوجی جوانوں نے جامِ شہادت نوش کئے۔ یہ خبر سنتے ہوئے میرا پورا گھر خاموش تھا سب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ میں نے اپنے دادا کو اتنا پریشان اور اُداس پہلے کبھی نہ دیکھا تھا اُن کی آنکھوں میں آنسوتھے  ہاتھوں میں قلم تھا۔ اُس وقت اپنی نمناک آنکھوں اور غم سے ڈوبے دل کے ساتھ کیا لکھا ہمیں کچھ علم نہ تھا۔ وہ ریڈیو چلے گئے، شام کو فوجی بھائیوں کے پروگرام میں جو قومی ملی ترانہ نشر ہوا وہ  'اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے ' تھا ملکۂ ترنم نور جہاں نے بھی یہ ترانہ کس طرح ریکارڈ کروایا ہوگا ہم محسوس کرسکتے ہیں۔


ریڈیو پاکستان میں مشیر اعلیٰ کی حیثیت سے نہایت تندہی سے کام کیا اور زبان و بیاں کے حوالے سے بے حد قیمتی سرمایہ آنے والی نسلوں کی آبیاری کے لئے فراہم کیا۔1965 کی جنگ میں لکھے گئے جنگی و ملی ترانے اُن کا ایک خاص حوالہ بنے اور وہ جنگی و قومی ترانے ہمارے جذبوں کو آج بھی تروتازہ رکھے ہوئے ہیں۔6ستمبر1965 کو ہمارے دشمن بھارت نے رات کے اندھیرے میں پاکستان پر حملہ کیا مگر ہماری بہادر ، نڈر اور دلیر افواج نے نہایت بہادری سے لڑتے ہوئے دشمن کے دانت کھٹے کئے۔ جس طرح اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے دنیا میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ستمبر1965 کی جنگ  کے وقت گو بہت چھوٹی تھی مگر ہمارے گھر میں سب ایک نئے جذبے کے ساتھ اپنے ملک' پاکستان 'کی محبت سے سرشار تھے۔ جن میں صوفی تبسم ،میرے دادا، بھی بے حد بے چین و پریشان تھے۔ اُنہیں اپنے فوجی جوانوں کی فکر تھی جو بارڈر پر بہادری کے کارناموں سے نئی تاریخ رقم کررہے تھے۔ مجھے یاد ہے اس بے چینی کے عالم میں انہوں نے ریڈیو پاکستان فون کیا کہ میں ریڈیو آنا چاہتا ہوں وہ فوراً تیار ہوئے اور کچھ ہی دیر میں ریڈیو پاکستان کی گاڑی آئی اور وہ چلے گئے۔شام کا وقت قریب تھا جس میں روزانہ فوجی بھائیوں کا پروگرام نشر ہوتا تھا۔ ہمارے گھر کے سب افراد فوجی بھائیوں کا پروگرام سننے کے لئے ریڈیو لگا کر اُس کے اِرد گرد بیٹھ جاتے۔ 6ستمبر1965 کو جو ترانہ سب سے پہلے فوجی بھائیوں کے پروگرام میں ہی نشر ہوا اُس کے بول آپ سب جانتے ہیں۔
میریا ڈھول سپاہیاں تینوں رب دیاں رکھاں
آج تکدیاں تینوں سارے جگ دیاں اکھاں
یہ جنگی ملی ترانہ بہت ہی جذبے سے صوفی تبسم صاحب نے لکھا اور بہت جلدی ریکارڈ ہوا۔ صوفی تبسم سٹوڈیو میں بیٹھ کر ہی لکھتے جارہے تھے ، موسیقار موسیقی بنا رہا ہوتا اور ملکہ ترنم نورجہاں اپنی خوبصورت آواز کے ساتھ جذبوں کی انتہا کے ساتھ گارہی ہوتیں۔ وہ افواجِ پاکستان کی بہادری پر اُنہیں دُعائیں بھی دے رہے تھے اور اُن کے جذبوں کی تعریف بھی کررہے تھے۔ پھر ایسا ہوا کہ روزانہ کئی ترانے ریکارڈ ہونے لگے صوفی صاحب صبح سے شام تک ریڈیو پاکستان پر ہی ہوتے۔ صوفی صاحب نے بہت سے قومی ترانے لکھ کر افواجِ پاکستان کے حوصلے بڑھائے۔ ان میں: او ماہی چھیل چھبیلا ہائے نی جرنیل نی کرنیل نی،یہ ہوائوں کے مسافر، یہ سمندروں کے راہی، میرے سربکف مجاہد میرے صف شکن سپاہی،قدم بڑھائو ساتھیو، قدم بڑھائو ساتھیو، ہمارا توپ خانہ ہمارا توپ خانہ،  بلا کا ہے ہمارا توپ خانہ (جنرل ٹکا خان کے کہنے پر لکھا گیا)اور ایہہ پُتر ہٹاں تے نیں وِکدے،کیہہ لبھنی ایں وچ بازار کڑے، جیسے شہرئہ آفاق ترانے شامل ہیں۔
پھر ایک وقت ایسا آیا جب دشمن بھارت نے چونڈہ کے مقام پر ٹینکوں سے حملہ کیا وہاں گھمسان کی جنگ ہوئی۔ ہمارے فوجی جوانوں نے جامِ شہادت نوش کئے۔ یہ خبر سنتے ہوئے میرا پورا گھر خاموش تھا سب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ میںنے اپنے دادا کو اتنا پریشان اور اُداس پہلے کبھی نہ دیکھا تھا اُن کی آنکھوں میں آنسوتھے  ہاتھوں میں قلم تھا۔ اُس وقت اپنی نمناک آنکھوں اور غم سے ڈوبے دل کے ساتھ کیا لکھا ہمیں کچھ علم نہ تھا۔ وہ ریڈیو چلے گئے، شام کو فوجی بھائیوں کے پروگرام میں جو قومی ملی ترانہ نشر ہوا وہ  'اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے ' تھا ملکۂ ترنم نور جہاں نے بھی یہ ترانہ کس طرح ریکارڈ کروایا ہوگا ہم محسوس کرسکتے ہیں۔ میرے گھر کا ہرفرد رو رہا تھا، ہمارے بہادر فوجی جوانوں نے واقعی اپنی بہادری اور شجاعت سے ایک نئی تاریخ رقم کی تھی۔ صوفی تبسم اورریڈیو پاکستان نے شہیدوں کی جرأت اور بہادری پر اُنہیں سلام پیش کیا تھا ہمارے اُن شہیدوں کا نام رہتی دُنیا تک سنہری حروف میں لکھا جاتا رہے گا۔
یعنی بچپن سے لے کر جوانی اور جوانی سے لے کر آخری عمر تک صوفی صاحب نے جو کچھ بھی لکھا پوری دیانتداری سے اپنے ملک و قوم کے لئے لکھا۔وہ اپنے ملک سے بے حد محبت کرتے تھے۔ اسی وجہ سے صوفی صاحب کے کئے ہوئے کام کو علم و ادب میں ایک حیثیت حاصل رہی ہے۔ ان کی ان خدمات پر اُنہیں کئی اعلیٰ قومی اعزازات سے نوازا گیا۔ جس میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس اور ستارئہ جرأت سے نوازا گیا۔ جبکہ حکومتِ ایران کی جانب سے نشانِ فضیلت عطاکیاگیا۔ ہمہ جہت شخصیت کے مالک صوفی تبسم 7فروری 1978 کو لاہور میں انتقال فرما گئے۔اﷲ کریم ان کی محنتوں اور کاوشوں کو شرفِ قبولیت سے نوازے!!  ||


مضمون نگار، مصنفہ، کالم نگار اور براڈ کاسٹر ہیں۔
 

یہ تحریر 88مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP