متفرقات

میرا غیاث لالہ

شہید غیاث لالہ عازم حج ہونے سے پہلے ہی عازم جنت ہوگیا بلوچستان کے ایک بہادر سپوت کی کہانی جسے وطن سے محبت کی پاداش میں ملک دشمنوں نے شہید کردیا۔ اس کی بہن سلمہ محمد حسنی کے قلم سے وہ میرا چھوٹا بھائی تھا، لیکن والد میر غلام رسول محمد حسنی کی ’’بی ایل اے‘‘کے دہشت گردوں کے ہاتھوں شہادت کے بعد عملًا بڑے بھائی اور گھر کے سربراہ کے مرتبے پر فائز ہو گیا تھا۔ ہم بہنیں اسے کبھی غیاث جان اور کبھی غیاث لالہ کہتی تھیں۔ دو بیٹیوں کے بعد اللہ نے میرے والدین کو اولاد نرینہ دی تو خوب خوشیاں منائی گئیں۔ شہید بابا نے عقیقے کا فوری اہتمام کرتے ہوئے دو بکرے ذبح کئے۔ شہید بابا نے ہمارے اس ننھے منے بھائی کے لئے ایسا نام پسند کیا جو پورے خاندان میں پہلے کسی کا نہ تھا ۔ میر عبدالغیاث ہمارے خاندان میں ایک منفرد نام تھا۔ بھائی نے نوجوانی میں ہی پاک وطن کے غداروں سے مقابلے کا راستہ اختیار کر کے شہادت پائی تو اللہ نے اسے اور بھی ممتاز کر دیا ۔ بظاہر غیاث لالہ کی ایک مختصر سی زندگی اور ایک مختصر سی کہانی ہے۔ میرا غیاث لالہ 21دسمبر1995کو خضدار میں پیدا ہوا اور یہیں پاکستانی پرچم سربلند رکھنے کی پاداش میں 29 اکتوبر 2013 کو شہید ہو گیا۔ لیکن اس کہانی کا ایک ایک لفظ شہادت دیتا ہے کہ وہ واقعی عظیم تھا۔ مختصر سی زندگانی میں شہادت سے پہلے ایک بڑے حادثے اور ایک بڑے سانحے کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کا اعزاز بھی  میرے غیاث لالہ کو ملا۔ صرف آٹھ برس کا تھا کہ خضدار سے گزرنے والی کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ایک خوفناک حادثے کا شکار ہو کر کچھ عرصے کے لئے یادداشت سے محروم ہو گیا۔ ہم گھر والوں کو اس حادثے کی اطلاع دیر سے ملی۔ اس سے پہلے ہی بھائی کو سول ہسپتال میں لوگوں نے شدید زخمی حالت میں پہنچا دیا تھا۔ حادثے کے چار گھنٹے بعد پتہ چلا کہ غیاث سڑک کنارے زخمی ہوگیا تھا۔ ہسپتال پہنچے تو معلوم ہوا کہ بھائی مسلسل بے ہوش پڑا ہے۔ ابو ڈاکٹروں کے مشورے سے بھائی کو کوئٹہ کے ایک بڑے ہسپتال میں لے گئے۔ جہاں بھائی کو پانچ دن تک ہوش نہ آسکا۔ پانچ دن کے بعد جب ہوش آیا تو بہن بھائیوں کے لئے یہ زخمی پھول رو روکر اپنی گالوں کو شبنمی کر نے لگا۔ ابو کو مجبوراً واپس لانا پڑا۔ چوٹ نے بھائی کی یاد داشت اور گویائی کو جزوی طور پر متاثر کیا تھا۔ مکمل صحت یابی تک بھائی کا سکول جانا مشکل ہو گیا۔ البتہ ہمیں گھر میں ٹیوشن پڑھانے کے لئے آنے والے ہمارے ٹیچر آتے تو غیاث بھائی کو بھی ہمارے ساتھ بٹھا دیا جاتا تاکہ ان کی سکول کی یادیں تازہ ہوں اور ان کا دماغ اس طرف مائل ہو۔ یہ طریقہ کارگر رہا۔ ایک روز ہمارے ٹیچر نے غیاث بھائی سے ان کا نام پوچھا تو اس نے بولنے کے بجائے لکھ کر اپنا نام بتایا۔ گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ غیاث کی یادداشت ٹھیک ہو گئی ہے۔ پھر آہستہ آہستہ وہ مکمل صحت یاب ہو گئے تو سکولنگ دوبارہ شروع ہو گئی۔ کچھ عرصہ گھر میں رہنے کی وجہ سے بھائی کی ہم بہنوں سے قربت اور بڑھ گئی۔ لیکن جب سکول جانا شروع کیا تو سکول کے بچوں کے ساتھ بھی دوستی کا سلسلہ شروع ہوگیا ، یوں غیاث لالہ مکمل طور پر نارمل زندگی میں واپس آگیا۔ اتنے بڑے حادثے کے بعد یہ اللہ کی خاص مہربانی تھی۔ صحت یاب ہونے کے ساتھ ہی اس کی ذہانت بھری مسکراہٹیں اور شرارتیں بھی لوٹ آئیں۔ وہ سکول کے بچوں سے نہ صرف دوستیاں بنانے میں ماہر تھا بلکہ دوستیاں نبھانے میں بھی اپنی مثال آپ تھا۔ دوستوں کو پیار سے جانی کہہ کر پکارتا۔ دوستوں کے کام آنا، ان کی مدد میں لگے رہنا اس کا مشغلہ تھا۔ دوسروں کے کام آنے کا جذبہ اسے ابو سے وراثت میں ملا تھا۔ ابھی سکول لیول میں ہی تھا اس کا سکول ابو نے تبدیل کرا دیا۔ اس تبدیلی کے بعد بھی غیاث بھائی کی پڑھائی اور دلچسپی میں کمی نہ آئی۔ وہ دوستانہ خُو رکھنے کی وجہ سے جلد ہی دوستیاں بنا لیتا تھا۔ غیاث بھائی کی عمر صرف 13برس اور جماعت آٹھویں تھی کہ ابو میر غلام رسول کو دہشت گردوں نے شہید کر دیا۔ آٹھ سال کی عمر میں خوفناک ٹریفک حادثے نے ننھے غیاث کے ذہن پر ایک اور طرح کا اثر ڈالا تھا لیکن ابو کی شہادت کے سانحے کا اثر اور طرح کا تھا۔ اب گویا سب کچھ چھن گیا۔ کچھ عرصہ تو جیسے غیاث بھائی کو چپ سی لگ گئی ، لیکن آہستہ آہستہ سنبھلنے لگا۔ اس واقعے نے اس ننھے غیاث کو پاکستان کے دشمنوں کا اصل چہرہ دکھا دیا کہ یہ بیگناہوں کے mera ghayas lala3قاتل اور خونی بھیڑیے ہیں۔ انہی بھیڑیوں نے پنجابی بولنے والوں کو سب سے پہلے خضدار سے نکالا تھا۔ والد کی شہادت کے واقعے نے پاکستان سے محبت اور بڑھا دی۔ پہلے ہمارے ابو اکیلے پاکستان کی محبت کے لئے تڑپتے تھے‘ اب غیاث بھائی اور پورا خاندان اس حب الوطنی کا شعوری اسیر ہو گیا۔ اس محبت میں غیاث لالہ سب سے آگے تھا۔ وقت گزرتا گیا اور غیاث بھائی کی سوچ میں پختگی اور نکھار آنے لگا۔ ابو کی شہادت کے بعد گم سم رہنے کے دن تحرک میں بدلنے لگے، دوستوں کا حلقہ وسیع ہونے لگا۔ غیاث لالہ کا زیادہ وقت انہی سرگرمیوں میں گزرنے لگا۔ وہ سماجی کاموں میں مصروف ہو گیا۔ 2012 میں غیاث خضدار میں اپنے دوست کی دکان پر بیٹھا تھا کہ اس پر پہلا حملہ ہوا۔ اس واقعے میں غیاث بھائی کا دوست شہید ہو گیا۔ کچھ عرصہ بعد غیاث بھائی کا ایک اور دوست انہی قاتلوں کی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ یہ سال غیاث بھائی کے لئے ایک اہم سال ثابت ہوا۔ دو دوست شہید ہو ئے ، خود غیاث بھائی پر حملہ ہوا۔ غیاث اور ذکی کی فیس بک پر شرپسندوں نے قتل کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ ان پے در پے شہادتوں نے غیاث بھائی کو حالات کی سنگینی اور بطور پاکستانی اپنی ذمہ داریوں کا خوب احساس دیا۔ غیاث بھائی نے اپنے سے چھوٹے بھائی ذکی کے ساتھ گہری دوستی بنا لی اور اب گھر والوں کے ساتھ بھی زیادہ قربت ہو گئی۔ کہیں جاتے تو دونوں بھائی اکٹھے ہوتے، سیر پر بھی جاتے تو ایک دوسرے کو ساتھ رکھتے۔ والد اور قریبی دوستوں کی شہادت کی یادیں تازہ کرنے کے لئے غیاث بھائی نے 14 اگست 2012 کوپاکستانی پر چم لہرانے کا پروگرام بنایا گیا۔ نوجوانوں کو اکٹھا کیا اور پاکستان کے حق میں ریلی نکالی۔ اسی روز خضدار کے ایک شہری کو انتہا پسندوں نے گولی مار کر شہید کردیا۔ اس کا جرم بھی پاکستان سے محبت اور قومی پرچم لہرانے کی تقریب میں حصہ لینا تھا۔ 2006 کے بعد یہ ایک بدلتا ہوا منظر تھا، وطن دشمنوں کو ہر گز قبول نہ تھا۔ اس سے بھی بڑھ کر ان کو برا یہ لگا کہ ایک ٹی وی چینل کا عملہ ان علیحدگی پسندوں کی دعوت پر اگلے سال مارچ 2013 میں انتہاپسندوں کے الیکشن بائیکاٹ کو ہائی لائٹ کرنے خضدار آیا تو اس نے لاپتہ افراد کی پرانی کہانی دہرانا چاہی، اس پر غیاث بھائی نے اور لوگوں کے ساتھ اُن کی توجہ انتہاپسندوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے بلوچ شہریوں اور ان کے خاندانوں کی جانب بھی چاہی۔ لیکن انہوں نے انہیں یہ کہنا شروع کر دیا کہ آپ کو کس ایجنسی نے بھیجا ہے۔ غیاث بھائی اور ان کے دوستوں نے اُن سے یہ کہا کہ آپ یک طرفہ پروگرام نہ کریں۔ تاہم اس چینل کے ایجنڈے کے لئے یہ بات مفید نہ ہو سکتی تھی۔ اس لئے پروگرام میں بھی ایسا لہجہ اختیار کیا جس کا مقصد دہشت گردوں کو فائدہ دینا تھا۔ ماہ اگست 2013 آیا تو غیاث بھائی اور ان کے دوستوں نے یوم آزادی منانے کی روایت کو آگے بڑھانے کا اہتمام کیا۔ انتہا پسند وطن دشمنوں نے اب غیاث بھائی کو اپنا اہم ترین ہدف بنا لیا۔ 14 اگست کے ٹھیک اڑھائی ماہ بعد 29 اکتوبر کو شام کے وقت بازار سے گھر کی طرف آتے ہوئے موٹر سائیکل سوار نقاب پوشوں نے انہیں گولی مار کر شہید کر دیا۔ وہ بازار جہاں انہیں شہید کیا گیا‘ اس سے قریب ہی پاکستانی پرچم لہرا رہا تھا۔ زخمی لالہ غیاث نے رینگتے ہوئے پرچم کے سائے تلے پہنچ کر کلمہ پڑھا اور جام شہادت نوش کر لیا۔ اس روز کچھ ہی دیر پہلے لالہ حیدر حسنی کے ساتھ گھر کھانا کھانے آئے تھے اور کھانا کھا کر پھر چلے گئے تھے۔ نومبر 2008میں خاندان نے گھر کے سربراہ میرغلام رسول کی شہادت سے جو گھاؤ سہا تھا وہ لالہ غیاث کی شہادت سے ایک مرتبہ پھر تازہ ہو گیا۔ شہید لالہ گھر اور خاندان کی رونق ہی نہیں علاقے کے غریبوں اور مظلوموں کے لئے بھی اک سہارا تھا۔ وہ شہدائے وطن کے گھر والوں کی خبر گیری کرتا رہتا اور ان کا خیال رکھتا تھا۔ رشتے داروں کی خوشی غمی میں شریک ہوتا۔ غیاث لالہ نے امی سے وعدہ کر رکھا تھا کہ ’’امی اگلے سال یعنی 2014میں آپ کو حج کے لئے اپنے ساتھ لے کر جاؤں گا۔‘‘لیکن 2014سے پہلے ہی وہ عازم جنت ہو گیا۔ اس کی قربانی اللہ قبول فرمائے اور اللہ وطن عزیز کو دشمنوں سے محفوظ فرمائے۔ 


حمد

کیونکر نہ زباں پر ہو تحمید و ثنا تیری

دل محوِ نوا تیرا جاں مدح سرا تیری

آوازِ اناالحق سے غافل ہوں تو کیونکر ہوں

ہر ایک سرِ مُو سے آتی ہے صدا تیری

پُھولوں کی مہک میں تُو انجم کی جھلک میں تُو

وہ رنگِ وفا تیرا یہ شانِ ادا تیری

کُہسار و بیاباں میں گلشن میں خیاباں میں

خوشبو لئے پھرتی ہے ہر صبح صبا تیری

ظالم کی جفاؤں میں مظلوم کی آہوں میں

اندازِ جفا تیرا تصویرِ غِنا تیری

یہ پردے میں چھُپنے کے انداز نرالے ہیں

ہر ذرّے کے دامن میں رقصاں ہے ضیا تیری

اِس شانِ تغافل سے گمراہ ہزاروں ہیں

جس شانِ تغافل کو کہتے ہیں ادا تیری

ہم سے بھی گنہگاروں کو تیرا سہارا ہے

چھوڑے تو کرم تیرا پکڑے تو رضا تیری

صوفی تبّسم

یہ تحریر 34مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP