خصوصی رپوٹ

میرا بیٹا نانگاپربت کی گود میں

فرانس  ــــ 2013

رات کی تاریکی ختم ہو رہی تھی جب اچانک جوئیل گونجنے والی آوازوں سے چونک کر جاگ گیا۔ ایسے لگا جیسے کوئی بہت دور سے اس کا نام لے کر اسے پکار رہا ہے، بلا رہا ہے۔ وہ اُٹھ کر بیٹھ گیا۔ آنکھیں بند کیں تو ایسے لگا جیسے وہ نانگاپربت کی چوٹی پر کھڑا ہو۔ سخت سردی کے دن تھے مگر وہ پسینے میں شرابور تھا۔ وہ ان آوازوں کوپہلے بھی کئی بار سن چکا تھا۔ پہاڑوں کی چوٹیوں کو سر کرنے کا شوق اسے کئی بار پاکستان لایا تھا۔ کئی چوٹیوں کو فتح بھی کیا لیکن وہ نانگاپربت کو سر کرنا چاہتا تھا اور اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے اسے نانگاپربت جانا ہو گا اور اس نے فیصلہ کر لیا کہ اس بار وہ نانگاپربت پر اوپر تک جائے گا۔

 

والدین نے سنا تو سختی سے منع کیا کہ یہ موسم پہاڑ پر چڑھنے کا نہیں ہے۔ مگر اس نے کہا وہ اسکیئنگ بھی کرتا ہے اس کے لئے برف کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اپنے ساتھ جانے کے لئے اس نے تین لوگوں کی اجازت مانگی۔ مگر منع کر دیا گیا۔ جوئیل اکیلا ہی روانہ ہو گیا۔ دوسرے لوگ واپس ہو گئے۔ اس نے پہاڑ کی اس سمت سے چڑھنا شروع کیا جسے Rupal Phase کہتے ہیں پورٹرز ساتھ تھے جوئیل نے انہیں کہا کہ موسم خراب ہے لیکن میں ان موسموں کا عادی ہوں میں آہستہ آہستہ چڑھوں گا۔ پھر آپ لوگوں کو بلا لوں گا۔ اس کے پاس سیٹلائیٹ فون تھا جو سورج کی روشنی سے چارج ہوتا ہے۔ اور اوپر جانے کی کوشش کی تو اسے احساس ہوا کہ آگے برف بہت زیادہ ہے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اس وقت آگے  جانا مناسب نہیں ہے۔ واپس بیس کیمپ میں آ گیا۔ پتہ چلا کہ فون بھی خراب ہو چکا ہے۔ فون کی مرمت کے لئے گائوں تک گیا۔ وہاں ٹھیک کروایا سولر چارجر ٹھیک ہو گیا تھا۔ دوسرے دن پھر وہ اوپر چڑھنے لگا مگر زیادہ دور تک نہیں جا سکا۔ اسے احساس ہوا کہ وہ بہت کمزوری محسوس کر رہا ہے۔ اس لئے ارادہ تبدیل کر کے لوٹ آیا کہ کیمپ میں رہ کر طاقت بحال کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ پھر آگے جائوں گا۔ رات کو بیٹھ کر اس نے ڈائری میں یہ سب لکھا۔ اس کی عادت تھی کہ ڈائری میں دن بھر کے واقعات لکھا کرتا تھا۔ ڈ ائری میں ہی اس نے لکھا کہ دوسرے دن ہمت کر کے میں اوپر گیا۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ آس پاس شائد کوئی جانور بھی تھا۔ وہ بچا کھچا جو کھانا پھینکتا تھا وہ کوئی گھسیٹتا ہوا لے جاتا  تھا۔ مگر مجھے نظر کوئی نہیں آیا۔ ایک حد تک وہ اوپر چڑھا لیکن اس کے بعد شائد اس کی ہمت جواب دے گئی۔ تین دن تک اس کی کوئی خبر نہیں ملی۔ جنوری کا مہینہ تھا موسم بے حد خراب تھا۔ پورٹرز کو تشویش ہوئی کہ جوئیل کہاں چلا گیا۔ نہ اس کا کیمپ نہ خود وہ نظر آ رہا تھا۔ نہ واپس آنے کے کوئی نشان تھے۔ پورٹرز نے پولیس کو خبر کی۔ پولیس کا خیال تھا کہ شائد وہ واپس چلا گیا ہو۔ لیکن یہ ممکن نہیں تھا اس لئے فرانس ایمبیسی کو خبر کی گئی کہ جوئیل کا کوئی نام و نشان نہیں مل رہا۔ فرنچ ایمبیسی نے ایکسپرٹس کو بھیجا کہ جا کر اسے تلاش کریں۔ سکردو گلگت ہر طرف تلاش جاری تھی۔ ان لوگوں نے Waljis Travel  کو اس پورے علاقے کو سرچ کے لئے کہا۔ یہ کہا گیا کہ ان کو پیسے انشورنش کمپنی دے گی۔ بارہ لاکھ روپے انشورنس کے لئے تھے لیکن کامیابی نہیں ہوئی۔ تب جوئیل کے ماں باپ کو اطلاع دی گئی کہ وہ کہیں نہیں مل رہا ہے۔ شائد چلا گیا ہو لیکن اس کے باپ نے کہا اگر وہ واپس آتا تو ہمیں اطلاع دیتا۔ اسے تلاش کریں وہ کئی بار جا چکا ہے، تجربہ کار ہے ۔اس طرح گم نہیں ہو سکتا۔انشورنش کمپنی پیسے مانگ رہی تھی۔ ان سے کہا گیا جب تک ڈیتھ سر  ٹیفکیٹ نہیں ملتا رقم ادا نہیں کی جائے گی۔ کیونکہ اسے تو کسی نے بھی نہیں دیکھا تو کون گواہی دے گا۔ فوج کو اطلاع دی گئی۔ کوہ پیمائی کے ایکسپرٹ بریگیڈیئر اکرم خان کو اطلاع دی گئی۔ لوگوں سے پوچھ گچھ کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ سب نے جوئیل کو منع کیا تھا کہ ان حالات میں اوپر جانے کی کوشش نہ کرو۔ مگر وہ بہت بیتاب تھا اوپر جانے کے لئے جیسے کوئی اپنے دوست سے ملنے کے لئے جانے کو بے قرار ہوتا ہے۔ یہی ہوا اس نے کسی کی نہیں مانی اور اوپر چلا گیا۔ ڈائری کے جو اوراق ملے ہیں ان سے تو لگتا ہے جیسے وہ انجوائے کر رہا ہے۔ ایک سے دوسرے کیمپ تک جانے کی دیوانہ وار کوشش کر رہا تھا۔ مگر پھر اچانک ہی لاپتہ ہو گیا۔ پولیس ڈھونڈ رہی تھی۔ Tour Operator کے ایڈمنسٹریشن انچارج نے تلاش شروع کی۔ سرچ کرنے والی پارٹی جو ہائی altitude تک جاتی ہے انہیں سکردو سے بلوایا گیا۔ گلگت سے بھی Waljis Travel 'جو لوگوں کو پہاڑوں کی سیر کراتے ہیں' نے اپنے لوگوں کو بھیج کر باقی ماندہ علاقے میں بھی تلاش کر لیا مگر ناامیدی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آیا۔ انشورنش کمپنی سے کہا گیا کہ آپ پیسے لے لیں اور ڈیتھ سرٹیفیکیٹ دے دیں تاکہ وہ فرنچ ایمبیسی کو بھیج دیا جائے مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ جون کے آخر میں یہ کیس فوج نے لے لیا ریٹائرڈ بریگیڈیئر اکرم خان سے رابطہ کیا گیا فرنچ ایمبیسی والوں نے اکرم خان سے بات کی۔ فوج کا بھی اصرار تھا کہ آپ خود جائیں تو شائد کچھ پتہ چلے بقول اکرم صاحب کے ایڈونچر ایسا جنون ہے کہ لوگوں کو چین سے نہیں بیٹھنے دیتا۔ہر کوہ پیما کی خواہش ہوتی ہے کہ اگر اس نے ایک چوٹی فتح کر لی ہے تو اگلی بار اس سے اونچی چوٹی فتح کرے گا۔ اکرم صاحب 20سال تک فزیکل ٹریننگ اینڈ مائونیٹنیئرنگ سکول کے سربراہ رہے تھے۔ ساری دنیا میں ان کا نام اور کام مشہور ہے۔فضائی بیلون فضا میں لے جانے انہیں کھولنے اور تہہ کرنے کا ہنر بھی انہیں آتا ہے۔ جس کے لئے مختلف ممالک میں انہیں بلایا جاتا ہے۔ اکرم صاحب بھی اس تلاش میں شامل ہو گئے۔ عجیب جذبہ ہوتا ہے جو پہاڑوں کی آواز پر جاتے ہیں۔ کبھی لوٹتے ہیں تو کبھی نہیں، اور بچانے والوں کا جذبہ بھی بے پناہ ہوتا ہے۔ گو کہ انہیں دل سے یقین ہوتا ہے کہ جسے وہ ڈھونڈ رہے ہیں وہ جا چکا ہے۔ مگر اس کے نشانات کو ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ یہ تلاش بھی ناکام رہی۔ والدین کو اطلاع دے دی گئی۔

 

لیکن ستمبر میں اس علاقے کے چرواہوں نے اوپر دوسرے کیمپ کی طرف کچھ رنگ دار چیزیں دیکھیں انہیں شک ہوا کہ یہ ضرور جوئیل کا یا تو ٹینٹ ہو گا یا کپڑے وغیرہ۔ چرواہے دُور بین سے دیکھتے رہے پھر انہوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ وہاں سے فرنچ ایمبیسی کو بتایا گیا۔ وہاں سے کہا گیا کہ پورٹرز کو بلائیں اور اگر باڈی ہے تو نیچے لائیں۔ انشورنس کمپنی اپنی رقم لے چکی تھی۔ انہوں نے کہا اب اگر پورٹرز کو بلائیں گے تو انہیں مزید رقم دینا ہو گی۔ جتنی پہلے دے چکے ہیں۔ (انسان کتنا ظالم ہو جاتا ہے) فرنچ ایمبیسی نے کہا جب تک باڈی نہیں ملتی نہ آپ رقم لے سکتے ہیں نہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ دے سکتے ہیں۔ اگر باڈی پہلے نہیں ملی تھی اور اب ملی ہے تو اسے لانا آپ کا فرض ہے مگر وہ لوگ 12لاکھ روپے اور مانگ رہے تھے اور کسی صورت اوپر جانے کو تیار نہیں تھے۔ جوئیل کے والد کو اطلاع دی گئی۔ انہوں نے کہا میرے بیٹے کی باڈی اس طرح پڑی نہیں رہ سکتی۔ میں ریٹائرڈ ہوں لیکن میں 1500ڈالر بھیج دوں گا۔ اگر پتہ چل جائے کہ وہ میرا ہی بیٹا ہے۔ اکرم صاحب نے بتایا کہ ہمیں یہ بات بالکل اچھی نہیں لگی۔جو باپ اپنے بیٹے کے لئے تڑپ رہا ہو اس سے پیسے مانگے جائیں یہ کہاں کا انصاف ہے۔ اکرم صاحب نے ان کو بتایا کہ ہمیں پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔ میں خود یہ کام کروں گا۔ انہوں نے ڈی سی سے بات کی پولیس ان کے ساتھ تھی اور گائوں کے کچھ چرواہے۔ یہ اکتوبر کے شروع کی بات ہے۔ 13اکتوبر کو انہوں نے پورٹرز سے بات کی کہ ہم تمہیں رقم دے چکے ہیں کچھ اور دے دیں گے ورنہ پولیس میرے ساتھ ہے فوج کے لوگ بھی آ جائیں گے۔ کچھ مان گئے کچھ نہیں مانے۔

اس کے دو سال بعد جوئیل کی فیملی جس میں ماں باپ اور دو بہنیں شامل ہیں پاکستان آئے اور اکرم صاحب کے ہمراہ جوئیل کی قبر پر گئے۔ چونکہ راستہ دشوار تھا طویل تھا اس لئے جوئیل کی ماں سے درخواست کی گئی آپ کے لئے ہم نے گھوڑے کا انتظام کیا ہے۔ آپ اس پر بیٹھ جائیں۔ ماں نے جواب دیا کہ میں اپنے بیٹے کی قبر تک پیدل ہی جائوں گی۔ وہ ان پہاڑوں پر پیدل چڑھتا تھا۔ میں اس کے پیار میں شامل ہونا چاہتی ہوں۔ تقریباً  9کلومیٹر کا پہاڑی راستہ اس کی ماں نے سب کے ساتھ پیدل ہی طے کیا۔

 

انہوں نے ضرورت کا سارا سامان خرید لیا تھا۔ باڈی لانے کے لئے سب نے صبح چار بجے پہاڑ پر چڑھنا شروع کر دیا۔ وہ ایک مقام پر کچھ لوگوں کے ساتھ رک گئے باقی اوپر چلے گئے۔ قبر کھودی گئی وہ لوگ Sledge لے کر گئے تھے جنہیں رسیوں سے بڑے پتھروں سے باندھ دیاگیا۔ یہ ساری چیزیں پاکستان کی فوج نے مہیا کی تھیں۔ فوج اگر ساتھ نہ دیتی تو یہ کام نہیں ہو سکتا تھا۔ باڈی Intact تھی لیکن ہفتہ بھر Expose رہنے سے سورج کی Ultra Violet ریز سے اس کا جسم جل گیا تھا۔ اکرم صاحب کفن بھی ساتھ لے گئے تھے جب باڈی نیچے لائی گئی تو انہوں نے خود اسے سفید کپڑے میں لپیٹ کر اس گڑھے میں لٹایا۔ قبر بند کر دی اور اوپر بہت بھاری بھاری پتھر رکھ دیئے تاکہ جانور خراب نہ کریں۔ ایک صاف پتھر پرانہوں نے اس کا نام والد کا نام اورتاریخ پیدائش وغیرہ کندہ کر کے سرہانے لگا دیا۔ پورٹرز کو کچھ رقم دی گئی لیکن انہوں نے خود کچھ لینے سے انکار کر دیا انہوں نے جو کچھ بھی کیا اول فرض کے طور پر دوسرے انسانیت کے لئے۔ وہ کسی کا بھی بیٹا ہو سکتا تھا۔ جتنے لوگ وہاں موجود تھے سب نے دعا کی۔ فوج کے لوگ پولیس کے لوگ اور کچھ پورٹرز تھے۔

 

اس کے بعد  وہ لوگ گلگت چلے گئے وہاں پوری رپورٹ لکھی۔ پھر ایجنسی کو ساری تفصیل بھیجی۔ یہ بھی بتایا کہ یہ کام پاکستانی فوج اور سول ایڈمنسٹریشن کی مدد کے بغیر ناممکن تھا۔ ایریا مجسٹریٹ کفائت اور پولیس انسپکٹر سید شاہ 22کلومیٹر کا پہاڑی فاصلہ طے کر کے جوئیل کو نیچے لائے تھے۔ شائد اس طرح کے کام سے ان کے والدین کو کچھ تسلی ہوئی ہو ویسے تو وہ لوگ توقع کر رہے تھے اب جب کہ جوئیل مل گیا ہے وہ اسے دیکھ سکیں گے لیکن انہیں بتایا گیا کہ ایسا ممکن نہیں۔ ان لوگوں نے نہایت صبر سے کہا کہ ٹھیک ہے۔ ان کے والد مسٹر Habert نے خواہش ظاہر کی کہ اس کے بیٹے کو پہاڑوں سے عشق تھا اس لئے اسے اس پہاڑ کی گود میں دفن کر دیں جس کی آواز پر وہ گیا تھا۔

 

کچھ چیزیں جوئیل کی باڈی سے ملی تھیں جو اس کے خاندان کی اجازت سے فوج کے Climbing میوزیم میں رکھ دی گئی ہیں۔ اس کی تصویریں اس کے والدین کو نہیں بھیجی گئیںـ وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ وہ ایک خوبصورت نوجوان تھا۔ ان کے ذہن میں اس کی وہی خوبصورت تصویر رہنی چاہئے۔

 

یہ واقعہ یہی پر ختم نہیں ہوا۔ فرانس کے جس علاقے کا وہ باشندہ تھا وہاں کی کمیونٹی نے پیسے جمع کئے اور جرمنی کی ایک کمپنی کو دیئے جو سولر انرجی پر کام کرتی ہے۔ تاکہ ان پیسوں سے اس گائوں میں بجلی لگا دیں جہاں کے لوگوں نے جوئیل کی مدد کی تھی۔

اس کے دو سال بعد جوئیل کی فیملی جن میں ماں باپ اور دو بہنیں شامل ہیں پاکستان آئے اور اکرم صاحب کے ہمراہ جوئیل کی قبر پر گئے۔ چونکہ راستہ دشوار تھا طویل تھا اس لئے جوئیل کی ماں سے درخواست کی گئی آپ کے لئے ہم نے گھوڑے کا انتظام کیا ہے۔ آپ اس پر بیٹھ جائیں۔ ماں نے جواب دیا کہ میں اپنے بیٹے کی قبر تک پیدل ہی جائوں گی۔ وہ ان پہاڑوں پر پیدل چڑھتا تھا۔ میں اس کے پیار میں شامل ہونا چاہتی ہوں۔ تقریباً  9کلومیٹر کا پہاڑی راستہ اس کی ماں نے سب کے ساتھ پیدل ہی طے کیا۔

گرمیوں میں جوئیل کی قبر پر سبزہ اور موسم کے پھول ہی پھول ہوتے ہیں۔ ان کے ماں باپ نے اکرم صاحب سے مستقل رابطہ رکھا ہوا ہے۔ پاکستانی فوج پولیس اور گائوں والوں کا ذکر بڑے پیار سے کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ ہمارا بیٹا آپ کی حفاظت میں ہے۔ ان کا اصرار تھا کہ ان کے بیٹے کو انہی پہاڑوں پر دفن کیا جائے جن کا پیار اسے بار بار بلاتا تھا۔اب میں جب ان پہاڑوں کو دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ یہ کیوں آوازیں دے کر لوگوں کو بلاتے ہیں۔ شائد انہیں بھی کسی دوست کی ضرورت ہوتی ہو گی

 

بڑا جذباتی منظر تھا جب وہ سب قبر کے اطراف کھڑے تھے۔ ماں باپ بہنیں سب قبر کو گھیرے میں لے کر بیٹھ گئے۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے ان سب نے جوئیل کو گود میں لے لیا ہے۔ ان سب نے دعائیں پڑھیں پھر بیٹے سے باتیں کرتے رہے۔ اور بار بار ایک دوسرے کو سہارا دے کر گلے مل رہے تھے۔ خاص کر دونوں بیٹیاں ماں کو سہارا دے رہی تھیں۔

وہ لوگ اس جگہ پر کوئی دواڑھائی گھنٹے بیٹھے رہے گائوں والوں نے ان کے لئے ابلے ہوئے چاول اور مونگ کی دال کا انتظام کیا تھا کہ وہ کچھ کھا لیں۔ واپسی پر ماں اور بڑی بہن گھوڑوں پر آئے اور باپ اور چھوٹی بیٹی پیدل ہی ہمارے ساتھ نیچے اترے۔ جس گائوں میں بجلی لگوائی گئی ہے اس کا نام Rupal ہے۔

 

اس دن گائوں والوں نے ان کا شکریہ ادا کرنے کو ایک Reception دیا وہ رات سب نے خیموں میں گزاری۔ اگلی صبح ناشتے کے بعد وہ واپس روانہ ہو گئے۔ انہیں گائوں والوں کے ساتھ بریگیڈیئر اکرم نے رخصت کیا۔ انہیں گلگت سے Rupal گائوں تک پھر قبر تک جانے کا انتظام وہاں کے لوکل فوجی کمانڈر نے کیا تھا۔ جس کے لئے وہ بے حد شکرگزار تھے۔

 

گلگت پہنچنے پر ناردرن ایریا کے فورس کمانڈر نے ان کے لئے ڈنر کا انتظام کیا جس میں لوکل، سول اور فوجی سب شامل تھے۔ اگرچہ یہ انتہائی دل دکھانے والا واقعہ تھا۔ تاہم ہمارے ملک کی مہمان نوازی  نے ان لوگوں کو بے حد متاثر کیا۔

 

 گرمیوں میں جوئیل کی قبر پر سبزہ اور موسم کے پھول ہی پھول ہوتے ہیں۔ ان کے ماں باپ نے اکرم صاحب سے مستقل رابطہ رکھا ہوا ہے۔ پاکستانی فوج پولیس اور گائوں والوں کا ذکر بڑے پیار سے کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ ہمارا بیٹا آپ کی حفاظت میں ہے۔ ان کا اصرار تھا کہ ان کے بیٹے کو انہی پہاڑوں پر دفن کیا جائے جن کا پیار اسے بار بار بلاتا تھا۔اب میں جب ان پہاڑوں کو دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ یہ کیوں آوازیں دے کر لوگوں کو بلاتے ہیں۔ شائد انہیں بھی کسی دوست کی ضرورت ہوتی ہو گی کبھی وہ دوست مل کر واپس چلے جاتے ہیں کبھی یہ کسی کو اپنے پاس روک لیتے ہیں۔ میں سوچتی ہوں دو سال بعد جوئیل کے والدین اور بہنیں اپنے بیٹے اور بھائی سے ملنے اس کی قبر پر آئے تھے۔ ان دنوں میں    اسلام آباد میں تھی۔ بریگیڈیئر اکرم ان کے ساتھ وہاں تک گئے تھے۔ والدین کا جو حال ہوا ہو گا وہ تو ان کا دل ہی جانتا ہو گا لیکن اکرم صاحب ہر بار جب کوئی ایسا حادثہ ہوتا ہے اتنے ہی اداس ہو جاتے ہیں جیسے کوئی اپنا ہوتا ہے۔ ان کے ساتھ فوج کے جو دوسرے لوگ تھے وہ بھی اداس تھے۔

 یہ پہاڑ بھی بے وفا محبوب کی طرح ہوتے ہیں۔ اپنی طرف بلاتے ہیں آوازیں دیتے ہیں کبھی کسی کو خوش کرنے کے لئے واپس بھیج دیتے ہیں کبھی اپنے آپ کو خوش رکھنے کے لئے اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے روک لیتے ہیں۔


مضمون نگار ممتاز ڈرامہ نگار ہیں۔ آپ نے ٹی وی اور ریڈیو کے لئے بہت سے کھیل لکھے جن میں سے بعض نے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کی۔

 

یہ تحریر 179مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP