قومی و بین الاقوامی ایشوز

میرا بھائی۔۔۔ میرا فخر

(راجہ عمار احمدشہید)

ایک بہن کا شہید بھائی کو خراجِ عقیدت

 

میں جب بھائی سے پوچھا کرتی کہ اتنے خطرناک علاقے میں آپ کو ڈر نہیں لگتا تو کہتے ملک کے رکھوالے ڈرنے والے نہیں ہوتے۔ جب میں وردی پہن لیتا ہوں تومیرے اندر ایک عجیب سا جذبہ جاگ اٹھتا ہے۔ دل چاہتا ہے ابھی جا کر دشمن سے ٹکرا جاؤں اور اسے جڑ سے اکھاڑ کے پھینک دوں۔ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ پریشان نہ ہوا کرو اچھا لباس پہنو اچھا کھاؤ اور ملک کے لئے کچھ کرکے دکھاؤ۔ اپنے اندر ہمیشہ کچھ کرکے دکھانے کا جذبہ رکھو۔ جس سے دوسروں کو بھی فائدہ ہو۔ بھائی جب کچھ لکھتا تو آخر میں اپنے نام کے ساتھ True Soldier ضرور لکھا کرتا تھا۔ میرا بھائی میرا فخر ہے پاکستان کا فخر ہے اورمجھے اپنے شہید بھائی پہ ہمیشہ فخر رہے گا۔

سیپر عمار شہید کو ہم سے بچھڑے ایک سال ہوگیا ہے۔ وہ 2 اپریل1987 کو چکوال کے ایک گاؤں صابہ جوہڑہ میں پیدا ہوئے۔ چکوال کے ہر خاندان کا کوئی نہ کوئی فرزند پاکستان آرمی میں ہے اس حوالے سے یہ فوجیوں کے خطے کے طور پر مشہور ہے۔ عمار نے ابتدائی تعلیم پاک ایسٹرن آئیڈیل اکیڈمی سے حاصل کی۔ پھر گورنمنٹ ہائی سکول ملہال مغلاں سے میٹرک کیا۔ کیمسٹری فزکس اور ریاضی کے مضامین سے انہیں بہت دلچسپی تھی۔ میٹرک کے بعد پاک آرمی میں ٹیسٹ دیا اور ساتھ ہی پوسٹ گریجویٹ کالج چکوال میں داخلہ لے لیا۔ انہیں آرمی میں جانے کا شوق بچپن سے ہی تھا جب بھائی کا کال لیٹرآیا تو پڑھائی چھوڑ کے آرمی جوائن کرلی۔15 دسمبر2005 کو ان کا خواب پورا ہوا تو وہ بہت خوش تھا۔ عماراحمد نے اپنی سروس کا زیادہ تر حصہ آپریشن ایریا میں گزارا۔ انہوں نے جنوبی وزیرستان جنڈولہ‘ سرا روغہ اور شکئی میں زیادہ تر خدمات انجام دیں۔ کہتے ہیں کہ جس کی موت جس جگہ لکھی ہو تقدیر اسے وہاں لے جاتی ہے۔ لہٰذا 30 جون2012 کو لاہور سے انجینئرز بٹالین کی ایک فیلڈ کمپنی کے کچھ جوانوں کومیران شاہ شمالی وزیرستان بھیجاگیا جس میں عمار احمد بھی شامل تھے۔ یکم جولائی کو عمار سمیت تمام جوان میران شاہ پہنچ چکے تھے۔ عمار 6 بہنوں کا اکلوتا بھائی اور اپنے خاندان کا واحد وارث تھا۔ امی کی جان تھا سب گھر والے اس سے بہت پیارکرتے تھے۔ دادی انہیں چاند کہہ کر پکارا کرتی تھیں۔ وہ جب میران شاہ سے گھر چھٹی گزارنے آئے تو بہت خوش اور مطمئن تھے۔ امی نے بتایا کہ ہمارے جاننے والے ہیں۔ اُن کاایک بیٹا کیپٹن حسنات شہید ہوا ہے میں وہاں گئی تو اسی کی امی اور بیوی بہت روتی تھیں اُن سے مل کر آئی تو 3دن تک سو نہ سکی۔ بھائی نے ایک دم سے کہا کہ امی جان اگر میں شہید ہوا تو رونا مت۔

عمار اپنے کمپیوٹر پر میجر عزیز بھٹی شہید پر بنایا گیا ڈرامہ دیکھتا رہتا جہاں وہ کہتے ہیں کہ میں وردی اور کفن اپنا اپنا ہی اچھا لگتا ہے اور عمار نے بھی شہادت کی صبح نئی وردی پہنی تھی۔ بھائی کے رفقائے کار بتاتے ہیں کہ عمار کو شہادت سے بہت لگاؤ تھا۔ ہر صبح ڈیوٹی پہ جانے سے پہلے سب سے مل کر جاتا کہ نہ جانے کب موت کا بلاوا آجائے۔ 30 مارچ کو عمار اپنے گھروالوں سے جدا ہوکر واپس میرانشاہ ڈیوٹی پر چلا گیا۔ میران شاہ آپریشن ایریا ہے اور بہت خطرناک بھی ہے۔ عمار کے ساتھی جب ان کو پیچھے رہنے کو کہتے تو وہ کہتا کہ قسم پریڈ پر میں نے وطنِ عزیزکی حفاظت کی قسم اٹھائی تھی۔ اب وہ وقت آگیا ہے جب میں اپنا فرض نبھاؤں۔آخر 16 اپریل کا دن آگیا۔ایک روزقبل ہی عمار کو بتا دیا گیا تھا کہ اسے صبح اپنی کمپنی کے ساتھ جانا ہے۔ صبح اٹھتے ہی عمار نے غسل کیا۔ نماز پڑھی‘ ناشتہ کرنے کے بعد یونیفارم پہنی اور سب دوستوں سے مل کر گیا۔ عمار نے اپنا سامان کمپنی کی گاڑی میں رکھا سب دوستوں سے ہنسی خوشی ملا اور پھر گاڑی میں ہاتھ ہلاتے ‘ مسکراتے ہوئے چلا گیا۔ ان کی کمپنی انجینئر کی پروٹیکشن کے لئے غلام خان گئی۔ عمار کو جو جگہ بتائی گئی اس کو اچھی طرح سرچ کیا اور پھرکلیئر قرار دے کر کام شروع کرادیا۔ عمار چونکہ انجینئرز میں تھے اورمیران شاہ میں بم انسٹرکٹر تھے اس لئے ان پھٹے بموں کو ناکارہ بھی بنایا کرتے تھے۔ 15 اپریل رات نو بج کر39 منت پر عمار نے گھرپر کال کی۔ وہ بہت خوش اور مطمئن تھا کہنے لگا کچھ دنوں بعدیونٹ موو کرے گی تو میں واپس آجاؤں گا۔ 16 اپریل کی شام کو ساڑھے بارہ بجے عمار اپنی پارٹی سمیت غلام خان سے واپس اپنی یونٹ آرہا تھا کہ اچانک بارود سے بھری گاڑی ان کے قریب سے گزری۔ بھائی کو شک ہوا کہ نزدیک کہیں خطرہ ہے۔ بھائی نے ایک جوان کو آگے بھیجا کہ دیکھے گاڑیاں کیوں رُکی ہوئی ہیں‘ اُس نے بتایا کہ آگے والی گاڑی میں کوئی خرابی ہے۔ تب وہ بارود سے بھری گاڑی واپس آئی اور اگلی گاڑی کے ساتھ جاٹکرائی جس سے ایک زور دار دھماکہ ہوا جس میں بہت سارے جوان موقع پر ہی شہید ہوگئے اور بارود کا ایک ٹکڑا عمار احمد کی گردن پر جا لگا جس کی وجہ سے عمار کی ناک اور منہ سے خون بہنے لگا۔ ساتھی انہیں فیلڈ ہسپتال لے جانے لگے تو دھماکے کی جگہ سے شور اور چیخ و پکار کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ عمار نے کہا کہ میں ٹھیک ہوں آپ باقی ساتھیوں کو سنبھالیں۔ فرسٹ ایڈ کے بعد عمار کو ہیلی کاپٹرکے ذریعے پشاور لے جانے کی تیاریاں ہورہی تھیں کہ ہیلی پیڈ پر ہی عمار نے کلمہ پڑھا اور اﷲ کی راہ میں جان قربان کر دی۔ رات8:49 کا ٹائم تھا جب میرے موبائل پر میران شاہ سے کال آئی اور پتہ چلا کہ میرا بھائی شہید ہوگیا۔17 اپریل کو عمار احمدشہید کی میت کو گھر لے کر آئے تو پورے علاقے میں کہرام مچ گیا۔ کیونکہ عمار نے ساری زندگی بہت اچھے کام کئے تھے جس کی وجہ سے علاقے کے لوگ ان کی عزت کرتے تھے۔ بھائی کی شہادت کے وقت ان کی پاکٹ سے ایک ڈائری نکلی جس کے پہلے صفحے پر لکھا تھا We Are the son of our Nation ایک اور ورق پر تحریر تھا

ہم خود تراشتے ہیں منظر کے راہِ سنگ

ہم وہ نہیں کہ جنہیں زمانہ بنا گیا

 

بھیجا کہ دیکھے گاڑیاں کیوں رُکی ہوئی ہیں‘ اُس نے بتایا کہ آگے والی گاڑی میں کوئی خرابی ہے۔ تب وہ بارود سے بھری گاڑی واپس آئی اور اگلی گاڑی کے ساتھ جاٹکرائی جس سے ایک زور دار دھماکہ ہوا جس میں بہت سارے جوان موقع پر ہی شہید ہوگئے اور بارود کا ایک ٹکڑا عمار احمد کی گردن پر جا لگا جس کی وجہ سے عمار کی ناک اور منہ سے خون بہنے لگا۔ ساتھی انہیں فیلڈ ہسپتال لے جانے لگے تو دھماکے کی جگہ سے شور اور چیخ و پکار کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ عمار نے کہا کہ میں ٹھیک ہوں آپ باقی ساتھیوں کو سنبھالیں۔ فرسٹ ایڈ کے بعد عمار کو ہیلی کاپٹرکے ذریعے پشاور لے جانے کی تیاریاں ہورہی تھیں کہ ہیلی پیڈ پر ہی عمار نے کلمہ پڑھا اور اﷲ کی راہ میں جان قربان کر دی۔ رات8:49 کا ٹائم تھا جب میرے موبائل پر میران شاہ سے کال آئی اور پتہ چلا کہ میرا بھائی شہید ہوگیا۔17 اپریل کو عمار احمدشہید کی میت کو گھر لے کر آئے تو پورے علاقے میں کہرام مچ گیا۔ کیونکہ عمار نے ساری زندگی بہت اچھے کام کئے تھے جس کی وجہ سے علاقے کے لوگ ان کی عزت کرتے تھے۔ بھائی کی شہادت کے وقت ان کی پاکٹ سے ایک ڈائری نکلی جس کے پہلے صفحے پر لکھا تھا We Are the son of our Nation ایک اور ورق پر تحریر تھا

یہ تحریر 54مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP