ہمارے غازی وشہداء

مہران بیس کا ہیرو

لیفٹیننٹ یاسر عباس رضوی شہید( ستارہ بسالت)

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج وطن کی آبرو پر ہر وقت مر مٹنے کو تیار رہتی ہیں اور کسی کو مادر وطن کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی اجازت نہیں دیتیں اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج تک اس ملک کو جس کسی نے بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو وہ چاہے اندرونی دشمن ہو یا بیرونی نہ کبھی کامیاب ہوا اور نہ ہوگا۔ ان شاء اﷲ ۔ 



مہران بیس پاک بحریہ کا فضائی مستقر ہے ۔ یہ کراچی شہر سے کافی فاصلے پرایسی جگہ واقع ہے جہاں ارد گرد غیر آباد علاقہ اور کھیت واقع ہیں ۔ یہ بیس کافی بڑے رقبے پر پھیلا ہوا ہے ۔ اس ائیر بیس سے پاک بحریہ اپنے فضائی آپریشن آپریٹ کرتی ہے ۔ یہاں ائیر بیس پر دیگر حساس تنصیبات کے علاوہ P-3C Orion طیارے اڑان بھرتے رہتے ہیں ۔ یہ طیارے پاک بحریہ کی آنکھ تصور کیے جاتے ہیں ۔ یہ جدید طیارے فضا سے سمندر کی تہہ میں چھپی ہوئی آبدوزوں کا نہ صرف سراغ لگاتے ہیں بلکہ انہیں تبا ہ کرنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ واضح ہو کہ اس قسم کے جدید طیارے جنوبی ایشیا میں صرف پاکستان کے پاس ہی ہیں جن سے دشمن بہت زیاہ خوف زدہ ہے ۔ ملک کی دیگر حساس تنصیبات کی طرح '' مہران بیس'' پر بھی سکیورٹی خدشات موجود تھے ۔
22 مئی کی رات 15 دہشت گرد وں کی ایک ٹولی مہران بیس کے عقب سے بیس کی جانب بڑھ رہی تھی ۔ یہ دہشت گرد مخصوص لباس اور بھاری اسلحے سے لیس مکمل تیاری کے ساتھ بیس کے عقب میں مکئی کے ایک کھیت تک پہنچ چکے تھے اور کسی جانب سے اشارے کے منتظر تھے ۔ 
P-3C Orion طیارے معمو ل کی پرواز کے بعد ابھی کچھ ہی دیر پہلے بیس پر لینڈ ہوئے تھے جنہیں معمول کی چیکنگ کے بعد ہینگر میں پہنچانے کی تیاری کی جارہی تھی ۔ دشمن کا ہدف یہ طیارے تھے اگر یہ طیارے ہینگر میں شفٹ ہو جاتے تو محفوظ ہو جاتے اور دشمن کے بھیجے ہوئے دہشت گرد ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے ۔ لہٰذا دشمن کو جو بھی کارروائی کرنی تھی وہ ان طیاروں کو ہینگر میں جانے سے پہلے پہلے سرانجام دینی تھی ۔ وقت تیزی سے گزر رہا تھا اور پھر جیسے ہی رات کے ساڑھے آٹھ بجے موت کے ان ہرکاروں کو مخصوص سگنل موصول ہوا اور یہ دہشت گرد کھیت سے نکل کر بیس کی دیوار پر چڑھنے لگے ۔ ان میں سے ایک دہشت گرد نے بیس کی دیوار پر چڑھ کر خاردار تار کاٹے اور اندر کا جائزہ لیا ۔ بیس کے اس دور افتادہ حصے میں بیس کی دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوگئے ۔ اندر داخل ہوتے ہی ان میں سے ایک دہشت گرد نے کسی سے رابطہ کیا اور پھر یہ لوگ مخصوص حصے کی طرف بڑھنے لگے ۔ 
لیفٹیننٹ یاسر جو ابھی اپنے رہائشی کمرے کی طرف نہیں گئے تھے اور میس کے قریب ہی موجود تھے ۔ ان کے ساتھی بتاتے ہیں کہ یاسر آج صبح سے ہی کچھ مضطرب اور خاموش تھے جب کہ ان کے دوسرے ساتھی میس سے کھانا کھا کر اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے ۔ مشاہدہ کرنے والے بتاتے ہیں کہ یہ جو شہداء کی روحیں ہوتی ہیں یہ عام روحیں نہیں ہوتیں بلکہ قدرت کے کارخانے میں یہ منفرد انداز سے تشکیل پاتی اور تکمیل کے مراحل طے کرتی ہیں ۔ چونکہ قدرت نے ان سے خاص کام لینا ہوتا ہے اس لیے یہ شہداء کی روحیں فطرتاً بے چین اور مضطرب رہتی ہیں جب تک کہ گوہر مقصود پا نہ لیں انہیں قرار نہیں آتا۔ 
لیفٹیننٹ یاسر جنہوں نے نیوی میں ایروناٹیکل انجینئر بھرتی ہونے سے پہلے پاکستان ائیر فورس میں بطور جی ڈی پائلٹ بھرتی ہونے کے لیے انٹرویو دیا تھا لیکن نظر کی کمزوری کے باعث میڈیکل ٹیسٹ پاس نہ کر سکے ۔ ان کے اہل خانہ چاہتے تھے کہ وہ اپنی تعلیم مکمل کریں لیکن ان کی مضطرب روح نے تو کوئی اور کام کرنا تھا اور پھر یاسر نے پاکستان نیوی میں ایرو ناٹیکل انجینئر بھرتی ہونے کا فیصلہ کیا اور تمام ٹیسٹ بخوبی پاس کرتے ہوئے کیڈٹ کالج رسالپور جائن کر لیا یہاں سے 18 نومبر 2009 ء کو ایرو ناٹیکل انجینئرنگ میں گریجویشن مکمل کر کے 2010 ء میں پاکستا ن نیوی کے پی این ایس مہران بیس پر بطور ایوانکس انجینئر تعینات ہوئے ۔ 
جس رات مہران بیس پر حملہ ہوا ،اس رات لیفٹیننٹ یاسر کے دیگر ساتھی کھانا کھا کر اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے ۔ لیکن یاسر میس کے قریب ہی موجود تھے کہ باہر سے شدید فائرنگ کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں ۔ دہشت گردوں نے جن کی تعداد 15 تھی اورین طیاروں کے قریب پہنچتے ہی ڈیوٹی پر کھڑے سکیورٹی گارڈز پر فائر کھول دیا اور تیزی سے طیاروں کی جانب بڑھنے لگے۔ لیفٹیننٹ یاسر نے جیسے ہی فائرنگ کی آوازیں سنیں تو پلک جھپکتے ہی کمرے سے باہر رن وے کی جانب بڑھے ان کے پاس اس وقت نہ کوئی اسلحہ تھا اور نہ ہی دہشت گردوں سے لڑنے کی کوئی تربیت ، جیسے ہی باہر نکلے تو ان کی نظر دور سے آتے دہشت گردو ں پر پڑی جو لگاتار فائرنگ کرتے آرہے تھے یاسر نے اِدھر اُدھر دیکھا ،ایک سکیورٹی گارڈ زخمی حالت میں نظر آیا جس کے پاس گن موجود تھی۔انہوں نے گن اس سے جھپٹ لی اور پوزیشن سنبھا ل کر آگے بڑھتے دہشت گردوں پر فائرکھول دیا ۔ اچانک فائر کھلتے ہی دہشت گردوں میں کھلبلی مچ گئی ۔ کچھ دہشت گرد موقع پر ہی جہنم واصل ہوگئے اور کچھ شدید زخمی ہو کر گر پڑے ۔ دہشت گردوں کی پیش قدمی رک چکی تھی ان میں سے دو دہشت گرد رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر ایک سٹور میں چھپ گئے ۔ فائرنگ ابھی جاری تھی، شدید فائرنگ کی وجہ سے رن وے پر کھڑے دو اورین طیاروں میں آگ بھڑک اٹھی جیسے ہی لیفٹیننٹ یاسرکی توجہ دہشت گردوں سے ہٹ کر طیاروں کی طرف ہوئی ایک زخمی دہشت گرد نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اُن پر 3 فائر کئے جو کہ اُن کے سینے پر لگے لیکن انہوں نے حوصلہ نہ ہارا اور زخمی ہونے کے باوجود پورا میگزین اس دہشت گرد پر خالی کر دیا۔ اس دوران کوئیک ریسپانس فورس (QRF ) نے پوزیشن سنبھال لی لیکن یاسر رضوی زیادہ خون بہہ جانے کے باعث جانبر نہ ہو سکے اور موقع پر ہی مادر وطن پر قربان ہو گئے ۔ لیکن ان کی بروقت کارروائی سے مہران بیس اور قیمتی سی ۔ اورین طیارے بڑے نقصان سے بچ گئے ۔ بعد میں آپریشن کلین اپ کے دوران سٹور میں چھپے دہشت گردوں کو سٹور سے باہر آنے کی وارننگ دی گئی لیکن دہشت گردوں نے اندر سے شدید فائرنگ شروع کر دی جس سے سٹور میں آگ بھڑک اٹھی اور یہ دہشت گرد آگ میں جل کر واصل جہنم ہوگئے ۔ 
اس طرح دشمن کا منصوبہ مکمل طور پر ناکام رہا اور تمام کے تما م دہشت گرد مارے گئے ان میں زیادہ تعداد لیفٹیننٹ یاسر کے ہاتھوں ماری گئی ۔ 
اس بہادری پر انہیں بعد از شہادت اُنہیں 14 اگست 2011ء کو یومِ آزادی پر ستارۂ بسالت دینے کا اعلان کیا گیا ۔ ||


مضمون نگار ایک قومی روزنامے کے ساتھ بطور کالم نویس منسلک ہیں
[email protected]   

یہ تحریر 68مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP