متفرقات

مکتوب ٹوکیو

ابھی سڈنی میں ہی تھا کہ اطلا ع ملی کہ ہماری کتاب ’’خواہش سفر میں رہے‘‘ (لندن،ٹوکیو،سڈنی)کی تقریب 17 مئی کو جاپان کے اردو میلے میں رکھ دی گئی ہے۔پہلے تو سوچا کہ یہ کراچی والوں کی دعوت ہے جو مہمان سے پہلی ہی ملاقات میں پوچھ رہے ہوتے ہیں کہ آپ کب آئے اور کب جارہے ہیں۔مقصد پوچھنے کا یہ ہوتا ہے کہ اگر وہ معصوم سچ سچ یہ بتا دے کہ تین دن تور ہوں گا ہی۔۔اس پر بظاہر بڑے تاسف سے کہے گا کہ ارے ان تین دنوں میں تو میری بیک ٹو بیک میٹنگز ہیں اور ہاں پھر اگلے دن مجھے اسلام آباد جانا ہے۔ یعنی مطلب یہ کہ کھڑے کھڑے سلام دعا کرلیں۔ مگر ایک تو ٹوکیو میں اردو میلہ سجانے والے الطاف سیلانی سے ہمارا تعلق کوئی تین دہائی اوپر کا ہے ا ور پھر سال بھر پہلے بھی انہوں نے اسی محبت سے ٹوکیو میں ہماری کتاب ’’جالبؔ جالب‘‘ کی تقریب رکھی تھی اور بڑی چاہت اور محبت سے ہماری پذیرائی کی۔

سو 12 مئی کو دعوت ملی ۔دو دن بعد ویزا آگیا۔کراچی سے دوبئی اور پھر دوبئی سے ٹو کیو کا سفر کوئی 15 گھنٹے کا ہے۔ مگر اچھی بات یہ ہے کہ امریکہ کی طرح ایئر پورٹ پر مزید کئی گھنٹے کا امیگریشن والوں کے ہاتھوں ذہنی تشدد کا سامنا نہیں ہوتا۔کتنی ہی طویل قطار ہو۔ صرف آدھے گھنٹے میں امیگریشن اور کسٹم کے سافٹ ہاتھوں سے گزرتے اپنے میزبانوں کے درمیان ہوتے ہیں۔عموماً طویل سفر میں ایک آدھ کتاب رکھ لیتا ہوں۔اس سفر میں اردو کے نابغہ یعنی جینئس شاعر مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ کی آپ بیتی کی ہم نشینی رہی۔ آج جب کہ ہم جیسے اردو لکھنے والوں کی ملکوں ملکوں پذیرائی ہوتی ہے تو دل خون کے آنسو روتا ہے کہ اردو کے اتنے بڑے شاعر کے ساتھ کیسے کیسے ستم ڈھائے گئے۔مگر کسمپرسی ،اپنوں کی بیگانگی اور پھر انگریز سرکار کی زیادتیوں کے باوجود کیا کیا کلام چھوڑ گئے۔کہ ڈیڑھ صدی بعد بھی کوئی اُن جیسا دیوان نہ لاسکا۔اردو کے صاحب طرزادیب رشید احمد صدیقی نے غالب ؔ کے حوالے سے یہ حرفِ آخر لکھ دیا ہے کہ مغلوں نے ہندوستا ن کو تین چیزیں دیں۔۔۔اردو،تاج محل اور مرزا غالب۔اور یہ غالب ؔ خستہ اپنے اور اپنے خاندان کی گزر بسر کیلئے سارے ہند کے نوابوں کو قصیدے لکھ کر بھیجتے تھے کہ اس کے عوض ماہواری وظیفہ لگ جائے۔لکھتے ہیں کہ ایک کم ستّر برس کی عمر سے سوائے خشک شہرت کے فن کا پھل کچھ نہ ملا۔نواب رامپور سے رجوع کیا۔والئ دکن کے در پر بار بار دستک دی ۔دلّی سلطنت کچھ سخت جان تھی سات برس مجھ کو روٹی دے کر بگڑی بادشاہ نے پچاس روپیہ ماہانہ مہیا کئے۔ولی عہد نے چالیس روپے کردئیے۔ولی عہد اس تقرر کے دو سال بعد مرگئے۔ جب بادشاہ نے مجھے نوکر رکھا اور خطا ب دیا ۔اور خدمتِ تاریخ نگاری سلاطینِ تیموریہ مجھ کو تفویض کی تو میں نے ایک غزل طرزِ تازہ پر لکھی اُس کا مقطع تھا

غالب ؔ وظیفہ خوار ہو‘ دو شاہ کو دعا

وہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں

مرزا غالبؔ کے حوالے سے یہ سب تمہید میں نے اس لئے باندھی کہ جاپان میں اردو کے حوالے سے محفلیں سجانے والے ہم جیسے سکرینوں کے وظیفہ خواروں کو عزت دیتے ہیں تو ایسے میں انہیں ضرور یاد دلایا جائے کہ اردو کے بڑے شاعر مرزا غالبؔ کو ضرور یاد رکھا کریں کہ اپنی زندگی کے آخری دنوں کی حکایت خونچکاں ایک خط میں اس طرح لکھتے ہیں کہ: اب میں انتہائے عمرِ ناپائیدار کو پہنچ کرلبِ بام اور ہجوم امراضِ جسمانی و آلام روحانی سے زندہ درگو ر ہوں۔کچھ یادِ خدا بھی چاہیے ۔اگر اس نے چاہا تو تاقیامت میرا نام و نشان باقی رہے گا۔

دمِ واپسیں بر سرِ راہ ہے

عزیزو بس اب اللہ ہی اللہ ہے

کیا سچ لکھ گئے۔۔۔کہ ڈیڑھ صدی بعد بھی اردو شاعری کی تاریخ مرزا غالب ؔ کے بغیر نامکمل رہتی ہے۔مرزا غالبؔ نے بنارس شہر کے بارے میں کہا تھا کیا خوب شہر ہے۔ایسا شہر کہاں پیدا ہوتا ہے۔ایک خط میں لکھتے ہیں کہ انتہائے جوانی میں میرا وہاں جانا ہوا تھا۔اگر اُس موسم میں جوان ہوتا تو وہیں رہ جاتا۔میرا بھی پچیس برس پہلے ٹوکیو آنا ہوا تھا۔انتہائے جوانی یعنی انتہائے شباب میں اگر صحافت کی دشت نوردی میں نہ آتا تو اس شہر میں پڑا رہتا۔کیسا بانکا شہر ہے۔ملکوں ملکوں گھوما ہوں۔مگر ٹوکیو۔۔۔مرزا غالب ؔ نے کلکتہ کیلئے کہا تھا۔میں ٹوکیو کے لئے کہتا ہوں

اِک تیرمِرے سینے پہ مارا کہ ہائے ہائے

آپ سوچتے ہوں گے ۔۔ایک کے بعد دوسری تمہید باندھ رہا ہوں۔یہ ہفتے ،دو ہفتے بعد کیسے ملکوں ،ملکوں اڑے پھرتے ہیں۔گزشتہ شمارے میں مکتوب میامی کے احوال سے یہ تو آپ کو بتا ہو چکا ہوں کہ سبب ایک ذاتی صدمہ تھا۔مگر صدمات کتنے ہی ذاتی اور شدید کیوں نہ ہوں‘ وقت ایک ایسا مرہم ہے جو بڑے بڑے صدموں سے گزار کر زندگی پھر اپنی پرانی ڈگر پر ڈال دیتا ہے۔ سو مکتوبِ میامی میں بھی۔۔۔کچھ احوال امریکہ بہادر کا لکھ دیا تھا۔میامی سے واپسی کے بعد اسکرین پر بھی آوازیں لگائے ہفتہ ہی ہوا تھا کہ سڈنی سے اردو انٹرنیشنل کے برادرِ عزیز اشرف شاد کا دعوت نامہ آیا کہ آپ کی کتاب ’’خواہشِ سفر میں رہے‘‘کی تقریب رکھ لی ہے کہ جس میں لندن ، ٹوکیو کے ساتھ سڈنی کا احوال بھی آپ نے ایسا کھینچا کہ جس جس نے پڑھا اُس نے اصرار کیا کہ مشاعرے کے ساتھ ہماری کتاب کی تقریب بھی رکھ لی جائے۔پہلے بھی کئی بار لکھ چکا ہوں کہ ہم جیسے لوگ جب کتاب لکھ مارتے ہیں تو سب سے پہلے خیال آتا ہے کہ اس کی نکاسی کس طرح ہو۔اپنے شہر بلکہ لاہور، اسلام آباد کا یہ حال ہے کہ اُس میں ’’بندے تو ڈیڑھ دو سو ‘‘آجاتے ہیں‘مگر خریدنے والے بس انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔اُس پر ستم یہ فرمایا جاتا ہے کہ کیسی شاندار تقریب رہی اس پر تو رات ڈھلتے ہی جشن برپا کرنا چاہئے ۔سو کتاب کی فروخت سے جو چار پانچ ہزار ہاتھ آتے ہیں‘ وہ رات کی محفلِ ہاؤ ہو پر لُٹ جاتے ہیں۔پاکستان سے باہر صورت یہ ہے اور اکثر یہ ہوا ہے کہ لندن میں تقریب میں بھلے سو سے کم بندے آئیں ‘مگر اکثریت دس پاؤنڈ میں کتاب خریدتی ہے۔یعنی اگر ساٹھ ستر کتابیں نکل گئیں تو پاکستانی روپے کتنے ہاتھ آئے‘ اس کا حساب کتاب خود لگا لیں‘سو سڈنی کے لئے فوراً اس لئے دوڑنا پڑا کہ ایک تو کراچی کی گرمی اور پھر اُس پہ دن رات کی مارا ماری سے چند دن دور سڈنی جیسے دنیا کے خوبصورت شہر میں گزریں گے جہاں مئی میں بھی اپنے ملک کے جنوری ،فروری کاموسم ہوتا ہے۔اور ادبی نشستوں کے ساتھ خوبصورت موسم میں زہرہ جبینوں کی مناجاتیں اور پیر وئ رندہ خرابات ہوتی ہے۔ اب مزید اس کی تفصیل میں خوفِ خلق خدا کے سبب نہیں جاؤں گا۔مگر ہاں اصل مقصد تو وہی ہوتا ہے۔ایک تو غیر ملک میں جا کر اپنے پاکستانیوں کی قابلِ رشک حب الوطنی، پھر کتابوں سے ڈالر وں میں یافت۔۔۔جیسا کہ ابتدا میں لکھا تھا کہ سڈنی میں ہی ٹوکیو سے بلاوا آگیا تھا ۔وہی محبت سے اصرار کے ساتھ کہ اردو میلے میں ’’خواہشِ سفر میں رہے‘‘کی تقریب رکھ لی گئی ہے کہ آپ نے لندن اور سڈنی سے زیادہ محبت سے ٹوکیو میں گزارے ،شب و روز کا احوال ایسا لکھا ہے کہ اب ہم خود بھی آپ کی لکھی تحریروں سے ٹوکیو کو دیکھنے لگے ہیں۔۔۔کہ جہاں سارا شہر بس صبح سے رات تک روز گار کی دو ڑ میں ہوتا ہے۔مگر ہاں شب ڈھلے ایک دوسرا شہر جاگنا شروع کرتا ہے۔جس کی تفصیل میں اسی خوفِ خلقِ خدا کے سبب نہیں جاؤں گا۔ہاں ذرا جاپان کے حوالے سے سب سے پہلے یہ حیران کن بات سن لیں کہ ساری دنیا کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے مگر جاپان کی آبادی کم ہو رہی ہے۔ذرا اس کی مثال اپنے وطن عزیز ہی سے دے لوں کہ بیس برس پہلے پاکستان کی آبادی جو 12 کروڑ تھی،اب 18 کروڑ سے بڑھ گئی ہے۔جبکہ اس دور ان جاپان کی آبادی 12 سے گیارہ کروڑ رہ گئی ہے ۔جاپان کا شاہی خاندان، حکمراں طبقہ اور تھنک ٹینک د ن رات کوششوں میں مصروف ہیں کہ آبادی کسی طرح بڑھے ۔ایک بچے کی پیدائش پر 4 لاکھ ین دئیے جارہے ہیں۔ایک ین ہمارے روپے سے بس آنے دو آنے زیادہ ہوگا۔مگر جاپانی 4 لاکھ کے جھانسے میں نہیں آرہے۔مشکل سے ایک یا پھر زیادہ سے زیادہ دو بچے ۔یعنی یہاں شرح آبادی 1.7 فیصد ہے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ خوشگوار موسم زندگی کی شاندار سہولتوں کے سبب ستر ،اسّی برس میں بھی جاپانی نوجوانوں کی طرح زندگی کی دوڑ میں لگے ہوتے ہیں۔چلتے چلتے یہ بھی بتاتا چلوں کہ دہائی پہلے جاپان میں پاکستانیوں کی آبادی پچاس ساٹھ ہزار کے لگ بھگ تھی۔جو اب محض دس،بارہ ہزار رہ گئی ہے۔اسباب کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا غالباً جاپانیوں نے ادراک کر لیا تھا کہ پاکستانی قوم جو دنیا کی اقوام میں زیادہ بچے پیدا کرنے میں ممتاز مقام رکھتی ہے‘ اگر اسی طرح اُن کے وطن میں بھی پرورش پاتی رہی تو چار پانچ دہائی میں جاپانی اقلیت میں رہ جائیں گے۔سو اِدھر چند برسوں سے جاپان کا ویزا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔اب جاپان میں محض جاپانی ہی بستے ہیں۔غیر ملکیوں کی تعداد مشکل سے دو سے تین فیصد ہوگی۔ یہاں کی سیاست،معیشت ، یہاں کے لوگو ں کا رہن سہن اور پھر ڈ سپلن بیان کرنے کے لئے ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے۔جس کا ارادہ بھی باندھ لیا ہے کہ سڈنی کی طرح ٹوکیو میں بھی ’’خواہشِ سفرمیں رہے ‘‘ کی اتنی کاپیاں فروخت ہوئیں کہ لندن،سڈنی کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔آپ یقیناًخواہش رکھتے ہوں گے۔۔کہ ذرا اُن جاپانی ینوں کا بھی آپ کو حساب کتاب دوں تو معاف کیجئے ۔وہ کیا محاورہ ہے جس میں آم اور گٹھلیوں کا ذکر ہے کہ جس سے آپ کو غرض نہیں ہونی چاہئے۔ ہاں دعا ضرور کرتے رہیں کہ ہمارے یہ سفر جاری رہیں۔شاعرِ عوام حبیب جالبؔ نے لندن میں ایک اسٹور۔۔۔ کے مالک کی فرمائش پر یہ شعر لکھا تھا

چلے گی اور چلے گی

دکانِ بادہ فروش

مکان بِک کے بِکے گا

دکانِ بادہ فروش

سو دعا کریں کہ اپنے وطن عزیز میں ہوتے ہوئے ہم جو ہمہ وقت خواہشِ سفر میں ہوتے ہیں‘ وہ اسی طرح جاری رہے اور اس بہانے دکانِ کتاب بھی چلتی رہے۔’’دکان کتاب‘‘لکھ تو دیا ہے مگر نقادانِ ادب معترض ہونگے کہ اردو داں ہوتے ہوئے غلط اردو لکھ بیٹھا۔نقادان بلکہ حاسدانِ شہر سے ہمیں کیا لینا دینا۔وہ تو اکثر بھری محفل میں پوچھ بیٹھتے ہیں کہ یہ جو آپ ہر مہنے دو مہینے ایک ملک سے دوسرے ملک میں ہوتے ہیں۔۔۔اور ہر شام شبِ برات برپا ہوتی ہے‘ اس میں کس کس ایجنسی اور’’ملِکوں‘‘ سے مال آتا ہے۔اب بتائیے کہ اگر ہمارے پاس مال آتا بھی ہے تو آپ کا اس سے کیا لینا دینا ۔اس مال پرکیسا بَڑھیا

شعر یاد آگیا۔۔۔

آنکھیں دکھلاتے ہو جو بن بھی دکھاؤ صاحب

وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے

سو اب ایک بریک کی طرف چلتا ہوں ۔جلد ہی خواہشِ سفر میں رہے کے دوسرے ایڈیشن کے ساتھ حاضر ہوں گا۔لندن، سڈنی ،ٹوکیو،نیویارک سمیت تمام دوستوں کو خبر ہو کہ ابھی سے تیاری پکڑ لیں کہ بریلی کا مجاہد آرہا ہے۔

[email protected]

یہ تحریر 22مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP