متفرقات

مکتوبِ میامی

17مارچ2015

میامی سالہا سال سے ’’بیوی‘‘ کے واسطے سے آرہا ہوں۔۔۔ مگر اس بار ایک حادثے بلکہ سانحے سے بال بال بچ گیا۔اس حادثے اور سانحے کا ذکر ذرا بعد میں۔۔۔ ’’بیوی‘‘ کے واسطے بلکہ رشتے کے حوالے سے میامی آنے کا ذکر اس لئے کیا کہ نوّے کی دہائی میں جب سخت پیغمبری وقت پڑا تو نزہت کہنے لگیں۔۔۔اگر تم سے شادی نہ ہوتی تو اپنے سارے خاندان کی طرح میامی میں ہوتی۔ ساتھ بیٹھی بیٹی نے کہا۔ ہم نے تو سنا ہے جوڑے آسمان پر بنتے ہیں۔بلکہ بچوں کے بارے میں بھی اوپر سے حکم ہوتا ہے کہ کسے کہاں پیدا ہونا ہے۔میں تو O Levelکرتے ہی طے کر بیٹھی تھی کہ لندن ہی میں پڑھنا ہے اور پھر بعد میں وہیں بسنا ہے۔یوں تو میامی کے علاوہ بھی قلم کی گھسائی اور اسکرین پر آواز لگانے کے حوالے سے امریکہ کے دیگر شہروں میں بھی آنا جانا ہوا مگر۔۔۔میامی جیسا کہ پہلے بھی لکھا‘ صرف بیوی کے واسطے اور حوالے سے ہی آنا ہوتا ہے۔ سو اس بار ایک ذاتی صدمے کے حوالے سے میامی آنا ہوا۔ذاتی صدمے کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔ والد مرحوم کہا کرتے تھے ۔۔۔پُرسے کے لئے آنے والے تو یہی کہتے ہیں صبر کریں۔۔اللہ کی یہی مرضی تھی مگر جس کی انگلی کٹتی ہے،وہی زخم کا رِسنا جانتا ہے۔ شاعر عوام حبیب جالبؔ یا د آگئے۔۔۔

سجا کے غم کو نہ چہرے پہ باہر آ گھر سے

بُجھی نظر سے مرے ہمنوا فضا نہ بجھا

جالب صاحب غزل کے خوبصورت شاعر تھے مگر ان کی نظمِ دستور ساری شاعری کو کھا گئی۔ ایسے دستور کو، صبح بے نور کو، میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا، کہتے کہتے ساری زندگی ایسی اسیری اور بے گھری میں گزار دی اوریہ کہتے ہوئے رخصت ہوئے کہ:

ترسیں گی اجالوں کو شب غم کی نگاہیں

ہوجائے گا جس روز مرا دیدۂ تر بند

یہ لیجئے، بھٹکتے ہوئے کہاں سے کہاں نکل گیا۔۔۔جالب صاحب اور ان کا ذکر ہی ایسا ہے کہ ان سے سرسری گزرا بھی نہیں جاسکتا۔میامی آمد پر جس سانحے یا حادثے کا ذکر کیا،وہ یوں ہے کہ 24گھنٹے سفر کے بعد اِمیگریشن کاؤنٹر پر بیٹھے افسر نے کہا۔۔آپ کا ویزا بی ٹو یعنی میڈیا والا ہے ۔۔۔ جبکہ آمد کی وجوہ آپ ذاتی حوالے سے بتا رہے ہیں۔۔یہ کہتے ہوئے وہ ہمیں ایک ایسے وسیع کمرے میں لے گیا جہاں ساری دنیا کی مخلوق ایک دوسرے پر چڑھی بیٹھی تھی۔اک حشر کا سماں تھا۔وقفے وقفے سے ایک لمبا تڑنگا امیگریشن افسر دو تین پاسپورٹ ہاتھ میں لہراتا ہوا آتا۔کسی کو دائیں ہاتھ کا اور کسی کو بائیں ہاتھ کا راستہ دکھاتا۔بائیں ہاتھ کا راستہ دیکھنے والے خوشی سے چھلانگیں لگاتے ۔۔باہر چلے جاتے اور دائیں جانب والے آنکھوں میں آنسو لئے بوجھل قدموں سے واپسی کی فلائٹ کی طرف چل پڑتے۔میامی کی فلائٹ سے اترنے والے تین ساڑھے تین سو مسافروں میں مشکل سے کوئی آٹھ یا دس پاکستانی ہوں گے۔۔دو کو چھوڑ کر باقی ہم سات سر جوڑے بیٹھے تھے کہ کیا نامہ اعمال آتا ہے۔۔۔گھوم پھر کر بات 9/11پر آ رہی تھی کہ اس سے پہلے امریکہ سمیت کسی مغربی ملک میں بالخصوص پاکستانیوں سے یہ سلوک روا نہیں ہوا کرتا تھا۔اپنے حکمرانوں اور امریکیوں کو کوسا جا رہا تھا۔کوئی بات کا یہ رخ سننے کو تیار نہ تھا کہ ستّر اور اسّی کی دہائی میں چیچنیا سے سعودی عرب تک اور ایران سے ازبکستان تک سے آنے والے جہادیوں کی جو ہم نے میزبانی کی، اس کی سزا آج ساری قوم اور ریاست کو بھگتنی پڑ رہی ہے۔اس سے پہلے کہ ماحول میرا ٹاک شو بنتا۔۔۔ایک سینئر اِمیگریشن افسر نے خبر دی کہ وہ میرے اس موقف کو تسلیم کرلیتے ہیں کہ صحافی والے ویزے پر ذاتی حوالے سے بھی Visitکیا جاسکتا ہے۔آپ سوچتے ہونگے کہ دنیا کے سب سے خوبصورت ساحلی شہر سے یہ کیا داستانِ غم لے بیٹھا۔۔۔خود تو کہیں شام گئے بیٹھے خمار کھینچ رہے ہوں گے اور ہمیں غم کھینچنے کے لئے رائی کو پہاڑ بنا رہے ہیں۔یہ کھینچنے پر مرزا یاس یگانہ چنگیزی یاد آگئے۔۔۔

عوض طرب کے گزشتہ میں ہم نے غم کھینچا

شراب اوروں نے پی اور خمار ہم کھینچا

سو ۔۔۔میامی ہی میں ہوں اور 24گھنٹے سے چہار دیواری میں ہوں ۔اب باہر جانے کی ’’تب و تاب‘‘نہیں۔جب تب و تاب تھی تو جیب میں اتنی سکت نہیں تھی کہ شاعر خماریات عبدالحمید عدم ؔ کی طرح دعویٰ کرتے:

فقیروں کے دوارے پر عدمؔ قلت ہے کس شے کی

پری وش ہیں،بہاریں ہیں،صراحی ہے، پیالہ ہے

گھر کی چہار دیواری سے باہر کا رخ کیا تو ضرور اس کا ذکر کروں گا۔مگر اس کی ذرا کم ہی امید رکھیں کہ میامی کے ساحلوں پر ڈھلتی شب کو دیکھا تو جا سکتا ہے،انہیں بیانیہ نہیں بنایا جاسکتا۔دیکھیں کیسا خوبصورت شعر سامنے آگیا۔۔

رات پھولوں کی نمائش میں وہ خوش جسم سے لوگ

آپ تو خواب ہوئے ا ور ہمیں بیدار کیا

۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔

19مارچ2015

میامی کوئی ہفتے بھر کو آنا ہوا ہے۔ایک دن آنے میں اور دو دن واپسی میں کٹ جائیں گے۔میامی میں جب صبح ہورہی ہوتی ہے تو اپنے شہر میں رات کے سائے گہرے ہورہے ہوتے ہیں۔یوں وطن عزیز سے ایک حد تک بے خبر ہی ہوں۔اگر باخبر ہوا بھی تو بس یہی خبر ملے گی کہ دو لاشیں گر گئیں۔۔۔20موبائل چھن گئے۔۔۔سو باہر آکر یہی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے شہر کے فساد سے دور ہی رہوں۔سو میامی میں تیسرا دن ہے۔ میامی کی بس ایک ہلکی سی جھلک ہی دیکھ پایا ہوں۔میامی یا امریکہ کے بڑے شہروں میں ہم جیسوں کے لئے سب سے بڑی مشکل یہی ہوتی ہے کہ ڈرائیور سمیت گاڑی کے بغیر باہر نکلا نہیں جاسکتا۔امریکہ یورپ یا ایشیائی ممالک کی طرح نہیں کہ رکشہ،بس ،ٹرین پکڑی اور سارا شہر دیکھ لیا۔دور دراز تو چھوڑیں ،میل بلکہ فرلانگ بھر کے فاصلے کے لئے بھی میزبان کی محتاجی ہوتی ہے اور یہ میزبان چاہے کتنا ہی قریبی عزیز اور دوست کیوں نہ ہو۔۔۔اپنے گھر اور روزگار کے سبب محض چھٹی کے دن دستیاب ہوتا ہے۔پھر حالیہ برسوں میں جو ملکوں ملکوں سفر کیا اُس سے یہ عقدہ تو کب کاکھل چکا ہے کہ سارے ترقی یافتہ ملکوں کے بڑے شہر ایک طرح کے ہوتے ۔۔۔ کشادہ سڑکیں فلک بوس عمارتیں اور شاپنگ مال ۔۔۔بڑی بڑی گاڑیاں ۔۔۔رنگوں اور روشنیوں سے پھوٹتی دولت و امارت ۔۔امریکہ میں اب پاکستانیوں کی تیسری نسل پروان چڑھ رہی ہے۔پہلی اور دوسری نسل مکمل طور پر مسلمانیت اور پاکستانیت میں ڈوبی ہوئی تھی ۔۔۔جبکہ تیسری نسل کے آتے آتے۔۔۔مسلمانیت اور پاکستانیت ۔۔ Americanisationمیں ڈھل رہی ہے۔بلکہ Identity Crisisکا شکار ہے۔ویسے تو ادھر جب کراچی میں بھی ایک دوست کے گھر شام گزارنے گیا تو اپنے صاحبزادے کے بارے میں بڑے فکر مند نظر آئے۔موبائل فون سے بنائی گئی ویڈیو میں اُن کے 17سالہ صاحبزادے اپنی ہم عمر لڑکیوں کے ساتھ تیز انگریزی میوزک پر جس طرح تھرک رہے تھے، اُس کو دیکھتے ہوئے میں ورطۂ حیرت میں غوطے لگانے لگا۔

یہ لیجئے۔۔۔کہاں سے شروع ہوا ۔۔۔کہاں کھو گیا ۔اس بیچ میامی میں گزری گزشتہ شام پیچھے رہ گئی۔ابھی کچھ دیر پہلے ہالی وڈ بیچ گیا تھا۔۔۔جس کی ایک جھلک آپ کو دکھاتا چلوں کہ ساحل سمندر سے فرلانگ بھر لبِ سڑک ایک ریستوران کی بینچ پر آتے جاتے پیلے،کالے،گورے امریکیوں کی اکثریت کو دیکھ کر یہ خوشگوار حیرت ہوئی کہ ان میں اکثریت ضعیف العمر لوگوں کی تھی اور ان میں بھی کوئی تنہا نہیں تھا۔ ستّر بلکہ اسّی ،نوّے سال کے قریب قریب والے جوڑے خوش وخرم چہل قدمی کرتے ملے۔یہیں میرے ایک بھانجے نے امریکی کیپیٹلزم کے بارے میں میری معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ اب یہاں سے مڈل کلاس کا تقریباً خاتمہ ہوتا نظر آرہا ہے۔یا تو بہت امیر یا پھر غریب محنت کش۔۔پاکستانیوں کے لئے بھی اب یہ ستّر ،اسّی کی دہائی والا امریکہ نہیں رہا۔۔۔جب پانچ سات سال کی محنت سے ترقی اور خوش حالی کے دروازے کھلنے لگتے تھے۔میامی کے پیدائشی میرے اعلیٰ تعلیم یافتہ بھانجے اسد صدیقی کا کہنا تھا کہ ملٹی نیشنلز کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔انہوں نے امریکہ بلکہ دنیا کی سب سے بڑی سپر اسٹور کی چین Walmart کے بارے میں بتایا کہ 27ممالک میں 18ہزار سٹورز ہیں، جس میں22لاکھ ملازمین ہیں۔ایک زمانے میں اس کے بڑے شہروں میں بڑے بڑے اسٹور ہوتے تھے مگر اب۔۔آس پاس کی ساری شاپس کو کھاجانے کے لئے اس نے کم قیمت پر چھوٹے چھوٹے سٹورزکا اپنا جال پھیلا دیا ہے۔جہاں سوئی سے لے کر گاڑی اور پیاز سے لے کر جوتے تک مل جاتے ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ سپر پاور امریکہ کے اس سب سے بڑے ملٹی نیشنل میں ملازمین مستقل نہیں ہوتے۔۔۔کنٹریکٹ اور تنخواہ بھی واجبی ہے۔ وال مارٹ سرمایادارانہ جاگیر داری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ہالی ووڈ بیچ سے واپسی پر ہم نے Downtownکا رخ کیااور پھر وہاں سے ہوتے ہوئے اسد مجھے ایک ایسے علاقے میں لے گئے جہاں ہر گلی، چوک پر کالوں کی اکثریت نظر آئی۔۔۔ گندی اور کچرے سے بھری سڑکیں۔۔۔پسماندگی لئے چھوٹے چھوٹے فلیٹ۔۔جدھر نظر دوڑائیں۔۔۔ غربت پھوٹتی نظر آرہی تھی۔مگر اسی دوران میری آنکھوں نے ایک اور حیرت کدہ دیکھا۔اور وہ دیواروں پر گہرے رنگوں کے نقش و نگارجسے Graffiti کہتے ہیں۔ میامی کی مقامی حکومت نے اس علاقے کی غربت و افلاس کو دیکھتے ہوئے یہ منصوبہ بنایا کہ یہاں سارے امریکہ بلکہ ساری دنیا کے آرٹسٹوں کو دعوت دی جائے کہ وہ یہاں کی دیواروں پر اپنے فن کا مظاہرہ کریں۔۔۔آرٹسٹوں کی آمد کے ساتھ ساتھ یہاں پر کیفے اور شاپس بھی کھلنے لگے۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ یہاں پر 12 آرٹ سٹوڈیو اور70 آرٹ گیلریاں ہیں۔ہفتے کی شام سے لے کر شب تک یہاں ایک جشن کا سماں ہوتا ہے ۔مگر اس کے باوجود کہ گزشتہ ایک دہائی سے کالوں کے اس پورے علاقے کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے‘مگر مقامی گورے ،جن میں Spanishنژاد کی اکثریت ہے، اِسے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ۔

مگرہاں چلتے چلتے اسی سرمایہ دارانہ نظام کا ایک شاندار پہلو بھی دیکھتے چلیں کہ میری ساس کی طبعیت ناساز تھی۔وہ چل کر ہسپتال نہیں جاسکتی تھیں۔شام کو گھنٹی بجی ،معلوم ہوا کوئی inhalerدینے آئے ہیں۔اگلے دن ایک نرس نے دستک دی ۔مقامی ہیلتھ کیئر سینٹر نے اس کی یہ ڈیوٹی لگائی کہ وہ ہفتے کے ہفتے اُن کا معائنہ کریں اور جو بھی میڈیسن ہوں وہ انہیں فراہم کریں۔میامی کے بارے میں چلتے چلتے یہ بھی سن لیں کہ اس کا موسم کراچی کی طرح ہوتا ہے۔مگر وقفے وقفے سے ہلکی پھلکی بارش موسم کو خوشگوار بنا دیتی ہے جس کے بعد چار دیواری میں بیٹھنا ممکن نہیں ہوتا۔سو اس وقت بھی یہی صورت ہے۔ بارش نے موسم کو خوشگوار اور خنک بنا دیا ہے۔میرے بھانجے دروازے پر گاڑی لے آئے ہیں۔اُن کا اصرار ہے کہ چل کر کہیں اچھی سی کافی پی جائے اور فلم بھی دیکھی جائے۔ان دنوں کراچی میں ان دونوں کاموں کے لئے وقت نہیں ملتا۔ سو فوراً تیار ہوجاتا ہوں۔ میامی میں کل آخری دن ہے۔ وقت ملا تو آخری خط میں میامی کے وہ رنگ بھی دکھانے کی کوشش کروں گا کہ جس کے سبب میامی امریکہ ہی نہیں ۔۔۔ساری دنیا میں شہرت رکھتا ہے۔

[email protected]

مصنف نامور لکھاری‘ مشہور تجزیہ نگار اور ایک نجی ٹی وی چینل کے اینکرپرسن ہیں۔

 

یہ تحریر 39مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP