متفرقات

مکان کا شرف مکین

ایک ایسا مکان جس نے کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں
دادا  شیخ محمد رفیق اور ان کے بھائی عبداللہ نے150 روپے میں خریدا، بڑے بھائی شیخ عطا محمد نے اپنے حصے کا مکان
 اپنے عظیم بھائی کے نام منسوب کردیا۔13 حصہ داروں نے 125,000 روپے میں محکمہ آثار قدیمہ کے سپرد کردیا۔

 

 سیالکوٹ میں اقبال منزل وہ منزل سعید ہے جس میں شاعر مشرق، مفکر پاکستان حضرت علامہ محمد اقبال  نے آنکھیں کھولیں اور جہان عمل میں اولین سانس لی۔ یہ عمارت شہر کے قدیم ترین بازار چوڑی گراں جو  اب اقبال سٹریٹ کے نام سے منسوب ہے، برلب سڑک  واقع  ہے۔ اس مکان نے کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ یہ مکان وقت کے ساتھ ساتھ مختلف تعمیر اتی مراحل سے بھی گزرتا رہا  اور اس کے ڈیزائن اور رقبے میں بھی اضافہ ہوتا رہا۔ علامہ اقبال کی والدہ ماجدہ امام بی بی نے اسی مکان میں اقبال جیسے عظیم مفکر کو جنم دیا۔ اس مکان نے والدین اقبال کو اس جہان  فانی سے رخصت  ہوتے اور سب کو سوگوار چھوڑتے بھی دیکھا۔ علامہ اقبال کی بیٹی معراج  بیگم کی پیدائش اور نوجوانی میں ان کی جدائی کا منظر بھی دیکھا جبکہ علامہ اقبال  کی اولین اہلیہ کریم بی بی کی بطور دلہن آمد اور پھر ناراض ہو کر واپس اپنے میکے گجرات جاتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ فرزند اقبال جاوید اقبال کا جنم بھی اسی مکان میں ہوا۔ غرض یہ مکان اپنے اندر ایک تاریخ سمیٹے ہوئے ہے۔
  جموں و کشمیر میں ہونے والے بد امنی کے واقعات کی وجہ سے ہجرت کرنے پر جب علا مہ صاحب کے دادا حضور شیخ محمد رفیق اپنے بھائی عبداللہ کے ہمراہ ضلع سیالکوٹ پہنچے تو سب سے پہلے ان کا پڑائو سمبڑیال کے گائوں 'جیٹھی کے' میں ہوا۔ کچھ عرصہ بعد وہ سیالکوٹ منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے محلہ کھٹیکاں میں کرائے کے مکان میں رہائش اختیار کی جبکہ ان کے ایک بھائی  عبداللہ گائوں جیٹھی کے میں رہنے لگے۔  
کچھ عرصہ بعد شیخ محمد رفیق نے اپنے بھائی عبداللہ کے ساتھ مل کر 6  فروری 1861 کو بازار چوڑی گراں میں اپنا ذاتی مکان خرید لیا۔یہ مکان ایک سو پچاس روپے میں خریدا گیا ۔اس زمانے میںیہ ایک منزلہ کچھ کچا اور کچھ پکا پرانے فیشن کا مکان تھا۔ جس میں گلی کی طرف ایک ڈیوڑھی،، دو کوٹھڑیاں ان کے ساتھ ایک دالان اور اس کے آگے چھوٹا سا صحن تھا۔دسمبر 1892ء اور مارچ 1895 ء  میں علامہ اقبال کے والد محترم شیخ نور محمد میاں جی نے اس میں اضافہ کیا اور ایک ملحقہ مکان خریدکر اس مکان میں شامل کرلیا۔
شاعر مشرق اسی مکان کے پرانے حصے میں پیدا ہوئے۔قدیم حصے کے کونے والی کوٹھڑی جس کی دو کھڑکیاں گلی میں کھلتی ہیں، کو آپ کی جائے پیدائش ہونے کا شرف حاصل ہے۔ والدہ محترمہ علامہ اقبال حضرت امام بی بی' بے جی' نے  اسی مکان کے ناپختہ صحن میں انہیں پائوں پائوں چلنا سکھایا، بولنا سکھایا، ادب و آداب سکھائے ۔ اقبال یہیں کھیلتے کودتے پروان چڑھے۔ والد محترم علامہ اقبال حضرت شیخ نور محمد نے اس دوران ایک اور مکان خرید لیاجسے کرائے پر چڑھا دیاگیا۔ یہ مکان اقبال منزل کے قریب ہی تھا۔ جب شیخ نور محمد نے جائیداد کی تقسیم کی تو یہ مکان علامہ اقبال کے حصے میں آیا جسے کچھ عرصے بعد انہوں نے فروخت کر دیا۔جس جدی مکان میں علامہ اقبال  کی پیدائش ہوئی بڑے بیٹے شیخ عطا محمد کے حصے میں آیا۔ شیخ عطا محمدنے جدی مکان کے ساتھ ملحقہ ایک مکان خرید کر موجودہ مکان کی از سرِ نو تعمیر شروع کی اور اسے ایک عظیم الشان سہ منزلہ حویلی میں تبدیل کرکے اسے اپنے عظیم بھائی حضرت علامہ اقبال کے نام  سے منسوب کرکے اسے اقبال منزل بنادیا اور ہمیشہ کے لئے اس مکان کو یاد گار اور اہم بنا دیا ۔
 شیخ عطا محمد نے اس جدی مکان کی از سرِ نو تعمیر ضرور کی لیکن اس کی  پرانی ہیئت کو پوری طرح برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کی۔ دیواریں اور فرش نئے طریقے سے پختہ ضرور کئے مگر ڈیوڑھی، کوٹھڑیاں اوردالان تقریباً اسی طرح رہے اور صحن کا طول و عرض بھی قریب قریب وہی رکھا۔ چونکہ شیخ عطا محمد خود سول انجنیئر تھے، اس لئے انہوں نے اس عمارت کو اپنے اصلی حسن میں محفوظ رکھنے میں خوب کمال دکھایا۔اس طرح وہ تاریخی جگہ جہاں حکیم الاامت نے جنم لیا تھا اسی طرح موجود رہی۔ اقبال منزل میں وہ کمرہ بھی خاصی اہمیت رکھتا ہے جو والد محترم شیخ نور محمد کے لئے مختص تھا اور اقبال اپنے عظیم والد کی نصیحتیں سنتے اور پہروں حاضر خدمت رہتے اور ان سے اکتساب فیض کرتے۔یہاں وہ کمرہ بھی موجود ہے جو ان کے بڑے بھائی اور محسن شیخ عطا محمد کے لئے مختص تھا جہاں دونوں بھائی بیٹھ کر مختلف موضوعات پر  تبادلہ خیال کرتے تھے۔ اقبال منزل کی اندرونی نشست گاہ میں آج بھی اسی طرح لکڑی کے تخت بچھے ہیں جس طرح پہلے زمانے میں  تھے۔ انہی تختوں پر سفید چاندنیوں کے اوپر گائو تکیوں کے سہارے بیٹھ کر شاعر مشرق حقہ نوش فرمایا کرتے تھے اور رات کو گھریلو محفل جما کرتی تھی۔ان تختوں کو شرف حاصل ہے کہ جب حضرت علامہ صاحب سیالکوٹ میں تشریف لاتے اور یہاں قیام فرماتے توانہی تختوں کے اوپر ان کا بستر بھی بچھا دیا جاتا۔ یہاں و ہ بیرونی نشست گاہ بھی موجود ہے جس میں مفکرپاکستان مہمانوں اور آنے والے عام لوگوں کو شرف ملاقات بخشا کرتے تھے۔  
 اقبال منزل میںلاتعداد ایسی چیزیں موجود ہیں جنہیں علامہ صاحب کے استعمال میں رہنے کا شرف حاصل رہا ہے۔وہ آرام کرسیاں جن پر انہوں نے آرام فرمایا،وہ پلنگ جن پر وہ محو استراحت رہے،وہ قالین جنہیں ان کے قدم چومنے کی سعادت  نصیب رہی،وہ درو دیوار جن کو شاعر مشرق کے ہاتھوں کا لمس میسر آیا، وہ کتابیں جو ان کے مطالعے میں رہیں، وہ آتش دان جس کے سامنے بیٹھ کر مفکر پاکستان طویل اور خنک راتوں میں محو فکر رہے۔ یہاں تیل سے جلنے والے وہ دیوار گیر لیمپ آج بھی موجود ہیں جن کی روشنی میںآپ مصروف مطالعہ رہے۔ اقبال منزل کم و بیش پندرہ کمروں اور سات دکانوں پرمشتمل ہوا کرتی تھی۔ ڈیوڑھی سے ملحقہ کمرے میں علامہ اقبال  نے جنم لیا۔ وہ لان اور صحن بھی موجود ہے جس میں ان کا بچپن ، لڑکپن اور جوانی گزری۔ علامہ اقبال کے بڑے بھائی شیخ عطا محمد بھی اس مکان میں پیدا ہوئے۔جبکہ کبوتر  پالنا اور پتنگ اڑانا اسی عمارت  سے منسوب ہے۔ 
 علا مہ اقبال کی پہلی شادی گجرات کے ایک رئیس ڈاکٹر عطا محمد خان کی بڑی صاحب زادی کریم بی بی سے اسی مکان میں رہتے ہوئے اس وقت سرانجام پائی جب علامہ اقبال  ابھی صرف پندرہ برس کے ہی ہوئے تھے۔ آپ نے میٹرک کا امتحان دیا تھا اور نتیجے کا انتظار کر رہے تھے ۔گجرات سے دلہن لانے کے لئے ا بھی گھوڑے پر سوار ہوئے ہی تھے کہ ان کے پاس ہونے کا تار آگیا جو علامہ اقبال اور ان کے خاندان کے لئے دوہری خوشی کا باعث بنا۔ اسی مکان میں کریم بی بی کے بطن سے 1895 ء میںبیٹی معراج بیگم پیدا ہوئیں جبکہ معراج  بیگم  1914 ء میں بیمار ہونے کے بعد جوانی ہی میں اللہ کو پیاری ہو گئیں۔ یہ کیا حسن اتفاق  ہے کہ جس تاریخ کو حضرت علامہ اقبال کی پیدائش ہوئی اسی تاریخ کو علامہ اقبال کی عظیم ترین والدہ محترمہ حضرت امام بی بی انتقال فرما گئیں۔ حضرت امام بی بی  9 نومبر 1914 ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ ایک ہی سال میںپہلے جواں سال بیٹی اور والدہ محترمہ کی وفات سے علامہ اقبال اور ان کے خاندان کی پریشانیوں میں اضافہ ہوا جبکہ آنے والے برسوں میںعلامہ اقبال کی ذاتی زندگی میںتلخ باتیں پریشانی کا باعث بنتی گئیں۔ کریم بی بی سے اختلافات کی خلیج وسیع ہوتی گئی۔ لیکن اس کے باوجود علامہ صاحب نے ان کی ہر طرح اعانت کی۔علامہ اقبال کا کریم بی بی سے بیس سال تک تعلق رہا اور اپنی وفات تک طے شدہ رقم کریم بی بی کو بھجتے رہے ۔ علامہ صاحب کے والد محترم حضرت شیخ نور محمد المعروف میاں جی کا انتقال بھی اس اقبال منزل میں 17 اگست  1930ء کو ہوا۔ جس سے مکان کی فضا مزید سوگوار ہو گئی۔ علامہ اقبال سیالکوٹ میں ایف اے کرنے کے بعد لاہور منتقل ہو گئے تھے مگر گاہے  بہ  گاہے یہاں 



مفکر ِپاکستان حضرت  علامہ اقبال  کے بڑے بھائی شیخ عطا محمد کے نواسے، شیخ نظیر احمد صوفی اور علامہ اقبال کی سگی بھتیجی سلیمہ مبارک کے صاحبزادے خالد نظیر صوفی بتایا کرتے  تھے کہ ان کی پیدائش 28 جون 1939ء کو اسی اقبال منزل میں ہوئی۔ جب میں نے ہوش سنبھالا تو  اقبال منزل کی بالائی منزل پر شیخ نور محمد میاں جی (والد محترم علامہ اقبال) والا کمرہ ہمارے استعمال میں تھا۔ ان دنوں خاندان اقبال کے بزرگوں میں میری نانی جان محترمہ مہتاب بی بی بھی یہاں مقیم تھیں۔ میاں جی شیخ نور محمد17 اگست 1930 ء میں اللہ کو پیارے ہو چکے تھے۔علامہ اقبال 21  اپریل 1938 ء کوجب کہ ان کے بڑے بھائی شیخ عطا محمد 1940ء میں انتقال کر گئے۔ اس لحاظ سے اقبال منزل آہتہ آہتہ اپنے پیاروں سے محروم ہوتی جارہی تھی۔ میں جب سمجھ بوجھ کے قابل ہوا تو اقبال منزل گنتی کے چند نفوس سے آباد تھی۔ جن میں میری بڑی بھابھی جی، میرے منجھلے ماموں شیخ امتیاز احمد ، ان کی بیگم محمودہ ، ان کے اکلوتے فرزند افتخار احمد ، میرے والد محترم شیخ نظیر احمد صوفی، میری والدہ سلیمہ مبارک اور میرے سمیت کل سات افراد اتنی بڑی حویلی میں سکونت پذیر تھے۔ خالد نظیر صوفی کا کہنا تھا کہ  اقبال منزل کو  مئی  1971ء میں محکمہ آثار قدیمہ نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔ اس وقت اقبال منزل کی چابیاں میری تحویل میں ہوا کرتی تھیں۔ چنانچہ  میں ہی نے تمام اشیاء محکمہ آثار قدیمہ کے حکام کے حوالے کیں اور گھر میں موجود تمام سامان انہیں دکھا یا۔ تمام فرنیچر ، تصاویر ،کراکری اور دیگر گھریلو سامان اس لئے وہا ں چھوڑا گیا کہ اقبال منزل کو اسی طرح محفوظ کیا جائے گا تاکہ جو لوگ اقبال کے مولدو مسکن کو دیکھنے آئیں انہیں معلوم ہو سکے کہ اقبال فیملی کس طرح یہاں بودو باش کرتی تھی۔اقبال منزل میں ایک ایسی شخصیت کو بھی  33سال تک مقیم رہنے کا شرف حاصل ہے جس کا  نہ تو علامہ اقبال اور نہ ہی خاندان اقبال سے کسی قسم کا کوئی خونی رشتہ یا تعلق ہے لیکن شاعرمشرق حضرت علامہ اقبال سے ان کی عقیدت و محبت کا روحانی رشتہ اتنا مضبوط اور طاقت ور ہے کہ بیان سے باہر ہے ۔ تینتیس سال قبل جب شاہی قلعہ لاہور سے سید ریاض حسین نقوی اقبال منزل کے انچارج کے طور پر یہاں تعینات ہوئے تو کسی کو یہ پتہ نہیں تھا کہ وہ علامہ اقبال کے بارے میں کتنا علم اور معلومات رکھتے تھے لیکن اقبال منزل کے ایک طویل عرصے تک مکین رہنے کی وجہ سے ان کی دنیا ہی بدل گئی ہے۔علامہ اقبال سے عشق اور لگن نے انہیںحقیقی معنوں میں شیدائی اقبال اور ماہر اقبالیات بنا دیا ۔ فروری   2017 میں جب ان کی  اقبال منزل کے انچارج کی حیثیت سے ریٹائرمنٹ ہو گئی اور انہیں دوبارہ کنٹریکٹ ملنے تک جب انہیں کچھ عرصہ کے لئے اقبال منزل سے باہر کرایے کے مکان میں رہنا پڑا  تو انہیں عجیب طرح کی بے سکونی نے گھیرے رکھا۔یہ عرصہ ان کے لئے بڑی مشکل سے گزرا ۔ اقبال منزل سے دور رہنا ان کے لئے ایک تکلیف دہ تجربہ تھا۔ ریاض حسین نقوی جو ایک بار پھر اپنا کنٹریکٹ ختم ہونے کے باوجود رضاکارانہ بنیادوں پرروزانہ باقاعدگی سے اقبال منزل آتے ہیں اوریہاں آنے والے سیاحوں اور اقبال کے شیدائیوں سے اقبال کے حوالے سے معلومات اور ان کی اقبال منزل سے یادوں کا تذکرہ کرکے اقبال سے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہیں اور ذہنی اور روحانی سکون حاصل کرتے ہیں۔ ریاض حسین نقوی کا کہنا ہے کہ قلبی طور ان کا رشتہ اس تاریخی مکان سے پہلے کی طرح قائم ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اقبال منزل میں گزارا گیا ایک ایک لمحہ میرے لئے اس لئے قیمتی ہے کہ اس مکان کا شرف ایسے مکین ہیں جنہوں نے مسلم امہ اور مسلمانان ہند کی تقدیر بدلنے میں اپنے حصے کی شمع جلائی اور دنیا کو بتایا دیا کہ ایک چھوٹے سے شہر اور ایک چھوٹے سے مکان میں پیدا ہونے والا بچہ اپنے والدین کی بہترین تربیت اور اساتذہ کی مدد سے وہ کار ہائے نمایاں سرانجام دے سکتا ہے کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس قومی ورثے کو مزید بہتر انداز سے محفوظ کرنے پر توجہ دی جائے اور تعلیمات اقبال کو عام کرنے کے لیے اس عمارت کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا جائے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جس وقت سید ریاض حسین نقوی نے 33سال قبل اقبال منزل کی ذمہ داری سنبھالی تھی، عمارت کی حالت انتہائی ناگفتہ تھی اور ہر وقت اس کے گرنے کے خدشات سامنے آتے تھے لیکن انہوں نے جس لگن اور دلچسپی سے اس عمارت کی حالت بہتر بنانے اور اسے محفوظ بنانے میں کردار ادا کیا ہے، اس کی تعریف نہ کرنا ایک زیادتی ہوگی۔
علامہ اقبال  کی جائے پیدائش اور ان کے والدین کی قبریں ہر سال9 نومبر کو خصوصی توجہ کا باعث بنتی ہیں اور سیالکوٹ کے علاوہ پورے ملک اور بیرون ملک سے علامہ اقبال کے شیدائی  اس دن ضرور یہاں آتے ہیں اور علامہ اقبال سے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ ویسے تو آج تک ملک کے کسی سربراہ کو اس عظیم قومی ورثے کو بذات خود آکر دیکھنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ ہاں البتہ جب اپریل1944ء میںقائد اعظم محمد علی جناح تین روزہ دورے پر سیالکوٹ تشریف لائے تھے تو اس مکان کا  دیدار کرنے ضرور آئے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ شدید رش کی وجہ سے عمارت کے اندر نہیں پہنچ سکے تھے تاہم باہر سے انہوں نے اپنے عظیم ساتھی علامہ اقبال کے آبائی گھر کا نظارہ کر کے خوشی و مسرت کے جذبات کا اظہار ضرور کیا تھا۔اسی طرح مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح ان خوش نصیبوں میں شامل ہیں جو اس مکان میں تشریف لا چکی ہیں۔ اقبال منزل تک آنے والا راستہ تنگ ہونے یا عدم دل چسپی کی وجہ سے کسی وزیر اعلیٰ ، گورنر ، وزیر اعظم یا صدر مملکت کا دیدار کرنے اور اپنی خستہ حالی کی داستان سنانے سے محروم ہے ۔ لیکن  ایک  بات طے ہے کہ کوئی  یہاں آئے  یا نہ آئے لیکن اقبال منزل اپنے مکینوں پر ہر وقت ناز و فخر کرکے اپنے وقار میں اضافے کا سبب ضرور ہے اور رہتی دنیا تک رہے گی۔ ||


 مضمون نگار ایک قومی اخباری گروپ کے ساتھ منسلک ہیں
[email protected]
 

یہ تحریر 70مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP