متفرقات

مڈل کلاسیے

میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جو پچھلے پندرہ سال سے مسلسل نہایت پھیکی زندگی گزار رہا ہے۔گو کہ وہ روزانہ تقریباً ایک پاؤ چینی پھانک جاتا ہے اور شائد اسی وجہ سے اسے شوگر بھی ہو گئی ہے لیکن اس کے باوجود اس کی زندگی تا حال پھیکی ہے اور انشا اللہ ایسی ہی رہے گی۔ یہاں پھیکی زندگی سے میری مراد ایک ایسی زندگی ہے جو ایک خاص ڈگر پر چلتی ہے اور بندھے ٹکے اصولوں کے مطابق گزاری جاتی ہے۔اس زندگی میں انسان ناک کی سیدھ میں سفر کرتا ہے اورادھر ادھر مڑ کر نہیں دیکھتا۔ہمارا مذکورہ ہیرو بھی اپنی زندگی ایسے ہی گزاررہا ہے۔سب سے پہلے اس نے اچھے بچوں کی طرح اپنی تعلیم مکمل کی۔ سکول اور کالج میں چونکہ سوائے پڑھائی کے کبھی کوئی ڈھنگ کا کام نہیں کیا تھا اس لئے ہر امتحان میں اچھے نمبروں سے پاس ہوا اور نتیجتاً نوکری بھی اچھی مل گئی۔نوکری ملنے کے بعد بھی رنگ ڈھنگ ویسے ہی شریفانہ بلکہ مریضانہ رہے۔صبح وقت پر دفتر جانا،دوپہر کو امی جان کے دئیے ہوئے ٹفن میں سے لنچ کرنا اورشام کو سیدھے گھر واپس آنا۔سنیما،تھیٹر، جائز قسم کی موسیقی، کرکٹ یا دیگر کھیل تماشوں سے کوئی خاص رغبت نہ نفرت۔ عید وغیرہ یا ایسے ہی کسی موقع پر کوئی دوست یار کہیں گھسیٹ کر لے گیا تو ٹھیک ورنہ رات کو ہلکا پھلکا کھانے کے بعد کوئی بے ضرر قسم کا ٹی وی پروگرام دیکھ کر سو جانا۔یہاں یہ وضاحت کردوں کہ ہمارا یہ ہیرو کوئی مذہبی‘ جنونی‘ مردم بیزار یا کنجوس شخص نہیں ہے۔یہ صرف زندگی کو ان اصولوں کے مطابق گزارنا چاہتا ہے جو اس نے کتابوں میں پڑھ رکھے ہیں اور جن کے مطابق زندگی میں مستقبل بعید کی کسی بڑی خوشی کو حاصل کرنے کے لئے حال کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں کو قربان کر نے میں کوئی حرج نہیں ہوتا۔

حال ہی میں موصوف کی شادی ان کی والدہ نے طے کی اور ظاہر ہے کہ انہوں نے ہی طے کرنی تھی۔ جو بہو وہ لے کر آئی ہیں وہ مرا ۃ العروس کی اصغری بیگم کی طرح بے حد سگھڑ، نیک ،کفایت شعار ،سلیقہ شعار‘ نسوانی حسن اور جذبات سے بالکل عاری ہے۔بہو کیا ہے، سٹیٹ بنک کا چلتا پھرتا اشتہار ہے۔کون سی جگہ سے پیسے بچانے ہیں ،کہاں بچت کرنی ہے، خرچہ کیسے کم کرنا ہے،سب اس کی فنگر ٹپس پر ہے۔ہمارے ہیرو کی زندگی میں بھی گویا نکھار آ گیا ہے کیونکہ اس کی رفیق حیات ایک طرح سے اس کی فوٹو کاپی ہے۔ ابھی بچے نہیں ہوئے لیکن اس نے ابھی سے اپنے ہونے والے بچوں کے لئے اور زیادہ محنت کرنی شروع کر دی ہے۔اس کی صرف دو خواہشیں ہیں ،ایک تو یہ کہ بچوں کو پڑھا لکھا کر اپنی طرح ایک اچھا آدمی بنایا جائے اور اس کی دوسری خواہش یہ ہے کہ جب وہ بڑھاپے میں ملازمت سے فارغ ہو تو اس کا اپنا ایک چھوٹا سا گھر ہو‘ جس کے صحن میں کرسی لگا کر وہ نیم دراز ہو کے کوئی اچھی سی کتاب پڑھے۔یہ ہیں وہ مستقبل کی بڑی خوشیاں جن کی خاطر وہ اور اس کی بیوی حا ل کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو بچت کے نام پر قربان کر رہے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ خواہشیں بے حدجائز ہیں اور میری دعا ہے کہ اس کی دونوں ہی خواہشیں پوری ہوں لیکن فی الحال ہم اپنے ہیرو کو اس کے حال پر چھوڑتے ہیں اور اس کی زندگی میں سے چند سوالوں کا جواب تلاش کرتے ہیں۔

کیا مذکورہ شخص ایک آئیڈیل زندگی گزار رہا ہے ؟ کیا ہم سب لوگوں کو اسی قسم کی زندگی گزارنے کے خواب دیکھنے چاہئیں جس میں مستقبل کی کسی بڑی خوشی کو حاصل کرنے کے لئے حال کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کی قربانی جائز ہو ؟ کیاکسی شخص کو اپنی زندگی کے بیس پچیس سال میں ایسے ہی گزار دینے چاہئیں جیسے ہمارا ہیرو گرار رہا ہے ؟کیااس زندگی کی رنگینیوں اور دلچسپیوں سے لطف اندوز ہونے کا حق صرف اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب بندہ چار پیسے کما لے (چاہے اس کے لئے بڑھاپا ہی کیوں نہ آ جائے ) ؟ اس دنیا میں کروڑوں لوگ ایسی ہی پھیکی زندگی گزارتے ہیں اور انہیں پتہ بھی نہیں چلتا کہ کب ان کی جوانی چلی گئی اور کب بڑھاپے نے آن لیا۔یہ درست ہے کہ ان کی زندگی کا مقصد اپنے بچوں کو اچھا پڑھانا‘ لکھانا یا بڑھاپے تک پہنچتے پہنچتے ایک چھوٹا سا مکان بنانا ہوتا ہے اوریہ دونوں ہی مقصد بہت قابل قدر ہیں۔ مگر اپنی زندگی کے جن بیس پچیس سال وہ ان مقاصد کے حصول میں جتے رہتے ہیں ،ان سالوں میں انہیں کون سا حکیم زندگی کی دیگر مسرتوں سے پرہیز بتاتا ہے ؟یہ بات آج تک سمجھ میں نہیں آئی!دوسرے لفظوں میں یہ کہ اگر آپ کی خواہش ہے کہ آپ اپنے گھر کے دالان میں چائے کی چسکی لیتے ہوئے اپنی پسند کی کتاب کو پڑھنے کا لطف اٹھائیں تو یہ کام تو آپ آج کی تاریخ میں موجودہ مکان میں رہتے ہوئے بھی کر سکتے ہیں ،اس کے لئے اتنی کڑی شرائط لگانے کی کیا ضرورت ہے؟ بچوں کی پڑھائی کا مقصد بھی بہت نیک ہے لیکن یہ کس نے کہا کہ یہ مقصد اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب آپ اپنی زندگی کے جوبن کے بیس سال کسی سادھو کی طرح گزار دیں ؟

یہاں مزید کچھ سوال پیدا ہوتے ہیں۔ایک یہ کہ یہ مسائل متوسط طبقے کے ہیں (ویسے آج تک اس نام نہاد متوسط طبقے کی تعریف نہیں ہو سکی کہ پاکستان میں یہ کس بلا کا نام ہے؟ کیونکہ یہاں تو کروڑ پتی سرکاری ملازم بھی اپنے آپ کو مڈل کلاسیا کہتا ہے اور حقیقی مڈل کلاسیا تو بیچارہ کسی کو کچھ کہہ بھی نہیں سکتا)۔متوسط طبقے کی جانب سے یہ دلیل آتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کو انجوائے کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے ،یہ عیاشی صرف امیر طبقہ ہی افورڈ کر سکتا ہے۔کسی حد تک یہ بات درست ہے لیکن پہلی سمجھنے کی بات یہ ہے کہ انہیں کوئی بھی ’’عیاشیوں‘ ‘ میں پڑنے کا مشورہ نہیں دے رہا اور دوسرا یہ کہ اگر آپ نے اپنی ہی زندگی کو پر مسرت طریقے سے نہ گزارا تو پھر معاف کیجئے،آپ نے ساری عمر جھک ہی ماری۔بچوں کے مستقل کی فکر کرنا ایک بات ہے اور اس فکر میں گھل کر اپنی ہی زندگی کی انمول دہائیاں ضائع کر دینا دوسری بات۔بچوں کی تعلیم ،شادی ،دیگر گھریلو اخراجات اور بڑھاپے کی عمر تک پہنچ کر گھر بنا نا بے حد ضروری ہے لیکن ساتھ ہی اتنا ضروری یہ بھی ہے کہ آپ مستقبل بعید کی ان خوشیوں کی خاطر اپنی حال کی یقینی اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو قربان نہ کریں۔ بچت ضرور کریں مگر اس بچت میں سے کچھ پیسے آج کی تاریخ میں بھی خرچ کریں۔ بچوں کو اچھی تعلیم ضرور دیں مگر ساتھ ہی انہیں مہینے میں ایک آدھ بار ان کی پسند کی جگہ کھانا کھلانے بھی لے جائیں۔ایسا نہ ہو کہ آپ ان کے اچھے مستقبل کی فکر کرتے رہ جائیں اور وہ اچھا کھانے کو ہی ترس جائیں۔گھر بنانے کا خواب ضرور دیکھیں اور اس مقصد کے حصول کے لئے سمجھداری سے سرمایہ کاری بھی کریں مگر اس گھر کے لئے اپنا پیٹ اس حد تک نہ کاٹیں کہ موجودہ گھر میں سوائے مونگروں کے کچھ بھی نہ پک سکے !

ممکن ہے آپ میں سے کچھ لوگوں نے اب تک کی باتوں سے یہ نتیجہ نکالا ہوگا کہ زندگی میں مستقبل کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے ،آج کی یقینی خوشیاں مستقبل کی غیر یقینی خوشیوں سے زیادہ بہتر ہیں، جی بھر کے عیش کرنی چاہئے ،جوانی ایک بار ہی ملتی ہے ،اس لئے بھرپور انجوائے کر ناچاہئے،بڑھاپے میں گھر بن جائے تو ٹھیک ورنہ کرائے کے گھر میں بھی کتاب پڑھی جا سکتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔خواتین و حضرات! یہ سارے ہی نتیجے غلط ہیں۔ اصل المیہ ہماری مڈل کلا س کا ہے جو ساری عمر اس گورکھ دھندے سے نکل ہی نہیں پاتی۔ ہم جیسے مڈل کلاسیوں کومستقبل کی پلاننگ ضرور کرنی چاہئے ،بچت بھی کرنی چاہئے اور سرمایہ کاری بھی لیکن اس کے بعد کچھ باتیں اللہ پر بھی چھوڑ دینی چاہئیں۔زندگی کا ایک ایک پل قیمتی ہے ،اسے کسی غیر یقینی کل کی خاطر قربان نہیں کرنا چاہئے۔


[email protected]

یہ تحریر 67مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP