متفرقات

مٹی سے محبت کے رنگ

(ملی وقومی نغمات سے متعلق ایک تحریر)

قومی اُمنگوں کو اُجاگر کرنے اور قوم میں جذبہ ء حریت کو تیز کرنے کی غرض سے 1965ء میں شعراء نے ملی اور رزمیہ گیتوں‘ نظموں اور خصوصاً غزلوں اور غزل نما ترانوں کے ذریعے اپنے جذبہء حب الوطنی کا جو یادگار ثبوت فراہم کیا ہے وہ نہ صرف یہ کہ ایک قومی شعری سرمائے کے طور پر محفوظ ہوچکا ہے بلکہ پوری قوم کے جذبات کی نمائندگی کرنے والے اور جذبہ ء حریت سے سرشار ہمارے شعراء کے جذبہ قومی کی ایک ایسی مثال کے طور بھی ہمیشہ یاد رہے گا کہ جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ اس جنگ میں پاکستانی افواج نے جس بے مثال جرأت اور بہادری کا مظاہرہ کیا۔اُسے جہاں ہمارے شعرا ء نے خصوصی خراجِ تحسین پیش کیا وہاں ہماری ادیب برادری نے بھی اسے خصوصی سراہا۔ قدرت اﷲ شہاب رقم طراز ہیں: ’’بھارتی حملے کو روکنے اور پسپا کرنے کا سہرا ائیرفورس، فوجی جوانوں اور افسروں کے سر ہے جنہوں نے سردھڑ کی بازی لگا کرحیرت انگیز جواں مردی دکھائی اور بعضوں نے وطنِ عزیز کے دفاع میں جامِ شہادت نوش کیا‘‘۱ یہ وہ موقع تھا جب پوری قوم یک جان و یک قالب ہوگئی۔ قوم نے جذبۂ حب الوطنی کی سرشاری میں قومی یکجہتی کے ایسے نقش اُبھارے کہ تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ پوری قوم نے اپنے باوقار وجود کا احساس اس شان سے دیا کہ رات کی تاریکی میں شب خون مارنے والوں کو جان بچانا مشکل ہوگئی۔ شجاعت و عزم کے نئے باب کا اضافہ ہوا۔ قومی غیرت اور جذبہ حریت کی تازہ داستانیں رقم ہوئیں۔ شعرا ء نے اس واقعہ کو شعری پیکر میں ڈھالا، جنگی ترانے فضا میں بکھرے،رزم نامے تخلیق ہوئے، قومی اور ملی عکاسی کی نظمیں لکھی گئیں۔ گیت اور غزل کے روپ میں جذبہء آزادی کا احساس قومی گونج بن کر وطنِ عزیز کی فضاؤں میں بکھر گیا۔ اس ۱۷روز ہ جنگ کے دوران کوئی سندھی ، پنجابی، پٹھان ، بلوچی نہ رہا، سب کے سب قومی وحدت کی ایک لڑی میں پروئے گئے ۔ ترانوں کی شکل میں رزمیہ ذخیرہ تو الگ سے شعری باب مکمل کرتا ہے مگر یہاں غزل کی ہئیت میں نظم ہونے والے رزمیہ اظہار سے چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔ ان شعری نمونوں میں بعض ایسے ترانوں کی جھلک بھی نمایاں ہے جو غزل کی ہئیت میں مکمل ہوئے ہیں:

انتخابِ آرزو ہیں فتح و نصرت کے چراغ

ہیں فروزاں خونِ دل سے ملک و ملت کے چراغ

(ساغر صدیقی)

اپنی قوت اپنی جاں، لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ

ہر پل ہر ساعت ہرآن، جاگ رہا ہے پاکستان

(محشر بدایونی)

وہیں سے پھوٹ رہا ہے طلوعِ صبح کا نور

جہاں شہید ہوا اک ہجوم تاروں کا

(احمد ندیم قاسمی)

لگاؤ نعرۂ تکبیر ہر چہ بادا باد

مجاہدوں کو پہنچتی ہے غیب سے امداد

(احسان دانش)

 

 

توڑ ڈالے ہیں میں نے سب رشتے

جب سے رشتہ وطن سے جوڑا ہے

(تنویر نقوی)

نثار تیری بہاروں پہ اے بہارِ وطن

نثار تیرے نظاروں پہ اے نگارِ وطن

(جون ایلیا)

تو وارث پاک اُجالوں کی

تو دھرتی شیر جوانوں کی

تری خوشبو کو چھلکائیں گے

ترے پیار کی جُگنی گائیں گے

(ضمیر جعفری)

اپنی دھرتی سے نمو پانے والے شعرا ء نے جب جذبہء حب الوطنی کو اپنی فکر کا محور بنایا تو اُن کا تخلیق کردہ ایک ایک لفظ زندہ قوم کے زندہ جذبوں کی پکار بن گیا۔ محاذِ جنگ پر قومی قیادت سنبھالنے والے سرفروشانِ وطن اور قوم کے مجموعی اور مرکزی آدرش سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے منظر ایوبی اپنے قومی اور ملی شاعری پر مشتمل شعری مجموعے ’’چڑھتا چاند اُبھرتا سورج‘‘ کے آغاز میں قومی جذبے کی سرشاری میں رہتے ہوئے قومی ادب پر یوں رائے دیتے ہیں: ’’یہ سچ ہے کہ فنکار انسانیت کی اعلیٰ و ارفع اقدار کا ترجمان اور بین الاقوامی یکجہتی اور عالمی امن کا علم بردار ہوتا ہے لیکن اُس کی فکر و احساس کی جڑیں جس مٹی میں نشوو نما پا تی ہیں اور اُس کے جسم و جاں کے تمام رشتوں کو استحکام بخشتی ہے، فنکار اُس کی عظمت و توقیر کے گیت ضرور گاتا ہے کہ اسی رویے اور دھرتی کے اسی حوالے سے اُس کی شناخت ہوتی ہے‘‘۔۲ حُب الوطنی کے احساسات وجذبات سے مزین شاعرانہ فکر کایہ سفر تاریخِ ادب کا ایک روشن باب ہے۔ شعرا ء نے کڑی آزمائش کے ہر موقع پر قوم کے اجتماعی طرزِ احساس سے ہم آہنگ ہوکر جرأتِ اظہار کی مشعلیں روشن کیں اور اس جوش و جذبے کے ساتھ کہ اس سے پوری قوم کو ایک نیا ولولہ اور ایک نئی تڑپ ملی۔ شعری سطح کا یہ مجاہدانہ اظہاریوں تو ۱۹۶۵ء سے پہلے بھی جزوی طور پر نمایاں ہوتا رہا مگر جنگ ستمبر میں پہلی بار اس ملی شاعرانہ روایت کا وہ باب وا ہوا جس سے ہماری غزلیہ تاریخ کو نئی فکری و موضوعاتی جہت عطا ہوئی۔ شعراء نے وطنیت کے سچے اور سُچے جذبوں کی عملداری میں رہتے ہوئے جب ملی جذبوں کا اظہار شعرکے پیکر میں ڈھالا تو اُن کا لفظ لفظ قومی فضا میں ترانہ بن کر گونج اُٹھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد کے ادبی شعری رجحانات میں پاکستانیت کا موضوعاتی اضافہ اس امر کی گواہی ہے کہ وہ شعراء جنہوں نے تشکیلِ پاکستان اور تعمیرِ پاکستان کے کٹھن سفر میں اپنے ملی جذبوں کی بنیاد پرایک زندہ خواب کو آنکھوں میں بسایا تھا اُسے فکری رویّے سے ہم آہنگ کرکے شعروں میں مجسم کردیا۔ یہ الگ بات ہے کہ بقول رشیدنثار:۔ ’’پاکستان کے قیام کے فوراً بعد تہذیب کشی کے جو مناظر سامنے آئے انہوں نہ صرف پاکستانی نظریاتی ثقافت کی بنیاد فراہم نہ ہونے دی بلکہ انسانیت کی بقاء کو شد ید خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔‘‘۳ پاکستان کی قومی شعری تاریخ کے آئینے میں ابتدائی دو عشروں پر پھیلے ہوئے تہذیبی زوال، سیاسی بے چارگی، اقتصادی زبوں حالی اور عصری بے چینی کو شعراء نے جس شدت سے قومی دُکھ کے تناظر میں دیکھا اُس کی جھلک بعد کے عرصے میں بھی برابر دکھائی دیتی رہی کیونکہ پاکستان جس نظریاتی وحدت کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا بدقسمتی سے اُس کے خدوخال واضح نہ ہوسکے۔ اس سارے عرصے میں قومی احیاء

کی بنیادیں کمزور ہوتیں گئیں، ملی تشخص ماند پڑتا گیا، اجتماعی ثقافتی صورتِ حال دھند میں گم ہوگئی اور ایک ختم نہ ہونے والا سیاسی اور سماجی انحطاط برابر سر اُبھارتا رہا۔ مایوسی، بے اطمینانی، نامرادی اور خوف کے سائے ہر عہد کے سیاسی منظر نامے میں جگہ پاتے رہے۔ یہ صورتِ حال پاکستانی شعراء کے لئے انتہائی مایوس کن ثابت ہوئی۔ اُنہیں منزل تو خیر کیا ملتی وہ سرے سے راستے کا سراغ ہی بھول بیٹھے۔ اس اجتماعی بے چارگی نے ادب کے ذریعے براہ راست غزل کے مزاج کو بدلنے میں مدد دی۔ اب جو غزل لکھی جانے لگی اُس کے مزاج میں قومی درد مندی، ملی شعور اور اپنی مٹی سے والہانہ عشق کے رنگ اُبھر آئے۔ یہ رویّہ اس سارے زمانی عرصے میں ایک طاقتور رجحان کی شکل میں عصری فکری رویے کے طور پر اپنی شناخت مکمل کرتا ہے۔ خالد اقبال یاسر لکھتے ہیں کہ: ’’سیاسی آزادی اور اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہونے والے قتل و غارت کے واقعات ایسے تھے جس کے حوالے سے ادب میں دو قومی نظریے کی آبیاری ہوئی۔

ناقابلِ بیان کُشت وخون اور بربریت کے جلاؤ میں وسیع پیمانے پر مہاجرت جیسے سماجی المیے کا اثر ادب پر یقینی تھا۔ یہ وہ پہلا اجتماعی تہذیبی تجربہ تھا جس نے پاکستانی قومیت کو اپنے لہو سے مضبوط بنایا۔‘‘۴ پاکستانیت یا پاکستانی ادب کی تحریک کے لئے باقاعدہ کوئی منشور سازی نہیں کی گئی اور نہ تحریک قائم کرنے کے لئے کوئی طے شدہ منصوبہ بندی ہی کی گئی۔ لیکن ایسے اہلِ قلم جنہوں نے غیر محسوس طریقے سے اپنی تحریروں کو پاکستانی تشخص کے لئے وقف کئے رکھا۔ انہوں نے اپنے تخلیقی عمل میں اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی ادیب اورشاعر کو پاکستانی تمدن اور پاکستانی قوم کی مجموعی اُمنگوں اور آرزوں کا ترجمان ہونا چاہئے۔ پاکستانیت کی تحریک کے ابتدئی خدوخال نثر کی سطح پر جہاں ایک طرف محمد حسن عسکری‘ فتح محمد ملک اور ممتاز شیریں کی تحریروں میں دیکھے جاسکتے ہیں وہاں پاکستانیت کے جذبے کو غزل کی سطح پر والہانہ شیفتگی کے ساتھ شعراء نے اپنے ملی اور تہذیبی تشخص کے گہرے احساس کے ساتھ اُجاگر کیاہے ۔ شعری سطح پر جذبہء قومیت کے اشتراک سے قومی شاعری کو ایک الگ صنفِ ادب کے طور پر متعارف کرانے والے اہم قومی شعر اء صبا اکبر آبادی (۱۹۰۸ء ۱۹۹۱، ’’زمزمۂ پاکستان‘‘)، طفیل ہوشیار پوری (۱۹۱۴ء۔ ۱۹۹۳ء)، سید ضمیر جعفری (۱۹۱۴ء۔ ۱۹۹۹، ’’لہو ترنگ‘‘، ’’زبورِ وطن‘‘، ’’میرے پیار کی زمین‘‘)، کرم حیدری (۱۹۱۵ء۔۱۹۹۴)، کلیم عثمانی (۱۹۲۸ء۔ ۲۰۰۰ء)، مشیر کاظمی (۱۹۱۵ء۔ ۱۹۷۵ء) امید فاضلی (۱۹۲۳۔۲۰۰۵ء، ’’پاکستان زندہ باد‘‘، تب و تابِ جاودانہ‘‘)، کیف بنارسی (۱۹۲۶ء۔ ۲۰۰۳ء، ’’دل کی دھڑکن پاکستان‘‘)، ساقی جاوید (۱۹۲۲ء۔ ۱۹۹۳ء، ’’چاند میری زمیں‘‘)، جمیل الدین عالی (۱۹۲۶ء تا حال، ’’جیوے جیوے پاکستان‘‘)، صہبا اختر (۱۹۳۲ء۔ ۱۹۹۲ء،’’ مشعل‘‘) اورسیف زلفی (متوفی۱۹۹۱ء) کے ساتھ ساتھ تنویر نقوی‘ حمایت علی شاعر ‘رئیس امروہوی‘ احمدندیم قاسمی‘ منیر نیازی‘ قیوم نظر‘ شبنم رومانی‘ سیف زلفی‘ بشیر فاروق‘ مسرور انور‘ ریاض الرحمن ساغر اور ازاں بعدنثار ناسک اسد محمد خاں‘ صابر ظفر‘ حسن اکبر کمال اور محمد ناصروغیرہ نے بلاشبہ قومی شاعری پر مبنی اس موضوعاتی رویے کو باقاعدہ ایک رجحان بنانے میں اہم کردار ادا کیاہے۔

میری سرحد پہ پہرا ہے ایمان کا

میرے شہروں پہ سایہ ہے قرآن کا

میرا ایک اک سپاہی ہے خیبر شکن

چاند میری زمیں، پھول میرا وطن

(ساقی جاوید)

سرفروشی ہے ایماں تمہارا

جرأتوں کے پرستار ہو تم

جو حفاظت کرے سرحدوں کی

وہ فلک بوس دیوار ہو تم

(جمیل الدین عالی)

سبز پرچم ترا، چاند تارے ترے

تری بزمِ نگاراں کے عنوان ہیں

(صہبا اختر)

اپنی جاں نذر کروں اپنی وفا پیش کروں

قوم کے مردِ مجاہد تجھے کیا پیش کروں

(مسرور انور)

ایک قلبی سرشاری اور روحانی سرخوشی کے ساتھ آزاد اسلامی معاشرے کے تصویری خاکے میں حقیقت کے نقش اُبھرے تو پاکستانی قومیت کے قابلِ فخر احساس نے مستقبل کے سنہری دنوں کی آس کے دیپ روشن کردئیے۔ ملی طرزِ احساس کی یہ ملی جلی کیفیات کہیں قومی ترانوں کی گونج میں ظاہر ہوئیں تو کہیں غزل کی ہئیت میں گیتوں کی شکل میں ڈھلیں۔ حُب الوطنی کی یہ لہر دیارِ غیر میں مقیم پاکستانی غزل گو شعراء کے شاعرانہ طرز و احساس کا حصہ بھی بنی۔ اس موضوعاتی رویے کے تناظر میں ایسی چند مزیدشعری مثالیں درج کی جاتی ہیں جو قیامِ پاکستان سے ۹۰ء کی دہائی تک کی زمانی مدت میں مختلف شعراء کے ہاں ملتی ہیں:

ہر جنگ میں فولاد کی دیواریں ہیں ہم لوگ

منشائے دلِ حیدرِ کرارؓ ہیں ہم لوگ

(صبا اکبرآبادی)

جو غازیوں کی تگ و تاز سے بلند ہوئی

وہ خاک سرمہء عظمت ہے آسماں کے لئے

(رئیس امروہوی)

ہزار جاں سے وطن پر نثار ہو جاؤں

ظفر یہ ایک تمنائے دل ہے جاں کی طرح

(یوسف ظفر)

اے میری سر زمینِ وطن اے دیارِ پاک

چاند سا تیرا پانی ہے سونا سا تیری خاک

(اُمید فاضلی)

چاند تیرا چراغ زندگی تیرا باغ

نصرتیں تیرا فن اے وطن اے وطن

(مظفر وارثی)

مرا لہو مری مٹی کی آبرو بن جائے

مرے چمن ہی کی مہکار ہو جہاں تک ہو

(محسن احسان)

نذر تیری راہ میں دل کا گوہر ، آنکھوں کے پھول

خاک تیری مجھ کو سانسوں کا ثمر ، یادوں کے پھول

(عطا شاد)

تو مری روح ہے میں ہوں تیرا بدن

اے مرے ہم وطن ، اے مرے ہم وطن

(امداد نظامی)

ہمارا پرچم یہ پیارا پرچم

یہ پرچموں میں عظیم پرچم

(سیف زلفی)

سلامتی ہی سلامتی کی دُعائیں خلقِ خدا کی خاطر

ہماری مٹی پہ حرف آیا تو عہدِ فتحِ مبیں لکھیں گے

(افتخار عارف)

ایسی زمیں اور آسماں اس کے سوا جانا کہاں

بڑھتی رہے یہ روشنی چلتا رہے یہ کارواں

(نثار ناسک)

یقیں کی سرزمیں ظاہر ہوئی اپنے لہو سے

یہ ارضِ بے وطن اپنا ترانہ ڈھونڈتی ہے

(ڈاکٹر اجمل نیازی)

جذبۂ پاکستانیت کی یہ لہر ہر سچے محبِ وطن غزل گو کے ہاں کسی نہ کسی روپ میں موجود رہی ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی لکھتے ہیں کہ:۔

 

’’جنہوں نے زندگی کسی شعبے میں سوچنے اور تخلیق کرنے کا کام کیا ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ وہ شخص جسے اپنے ملک ، اپنی زمین سے محبت نہ ہو ، وہ کوئی تخلیقی یا فکری کام کر ہی نہیں سکتا۔ ادیب کے مزاج میں تو ہمیشہ اُس کا ملک، اُس کے لوگ اور ان کی اتھاہ محبت کا جذبہ غیر شعوری طور پر موجود رہتا ہے۔‘‘۵ ۱۹۴۷ء سے ۱۹۹۰ء کی دہائی تک آتے آتے غزل کی سطح پر جن نئے موضوعاتی اور فکری رویّوں کے اشتراک سے جدید غزل کا منظر نامہ سجا ، اُن میں اپنی مٹی سے والہانہ محبت کا جذبہ‘ اور اس جذبے کے باطن سے اُبھرنے والے اپنی جڑوں کی تلاش کے سفر نے‘ ایک رجحان کی شکل میں بعض شعراء کے ہاں جس نو ع کے طرزِ احساس کو جنم دیا اُس کا مرکزی نقطہ اگرچہ جذبہء حُب الوطنی ہی ہے مگر اس شعری رویے نے قدرتی طور پر جنگی معرکوں کے بعدپوری قوم کی ایک ایسی مجموعی اور مشترکہ ملی درد مندی کے اظہار کی توانائی اور شدت کو واشگاف کیاجو ما قبل کی غزلیہ روایات کا حصہ نہ تھی۔ بھارت میں اگر ایک طرف فراق گورکھپوری جیسے غزل کے اہم شاعر کے ہاں دھرتی پوجا کی روش نے پاکستانی شعراء کی بہ نسبت زیادہ قوت سے اظہار کیا اور اسی سبب سے فراق اور بعض دوسرے شعراء کے ہاں شعری فضاء دھرتی سے براہ راست جُڑے ہوئے مسائل ، قریبی اشیاء اور دیسی الفاظ کو اہمیت دینے کا رویہ نمایاں دکھائی دیتا ہے تو دوسری طرف پاکستان میں مقیم جدید شعراء کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی نظر آتی ہے جس نے محبت کے معاملے میں جسم کے ارضی پہلوؤں کو نہایت واضح الفاظ میں پیش کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ جسم اور روح کے ازلی ملاپ کو نظر میں رکھتے ہوئے جدید غزل کو اُس کا اپنا مزاج عطا کررہے ہیں۔ انسانی بدن کی لذتوں سے فیض یاب ہونے اور جسم کی حقیقت سے مادی طور پر آگاہی پا کر بدنی وسیلے سے جمالیاتی طرزِ احساس کو نمایاں کرنے والے شعری نمونوں کو اگرچہ الگ زیرِ بحث لایا جائے گا ، تاہم یہاں دھرتی پوجا کے شعری تخلیقی عمل کے واسطے سے ظہور پانے والی تخلیقی گواہیوں کے کچھ نمونے درج کرنے سے پہلے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ پہلے یہ دیکھا جائے کہ زمین کے ساتھ رابطوں کا یہ سلسلہ اور اپنی جڑوں کی تلاش کا یہ سفر ارضی وابستگی کی کس روایت کو بنیاد بناتا ہے۔ اس کی بنیاد میں جو نظریاتی اور ثقافتی عوامل و عناصر شامل ہیں اُن کے رشتوں کی اصل کیا ہے؟ اس ضمن میں ہمیں دھرتی پوجا کے تناظر میں اس نوع کے فکری مباحث سامنے لانے والے اہم نقادوشاعر ڈاکٹر وزیر آغا کی اُس رائے کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے جس میں انہوں نے ادب میں ارضیت کے عنصر کا کھوج لگاتے ہوئے کہا ہے کہ: ’’ادب میں ارضیت اور آفاقیت کا وہی رشتہ ہے جو جسم وروح کا ہے، جسم نہ ہو تو روح محض ہوا میں معلق ہے اور روح نہ ہوتو جسم محض ہڈیوں کا ایک انبار ہے۔ پھر جسم و روح الگ الگ خانوں میں مقید بھی نہیں اور نہ اُن کا ملن کسی تقریب یا تہوار کی آمد کا منت کش ہے۔ جسم میں روح اس طرح سرایت کر گئی ہوتی ہے کہ کسی ایک مقام پر انگلی رکھ کر ہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ روح صرف یہاں موجود ہے۔ یہی حال ادب کا ہے کہ ارضیت تو اسے گوشت اور استخوان، خون اور گرمی مہیا کرتی ہے‘‘۔۶ پاکستانی شعراء نے زمین سے رشتہ محض اس لئے استوار نہیں کیا کہ اُنہیں کسی خاص خطہء ارضی پر صرف زندہ رہنے کی خواہش کو محفوظ کرنا ہے بلکہ انہیں تو اُس نظریاتی وابستگی کا احساس دامن گیر ہے جس کی بنیاد دو قومی نظریہ ہے۔ اُن کی محبت اگر وطن سے ہے تو وہ کسی صورت میں بھی زمینی رشتوں کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ یہی اُن کی الگ تہذیبی تشخص اور ملی استحکام کی وحدت کا نشان ہے۔

حواشی

تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو’’شہاب نامہ‘‘ (قدرت اﷲ شہاب) سنگِ میل پبلیشرز، لاہور (چودھواں ایڈیشن) ۱۹۹۵ء صفحہ ۳۲۔

منظر ایوبی ’’خودکلامی‘‘ مشمولہ ’’چڑھتاچانداُبھرتا سورج‘‘ شاداب اکیڈمی کراچی ۱۹۸۸ء صفحہ ۱۳

رشید نثار۔ ’’پاکستانیت کے تناظر میں‘‘ اختر ہوشیارپوری مشمولہ ’’ماہِ نو‘‘ شمارہ ۔۸ جلد ۴۶۔ اگست ۱۹۹۳ء۔ صفحہ ۳۹۔

خالد اقبال یاسر۔ ’’پاکستانیت اور اُرود کا نثری ادب‘‘ مشمولہ ’’فنون‘‘ شمارہ۔ ۲۵ نومبر۔ دسمبر ۱۹۸۶ء صفحہ ۱۶۳۔

ڈاکٹر جمیل جالبی۔ ’’ادیب اور حُب الوطنی‘‘ مشمولہ ’’تنقید اور تجربہ‘‘ یونیورسل بُکس لاہور (بارِ دوم ) ۱۹۸۸ء صفحہ ۸۶۔

وزیر آغا(ڈاکٹر) ’’ادب میں ارضیت کا عنصر‘‘ مشمولہ ’’تنقید اور مجلسی تنقید‘‘ آئینہ ادب لاہور ۱۹۸۱ء صفحہ۱۳۱۔

یہ تحریر 23مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP