متفرقات

مٹی دی اے مائے

گزشتہ دنوںایک کتاب پڑھی، ''ماں کا آکاش'' جو آپریشن ضربِ عضب کے پہلے شہیدکیپٹن آکاش ربانی کی والدہ نے تحریر کی تھی۔ ایک ماں کے خونِ دل سے لکھی ہوئی ممتا کے مقدس جذبے میں ڈوبی ہوئی تحریر پڑھتے ہوئے نہ جانے کتنی بار آنکھیں نم ہوئیں، کتنی بار دل چاہا ان ہاتھوں کواپنی آنکھوں سے لگالوں جنہوںنے پہلی بار آکاش کو تھاما تھا۔ وہ انگلیاں جن کو پکڑ کر آکاش نے ننھے ننھے قدم اٹھائے اور جب دھرتی ماں نے پکارا تو لبیک کہتا ہوا آکاش اپنی آخری سانس تک ارضِ پاک کی حفاظت کرتا ہوا جامِ شہادت نوش کرکے ابدی زندگی پاگیا اور سبز ہلالی پرچم  میں لپٹا ہوا آیا تو اس دھرتی ماں نے اپنے آکاش کو ہمیشہ کے لئے اپنی کوکھ میں بسالیا۔
نیلے آکاش کی وسعتوں پر مسکراتا ہوا آکاش اپنی دھرتی ماں سے مخاطب ہوا  :
مٹی دی اے مائے تیرا حال ماں نے پوچھا ہے
کیسے خون بہایا میں نے سوال ماں نے پوچھا ہے
سامنے نظر کے گرے کہتی تھی ہائے ماں مرے
اب گرا تو اٹھ نہ پایا، اب گرے تو ماں کیا کرے
مٹی دی اے مائے تیرا حال ماں نے پوچھا ہے
میںنے رکھا ہے نا تیرا خیال ماں نے پوچھا ہے
یہ تو صرف ایک آکاش کا ذکر ہے۔ میرے ملک کا ذرہ ذرہ اپنے سپوتوں کی لازوال قربانیوں کا گواہ ہے۔ اَن گنت مائوں کے لاڈلے آکاش اس دھرتی ماں کی آغوش میں چین کی ابدی نیند سو رہے ہیںاور ان کو جنم دینے والی مائیں خاموشی کی زبان میں نم آنکھوں سے ایک دوسرے کو کہہ رہی ہوتی ہیں :
سُن سکھیئے سُن اُس ماں کی کہانی
لال میرے کی جوانی
دھوکے سے میںنیندکوبلائوں
خوابوں میں مَیں اس کے سوجائوں
آنکھ کھلے اور پاس نہیں وہ
خالی گھر کو دیکھتی جائوں
سُن سکھیئے بات نہیں یہ پرانی
لال میرے کی جوانی
بخدا یہ لکھتے ہوئے میرے آنسو نہیں تھم رہے۔ میں کیا لکھوں ان کے بارے میں الفاظ ان کی عظمت کو اس طرح شاید بیان نہ کرپائیں۔
یہ کون سخی ہیں جن کے لہو کی اشرفیاں
چھن چھن، چھن چھن
دھرتی کی پیہم پیاسی
کشکول میں ڈھلتی جاتی ہیں
کشکول کو بھرتی جاتی ہیں
یہ لکھ لٹ جن کے جسموں کی
بھرپور جوانی کا کندن
یوں کوچہ کوچہ بکھرا ہے
ان کی مائیں تو شاید اسی دن اپنے جگر گوشوں کو اﷲ اور اس وطن کے نام کردیتی ہیںجب پہلی باروہ اس پاک وردی میں اپنے لال کو دیکھ کر اس کا ماتھا چومتی ہیں۔
مارچ کا مہینہ گزشتہ 7 سالوں سے میرے لئے اُداسی لے کرآتا ہے۔ میرے فالکن ایم ایم عالم کی برسی ہوتی ہے وہ ایم ایم عالم جس نے 65 کی جنگ میں وہ معرکہ انجام دیا جو ہوابازی کی تاریخ میں کسی معجزے سے کم نہیں۔ جس نے جنگ کا نقشہ ہی بدل دیا ۔
اس سال مارچ کے اوائل میں ہی خبر ملی کہ نانک کے علاقے میں  Intelligence Based Operation میں پاک فوج نے       دہشت گردی کی ایک بڑی کوشش ناکام بنا دی جس کے نتیجے میں دو مطلوب خطرناک دہشتگردوں کو جہنم واصل کرکے کرنل مجیب الرحمن اپنے لہو سے اس قوم کی زکوٰة ادا کرگئے۔
نہ جن کو خوف آتا ہو،وہ دل مشکل سے ملتے ہیں
جہاں گرتا ہے خوں اُن کا وہاں پہ پھول کھلتے ہیں
ہے مائوں کی دعائوں کا اثر جوآرزو میں ہے
رگوں میں ہے جنوں میں ہے، وطن کا عشق خوں میں ہے
جوبیٹے ہیں وطن تیرے، وطن ان کے لہو میں ہے
محبت ہے وطن سے یوں انہیں کچھ فکر نہ جاں کی
جیئیں تو غازی ہوتے ہیں، مریں تو گود میں ماں کی
یہ ہیں میری پاک فوج کے سپاہی
ابھی کرنل مجیب الرحمن کا دکھ تازہ ہی تھا کہ کچھ دنوں بعد خبر آگئی کہ 23 مارچ کی تقریب کی پریڈ کی ریہرسل کے دوران پاک فضائیہ کا طیارہ شکر پڑیاں کے قریب گر کر تباہ ہوگیا اور حادثے میں ایک بہترین جنگجو ہوا باز ونگ کمانڈر نعمان اکرم شہید ہوگئے۔
ہماری قوم کی اکثریت افواجِ پاکستان سے انتہائی محبت اور عقیدت رکھتی ہے اور ان کو ان لازوال قربانیوں کا ادراک بھی ہے۔ لیکن ہماری ہی قوم کے کچھ بھٹکے ہوئے عناصر جن کی اکثریت غیر ممالک میں بیٹھی ہوئی ہے، وہ کسی ایجنڈے کے تحت افواجِ پاکستان کی مخالفت کرنے کے لئے کسی نہ کسی بہانے کی تلاش میں رہتے ہیں اور وہ اپنی اس کدورت کا اظہار سوشل میڈیا پر اکثر کرتے رہتے ہیں۔
 اس بار بھی ایسا ہی ہوا جہاں قوم نے اس حادثے میں شہیدہونے والے ہواباز کو خراجِ عقیدت پیش کیا، اس کے درجات کی بلندی کے لئے ربِ ذوالجلال سے دعا کی، وہیں خود ساختہ دانشور بھی سوشل میڈیا کے میدان میں اترے، طیارے کے حادثے پر تبصرہ فرمانے لگے کہ''مشین فیل ہوگئی ہوگی۔''
بھائی صاحب مشین شاید فیل ہوگئی ہو، لیکن میرا پاکستانی سپاہی فیل نہیں ہوا۔ وہ جاتے جاتے کئی زندگیاں بچاگیا۔ 
کچھ خود ساختہ دانشور ریاستی اداروں پر ''گل افشانیاں'' کرتے ہوئے اعتراض کرنے لگے کہ23 مارچ کو کرتب دکھانے کی ضرورت کیا ہے؟ایسے لوگوںکے لئے عرض ہے کہ یہ پاک فضائیہ کی تربیت اور روزمرہ کی مشقی پرواز کا اہم حصہ ہوتے ہیں اور 23 مارچ کے دن اس پرواز کو دنیا کے سامنے دکھانے کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ ہمارے ہواباز کس کس انداز میں پرواز کرکے دشمن کو نیست و نابود کرنے کا فن جانتے ہیں۔
ذرا ذہن کے جالے صاف کرکے ماضی کے دریچوں میں جھانکیں تو غازی ملت ایم ایم عالم نے7 ستمبر 1965کو جو معرکہ انجام دیا تھا اس کی ہیبت آج بھی دشمن محسوس کرسکتا ہے اور زیادہ دور نہ جائیں پچھلے سال 27 فروری کو ایم ایم عالم کے جانشینوں نے دنیا کو دکھا دیا تھا کہ ارضِ پاک کے آسمان پر بھی اگر کوئی ناپاک ارادے سے داخل ہوگا تو مادرِ وطن کے بیٹے اپنی ماں کی حرمت بچانے کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔
دیگر ممالک میں بھی ایئرفورس کے جہازوں کے گرنے کی خبر آتی ہے لیکن اکثر اوقات ہواباز Eject کرجاتے ہیں۔ لیکن یہ مملکتِ خداداد پاکستان کا بہادر جس نے سول آبادی کو بچانے کے لئے Eject نہیں کیا بلکہ جہاز کوخالی جگہ جاکر اتارنے کی کوشش کی جس کے دوران شہادت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوگیا۔دکھ اس وقت ہوتا ہے جب یہ اہلِ ستم مشقِ ستم کرتے ہوئے شہید کی قربانی پر سوال اٹھاتے ہیں۔
شہید کی پرواز کو کرتب کا نام دینے والوں کو علم ہونا چاہئے کہ وہ کوئی Funاور Thrill کی  Adventure Ride نہیںکررہا تھا۔ جس کو آپ کرتب کہہ رہے ہیں وہ اس کی ہوابازی کی تربیت کی وہ مشق تھی جس کو دکھا کر وہ اپنی قوم کو یقین دلارہا تھا کہ اپنی پاک فوج پر جو تم نے بھروسہ کیا ہے اس کا فوجی اپنی آخری سانس تک لڑے گا مگر اپنی قوم کو مایوس نہیں کرے گا اور اس یقین دلانے کی آخری حد اس کی اپنی جان کی بازی ہوتی ہے جو وہ لگا دیتا ہے۔ صرف اور صرف اس لئے کہ اس کی قوم کا بھروسہ اور مان نہ ٹوٹنے پائے۔
ملی سیکنڈ میں فیصلہ کرنا تھا Safe ejection کا انتخاب موجود تھا لیکن نیچے آبادی تھی اس کے ہم وطن سانس لے رہے تھے۔ اس شاہین نے پاک فضائیہ کی روایاتِ شجاعت کا پاس رکھا۔
شاہیں تھا، وہ شیردل، آسمان کی شان تھا
جس کے پروں تلے جہاں، وہ شاہ پروں کا مان تھا، وہ نعمان تھا۔
 وردی میں ملبوس وہ ایک جسم نہیں تھا ایک ماں کا سہارا تھا، بوڑھے باپ کی لاٹھی تھا۔ بہن کا مان تھا، سہاگن کے سر کی چادر تھا ۔ اور نہ جانے کتنے رشتے تھے جو اس ایک شخص سے وابستہ تھے۔ جو آپ جیسوں کے کئی خاندانوں کی زندگیاں بچانے کے لئے اپنی زندگی قربان کرگیا۔ تمہارے بچے یتیم نہ ہوئے، اپنے بچے یتیم کرگیا۔ ناشکرے لوگو!  اگر شکریہ نہیں کہہ سکتے تو کم ازکم اپنے الفاظ کے خنجر، جو تمہارے لئے وقت گزاری اور کدورت نکالنے کا ایک ذریعہ ہیں، ان شہیدوں کے ماں باپ بہن بھائی بچوں اور اس کی بیوہ کی دل آزاری کا باعث تو نہ بنائو کہ وہ دل ہی دل میں اپنے اس پیارے سے شکوہ کرنے پر مجبور ہو جائیں کہ کیا ان لوگوں کے لئے آپ نے ہم سے اپنا آپ جدا کردیا؟
زندگی فانی ہے۔ مرنا ہم سب کو ہے لیکن وہ موت جس پر زندگی رشک کرے، وہ صرف ان شہیدوں کے حصے میں ہی آتی ہے۔
کرنل مجیب الرحمن، ونگ کمانڈر نعمان !  آپ بظاہر میرے کچھ نہیں لگتے لیکن آپ میرے بہت اپنے ہیں۔ آپ نے یہ مقدس وردی پہنے ہوئے جس وطن اور اہلِ وطن کے دفاع کی قسم کھائی تھی۔ میں ان میں سے ایک ہوں۔۔۔ اور آپ کی اور اپنی اس قربانی کی بحیثیت پاکستانی تمام عمر مقروض رہوں گی۔ 


فرزندانِ پاکستان زندہ باد ۔  پاکستان پائندہ باد
[email protected]
 

یہ تحریر 98مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP