قومی و بین الاقوامی ایشوز

مودی سرکار اور بھارتی مسلمان

بھارت سیکولر ریاست کا دعویدار ہے مگر حقیقت میں یہ صرف ہندو دھرم کا محافظ اور دیگر مذاہب کا کھلا دشمن ہے کیونکہ اس کی پہچان آر ایس ایس (راشٹریہ سیوک سنگھ)، وی ایچ پی (ویشوا ہندو پریشد)، بی جے پی (بھارتیہ جنتا پارٹی)، بجرنگ دَل اور ڈی جے ایس (دھرم جاگرن سمیتی)جیسی ہندو انتہا پسند تنظیمیں ہیں جنہیں ریاست کی بھرپور مدد حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ تقریباً سات دہائیوں کے بعد بھی زندگی کے ہر شعبے میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو ان کے حق سے محروم رکھا جا رہا ہے ۔ان پر عرصہ حیات اس قدر تنگ کر دیا گیا کہ زندگی بسر کرنا تو درکنار ان کے لئے سانس لینا بھی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ مسلمانوں کو تعلیم‘ روزگار‘ تجارت‘غرض ہر شعبے میں پسماندہ رکھا گیا اور آئے روزفسادات کے ذریعے انہیں کمزور کیا جا رہا ہے۔ ہریانہ، احمد آباد، ناگا لینڈ، مراد آباد‘ ہاشم پورہ‘ ملیانہ‘ روڑکیلا‘ جمشید پور‘ ممبئی‘ اجمیرشریف کے فسادات کسے یاد نہیں جس میں لاتعداد مسلمان لقمہ اجل بنے اور ان کی املاک کو نذر آتش کیا گیا۔ 2002ء میں گجرات کے مسلمانوں کا قتلِ عام تو ایسی بد ترین مثال ہے جس نے سیکولر بھارت کے ماتھے پر ہمیشہ کے لئے کالک مل دی ہے اور پھر سیکولر ریاست کا نظام دیکھئے کہ ہزاروں مسلمانوں کے قاتل نریندر مودی کو وزیر اعظم کے منصب پر بٹھادیاگیا۔

 

آرا یس ایس کے بانی گرو گوالکر نے مدتوں پہلے اپنی کتاب میں لکھا تھا: ’’ہندوستان میں غیر ہندو کو رہنے کی اجازت مل سکتی ہے بشرطیکہ وہ ہندو مذہب کو دانستہ یا نادانستہ طور پر قبول کر لیں۔ مطلب یہ کہ ان کے نماز، روزہ پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا لیکن مسجد سے نکل کر مندر کا گھنٹا بجانا ان کے لئے لازمی ہو گا۔ وہ عیدین ضرور منائیں مگر اس کے ساتھ دیوالی بھی‘‘۔ ایسا لگتا ہے کہ آر ایس ایس کے بانی نے آج ہی کے دن کے لئے یہ کہا تھا‘ اسے معلوم تھا کہ ایک نہ ایک دن اس کے خوابوں کو عملی تعبیر ضرورملے گی اور اب وہ دن آچکا ہے کہ جب بھارت میں مودی جیسا متعصب شخص حکمران ہے جو ہندو ازم کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ نریندر مودی کا پہلا تعارف یہی ہے کہ اس کی رگ رگ میں مسلما ن اور پاکستان دشمنی رچی ہے۔

 

بھارتی ریاست گجرات کے مہسانہ ضلع میں پیدا ہونے والے نریندر مودی صرف دس سال کی عمر میں انتہا پسند ہندو تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ سے منسلک ہوئے۔ آر ایس ایس نے اپنے چند تربیت یافتہ ارکان کو بھارتیہ جنتا پارٹی میں بھیجا تو مودی بھی ان میں شامل تھے۔ مودی گجرات کے چار مرتبہ وزیراعلیٰ رہے اور یہیں سے انہوں نے انتہا پسند سیاستدان کے طور شہرت پائی۔ ان کی شہرت اور سیاست کا دارومدار ہمیشہ مسلم مخالف اقدامات پر رہا، مسلمانوں کے خلاف نفرت مودی کی سیاست کا جزو اوّل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کے کروڑوں متعصب ہندو انہیں پسند کرتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں‘ان کے لئے اگر کوئی فیورٹ لیڈر ہے تو وہ صرف نریندر مودی ہے۔ مودی کی پاکستان مخالف بیان بازی اور رویہ بھی انتہا پسند وں کی ترجمانی کرتا ہے، یہی رویہ ان کے سیاسی قد کاٹھ کی بھی اہم وجہ ہے کیونکہ اگر مودی کی سیاست سے مسلم د شمنی نکال دی جائے تومودی ایک تیسرے درجے کا سیاستدان بن کر رہ جائے۔ جب سے مود ی آئے ہیں تو گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگانے اور بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی باتیں کی جاتی ہیں۔ غرض اُن کے آتے ہی بھارتی مسلمانوں کے مسائل میں بے پناہ اضافہ ہو ا ہے اور وہ بدستور آ زمائش کی سولی پر ہیں۔اس سے پیشتر صرف گجرات کے مظلوم مسلمان مودی صاحب کے رحم و کرم پر تھے جبکہ اب پوری ریاست کے 25کروڑ مسلمانوں کی قسمت کا فیصلہ مودی سرکار کے ہاتھ آگیا ہے۔ سیاست کے بھی کئی رنگ ہیں‘جہاں بھی سیاست کا بازار گرم ہے، وہاں سیاسی پارٹیاں کسی نہ کسی نعرے پر ووٹ لیتی ہیں۔ کوئی ترقی کا نعرہ لگاکر اقتدار حاصل کرتا ہے تو کوئی انصاف کا علم اٹھا کر وزارت عظمیٰ کا سہرا سجاتا ہے اور کوئی مذہب کو بنیاد بنا کریا روزگار کے سپنے دکھا کر اقتدار کی راہداریوں تک پہنچتا ہے لیکن جناب نریندر مود ی نے تو سیاست کو ایک نئے رنگ میں پیش کیا ہے‘یعنی گجرات کا وزیراعلیٰ رہ کر مسلمانوں کا ایسا قتل عام کیا کہ متعصب ہندو طبقہ ان کے گن گانے لگا اوراسی کارکردگی کی بنا پر انہیں وزارت عظمیٰ تک لے آیا۔اب حالات یہ ہیں کہ مسلمانوں سمیت دیگر مذاہب کے ماننے والے اس تشویش میں مبتلا ہیں کہ مودی نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے، بھارت کا سیکولر ہونے کا دعویٰ اپنی موت مر رہا ہے اوریہ ملک ایک متعصب ہندو سٹیٹ میں تبدیل ہو رہا ہے‘خطے کے تجزیہ کاربھی مودی کو سیکولر ازم کے لئے بڑاخطرہ قرار دے رہے ہیں۔

 

ایک بھارتی جریدے کے مطابق بھارتی مسلمانوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے جو تھوڑی بہت حمایت تھی وہ مودی کے مسلم دشمن اقدامات کی وجہ سے ختم ہو رہی ہے۔ انجمن اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف جو بھی مہم جوئی کی گئی ہے اس کی ڈوری بی جے پی کے ہاتھ میں رہی ہے۔بی جے پی کے جو چند کارکن دیگر مذاہب سے متعلق نرم گوشہ رکھتے ہیں، اُن کا کہنا ہے کہ ہم جب بھی مسلم آبادیوں میں پارٹی کے حق میں مہم چلاتے ہیں اور مسلمانوں کو قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں تنقیدکا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ مسلمان ہم سے سوال کرتے ہیں کہ ایک طرف تو نریندر مود ی کا نعرہ ’’سب کی ترقی ، سب کا ساتھ‘‘کا ہے جبکہ دوسری طرف ان کی سرپرستی میں مسلم دشمن اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

 

بھارت کے مؤقر اخبار ایشیا ٹائمزنے 18 اگست 2015 کی اشاعت میں بتایا: ’’مودی کے ہندوستان میں ہندو قوم پرستی کی لہر بڑھ رہی ہے جس سے مسلمان خوفز دہ ہیں‘‘۔ اخبار کے مطابق ہندو قوم پرستوں کی جانب سے شدت آمیز بیا نات نے مسلمانوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ حال ہی میں یعقوب میمن کو پھانسی دیے جانے میں جلد بازی کا رویہ اپنانا بھی مسلمانوں میں تشویش کا باعث ہے۔ہندو لیڈر ساکشی مہاراج کی جانب سے ہندو مذہب کے تحفظ کے لئے ہندووں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب دینااور مسلمانوں کے ساتھ حقارت آمیز رویے نے کئی مسائل کو جنم دیا ہے۔ مہاراشٹر میں گائے کے گوشت پر پا بندی ،ہریانہ میں مسلم آبادیوں پر حملے‘مظفر نگر میں عید الاضحیٰ پر پابندی‘ملک بھر میں مسلم قصابوں کا قتل اور ’’گھر واپسی مہم‘‘ یعنی ہندو خاندانوں کا اپنی بیٹیوں کو مسلمانوں سے بچانے کی اپیل‘ جیسے اقدامات نے ان علاقوں کے مسلمانوں کو عدم تحفظ سے دوچار کیا ہے۔

 

بھارتی اخبار’’ وقارِ ہند‘‘ نے یکم جون 15ء کی اشاعت میں لکھاہے ’’بی جے پی کے اقتدار میں آتے ہی مسلمانوں پر حملے شروع ہو گئے ، ایک ہفتہ پیشترجب ہریانہ کے مسلمان نمازِ فجر کے لئے مسجدوں میں جا چکے تھے کہ شرپسندوں نے ان کے گھروں پر ہلہ بول دیا‘ پٹرول چھڑک کر مسلمانوں کی املاک کو نذر آتش کر دیا گیا اور مسلمان اپنی جانیں بچانے کی خاطر بھاگ کھڑے ہوئے، اخبار لکھتا ہے: ’’سیکورٹی فورسز کے آنے میں تاخیر کی وجہ سے مسلمانوں نے بہت نقصان اٹھایا، علاوہ ازیں جگہ جگہ مسلم قصابوں پر بھی حملے ہو رہے ہیں۔ فرید آباد، ہریانہ ودیگر علاقوں میں جانوروں کا گوشت فروخت کرنے والے مسلمانوں کو چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے‘‘۔ اخبار کے مطابق ’’وشوا ہند و پریشد ان حملوں کی تائید کرتی ہے اور اس کے راہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں ایک بار پھر 1857ء برپا ہو گا‘‘۔ وقارِ ہند نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا : ’’مسلمانوں پر تشدد ، مود ی حکومت کا اہم ترین تحفہ ہے‘‘۔ روزنامہ صحافت دلی نے 3ستمبر15ء کی اشاعت میں رپورٹ دی کہ یوپی کے ضلع سنت نگرمیں عید الاضحی پر پابندی ہے۔ مقامی مسلمانوں نے ’’صحافت‘‘کو بتایا کہ بی جے پی ممبر یوگی آدتیہ ناتھ اور اس کے کارکن ہر سال بقرعید کے موقع پر قربانی نہیں ہونے دیتے۔ اخبار کے مطابق پولیس اہلکار عید سے ایک دن قبل تمام گھروں سے جانور لے جاتے ہیں اور عید کے چوتھے روز مسلمانوں کو واپس کر دیتے ہیں۔‘‘ روزنامہ رابطہ ٹائمزدلی(5ستمبر 15ء) کے مطابق جب ایک مسلمان لیڈر نے ان مظالم کے خلاف آواز اٹھائی تو وشوا ہندو پریشد کے راہنما سریندر جین نے کہا :’’یہاں جتنے حقو ق مسلمانوں کو حاصل ہیں اتنے تو ہندوؤں کو بھی نہیں‘‘۔

 

ہندو دھرم میں مسلمان ہونے والے ہندوؤں کو دوبار ہ بت پرست بنانے کے عمل کو ’’ شدھی‘‘ کہا جا تا ہے۔ شدھی کا مطلب ہے پاک کرنا‘یوں تو بھارت میں مسلمانوں کو شدھی بنانے کی مہم تسلسل کے ساتھ جار ی رہتی ہے تاہم مود ی کے بعد اس میں تیزی آئی ہے اور شدت پسند ہندو تنظیمیں آر ایس ایس، وی ایچ پی، بی جے پی، بجرنگ دَل اور ڈی جے ایس یہ مہم چلانے میں سرفہرست ہیں۔ا ن کا کہنا ہے کہ انڈیا کے آزادی ایکٹ میں یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کا ملک ہے لہٰذا یہاں مسلمانوں یا عیسائیوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ وشوا ہندو پریشد کے ایک رہنما چمپت رائے کہتے ہیں ’’ہم سمجھتے ہیں ہندوستان میں محض مٹھی بھر مسلمان ہیں اوریہ وہ ہیں جن کے آباء و اجداد کو زبردستی مسلمان بنا یا گیا تھا‘‘۔ ایک رپورٹ میں بتا یا گیا کہ آگر ہ میں ڈی جے ایس (دھرم جاگرن سمیتی) کے کارکن نند کشور والمیکی نے مبینہ طور پر سو سے زائد مسلمانوں کو ہندو بنا یا اور کم و بیش یہی کارکردگی ڈی جے ایس اور دیگر جماعتوں کی ہے جس سے اس خطرناک مہم کااندازہ لگایا جا سکتاہے۔ بھارتی جریدے ’’دکن کرونیکل‘‘ نے لکھا :’ ’مود ی کے وزیر اعظم بننے کے بعد بھارتیا جنتاپارٹی نے لاکھوں نومسلموں کو دوبارہ ہندو بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے ، اس کے لئے مودی حکومت نے دس ارب روپے بھی مختص کر دئیے ہیں۔ یہ رقم ہندو انتہا پسند جماعتیں نو مسلموں کو مالی لالچ دے کر اورانہیں ہندو بنانے کی دعوت کے لئے استعمال کر رہی ہیں۔ جریدے نے لکھا کہ مودی کے دست راست پورے بھارت کو ہندوؤں کا ملک بنانے کے عزم پر کاربند ہیں اور ان کے مطابق بھارت 2021ء تک ایک ہندو ملک (ہندو راشٹریہ)بن جائے گا۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ ڈی جے ایس کے راہنما راجیشور سنگھ نے آگر ہ میں اعلان کرتے ہوئے کہا تھا: ’’اگر مسلمانوں اور عیسائیوں کو یہاں رہنا ہے تو انہیں ہندو مت قبول کرنا ہوگا‘‘۔ ڈی جے ایس کا نعرہ ہے کہ آئندہ چھ سالوں تک بھارت کو مسلمانوں اورعیسائیوں سے مکمل پاک کر دیا جائے گاکیوں کہ ان کا اس ملک پر کوئی حق نہیں۔

 

مودی کی مسلم دشمنی کے حوالے سے بی بی سی نے 28 اپریل 2015ء کی ایک رپورٹ میں بتایا کہ مودی کے ٹوئٹر اکاونٹ پر صرف دو مسلمان ہیں۔ مودی کے ذاتی ٹوئٹر اکاؤنٹ پر خود مودی 1213 افراد کے اکاؤنٹ کو فالو کرتے ہیں جن میں بیشتر ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے بڑے رہنما، پارٹی کے الگ الگ یونٹس اور کارکنوں کے اکاؤنٹ شامل ہیں۔ ان کے اکاؤنٹ سے زیادہ تر بی جے پی کے آئی ٹی سیل یا پیغام رسانی کے لوگ منسلک ہیں۔مودی سخت گیر ہندو نظریاتی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس ) کے آفیشل اکاؤنٹ، اس کے ترجمان جریدے ’ پنچ جنئی‘ اور ’’دی ویکلی آرگنائزر‘‘ سمیت آر ایس ایس کارکنان کو فالو کرتے ہیں۔قابل غور بات یہ ہے کہ وہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے کسی ایک بھی رہنما کو فالو نہیں کرتے ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم ان افراد کے ٹوئٹر اکاؤنٹس کو بھی فالو کرتے ہیں جو ’سخت گیر ہندو مذہب‘ کی وکالت اور حمایت کرتے ہیں۔

 

ایک سرو ے کے مطابق بھارتی مسلمان یا دیگر اقلیتی لوگ نریندر مودی کا نام سن کر یا تو نفرت سے منہ پھیر لیتے ہیں یا پھر اس متعصب ہندو رہنما کی مقبولیت کو ماننے سے انکار کر تے ہیں۔ بھارتی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ مودی کے اقدامات سے ہمارے لئے مسائل بڑھ رہے ہیں‘ ہم اتنے خوفزدہ ہیں کہ ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ مودی ایک ایسا شخص ہے جس کی نظروں میں مسلمانوں، ان کی زندگیوں اور ان کے مستقبل کے لئے کوئی احترام نہیں اس لئے ہم یہی چاہتے ہیں کہ کوئی بھی ہو منظور ہے‘بس مودی نہ ہو‘ کیوں کہ آج تک ہندو لیڈروں میں مودی جیسا متعصب شخص کوئی نہیں گزر ا۔

 

[email protected]

یہ تحریر 91مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP