ہمارے غازی وشہداء

موت کیا شے ہے؟ فقط عالم معنی کا سفر

کیپٹن نوید احمد شہید کے حوالے سے ایک تحریر

خدا جہاں اولاد دے کر ماں باپ کو نوازتا ہے وہیں وہ اولاد کے ذریعے والدین کا امتحان بھی لیتا ہے۔ کہتے ہیں جو چیز یا رشتہ آپ کو کمزور کر دے بالآخر وہی آپ کی طاقت بن جاتا ہے۔ اولاد کی آزمائش اس دنیا کاسخت ترین امتحان ہے لیکن اگر وہی اولاد والدین کی سرفرازی کا باعث بنے تو مرتے دم تک والدین کا سر فخر سے بلند رہتا ہے۔ ایسا ہی ایک جواںمرد اور پاک باز بیٹا پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول سے 11کلومیٹر کے فاصلے پر موجود 'داتہ' نامی گائوں میں پیدا ہوا۔ وزارت صحت و سیاحت میں نوکری پیشہ والد نے کبھی ایسا کوئی خواب آنکھوں میں نہ سجایا تھا کہ وہ بچوں میں سے کسی کو بھی عسکری زندگی کا حصہ بنائیں گے مگر کچھ خواب والدین نہیں بلکہ ان کی اولاد لے کر پیدا ہوتی ہے۔


چار بہن بھائیوں میں دوسرا نمبر رکھنے والے نوید احمد بچپن سے نہ صرف والدین بلکہ اپنے اساتذہ کی بھی آنکھوں کا تارہ بنے رہے۔ تعلیمی میدان میں اعلیٰ کارکردگی دکھاتے ہوئے جب 1988میں بی کام کا امتحان پاس کیا تو ان کے اندر کا چھپا ہوا وہ جانباز فوجی دل کے دریچے سے باہر نکلاجو بچپن میں چھپ چھپ کر کاکول اکیڈمی میں ہونے والی مشقیں دیکھتے ہوئے پیدا ہوا۔نوید احمد نے سرکاری تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی اور اپنے شوق کی بدولت ہمیشہ اچھی کارکردگی دکھائی۔ پاک فوج جوائن کرنے کا شوق اس قدر تھا کہ دوبار ناکام ہونے کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور بالآخر تیسری مرتبہ کامیاب ہو گئے اور یہ جنون نوید کو پی ایم اے کاکول تک لے آیا اور اس طرح سے 103لانگ کورس سے پاس آئوٹ ہونے کے بعد نوید احمد کی زندگی کا ایک ایسا آغاز ہوا جہاں کا سفر کٹھن ضرور تھا مگر منزل قابلِ فخر تھی۔


نیک اولاد ہر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے لیکن جب اولاد نیک ہونے کے ساتھ ساتھ فرمانبردار بھی ہو تو ماں باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتی ہے۔ نوید کے والد سے گفتگو کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ وہ نوید کی یادوں کا ایک خزانہ سمیٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نوید ایک سچا مسلمان تھا وہ فرقہ واریت سے دُور بھاگتا تھا۔ ہمیشہ کہتا تھا کہ فرقہ بازی سے کچھ حاصل نہ ہو گا۔ ہم مسلمان ہیں اور ہم پر فرض ہے کہ ہم خدا کے دین کا پرچار کریں نہ کہ فرقہ بازیوں میں پڑ کر دنیا کے لئے تماشا بنیں۔ نوید جب بھی چھٹی پر آتے تو اپنے والد کو اپنے ارادوں سے آگاہ کرتے کہ وہ وطن کے لئے جان کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ جوش میں اکثر کہتے تھے کہ ابو موجودہ دور کے مسلمانوں کے پاس کس چیز کی کمی ہے؟ افرادی قوت وافر ہے۔ مادی اور معدنی وسائل کی کوئی کمی نہیں، کمی ہے تو صرف قوتِ ایمانی اور ہمت و استقلال کی، اتفاق کی اور جذبۂ جہاد کی۔ یہ تمام اوصاف ہم میں بھی آ سکتے ہیں اگر ہم اﷲ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں اور تفرقہ بازی کو پیچھے چھوڑ کر اپنی خوابیدہ غیرت کو جگا لیں۔


vice captain بہن بھائیوں سے ان کا رویہ بے حد دوستانہ تھا۔ نوید کے بھائی شفقت منیر نے بتایا کہ بچپن سے ہی ہم دونوں اکٹھے کھیلتے تھے۔ فٹ بال میں نویدبہترین کھلاڑی تھے۔ 1996 میں ہم نے پنجاب ڈویژن راولپنڈی کی طرف سے میچ کھیلا جس میں نوید نے بطور 

حصہ لیا اور ہم وہ میچ جیتے۔ نوید کو پیراگلائیڈنگ کا بھی بہت شوق تھا اور اس نے خان پور ڈیم میں اس کی ٹریننگ بھی لی تھی۔ آرمی چیمپیئن شپ اور ایئرفورس چیمپیئن شپ میں حصہ لے کر بہت سے میڈل بھی جیتے۔ 4سالہ سروس میں کئی مرتبہ فٹ بال کے میچز (Capt Naveed Ahmed Shaheed Football Academy) جیتے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج اس کے نام پر ہمارے اس علاقے میں ایک اکیڈمی

بنائی گئی ہے جہاں بہت سے بچے یہ کھیل سیکھتے ہیں۔ بھائی نے بتایا کہ نویدمجھ سے ہر بات شیئر کرتا تھا چاہے وہ گھریلو مسائل ہوں یا پیشہ ورانہ۔ ہم دونوں کی شکلیں کافی ملتی تھیں۔ اکثر ایسا ہوتا کہ میری کہیں لڑائی ہوتی تو بدلے میں وہ لوگ نوید سے لڑنے کے لئے آ جاتے۔ بہن سے شرارتی اور پیار بھرا رشتہ تھا۔ ہمیشہ آنے سے پہلے فون پر بہن سے پسندیدہ کھانے کی فرمائش کرتے تھے۔ نوید کے بھائی نے بتایا کہ اکثر نوید بہن کو پیار میں ''خان'' کہہ کر بھی چھیڑتے تھے جس سے ان کے بیچ پیار بھری نوک جھوک جاری رہتی۔ والدہ کے لئے بہت فکرمند رہتا۔ اکثر کہتا تھا کہ میں زندہ رہوں یا نہ رہوں آپ کو کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ اب ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہ ایساکیوں کہتا تھا کیونکہ اب جب ہم اپنی والدہ کو علاج کے لئے سی ایم ایچ لے کر جاتے ہیں تو وہاں کا سارا سٹاف ان کے آگے پیچھے ہوتا ہے۔
SSG نوید کو شروع میں

جوائن کرنے کا بے حد شوق تھا اور اس کی ایس ایس جی کے لئے سلیکشن بھی ہوگئی تھی مگر کچھ میڈیکل پرابلمز کی وجہ سے نوید کو اپنا ارادہ بدلنا پڑا۔ 15ناردرن لائٹ انفینٹری میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ کمیشن حاصل کرنے کے بعد جلد ہی نوید کی پوسٹنگ 8ناردرن لائٹ انفینٹری میں ہو گئی اور آٹھ ماہ بعد آرمی ایوی ایشن میں بطور پائیلٹ منتخب ہو کر آرمی ایوی ایشن سکول پہنچ گیا۔ ٹریننگ کے دوران ہیلی کاپٹر سے جمپ لگاتے ہوئے اس کے بازو میں موچ آگئی لیکن اس نے اس کا ذکر کسی سے نہیں کیا کافی دن گزرنے کے بعد (BeII-412)  جب موچ بہتر ہو گئی تو اس نے والد صاحب کو بتایا۔

کا پائلٹ بننے کے بعد کیپٹن نوید کی پہلی تعیناتی 4ایوی ایشن سکواڈرن کوئٹہ میں ہوئی۔


نوید کی شادی کے دن جب تمام لوگ اس کے نکاح کی تیاریوں میں مصروف تھے تب نوید جماعت کے ساتھ نماز اد کرنے میں مصروف تھے کیونکہ ان کو نماز نہ پڑھنے پر بے حد غصہ آتا تھا۔ لہٰذا اپنی شادی پر بھی نوید نے پہلے نماز باجماعت ادا کی پھر اپنا نکاح پڑھوایا۔ نوید ایک بہت خیال رکھنے والے شوہر تھے۔ وہ ہمیشہ اپنی اہلیہ سے کہتے تھے کہ اگر تم نماز نہیں پڑھو گی تو اس سے بچوں پر بُرا اثر پڑے گا۔ان باتوں کا یہ اثر ہے کہ آج ان کی بیٹی بھی سر پر دوپٹہ رکھے جائے نماز کی طرف لپکتی نظر آتی ہے۔ اپنے فیصلوں پر انہیں بڑا مان تھا اور وہ اپنی ذمہ داریاں نبھانا خوب جانتے تھے۔ جب 19جنوری 2008کو گھر سے روانہ ہوئے تو آنکھوں میں نمی تھی لیکن وہ اس کو اپنی مسکراہٹ کے پیچھے چھپا رہے تھے۔ جانے کے بعد انہوں نے اہلیہ کو فون کیا اور کہا کہ اپنا اور نوال (جو اس وقت چند ماہ کی تھی) کا خیال رکھنا۔ شائد ان کو احساس ہو گیا تھا کہ ان کے پاس وقت کم ہے اس لئے وہ اپنے سے جڑے رشتوں کو پیار بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ سراٹھا کر اور خم ٹھونک کر جینے کا ہنر صرف وہ لوگ جانتے ہیں جن کو اسدُاللّٰہی کے لئے دنیا میں بھیجا جاتا ہے یہ منتخب لوگ ہوتے ہیں اور پھر وہ دن بھی آیا جب وہ اپنا آخری مشن لے کر اڑے۔ 6فروری 2008 کو ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد کوہاٹ کے لئے محوِ پرواز ہوئے۔ ان کے ہیلی کاپٹر میں میجر جنرل جاوید سلطان، بریگیڈیئر محمد افضل چیمہ، بریگیڈیئر سعید احمد، لیفٹیننٹ کرنل پیرعمر فاروق، کیپٹن شہزاد اور کیپٹن محمد ہارون سوار تھے۔ صرف پانچ منٹ کے اندر اندر کنٹرول ٹاور نے ان کی آواز سنی۔ ہیلی کاپٹر کسی فنی خرابی کی وجہ سے قابو سے باہر ہو گیا ایک المناک حادثہ پیش آیا اور نوید اپنے ساتھیوں سمیت جام شہادت نوش کر گئے۔ یوں ہر میدان میں انعامات اور اعزازات حاصل کرنے والے نوید شہادت کا اعلیٰ ترین انعام لے کر جہانِ فانی سے نہایت تزک و احتشام کے ساتھ رخصت ہوئے۔


اولاد کا غم تو کوئی بھی انسان نہیں بانٹ سکتا لیکن جب اولاد والدین کے لئے باعث عزت ہو تو ماں باپ کی آنکھوں میں آنسو کم اور سکون زیادہ نظر آتا ہے۔ یہی سکون اور اطمینان ہمیں نوید کے والد کی آنکھوں میں بھی نظر آیا اور یہ سکون اور اطمینان کیوں نہ ہو پاک فوج نہ صرف اپنے ہر سپاہی کا خیال رکھتی ہے بلکہ ان کے اہلِ خانہ کو بھی ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اسی لئے نوید کے خاندان والوں سے ملاقات کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ وہ پاک فوج کے جوانوں اور ان کی خدمات سے کس قدر خوش ہیں۔ نوید Dead Body کے والدکا کہنا ہے کہ شہادت کے بعد جب نوید کی

اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچی تووہاں اس وقت سابق جنرل پرویز مشرف بھی موجود تھے، انہوں نے مجھے بے حد حوصلہ دیا اور بعد ازاں ان کی بیگم نے بھی گھر آ کر تعزیت کی جس ادارے کے افسر اتنے باکردار اور احساس کرنے والے ہوں ان کے جوان کیوں نہ باعث فخر ہوں۔ نوید نے مجھے اس دنیا میں ہی نہیں بلکہ آخرت میں بھی سُرخ رُو کر دیا ہے۔ شہادت کے بعد پاک فوج کی نوید کے خاندان کی کفالت اور رہنمائی سے ان کے اہل خانہ بے حد مطمئن اور مشکور نظر آتے ہیں۔ نوید کے والد نے نم آنکھوں سے بتایا کہ جتنی عزت مجھے ایک شہید کا باپ ہونے پر ملی ہے اس کا کوئی بدل نہیں۔ سی ایم ایچ علاج کے لئے جاتا ہوں تو وہاں پر موجود بریگیڈیئر بھی مجھے دیکھ کر احتراماً کھڑے ہو جاتے ہیں کہ یہ احترام مجھے میرے بیٹے کی شہادت نے دیا ہے۔
نظر اﷲ پہ رکھتا ہے مسلمانِ غیور
موت کیا شے ہے؟ فقط عالم معنی کا سفر
ان شہیدوں کی دِیَت، اہلِ کلیسا سے نہ مانگ
قدر و قیمت میں ہے، خوں جن کے حَرم سے بڑھ کر
(ضربِ کلیم)
علامہ اقبال

یہ تحریر 199مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP