ہمارے غازی وشہداء

من جانبازم۔ سپاہی وقار حسین شہید

آپریشن ضربِ عضب کے دوران اپنے ساتھیوں کو دشمن سے بچاتے ہوئے اپنی جان قربان کرنے والے اسپیشل سروسز گروپ کے ایک دلیر جانباز کی داستانِ شجاعت

اپنے مسکن تربیلا سے روانہ ہوتے وقت وہ گاڑی کے عقبی حصے میں بیٹھا سوچ میں گم تھا۔ گاڑی میں اس کے دیگر ساتھی بھی سوار تھے۔ یہ گاڑی اس کانوائے کا حصہ تھی جو سپیشل فورسز کے جوانوں کو لے کر شمالی وزیرستان ایجنسی کی جانب روانہ تھی۔ پاک فوج کی اعلیٰ قیادت نے آپریشن’’ضربِ عضب‘‘ کی صورت میں ملک دشمن عناصر کو سبق سکھانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ اس مقصد کے لئے سپیشل فورسز کے جن دستوں کا انتخاب کرکے انہیں شمالی وزیرستان جانے کا حکم دیاگیا تھا‘ اس میں4کمانڈو بٹالین شامل تھی‘ جس کا ایک رکن سپاہی وقار حسین بھی تھا۔ اعلیٰ قیادت کا یہ فیصلہ انتہائی بروقت تھا۔ سفاک طبع‘ عیار اور غیر ملکی ٹکڑوں پرپلنے والے دہشت گردوں کی سرکوبی ہی ان کا واحد علاج تھا‘ جو ایک طویل عرصے سے ملک کے طول و عرض میں ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے ہوئے‘ معصوم لوگوں کے خون سے ہولی کھیلنے میں مصروف تھے۔ وقار حسین گہری سوچ میں گم تھا۔ شام کا منظر نہایت دلفریب تھا۔ غازی بروتھا نہر کے کنارے سفر کرتے ہوئے وہ شام کو ڈوبتے ہوئے سورج کو دیکھ رہا تھا۔ وہ اس حقیقت سے قطعاً بے خبر تھا کہ اﷲ تعالیٰ کے حکم سے اسے ایک ایک ایسا مقام عطا کیا جانے والا ہے جس کی خواہش یوں تو ہر سپاہی کرتا ہے مگر یہ عطا کسی خوش نصیب ہی کو ہوتا ہے۔ اس کی قسمت میں وہ اعزاز لکھ دیا گیا تھا جس کے حصول کے لئے کسی ریاضت کی نہیں بلکہ قوت ایمانی‘ جذبہ جاں نثاری اورحب الوطنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ بلا شبہ یہ امور وقار حسین میں بدرجہ اُتم موجود تھے۔ فوجی قواعد کے مطابق وقار حسین اور اس کے ساتھیوں کو منصوبے کی تفصیلات سے فی الحال آگاہ نہیں کیا گیا تھا مگر وقار حسین کوئی عام سپاہی نہیں تھا‘ وہ سپیشل فورسز کا اعلیٰ تربیت یافتہ سپاہی ہونے کے ساتھ ساتھ آپریشن المیزان (2010/11) کا غازی بھی تھا۔ وہ اس بات کو بخوبی سمجھ سکتا تھا کہ سپیشل فورسز کو میدانِ جنگ میں بھیجنے کا مقصد کسی مشکل ہدف کا حصول ہے۔ کیونکہ سپیشل فورسز کو صرف ایسے مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جو عام لڑاکا فوج یعنی انفنٹری کی دسترس سے باہر ہوتے ہیں۔ وقار حسین کے لئے یہ سب کچھ نیا نہ تھا۔ وہ فوجی طریقہ کار سے اچھی طرح واقف تھا۔ اس کے علاوہ اسے مشیتِ ایزدی اوراپنی تربیت پر مکمل بھروسہ تھا۔ اسے یقین تھا کہ وقت پڑنے پر وہ اپنے ملک و قوم اور پاک فوج کے نام پر حرف نہیں آنے دے گا۔ کہا جاتا ہے کہ سپیشل فورسز کے لوگ کبھی فارغ نہیں بیٹھتے۔ 4 کمانڈو بٹالین نے میران شاہ پہنچنے پر فارغ بیٹھ کر انتظار کرنے کے بجائے اپنی معمول کی تربیت کا آغاز کردیا۔ ہمیشہ کی طرح وقار حسین اپنے افسران کی توقعات پر پورا اترتا رہا۔ انہوں نے وقارحسین کا نام خصوصی طور پر فہرست میں شامل کیا۔ یہ فہرست ان لوگوں کے ناموں پر مشتمل تھی جن کو کوئی بھی اہم ترین کام سونپا جاسکتا تھا۔ وقارحسین کو اس بات پر فخر تھا۔ اس موقع پر اسے اپنے والدِ محترم کی نصیحتیں یاد آنے لگیں جو آرمی میڈیکل کور سے بطورِ نرسنگ حوالدار باعزت اور مثالی سروس مکمل کرنے کے بعد ریٹائرہوئے تھے۔ بالآخر امتحان کا وقت آن پہنچا۔ رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ جاری تھا۔ ایک شام یہ اطلاع ملی کہ میران شاہ سے کچھ فاصلے پر واقع بوئیا اور دیگان کے علاقے میں دہشت گردوں کے مضبوط ٹھکانے تباہ کرکے واپس آنے والے دستوں پر دشمن نے گھات لگانے کی کوشش کی ہے‘ جس کے باعث وہ دستے پھنس کر رہ گئے ہیں۔ ان دستوں کو وہاں سے نکالنے کے لئے ہنگامی طور پر میران شاہ سے اضافی دستوں کو بھیجا جانے والا ہے۔ اس کام کے لئے 4کمانڈو بٹالین کا انتخاب کیا گیا۔ چونکہ معاملہ حساس نوعیت کا تھا اور وقت ضائع کرنا بالکل مناسب نہ تھا‘ لہٰذا کمانڈو بٹالین کے جوان فوری طور پر بوئیا اور دیگان کی جانب روانہ ہوگئے۔ پہاڑوں میں چھپے دشمن کو یہ فائدہ حاصل تھا کہ وہ چٹانوں کی آڑ میں چھپے ہونے کے باعث فوج کے کارگر فائر سے کافی حد تک محفوظ تھا۔ اسی وجہ سے اس کے کمانڈنگ افسر‘ لیفٹیننٹ کرنل عدنان نے یہ حکمتِ عملی اختیار کی کہ دشمن جن چٹانوں میں چھپا ہوا ہے‘ ان کے پیچھے سے جا کر پہلے تو دشمن کے فرار کے راستوں کو بند کردیا جائے اور پھر اس کے بعد عقبی جانب سے دشمن پر بھرپور حملہ کیا جائے۔ ایسی صورتِ حال کے پیشِ نظر یہ ایک معقول منصوبہ تھا۔ اس مقصد کے لئے مختلف گروپ بنائے گئے‘ جن کو ان مقامات پر حملے کا ٹارگٹ دیا گیا جہاں جہاں سے دشمن کا فائر آرہا تھا۔ یہ ایک پیچیدہ کا م تھا‘ چھپے ہوئے دشمن کی نظروں سے اوجھل رہ کر عقب تک پہنچنا مشکل اور خطر ناک تھا۔ اگر ایسا کرتے ہوئے یہ لوگ دشمن کی نظر میں آجاتے تو بآسانی دشمن کا نشانہ بن سکتے تھے۔ سپاہی وقار حسین کو بھی ایک گروپ کا حصہ بنایا گیا یہ گروپ بجلی کی سی تیزی سے اپنے ہدف کی جانب روانہ ہوا۔ آڑ کا استعمال کرتے ہوئے وہ اس مقام کے قریب تر ہوتے جارہے تھے جہاں سے دشمن کا فائر متواتر جاری تھا‘ جو اس بات کی نشانی تھی کہ وہاں دشمن بڑی تعداد میں موجود ہے۔ آگے بڑھتے ہوئے اچانک ان کے سامنے ایک کھلا علاقہ آگیا جسے دشمن کی نظر میں آئے بغیر عبور کرناممکن نہ تھا۔پارٹی کمانڈر نے سپاہی وقار حسین کو حکم دیا کہ وہ گھوم کر دوسری جانب سے فائر کرکے دشمن کا دھیان بٹائے تاکہ باقی لوگ کھلی جگہ کو عبور کرسکیں۔ سپاہی وقار حسین دشمن پر فائر کرنے لگا‘ وہ بار بار اپنی جگہ بدل کر فائر کررہا تھا تاکہ دشمن یہ سمجھے کہ وہاں زیادہ لوگ موجود ہیں۔ یہ حربہ کامیاب رہا ۔ دشمن کا دھیان ہٹا اور پوری پارٹی کھلی جگہ کو دشمن کی نظر میں آئے بغیر پار کرگئی۔سپاہی وقار حسین بھی چھپتا چھپاتا اپنی پارٹی سے آملا۔ اب ان کا ہدف ان کے سامنے تھا۔ فائر کرتے دہشت گرد اِن کو بخوبی نظر آرہے تھے۔ سپاہی وقار حسین کا بس نہیں چل رہا تھا کہ دشمن پر ٹوٹ پڑے مگر وہ پارٹی کمانڈر کے حکم کا منتظر تھا۔ جلد ہی حکم ملا اور یہ مردِ مجاہد نعرۂ تکبیر لگاتے ہوئے دشمن پر ٹوٹ پڑا۔ جب دہشت گردوں نے عقب سے ان مجاہدوں کو حملہ کرتے دیکھا تو ان کے اوسان خطا ہوگئے۔ وہ سمجھ گئے کہ اب ان کے فرار کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ ایسے میں انہیں اور تو کچھ نہ سوجھا‘ انہوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ سپاہی وقار حسین کی پارٹی اب دشمن کے بالکل قریب پہنچ چکی تھی۔ چند ہی لمحوں کی بات تھی کہ دشمن جہنم واصل ہوتا اور یہ مقام محفوظ ہو جاتا۔ وقار حسین کے سینے میں گولیاں اتریں‘ اُدھر اس کی رائفل نے شعلے اگلے۔سپاہی وقار حسین کی رائفل اس وقت تک خاموش نہیں ہوئی جب تک کہ اس کی میگزین خالی نہیں ہوئی اور جب تک کہ اس کے سامنے موجود تمام دشمن جہنم واصل نہیں ہوگئے۔ سپاہی وقار حسین نے سینے پر گولیاں کھاکر اپنی سرزمین کو دشمن کے ہاتھوں سے واپس چھینا۔ شہادت کے رتبہ پر فائز ہونے کے بعد سپاہی وقار حسین کا نام امر ہو جانے والے جانبازوں کی فہرست میں شامل ہوگیا ۔

مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے

وہ قرض چکائے ہیں جو واجب بھی نہ تھے

یہ تحریر 17مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP