خصوصی ملاقات

منّو بھائی

منّو بھائی

الیکٹرانک میڈیا کے فروغ سے کتاب کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔

ہمارے ملک میں تعلیم ‘صحت‘ صنعت اور مالیات کے حوالے سے بہترین پلاننگ کی ضرورت ہے۔

بحران آتے ہیں لیکن اس سے چیزیں ختم نہیں ہو جاتیں۔

اظہار کے مختلف میڈیم ہوتے ہیں مگر اہمیت Content کی ہوتی ہے_ پیغام کی ہوتی ہے۔

اردو ادب میں عالمی معیار کی تخلیقات موجود ہیں مستقبل اردو ادب کا ہے۔

میں ادب برائے زندگی کا قائل ہوں۔ ادب برائے ادب کا کوئی وجود نہیں مگر ادب صرف پروپیگنڈا یا سلوگن نہیں ہونا چاہئے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی صحافت اپنے آپ کو ہی بہتر کرے گی۔ہمیں سلوک‘ تمیز اور بردباری سے کام لینا چاہئے۔

ہمارے ارباب اختیار ہماری انفرادی مراعات کی درخواست تو مان لیتے ہیں مگر اجتماعی حقوق دینے پر تیار نہیں۔

کسی بھی ملک میں سوشل لائف کا امتحان ہوتا ہے تو دیکھا جاتا ہے اس معاشرے میں عورتوں اور بچوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے۔

کسی خاتون کو اینٹیں مار مار کر ہلاک کر دینا وحشت گردی ہے اور وحشت گردی دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے۔

پرائڈ آف پرفارمنس، عالمی شہرت یافتہ ڈرامہ نگار، معروف کالم نگار‘ سینئر صحافی اوردانشورمنوبھائی کانام کسی تعارف کامحتاج نہیں۔منوبھائی کااصل نام منیراحمد قریشی ہے ،گزشتہ دنوں لاہورمیں ان کی رہائش گاہ پران سے گفتگو ہوئی جوآپ کے لئے پیش ہے۔
سوال: منوبھائی صاحب آپ کابہت شکریہ کہ آپ نے ہلال میگزین کے قارئین کے لئے وقت نکالا،آپ سے بہت سے سوالات ہوں گے ۔لیکن سب سے پہلے یہ بتائیے آپ ایک عرصے سے شاعری ‘ نثر‘ کالم نگاری اور ڈرامہ نگاری سے وابستہ ہیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ آپ کا فورس فل اظہار کون سا ہے- کون سی صنف ہے جس کو لکھتے ہوئے آپ زیادہ انجوائے کرتے ہیں؟
جواب:میں ہلال میگزین کاپرانا قاری ہوں،اس وقت سے ہلال دیکھ رہاہوں جب یہ میگزین نہیں بلکہ اخبارتھا،اب میگزین کی صورت میں بہت خوبصورت اورمعیاری ہے،میں تمام ٹیم کومبارکباد پیش کرتاہوں۔جہاں تک آپ کاسوال ہے،بات یہ ہے کہ سارا مسئلہ کمیونیکیشن کاہے کہ آپ کارابطہ اپنے پڑھنے والوں سے کیساہے۔کالم نگاری میں نے زیادہ کی ہے۔میرے خیال میں اس کو کوئی ساٹھ سال سے بھی زیادہ کاعرصہ ہوگیاہے۔محسوس تویہ ہوتاہے کہ کالم میں، میں نے زیادہ اظہارکیاہے۔کالم زیادہ لکھے ہیں۔
روزانہ کالم لکھے ہیں،میرے خیال میں کسی اورکالم نگار نے اتنازیادہ عرصہ نہیں لکھا کہ اسے دادا بھی پڑھے اورپوتا بھی پڑھے۔لیکن یہ کہ جوماڈرن ذریعے ہیں،ٹیلی ویژن کے ذریعے لوگوں تک پہنچا،ریڈیو بھی کیا۔میرے خیال میں جس میں بھی موقع ملے ،اظہار کرناچاہئے۔
سوال:آپ کسے زیادہ فورس فل سمجھتے ہیں۔۔۔۔؟
جواب: جس میں بھی اچھی چیز لکھی جائے۔اصل چیز Content ہے‘ Content کیا ہے۔یہ نہیں کہ طریقہ یا میڈیم کیاہے،شعر اگر اچھا ہوگا ہے توشاعری اچھی ہے ،کالم اگراچھا ہے توکالم ٹھیک ہے۔اصل چیز یہ ہے کہ آپ نے کہنا کیا ہے آپ کامیسج کیا ہے ۔یہ نہیں کہ کس طرح کہنا ہے،کس میڈیم یازبان میں کہنا ہے۔جوپیغام ہے وہ زیادہ اہم ہے۔میں نے ڈرامہ اورکالم نگاری دونوں کوانجوائے کیا ہے۔
سوال: کیا اردو ادب اس مقام پر پہنچ چکا ہے کہ اس کا موازنہ دنیا کی دیگر زبانوں کے ادب سے کیا جا سکے۔ اگر ہاں تو آپ اردو ادب کے مستقبل کو کہاں دیکھتے ہیں؟
جواب:بالکل ،کیوں نہیں ۔اردو میں ایسی چیزیں کہی گئی ہیں جوعالمی سطح کے ادب کوچھوتی ہیں ۔بلکہ بعض جگہ پرتواس سے بھی آگے ہیں۔اردو بہت بڑی زبان ہے اوراس میں بہت اچھی چیزیں لکھی گئی ہیں جو ادب عالیہ میں شمارہونیوالی چیزیں ہیں۔
باقی رہی بات اُردو کے مستقبل کی تو یقینامستقبل اردو کا ہے،اردو کے مستقبل پر کسی کوشبہ نہیں ہوناچاہئے۔اردو بولنے والے،پنجاب میں ،تمام صوبوں میں پاکستان کے کسی بھی علاقے میں موجود ہیں۔انڈیا میں اگرچہ اردو کومسلمانوں کی زبان سمجھ کردبانے کی کوشش کی گئی ہے،لیکن اردو کا انڈیا میں بھی ایک وجود ہے‘ میں اردوکے مستقبل سے مطمئن ہوں۔
سوال:۔ الیکٹرانک میڈیا اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے بعد سے کہا جاتا ہے کہ معاشرے میں کتاب پڑھنے کی روایت کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس میں کس حد تک سچائی ہے۔ جس معاشرے میں کتاب نہ پڑھی جائے کیا وہاں اچھی شاعری اور نثر فروغ پا سکتی ہے؟
جواب:کتاب کی ایک اپنی اہمیت ہے،لیکن یہ بات کہ جب ایک نئی چیزآتی ہے تو لوگوں کاشوق زیادہ اس طرف ہوجاتا ہے۔لیکن اس کایہ مطلب نہیں کہ کتاب ختم ہوگئی ہے۔کتاب آج بھی کمیونیکیشن کاایک موثر ذریعہ ہے اوریہ کبھی بھی ختم نہیں ہوگا۔بلکہ لوگوں میں زیادہ شوق پید اہوگا۔جس طرح خیال تھا کہ ٹیلی ویژن آنے سے فلم ختم ہوجائے گی ۔لیکن وہ ختم نہیں ہوئی بلکہ فلم کے شوق میں زیادہ اضافہ ہواہے۔
سوال:آپ کامطلب یہ ہے کہ اگر دوسرے میڈیم مضبوط ہوتے ہیں تواس کامثبت اثر کتاب پربھی پڑے گا؟
جواب:بالکل ،میں یہ ہی کہنا چاہتاہوں،جب دوسرے میڈیم مضبوط ہوں گے تو اس کاکتاب پرمثبت اثر ہوگا اورکتاب پڑھنے والوں میں اضافہ ہوگا۔پنجابی زبان اگر ترقی کرے گی تو اردو زبان کونقصان نہیں پہنچے گابلکہ اردو کوبھی فائدہ ہوگا۔اردو شاعری اورنثر میں پنجابی کے بے شما رلفظ آئیں گے ان کااستعمال ہوگااوروہ اچھا ہوگا۔لوگوں کی سمجھ میں اضافہ ہوگا۔
سوال: آپ ادب برائے ادب یا ادب برائے زندگی میں سے کس کے قائل ہیں؟
جواب:ادب برائے زندگی کے،ظاہر ہے ادب آپ کس کے لئے لکھتے ہیں۔۔۔؟ جولوگوں کے لئے لکھا جائے اورکوشش ہو اورخواہش ہو کہ لوگ پڑھیں اس کو،وہ ادب برائے زندگی ہے۔ادب برائے ادب کاکوئی وجود نہیں ہے۔کوئی ہے ہی نہیں یہ ایسے ہی ایک سلوگن ہے۔ادب برائے ادب کوئی چیز نہیں ہے۔
سوال:لیکن منوبھائی ادب برائے ادب کا ایک سکول آٖ ف تھاٹ تو موجود ہے؟
جواب : سکول آف تھاٹ موجود ہے لیکن وہ ری ایکشن میں آیا،جنہوں نے ادب برائے زندگی کہاوہ ترقی پسند لوگ تھے،جب انہوں نے یہ کہا کہ ادب برائے زندگی تو اس کاردعمل آیا کہ ادب برائے ادب ہوناچاہئے۔یہ بھی صحیح ہے کہ ادب ہوناچاہئے صرف پروپیگنڈا نہیں ہوناچاہئے۔سلوگن نہیں ہوناچاہئے، اس میں ایک پیغام ہوناچاہئے لوگوں کے لئے ۔مثلا تب یہ کہا جاتا تھا کہ ترقی پسند منٹو جیسے افسانہ نگارکوپروگریسو رائٹر نہیں سمجھتے تھے لیکن منٹو چونکہ انسان کی بات کرتا ہے، انسانیت کی بات کرتاہے اس لئے میرے خیال میں وہ بھی ایک پروگریسو رائٹر ہے اوررہے گا۔انتظارحسین بھی پروگریسو رائٹر ہیں اگرچہ ان کاشمار روائتی ادیبوں میں ہوتاہے،لیکن میرے خیال میں انتظار حسین بھی ترقی پسند رائٹر ہیں،کیونکہ وہ پروگریس کی بات کرتے ہیں،انسان کی بات کرتے ہیں،انسانی تمناوں کی اورخواہشوں کی بات کرتے ہیں تووہ ایک پروگریسو رائٹر ہیں۔
سوال:ہمارے یہاں مشاعروں ،ادبی محفلوں کاایک بڑاکلچر تھا ،لیکن اب وہ ختم ہوتا جارہاہے،سوسائٹی میں اب وہ سرگرمی نظر نہیں آتی ،اگر ہے بھی توبہت محدود ادبی حلقوں کی حدتک؟
جواب:ہاں ،درمیان میں ایک ایسا دور بھی آتا ہے،لیکن یہ ضروری نہیں ہوتا۔کل مشاعروں کاسلسلہ پھر سے شروع ہوسکتاہے۔یہ نہیں ہوتا کہ وہ ختم ہوگیاہے۔بحران آتے ہیں لیکن اس سے چیزیں ختم نہیں ہوجاتیں ۔
سوال:کیا الیکٹرانک میڈیا کی مشروم گروتھ سے پاکستان میں صحافتی اقدار کمپرومائز ہوئی ہیں۔ آپ اپنے تجربات کی روشنی میں موجودہ صحافت کو کہاں دیکھتے ہیں؟
جواب: پاکستانی صحافت خود کوبہتر کرے گی،امپروو کرے گی۔یہ ہرمیڈیم کے ساتھ ہوتا ہے۔جب کوئی شروع ہوتا ہے توظاہر ہے اس کے پیچھے وہ ٹریننگ نہیں ہوتی، آہستہ آہستہ وہ آن جاب حالات میں تربیت حاصل کرتے ہیں۔یقینی طور پراس میں کچھ کمزوریاں ہیں۔کچھ ٹریننگ کی کمی ہے،کچھ ذمہ داری کی کمی ہے اورکچھ اس میں ضابطہ اخلاق کابھی خیال نہیں کیاجاتاوہ ہوناچاہئے۔وقت کے ساتھ ساتھ یقینی طور پریہ ہوگا۔بہتر لوگ آئیں گے،خاص طور پرجو مجھے امید اور توقع ہے خواتین صحافت میں زیادہ دلچسپی لیں گی ۔جب وہ دلچسپی لیں گی تومیرے خیال میں اس میں سلیقہ بہتر ہوگا۔اس میں سلوک بھی بہترہوگا اورکرپشن بھی کم ہوگی۔
سوال: میں اس سے یہ مطلب بھی لے رہاہوں کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ میڈیا میں مردوں سے زیادہ خواتین ذمہ دار ہیں،اورآپ کوخواتین سے زیادہ امیدیں ہیں؟
جواب: آف کورس ،کیوں نہیں۔وہ مردوں کی طرح اس طرح کرپشن نہیں کرتیں۔کرتی ہوں گی مگر اس طرح نہیں جو حالت ہم نے بنالی ہے۔اس لئے مجھے یہ دیکھ کرخوشی ہوتی ہے کہ جہاں بھی میڈیا کی تعلیم دی جارہی ہے وہاں خواتین زیادہ تعداد میں آرہی ہیں۔لڑکوں سے زیادہ ہرجگہ اوریہ ہی میرے خیال میں ایک مبارک قدم ہے۔کیونکہ حالات کو عورت کی نگاہ سے بھی دیکھنا بہت ضروری ہے۔ ایک بہت بڑے ترقی پسند لیڈر نے کہا تھا اگر آپ حالات کوبدلناچاہتے ہیں توحالات کوعور ت کی نگاہ سے دیکھیں۔عور ت کی نگاہ سے دیکھنا بہت اہم ہوتا ہے،کیونکہ عورت کی نگاہ سے دیکھنے اورمرد کی نگاہ سے دیکھنے میں فرق ہے۔مرد کے لئے ہفتہ ہوتا ہے اورعور ت کے لئے سات دن،مرد کے لئے مہینہ ہوتا ہے عورت کے لئے تیس دن،مرد کے لئے سال ہے اورعورت کے لئے بارہ ماہ اوروہ ایک ایک چیز کاحساب رکھتی ہے۔یہاں تک کہ پیٹ میں پلنے والے بچوں کے دنوں کابھی حساب رکھتی ہے۔اس کے لئے دونوں موسموں کے کپڑے تیار کرتی ہے یہ مرد نہیں کرسکتا۔کسی بھی ملک میں سوشل لائف کاجب امتحان ہوتاہے تودیکھا جاتاہے اس معاشرے میں بچوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتاہے۔اس معاشرے میں عورتوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتاہے۔یہ کمزور صنف کے لوگ ہوتے ہیں،ایک توبے زبان ہوتے ہیں۔عورتیں ہیں ان کے پاس کوئی اختیارنہیں ہوتا،توہم جو اختیارات والے لوگ ہیں مردانہ سوسائٹی، یہ عورتوں کے ساتھ کیاسلوک کرتے ہیں۔یہ دیکھا جاتا ہے اسی سے پتہ چلتا ہے کہ اس معاشرے کاکلچرل لیول کیاہے۔
سوال:آپ بتا رہے ہیں کہ خواتین چیزوں کوزیادہ باریک بینی سے دیکھتی ہیں۔لیکن ہماری سوسائٹی میں خواتین کوایک عرصہ تک نظر انداز کیاجاتا رہاہے،آپ کے خیال میں ہماری پسماندگی یاپیچھے رہ جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے؟
جواب:بالکل ،مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے عورت کوجسم سمجھ لیاہے ،لیکن عورت نے پچھلے بیس تیس سالوں میں مختلف شعبوں میں ٹاپ پوزیشنیں لے کربتایا ہے کہ وہ بھی دماغ رکھتی ہیں اوراپنا کردار اداکرسکتی ہیں۔آج عورت زندگی کے ہرشعبے میں حصہ لے رہی ہے،فائٹنگ پائلٹ خواتین ہیں،فوج میں بڑی تعداد میں خواتین آئی ہیں۔زراعت ،ایگریکلچر،انڈسٹری ،مینجمنٹ ہرشعبے میں کام کررہی ہیں اورثابت کررہی ہیں کہ وہ بہتر منیجر ہیں۔ان کاسلیقہ بہترہے۔
سوال:منوبھائی،بالکل درست کہا آپ نے۔یہ بتائیے پاکستانی قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے۔ جس کے اثرات ہر شعبہ زندگی پر پڑے ہیں۔ کیا شعر وادب بھی اس سے متاثر ہوا ہے؟
جواب:ادب پراس طرح تواثرات نہیں ہوئے جس طرح منٹوکے زمانے میں ہوئے تھے۔مثلا ہم دہشت گردی کی باتیں کرتے ہیں ،لیکن یہاں پردودن پہلے لاہور ہائیکورٹ کے باہرباپ اوربھائیوں نے اپنی بہن کوجوحاملہ تھی۔اس کے سرپراینٹیں مارکراسے ماردیا۔یہ وحشت ہے۔وحشت گردی ،دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے۔یہ وحشی پن ہے کہ آپ اپنی بہن کوقتل کردیں اس لئے کہ اس نے اپنی مرضی کی شادی کرلی۔آپ اپنی بیٹی کوبیٹی نہیں سمجھتے،بہن کوبہن نہیں سمجھتے بلکہ اپنی ملکیت سمجھتے ہیں۔عرب ملک میں ایک شہزادی کوقتل کیاگیاتھا،اس کاسرکاٹا گیا تھا کیونکہ اس نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی۔توایک عرب لڑکی نے اس پرنظم کہی تھی۔مجھے وہ نظم تو یاد نہیں اس کاایک آخری مصرعہ یاد ہے وہ تھا کہ بادشاہ کویہ خطرہ تھاکہ جوعورت اپنے جسم کواپنا جسم سمجھتی ہے،کل اپنے تیل کوبھی اپنا تیل سمجھے گی۔اصل بات یہ ہے کہ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ یہ آج اپنی مرضی کررہی ہے تو کل ہماری مرضی پرنہیں چلے گی دخل دے گی اس میں کہ بھائی جان یہ آپ غلط کام کررہے ہیں۔تویہ ہم برداشت نہیں کرتے کہ ایک لڑکی چاہے بہن ہویابیٹی ہو،ہمارے جونظریات ہیں اس کے خلاف بات کرے۔
سوال: آپ نے ہمیشہ قلم اور فکر کی حرمت کو قائم رکھا‘ اس سفر میں کون سی اقدار مشعل راہ رہیں اور اس راہ میں آنے والی مشکلات کا مقابلہ کیسے کیا؟
جواب:مشکلات یہ ہی ہوتی ہیں کہ آپ مشکل سے گزارہ کرتے ہیں۔اس سے بڑی مشکلات اورکوئی نہیں ہوتیں۔استادوں نے کہا تھا کہ کبھی اپنے منہ سے بڑانوالہ اپنے منہ میں نہ ڈالنا۔توہم نے ساری زندگی اپنے منہ سے بڑانوالہ ،نہیں ڈالااورخواب بھی نہیں دیکھا ،خواہش بھی نہیں کی۔یہ قربانی تونہیں ہے،لیکن استادوں نے جوسلیقہ بتایا تھا ہم نے اس پرعمل کیااورکرناچاہئے اس پرافسوس نہیں ہوناچاہئے۔میں اپنے آپ کوکامیاب سمجھتاہوں میں نے اتناعرصہ کالم لکھے ہیں،ڈرامے بھی لکھے ہیں اورسب کوپذیرائی ملی۔اگرمجھے پرائڈ آف پرفارمنس ملا ہے تومجھے اس پرخوشی ہے،اطمینان ہے۔میں مایوس نہیں ہوں کیونکہ میرے خیال میں لوگ اس طرح کریں اوراپنی خواہشیں زیادہ نہ کریں۔
سوال:لیکن منو بھائی جولوگ خواہشوں کی گٹھری اپنے سروں پراٹھائے پھرتے ہیں۔ان کی خواہش ہوتی ہے زیادہ سے زیادہ دولت اوراختیارات اپنے ہاتھ میں اکٹھے کرلیں،ان کے بارے میں آپ کیاکہیں گے؟
جواب: بات یہ ہے کہ ہمارے جوحکمران ہوتے ہیںیاہمارے جو ارباب اختیارہیں۔ہماری مراعات تومان لیتے ہیں لیکن ہمارے حقوق نہیں مانتے۔ اگرمیں حق مانگوں گااورمجھے مانگنا چاہئے تووہ آپ کے لئے بھی ہوگا،آپ کے بچوں کے لئے بھی ہوگا۔سب کے لئے ہوگا۔لیکن میں جومراعات مانگوں گا وہ صرف میرے لئے ہیں۔کہ میں جرنلسٹ ہوں مجھے پلاٹ دیا جائے۔یہ نہیں ہے کہ جوبے گھر ہیں انھیں پلاٹ دیا جائے۔تمام مستحق بچوں کوکالج میں داخلہ دیا جائے۔میں جرنلسٹ ہوں میرے بچے کوداخلہ دیاجائے۔میں نے یہ کبھی نہیں کیا نہ اس کی خواہش کی ہے۔ میرے بچوں نے خود جاکر امتحان دیے ہیں خود داخلہ لیا ہے۔میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ میں آ پ کے لئے نہیں جاؤں گا۔میں گیاہوں لوگوں کے لئے ان کے کام کروائے ہیں،میرے پاس کچھ غریب لوگ آئے کہا کہ میری بچی کاداخلہ نہیں ہورہا،میں ان کے پاس گیااوران سے کہا کہ آپ نے کسی وزیرکے کہنے پرداخلہ کیاہوگا،سیکرٹری کے کہنے پرداخلہ کیا ہوگا۔خداکے واسطے بھی ایک کام کردیں تولوگ کردیتے ہیں۔لیکن میں نے اپنے لئے کبھی کچھ نہیں مانگا۔
سوال: انسانی معاشرے میں آزادی‘ مساوات اور معاشی خوشحالی کی جدوجہد میں ہمارے ادیب کا کیا کردار رہا ہے؟ کیا ہمارا ادب صرف سماجی رویوں کی اصلاح تک محدود رہا ہے یا انسان کے سیاسی اور معاشی مسائل کا ادراک بھی رکھتا ہے؟
جواب:ادیب کوتوادیب ہی رہنا چاہئے ،ادب کی خدمت کرنی چاہئے اورمطالعہ کرناچاہئے۔ لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہئے نئے انداز میں،نئے اسلوب سے اورنئے افق دریافت کرنے چاہئے۔لیکن ادیب کوادیب ہی رہناچاہئے اس سے زیادہ کوئی خواہش نہیں ہونی چاہئے۔
سوال:لیکن کیاآپ سمجھتے ہیں کہ ہماراجوادیب ہے وہ ہمارے سیاسی ،معاشی اورسماجی مسائل سے واقف بھی ہے،انکاادراک رکھتاہے؟
جواب: ہمارے جوادیب سیاسی ومعاشی مسائل کاادراک رکھتے ہیں ان کا لوگوں کومعلوم ہے،ادیب یاہوتاہے یانہیں ہوتا۔چھوٹا یابڑانہیں ہوتا۔اسی طرح جرنلسٹ یا ہوتاہے یانہیں ہوتا،چھوٹابڑا نہیں ہوتا۔
سوال:منوبھائی یہ بتائیے آپ کس شاعریاادیب سے متاثرہیں؟
جواب:میں فیض احمد فیض ،منٹو ،صوفی تبسم سے متاثر تھا۔پھراستادوں میں کرار حسین تھے ،اخترحمید خان صاحب تھے۔ان لوگوں نے کنٹری بیوٹ کیا ہے۔میں نے ایک مرتبہ اخترحمید خان سے پوچھا آپ نے اورنگی کایہ جوپراجیکٹ کیاہے،یہ جوگندگی تھی یہاں اس کودورکیاہے۔یہ آپ کابہت بڑاکارنامہ ہے اگرایک فقرے میں بات کرنی ہوتوآ پ کی کنٹری بیوشن کیا ہے؟اخترحمید خان نے کہا میں نے گندگی کوبدبودی ہے۔پہلے لوگ گندگی میں رہتے تھے انھیں بو نہیں آتی تھی۔اب جب گندگی پھیلے گی انھیں بوآئے گی۔اسی طرح ہمیں بھی کوشش کرنی چاہئے کہ ہم اس ملک میں اس معاشرے میں اپنے کام کی ایسی خوشبوچھوڑیں جب وہ خوشبو نہ ہوتولوگوں کوبدبو آئے۔
سوال: آپ عالمی ادب میں کس سے متاثر ہیں۔ اٹھارویں سے بیسویں صدی میں تخلیق شدہ روسی اور فرانسیسی ادب نے معاشرے پر کیا اثرات مرتب کئے؟
جواب:عالمی ادب میں توبہت سے لوگ ہیں،شکسپیئرسے میں متاثر ہوں، اس سے بڑا رائٹرکوئی نہیں ہے۔اسی طرح گارشیابہت بڑا شاعر تھاسپین کا،میں نے اس کی کچھ نظموں کاترجمہ بھی کیاہے۔ہمیں ،جوہماری معاشرت کے قریب لوگ ہیں ان کاادب بھی پڑھناچاہئے تھا،لیکن ہم چونکہ انگریزوں کے غلام تھے اس لئے ہم نے انگریزی تعلیم پرزیادہ توجہ دی ۔شیلے کوزیادہ پڑھا،شکسپیئر کوزیادہ پڑھا،میکسم گورکی کوزیادہ پڑھا۔ان بڑے ادیبوں کی تحریروں کے ان کے معاشروں میں اورعالمی سطح پربڑے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔انہوں نے بعدمیں آنیوالے ادیبوں کوبھی متاثرکیاہے۔لیکن بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے پڑوس میں پڑھناچاہئے تھا،عربی رائٹر کوپڑھناچاہئے تھا،سوچناچاہئے تھامحمود درویش کی جوسوچ ہے وہ ہماری سوچ سے کتنی مطابقت رکھتی ہے۔عراق کے شاعر تابانی کی جوسوچ ہے وہ ہماری سوچ سے کتنی مطابقت رکھتی ہے۔اس طرح ہماری سوچوں کے ذخیرے میں اضافہ ہوتا۔ہم صرف انگریزوں کے ذہنی طورپرغلام ہوکرنہ رہ جائیں۔
سوال:۔موجودہ نسلیں کمرشل ازم اور کنزیومربیسڈویلیوز میں پروان چڑھ رہی ہیں جوکہ مغرب سے اخذ شدہ ہیں۔ آپ اسے مشرقی و مغربی اقدار اور معاشرے کی ترقی و فلاح کے تناظر میں کیسے دیکھتے ہیں؟
جواب:یہ سب سرمایہ داری نظام کی منافع خوری کامعاملہ ہے۔وہ ظاہر ہے ادب میں بھی آیا ہے۔صحافت میں بھی آیا ہے،ہرشعبے میں آیا ہے۔
سوال:اس سے کیسے چھٹکارہ حاصل کرسکتے ہیں؟
جواب:واصف علی واصف سے میں نے ایک دفعہ کہا تھا،کہنے لگے کیاکریں ،میں نے کہا دعا کریں،کہنے لگے کس کے لئے میں نے کہا سب کے لئے،کہنے لگے ہاتھ اٹھائیں اورکہا اے خدا اسلام کومسلمانوں سے محفوظ رکھ۔اسی طرح ہم کہہ سکتے ہیں اے خدا پاکستان کونام نہادحب الوطنی سے محفوظ رکھ۔حب الوطنی کے نام پراس ملک سے جودشمنی ہورہی ہے وہ کوئی پاکستان کادشمن نہیں کرسکتا۔اسی طرح صحافت کوصحافیوں سے محفوظ رکھ۔ادب کوادیبوں سے محفوظ رکھ۔جونام نہاد لوگ ہیں ان سے محفوظ رہنا چاہئے۔
سوال:آپ نے صحافت کی اورادیبوں کی بات کی کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس وقت جو میڈیا ہے اس کاکوئی ضابطہ اخلاق ہوناچاہئے؟
جواب:اس چیزکی شکایت ہے ہمیں ،جوسینیئرصحافی ہیں وہ اس چیز کومحسوس کرتے ہیں کہ ہماری صحافت جوہے وہ بندرکے ہاتھ میں اُستراوالامعاملہ نہیں ہوناچاہئے۔ ایک سلوک سے تمیز سے اوربردباری سے کام لیناچاہئے۔اس لئے ایک ضابطہ اخلاق کی ضرور ت ہے کہ اس ضابطے سے تجاوز نہ کیا جائے۔یہ بڑا ضروری ہے۔لیکن ایک چیز ہے جوصحافت نے ترقی کی ہے اس سے معیارمتاثر ہوا ہے ۔آج پڑھنے والے زیادہ ہیں اس لئے پبلیکیشنز بھی زیادہ ہیں۔اخبارات کی تعداد بھی زیادہ ہے۔ لیکن اخبارات کی اشاعت زیادہ ہونے سے بہتر ہے کہ اس کا ایک معیار ہوناچاہئے۔سٹینڈرڈ بہت ضروری ہے۔
سوال:لیکن جہاں اخبارات کی اشاعت کہ زیادہ سے زیادہ بکے ،اورٹی وی چینلز کی ریٹنگ کی دوڑ لگی ہو،وہاں اخلاقیات پرکیسے عمل ہوگا؟
جواب:جی اس میں کمرشل ازم جوآگیاہے۔ریٹنگ کی دوڑ اس لئے ہے کہ اشتہارزیادہ مل سکیں ۔ یہ نہیں کہ ہمارے ریڈرز زیادہ ہوں۔اخبارچاہے بیشک کم چھپے لیکن اس میں اشتہار زیادہ سے زیادہ ہوں۔تویہ ساراکمرشل ازم ہے۔
سوال:کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس رجحان کوروکاجاسکتاہے ۔۔۔ ؟
جواب: یہ رکے گا،جب معاملہ بہت بڑھ جاتاہے تب رکتاہے۔یہ رکے گااس میں مثبت تبدیلی آئے گی۔
سوال:کیا ٹی وی چینلز کے آنے سے اخبارات کی اہمیت کم ہوئی ہے؟
جواب: یہ جو ٹی وی چینلز ہیں یہ تو شوبز ہیں۔یہ صحافت نہیں ہیں۔ شوبزاورجرنلزم میں فرق ہے۔
سوال:آپ چینلز کوشوبز سمجھتے ہیں،صحافت نہیں؟
جواب :ہاں،جس طرح فلم انڈسٹری ہے،ٹی وی انڈسٹری ہے اسی طرح یہ شوبز انڈسٹری ہے۔اگر یہ اپناسٹینڈرڈ نہیں بنائیں گے توان کاانجام بھی وہی ہوگا جوفلم انڈسٹری کاہواہے۔
سوال:اچھا یہ بتائیے اس وقت جوہمارے معاشی اورمعاشرتی مسائل ہیں قوم ان سے کیسے نجات حاصل کرسکتی ہے؟
جواب:ضرورت اس چیز کی ہے کہ پاکستان میں یاپاکستان جیسے ملکوں میں ایک ماسٹرپلان ہوناچاہئے جوبھی پارٹی حکومت میں آئے اس کواس ماسٹرپلان کاخیال رکھناچاہئے،اس کے مطابق کام کرناچاہئے۔ایجوکیشن،صحت،انڈسٹری کے معاملے میں ،مالیات کے معاملے میں ایک ماسٹر پلان ہوناچاہئے،جیسے کہ ہوتے ہیں اورجوبھی پارٹی حکومت میں آئے،کوئی بھی آجائے،وہ بھی اس سے انحراف نہ کرسکے۔وہ بھی ماسٹرپلان کے مطابق تعلیم اورصحت وغیرہ پراتنی ہی توجہ دے۔جیسا کہ اب جمہوریت کاایک تسلسل شروع ہوا ہے۔جمہوریت کاایک ماسٹر پلان تو ہے ذہن میں کہ جمہوریت ہو۔اسی طرح اورماسٹرپلان ہونے چاہئے ایجوکیشن بڑھنی چاہئے سوفیصد۔ایجوکیشن کامعیارہوناچاہئے۔ہمارے ملک میں ایجوکیشن مقابلے کی ہے تعاون کی نہیں،یہ ایجوکیشن کوآپریشن کی ہونی چاہئے جیسے جاپان میں ہے،کوریامیں ہے۔اس میں سب لوگ مل کرایک پرچہ حل کرتے ہیں یہ نہیں کہ ہرایک علیحدہ علیحدہ پرچہ حل کررہاہے کوئی فسٹ آرہا ہے کوئی تھرڈ آرہاہے۔اجتماعی طور پرپرچہ حل کرتے ہیں کیونکہ کل انہوں نے اکٹھے بیٹھ کرکسی بڑے ادارے میں کام کرناہے اورکوئی چیز بنانی ہے۔اس لئے ان میں کوآپریشن کاجذبہ آناچاہئے۔مل کرکام کرنے کاجذبہ پیداکرناچاہئے۔
سوال:منوبھائی آپ کسی ملک یاحکومتی ماڈل سے متاثر بھی ہیں؟اورسمجھتے ہیں کہ پاکستان میں بھی ویسا ہی نظام ہوناچاہئے؟
جواب:مختلف معاملات میں مختلف ملک اورماڈل ہیں،مثلاایجوکیشن کے معاملے میں ،میں جاپان سے متاثرہوں۔مجھے کچھ معاملات میں آسٹریلیا اچھا لگتاہے۔آسٹریلیا میں کسی بچے کانو سال کی عمرسے پہلے امتحان نہیں ہوسکتا۔یہ جرم ہے کہ نوسال سے کم عمر کے بچے کوکسی امتحان میں بٹھا دیں۔یہاں تین تین سال کے بچے کوسکول میں جاکر داخل کرادیتے ہیں۔انکی معصومیت ،ان کابچپن خراب کردیتے ہیں۔سکولوں نے پیسے کمانے ہوتے ہیں ایجوکیشن سکول نہیں ہوتے ایجوکیشن پلازے ہوتے ہیں۔یہ نہیں ہونے چاہئے ،ہیلتھ پلازے نہیں ہونے چاہئے۔تعلیم اورصحت فری ہونی چاہئے۔اس میں کوئی تجارت نہیں ہونی چاہئے۔
سوال:آپ کے خیال میں ہم کس چیزکو بہتر کرلیں تواپنے وطن پاکستان کوترقی دے سکتے ہیں،مشکلات سے نکل سکتے ہیں۔ہماراتعلیمی نظام ہے،سیاسی بلدیاتی ادارے ہیں یاانتخابی نظا م ہے،پہلی ترجیح کیا ہونی چاہئے؟
جواب:تعلیم ،اگرہم اپنے ایجوکیشن سسٹم کوٹھیک کرلیں توہم ترقی کرسکتے ہیں۔ ایک دوسرے سے تعاون کانظام ہوناچاہئے۔تیری ٹوپی ،میری چھتری، میری کتاب۔ہم بچوں کے ذہن میں ملکیت کاتصور ڈال رہے ہیں ۔ہونایہ چاہئے اچھی کتاب ،پیاری کتاب ،جہالت سے بچانے والی کتاب ۔
منوبھائی آپ کابہت بہت شکریہ ۔
منوبھائی:آپ کااورہلال میگزین کی پوری ٹیم کابہت شکریہ

стройка дома
отдых в ялте

یہ تحریر 98مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP