متفرقات

منبیر کور

پاکستان کی پہلی سکھ لیڈی ڈاکٹر بن کر ملک کی خدمت کرنا چاہتی ہوں میٹر ک کے امتحان میں شاندار کامیابی حاصل کرنے والی منبیر کور کے خیالات

 

اگر آپ عالمی میڈیا کی عینک لگا کر دیکھیں تو پاکستان میں آپ کو اقلیتوں کی جو تصویر دکھائی دے گی وہ کچھ زیادہ متاثر کن منظر نامہ لئے ہوئے نہیں ہو گی لیکن پنجاب کے شہر ننکانہ صاحب میں بسنے والی پندرہ سالہ سکھ لڑکی منبیر کور کا گھرانہ ایک اور ہی کہانی سنا رہا ہے۔ میٹرک کے حالیہ امتحان میں شاندار کامیابی حاصل کرنے والی اس سکھ بچی کے گھر میں ابھی تک مبارکباد دینے والوں کی آمد جاری ہے، اس سکھ گھرانے کی خوشیوں میں شریک ہونے والوں میں صرف مسیحی، سکھ اور ہندو مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ دنیا بھر میں اس بچی کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے،

 

ہمیں پاکستان میں کبھی بھی محرومی کا احساس نہیں ہوتا۔ ہمیں آگے بڑھنے کے مواقع میسر ہیں، میرے خاندان کے لڑکوں نے ترقی کر کے کافی نام بنایا ہے، میرے چاچو کیپٹن ہرچرن سنگھ پاکستانی فوج میں پہلے سکھ افسرہیں۔

 

مجھے ہمیشہ اس بات کی فکر رہی ہے کہ سکھ بچیاں کیوں آگے نہیں بڑھ رہیں، میرا خیال ہے کہ میری اس کامیابی نے ہمارے خاندان کی بچیوں کے لئے بھی کامیابیوں کی راہ ہموار کر دی ہے۔ اب ان میں بھی ترقی کرنے کا جذبہ پروان چڑھ رہا ہے اور وہ تعلیمی ترقی کے ذریعے پاکستان کی ترقی کے عمل میں مؤثر کردار ادا کر نے کی سوچ رکھتی ہیں۔

 

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور مسلم لیگی ایم پی اے رمیش سنگھ اروڑا سمیت پاکستان کے بہت سے سیاسی رہنماؤں نے اس سکھ بچی کی کامیابی پر مبارکباد کے پیغامات بھیج کر اس کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ پاکستان کی گوردوارہ پربندھک کمیٹی اور متروکہ وقف املاک نے تو اسے ایک لاکھ روپے کے انعام سے بھی نوازا ہے۔

 

ماہنامہ ہلال کے لئے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے منبیر کور نے بتایا کہ اسے بہت اچھا لگ رہا ہے کہ اس کی کامیابی پر سب لوگ خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ منبیر کور نے میٹرک تک شری گورو نانک دیو جی پبلک ہائی سکول میں تعلیم حاصل کی۔آج کل وہ اسی شہر میں واقع پنجاب کالج میں ایف ایس سی پری میڈیکل کے پہلے سال میں زیر تعلیم ہے۔ اسے سکالرشپ بھی ملا ہے، اس نے بیرونی دنیا سے ملنے والی مالی امداد کی پیشکشوں کو شکریے کے ساتھ قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

 

پاکستان میں سکھوں کی کل تعداد بیس ہزار کے قریب بیان کی جاتی ہے جو کُل آبادی کا تقریباً ایک فی صد بنتی ہے۔ ننکانہ صاحب سکھ مذہب کے بانی گورونانک کی جائے پیدائش ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے ۔ یہاں دو سو سے زائد سکھ فیملیز آباد ہیں۔ منبیر کور کے والد گیانی پریم سنگھ پریمی اسی شہر کے ایک گوردوارے میں ہیڈ گرنتھی ہیں اور سکھوں کی مذہبی رسومات کی ادائیگی کی نگرانی کرتے ہیں۔ان کی پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ منبیر ان کی سب سے بڑی بیٹی ہیں۔ ہم نے منبیر کور سے پوچھا کہ یہ کامیابی کیسے ملی تو اس کا جواب کچھ اس طرح سے تھا:

 

ہم سب بہن بھائی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، تیرہ سو بچوں کو تعلیم دینے والے میرے سکول میں تین سو سے زائد سکھ بچے بھی پڑھتے تھے۔ میرا دل چاہتا تھا کہ میں ان سب کے لئے رول ماڈل بنوں، میں نے اپنی طرف سے بہت محنت کی تھی۔ شاید مجھے اسی محنت کا صلہ ملا ہے کہ میں نے میٹرک کے امتحان میں گیارہ سو نمبروں میں سے ایک ہزار پینتیس نمبرحاصل کئے جو کہ پاکستان کی تاریخ میں اقلیتی برادری میں ایک شاندار ریکارڈ ہے۔

 

س: پاکستان میں اقلیتی برادری کے فرد کے طور پر رہتے ہوئے آپ کو محرومی کا احساس نہیں ہوتا؟

ج: ہمیں پاکستان میں کبھی بھی محرومی کا احساس نہیں ہوتا۔ ہمیں آگے بڑھنے کے مواقع میسر ہیں، میرے خاندان کے لڑکوں نے ترقی کر کے کافی نام بنایا ہے، میرے چاچو کیپٹن ہرچرن سنگھ پاکستانی فوج میں پہلے سکھ افسرہیں۔ ایک دوسرا سکھ نوجوان امر جیت سنگھ پاکستان رینجرز میں ہے اور واہگہ پر ڈیوٹی دیتا ہے، ایک کزن گلاب سنگھ پنجاب پولیس میں بطور ٹریفک وارڈن فرائض سرانجام دے رہا ہے۔ میرے ایک رشتے دار گورچرن سنگھ مائیکروبیالوجی میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں جبکہ ایک دوسرا رشتے دار کلیان سنگھ گوجرانوالہ کالج میں پڑھاتا ہے اس کے علاوہ نہیندر سنگھ موٹروے پولیس میں اور ڈاکٹر من پال سنگھ میو ہسپتال میں چائلڈ سپیشلسٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ لیکن سکھ نوجوانوں کی ان کامیابیوں کے باوجود مجھے ہمیشہ اس بات کی فکر رہی ہے کہ سکھ بچیاں کیوں آگے نہیں بڑھ رہیں، میرا خیال ہے کہ میری اس کامیابی نے ہمارے خاندان کی بچیوں کے لئے بھی کامیابیوں کی راہ ہموار کر دی ہے۔ اب ان میں بھی ترقی کرنے کا جذبہ پروان چڑھ رہا ہے اور وہ تعلیمی ترقی کے ذریعے پاکستان کی ترقی کے عمل میں مؤثر کردار ادا کر نے کی سوچ رکھتی ہیں۔

 

پاکستان میرا ملک ہے۔ مجھے پاکستان بہت اچھا لگتا ہے، کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں ہے۔ جب گزشتہ سال پشاور سکول والا واقعہ ہوا تھا تو ہم سب سہم گئے تھے اور ہمیں بہت ڈر لگتا تھا کہ دہشت گرد کہیں ہمیں ہی نقصان نہ پہنچا دیں۔لیکن اب پاکستانی فوج کی کوششوں اور ضرب عضب کی کامیابی کے بعد حالات بہت بہتر ہو گئے ہیں۔ اقلیتی برادری کے بچے بھی اپنے آپ کو زیادہ محفوظ خیال کرنے لگے ہیں۔

 

س: آپ کے پڑھنے کی روٹین کیاتھی؟

ج میں صبح اُٹھ کر پہلے عبادت کرتی تھی پھر تیار ہو کر سکول جاتی تھی، واپس آکر تھوڑی دیر آرام کرکے پھر پڑھنا شروع کر دیتی تھی۔ مجھے کامیاب ہونے کی لگن تھی اس لئے مجھے پڑھنے میں مزہ آتا تھا۔میں دن کا کافی حصہ پڑھنے میں گزار دیتی تھی۔

 

س: بڑے ہو کر کیا بننے کا ارادہ ہے؟

ج: ہم بہت امیر لوگ نہیں ہیں، لیکن میری خواہش ہے کہ میں بڑی ہو کر ڈاکٹر بنوں اور غریب لوگوں کی خدمت کروں۔ اسی لئے میں نے پری میڈیکل میں داخلہ لیا ہے، مجھے یقین ہے کہ میری یہ خواہش ضرور پوری ہوگی۔

 

س: کیا آپ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتی ہیں؟

ج: مجھے شاعری کرنا اور گیت گانا بہت پسند ہے، میں گوردوارے جا کر اکثر کیترن سیوا(مذہبی گیت) گاتی ہوں، میری کیترن سیوا کی ریکارڈنگز انٹر نیٹ پر بھی موجود ہیں،

 

س: گلوکاروں میں کون کون پسند ہیں؟

ج: مجھے نورجہاں، مہدی حسن اور نصرت فتح علی خان بہت پسند ہیں۔

 

س: ایک اقلیتی مذہب سے تعلق رکھنے والی لڑکی کے طور پر پاکستان میں رہنا کیسا لگتا ہے؟

ج: پاکستان میرا ملک ہے۔ مجھے پاکستان بہت اچھا لگتا ہے، کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں ہے۔ جب گزشتہ سال پشاور سکول والا واقعہ ہوا تھا تو ہم سب سہم گئے تھے اور ہمیں بہت ڈر لگتا تھا کہ دہشت گرد کہیں ہمیں ہی نقصان نہ پہنچا دیں۔لیکن اب پاکستانی فوج کی کوششوں اور ضرب عضب کی کامیابی کے بعد حالات بہت بہتر ہو گئے ہیں۔ اقلیتی برادری کے بچے بھی اپنے آپ کو زیادہ محفوظ خیال کرنے لگے ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 41مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP