قومی و بین الاقوامی ایشوز

مقبوضہ کشمیر میں قبرستان کی سی خاموشی ہے 

نام نہاد انسانیت پسند اپنی خاموشی کب توڑیں گے؟
سری نگر کے جہانگیر چوک سے شوپیاں کے میدانوں میں یہاں وہاں بکھرے گائوں دیہاتوں تک، موت کا سا سناٹا، قبرستان کی سی خاموشی تھی، سڑکیں اجاڑ پڑی تھیں اور رہائشی علاقوں کے مکین مارے خوف کے اپنے گھروں کی کھڑکیوں کے کِواڑ بھی بند کئے بیٹھے تھے۔سب کسی انہونی کے ہو جانے پر حیران و پریشان تھے۔ مگر داغ دل کہتے بھی تو کس سے؟ مقبوضہ کشمیر کو قابض حکومت نے ایک قید خانے کے پنجرے کی طرح بنا رکھا ہے جہاں پرندوں کے پھڑپھڑانے کی سزا پنجرے کی سلاخوں سے ٹکرا ٹکرا کر زخمی ہوجانا ہے-
یہ جو کچھ آپ نے ابھی پڑھا، یہ میری انشا پردازی کا شاہکار ہے نہ کسی غمزدہ فلم کا سکرپٹ ، یہ نہ کسی ڈرامے کے ڈائیلاگ ہیں اور نہ یہ کسی غمناک ناول سے اقتباس ہے۔ یہ مقبوضہ کشمیر کی حقیقت ہے، یہ مقبوضہ وادی کے آج کا سچ ہے جسے کسی اور نے نہیں بلکہ چار بھارتی سماجی کارکنوں نے بیان کیا ہے- 
بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی بھارتی آئین میں جداگانہ حیثیت کے آرٹیکل370 اور35Aکو ختم کیا۔ یوں کشمیریوں کی زمین، وسائل اور ان کی زندگیوں پر قابض ہونے کے نئے دروازے کھول دیئے گئے، بھارت کو خوب اندازہ تھا کہ کشمیری ذہنی طور پر ایک بیداراور باشعور قوم ہے، وہ بھارتی اقدام پر واہ واہ نہیں بلکہ واویلا مچا دیں گے۔ مودی حکومت نے آئینی اقدام اٹھانے سے پہلے ہی، پہلے سے مقبوضہ علاقے یعنی جموں و کشمیر پر غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کردیا، غیر ملکی سیاحوں کو مقبوضہ علاقے سے نکالا گیا اور بھارتی شہریوں کو بھی جلد کشمیر چھوڑنے کی ہدایت کی۔کشمیریوں کو بس سانس لینے کی آزادی دی گئی باقی تمام آزادی سلب کرلی گئی۔
بھارتی میڈیا دنیا کو بتانے لگا کہ آئینی حیثیت کی تبدیلی پر کشمیری خوشی سے شادیانے بجا رہے ہیں، جب مودی سرکار دنیا کو رائزنگ انڈیا کے ترانے سنارہی تھی اور برکھا دت جیسی دوغلی بھارتی صحافی بھی پر امن خوشحال کشمیر کے گن گا رہی تھی تب ''ہر فرعون را موسی''کی مانند چار بھارتی سماجی کارکن اٹھے اور انہوں نے مودی کی لیپا پوتی کا پردہ چاک کیا- 
یہ ''کشمیر کیجڈ'' یعنی''سلاخوں میں قید کشمیر''  نامی اک رپورٹ تھی جس نے دنیا کو بھارتی جمہوریہ کا آدم خور چہرہ دکھایا، یہ بیلجیئم نژاد بھارتی معیشت دان جین ڈریز ،آل انڈیا ڈیموکریٹ ویمن ایسوسی ایشن کی مومینہ ملا،کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی کویتا کرشنان اور سماجی کارکن ومل بھائی پر مشتمل فیکٹ فائنڈنگ مشن تھا جس نے 9 سے 13اگست تک کرفیو کے دوران مقبوضہ کشمیر کے سری نگر سے دور دراز گائوں دیہاتوں تک کا دورہ کیا، یہ چار بھارتی سماجی ایکٹوسٹ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد مقبوضہ کشمیر کے سیکڑوں افراد سے ملے، کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ اس فیکٹ فائنڈنگ کمیشن نے کیا نتیجہ نکالا؟ یہ چاروں افراد کہتے ہیں کہ''کشمیر میں گزارے 5  دنوں میں ہم کئی سو کشمیریوں سے ملے، ہم کشمیری مسلمانوں، پنڈتوں، تاجروں، طالب علموں، گھر بیٹھی عورتوں اور بچوں سے ملے مگر بھارت کی حمایت کرنے والا کوئی ایک شخص بھی نہیں ملا۔''
''کشمیر کیجڈ''کی رپورٹ کہتی ہے کہ بھارتی فورسز نے مظالم کی انتہا کر رکھی ہے یہ کشمیر دشمنی میں اس حد تک چلے گئے ہیں کہ دس سال سے کم عمر بچوں کو بھی گرفتار کررہے ہیں، اپنے گھر کے دروازے پر کھڑے کشمیری کو بھی پیلیٹ گن سے زخمی کررہے ہیں۔ وادی میں ہر جانب خوف کے مہیب سائے ہیں اور لوگ قابض بھارتی فوجیوں کے مظالم کے ڈر سے گھروں میں مقید ہیں۔  اس وقت مقبوضہ کشمیر ایک بہت بڑی اور دشوارترین جیل بن چکا ہے جہاں نہتے کشمیری گھروں میں محصور ہیں، بچے بھوک سے بے حال ہیں، وادی میں راشن، غذا اورادویات کی کمی ہے زندگی تنگ ہے پھربھی بھارتی استبداد کے سامنے کشمیری ڈٹ گئے ہیں- 
مودی حکومت نے خوب جعلی پینٹ کرنے کی کوشش کی کہ کشمیر میں حالات معمول پر ہیں مگر ''کشمیر کیجڈ''کی رپورٹ تو کچھ اور ہی احوال سناتی ہے، بتایا گیا کہ کرفیو اور لاک ڈائون سے کشمیریوں کو ڈرایا جارہا ہے، سری نگر ،کپواڑہ، بڈگام، پلواما،اننت ناگ، پامپور اور پونچھ میں ہزاروں قابض فوجی گشت کر رہے ہیں، علاقے میں کشمیری مکینوں سے زیادہ فورسز کے اہلکار موجود ہیں، کرفیو میں نرمی ہو تو گنے چنے افراد باہر نکلتے ہیں جو خوف کے مارے جلد گھروں میں چلے جاتے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کررہا ہے کہ مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ مسلسل بند ہے،کشمیری اخبارات کو چھپائی کے لئے کاغذ نہیں دیا جا رہا، بھارتی اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کو مخصوص علاقوں تک بھارتی فوج کی زیر نگرانی رپورٹنگ کی اجازت ہے۔
بھارت حالات سے اتنا ڈرا ہوا ہے کہ تمام حریت پسند رہنما تو مسلسل نظر بند ہیں ہی مگر بھارت نواز کشمیری رہنمائوں کو بھی نظر بندی کا سامنا ہے۔
کشمیر کیجڈ رپورٹ میں بیان کردہ حالات اصل مشکلات کا عشر عشیر بھی نہیں مگر ذرا سوچیں کہ ایسے زبان بندی، نظر بندی بلکہ یوں کہہ لیں کہ زندگی بندی کی اس گھٹن میں بھی آزادی کے دیوانے کشمیری حریت کا عَلم بلند کررہے ہیں، ہزاروں کشمیری جلوس نکال رہے ہیں، بھارتی جارحیت کے باوجود نہتے ہی اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
بین الاقوامی نشریاتی ادارے یہاں تک کہ خود بھارت کے آزاد اور غیرمتعصب صحافی اور سول سوسائٹی کے افراد چیخ چیخ کر دنیا کو بتارہے ہیں کہ ہزاروں کشمیری سڑکوں پر ہیں، ہزاروں جوان بھارتی فورسز نے گرفتار کر لئے ہیں، پیلیٹ گنز کی فائرنگ سے سیکڑوں کشمیری زخمی ہیں ، لاکھوں کشمیری شدید غم و غصے میں بھارت کے خلاف بھرے بیٹھے ہیں۔
جن پر اللہ کی زمین اور زندگی تنگ کی گئی وہ کشمیری تو حریت پسندی، حسینیت اور حق پرستی کی لاج رکھ رہے ہیں۔ مگر یہ نہتے کشمیری دنیا کے اجتماعی شعور کے لئے اک سوال اٹھارہے ہیں کہ آج کشمیر میں بندوق کی نوک پر قبرستان کی سی خاموشی ہے مگر نام نہاد انسانیت پسند اپنی خاموشی کب توڑیں گے؟


مضمون نگار نجی نیوز چینل میں ڈیفنس کارسپانڈنٹ، بلاگر اور کالم نگار ہیں، انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس امریکہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کی فیلو ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 0مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP