قومی و بین الاقوامی ایشوز

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا مقدمہ

کشمیر کا مسئلہ محض کشمیر کا مقدمہ نہیں ۔ایک طرف کشمیر کا حل کشمیری جدوجہد اور آزادی سے جڑا ہے تو دوسری طرف خطے کی سیاست سمیت عملاً پاک بھارت تعلقات میں بہتری کی کنجی بھی اسی سے جڑی ہوئی ہے ۔اس لئے کشمیر سے جڑے تمام فریقین کو اس مسئلے کو سیاسی تنہائی میں نہیں بلکہ ایک ایسے مسئلے کے طور پر دیکھنا چاہئے جو سب کی توجہ بھی چاہتا ہے اور مسئلے کا حل بھی۔اسی طرح کشمیریوں کی جدوجہد کو بھی ان کی داخلی سیاسی اور جمہوری جدوجہد کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہئے ۔اس جدوجہد آزادی کی لڑائی میں ایک بنیادی مسئلہ بدترین انسانی حقوق کی پامالی کا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے میں جہاں اور بہت سے عوامل کارفرما ہیں ان میں ایک مسئلہ انسانی حقوق کا بھی ہے ۔




 بھارت بنیادی طور پرطاقت کے زور پر کشمیر کا مسئلہ حل کرنا چاہتا ہے ۔لیکن اس طاقت کی لڑائی میں جس بڑے پیمانے پر بھارت کی ریاست انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کررہی ہے وہ واقعی عالمی دنیا کے سامنے توجہ طلب مسئلہ ہے۔ انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی کا مقدمہ محض کشمیری عوام یا پاکستان کا نہیں بلکہ انسانی حقوق سے جڑے عالمی مبصرین ، اور اداروں کا بھی ہے ۔کیونکہ ان کی نگرانی کا نظام تسلسل کے ساتھ وہ تمام بدترین اعدادوشمار پیش کررہا ہے جو عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لئے کافی ہیں ۔بھارت کی جانب سے ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں عورتوں، معصوم بچوں ، بچیوں اور بزرگوں کو بھی معاف نہیں کیا جارہا ۔ یہی وجہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی اور معروف بھارتی سیاست دان یشونت سنہا نے بھی بھارت کو خبردار کیا ہے کہ وہ طاقت کے استعمال سے گریز کرے اور مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرے۔ یشونت سنہا نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی سے بھارت کا چہرہ بھارت میں بھی اور عالمی دنیا میں بھی بدنما شکل اختیار کرتا جارہا ہے ۔
٢٠١٨کو کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے بدترین برس قرار دیا گیاہے بلکہ بدترین سے زیادہ خون ریزی پر مبنی پُر تشدد برس کہا گیا ہے ۔سیاسی پنڈتوں کے بقول اگر بھارت کا جارحانہ رویہ او رانسانی حقوق کی پامالی کا موجودہ طرز عمل جاری رہا تو پھر اس  امکان کو کسی بھی صورت مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ ٢٠١٩کا برس ٢٠١٨سے بھی بدتر ہوگا۔ جموں اینڈ کشمیر کولیشن سول سوسائٹی نامی تنظیم کے بقول ٢٠١٨میں کشمیری جدوجہد کرنے والے ٥٨٦ افراد کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔ان میں٣١معصوم بچے اوربچیاں بھی شامل ہیں ۔٨٠٠سے زیادہ واقعات میں کشیدگی پیدا ہوئی جو تاریخ میں سب سے زیادہ واقعات سمجھے جاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب بھارت کی طرف سے کشمیری جدوجہد کرنے والے افراد پر بدترین تشدد، ان کی نسل کشی پر خود بھارت میں موجود ہندو اور سکھ طبقے کی نئی نسل میں بھی کافی غصہ پایا جاتا ہے۔ دہلی ،ممبئی ،گجرات ،کلکتہ او رمدراس کی بہت سی بڑی درس گاہوں میں ہندو طلباء و طالبات نے اپنی ہی بھارتی حکومت کے خلاف کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مظاہرے کئے ہیں۔بھارت کے کئی معروف فن کار، اداکار اور کئی اہم شعبو ں کے بڑے نام بھی اپنی خاموشی کو توڑ کر ان مظالم پر آواز اٹھارہے ہیں ۔


بنیادی طور پر بی جے پی کی حکومت کے دور میں،جو ہندوتوا کی بنیاد پر سیاست بھارت میں مضبوط ہوئی ہے، اس کا ایک بڑا اثر ہمیں بھارت سمیت کشمیر کی سیاست میں بھی بالادست نظر آتا ہے ۔ اس برس٢٠١٩میں بھارت میں عام انتخابات ہیں اور ان انتخابات سے قبل پانچ ریاستی انتخابات میں حکمران جماعت بی جے پی کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔



بنیادی طور پر بی جے پی کی حکومت کے دور میں،جو ہندوتوا کی بنیاد پر سیاست بھارت میں مضبوط ہوئی ہے، اس کا ایک بڑا اثر ہمیں بھارت سمیت کشمیر کی سیاست میں بھی بالادست نظر آتا ہے ۔ اس برس٢٠١٩میں بھارت میں عام انتخابات ہیں اور ان انتخابات سے قبل پانچ ریاستی انتخابات میں حکمران جماعت بی جے پی کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس لئے ہمیں آگے کچھ عرصے میں بھار ت کی داخلی سطح کی سیاست میں ہندوتوا پر مبنی سیاست اور مسلم دشمنی سمیت کشمیر میں اور زیادہ طاقت اور نفرت کی سیاست کی بالادستی دیکھنے کو ملے گی ۔کیونکہ بی جے پی کی کوشش ہوگی کہ وہ اپنی انتہا پسند سیاست کی مدد سے بھارت کے ووٹرز پر اثرانداز ہو کر اپنی سیاسی بالادستی کو برقرا ررکھ سکے ۔اس تناظر میں بی جے پی کو ایسے کئی انتہا پسند طبقوں ،گروہوں او رجماعتوں کی حمایت حاصل ہے جو پاکستان ،مسلم دشمنی اور کشمیر میں پاکستان کی مداخلت کوجواز بنا کر پیش کرتا ہے ۔جنونی ہندو اس نکتہ نظر کو شدت سے پیش کریں گے او رکرتے رہے ہیں کہ کشمیر کی صورتحال میں جو خرابی بڑھ رہی ہے اس کی براہ راست ذمہ داری پاکستان پر عائد ہوتی ہے تاکہ وہ جنونی ہندوئوں کی توجہ حاصل کرسکیں ۔
مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت بھارت کی حکومت ہو یا ریاستی نظام اس میں کشمیر کے مسئلے پر سیاسی حکمت عملی کا شدید فقدان نظر آتا ہے ۔کیونکہ کسی بھی پالیسی فورم پر یہ بحث موجود نہیں کہ ہمیں کشمیر کا مسئلہ طاقت کے بجائے سیاسی بنیادوں پر حل کرنا چاہئے ۔ جو آوازیں بھارت میں مسئلہ کشمیر کے حل میں سیاسی بنیادوں پر موجود ہیں وہ اتنی طاقت ور نہیں کہ بھارت کی فیصلہ سازی میں کوئی بڑا کردار ادا کرسکیں ۔ اس میں خاص طو رپر بھارت کے میڈیا کا مجموعی کردار ہے جو اس رائے کو طاقت دیتا ہے کہ کشمیر کی جدوجہد آزادی نہیں بلکہ دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہے ۔اس بیانیے کو بنیاد بنا کر بھار ت پاکستان پر بھی براہ راست  الزام لگاتا ہے کہ جوکشمیر میں دہشت گردی ہے او را س کا مقصد بھارت کو غیر مستحکم کرنا ہے ۔حالانکہ یہ تسلیم کیا جانا چاہئے کہ کشمیر میں جو آزادی کی جدوجہد ہے وہ سیاسی بھی ہے او رمقامی بھی ۔کیونکہ کوئی بھی سیاسی جنگ داخلی مضبوطی اور مقامی لوگوں کی شمولیت کے بغیر نہیں لڑی جاسکتی ۔بھارت کا جو مقدمہ انسانی حقوق کی پامالی کی صورت میں سامنے موجود ہے اس کا سخت ردعمل ہمیں کشمیر میں موجود نئی نسل میں دیکھنے کو مل رہا ہے ۔برہان وانی کی شہادت کے بعد جس انداز میں کشمیر کی نئی نسل نے کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر بیدار کیا ہے وہ بہت اہمیت رکھتا ہے ۔ یہ ایک پرامن جدوجہد ہے او را س کے مقابلے میں ان کشمیریوں کا مقابلہ ایک مضبوط، بھارت کی، ریاست اور اس کے اسلحے کے وسائل سمیت لاکھوں بھارتی فوجیوں کی یلغار سے ہے ۔جبکہ دوسری طرف کشمیری نوجوانوں کا بڑا ہتھیار پتھر،غلیل اور ڈنڈے ہیں جو ظاہر کرتا ہے کہ اس جنگ کوپاکستان سمیت کسی بھی ریاست کی انتظامی یا عسکری حمایت حاصل نہیںبلکہ یہ سیاسی جدوجہد ہے ا ور اسے اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہئے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت کشمیری نوجوان نسل میں بھارتی طرز عمل، او رخاص طور پر انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں، پر سخت ردعمل پایا جاتا ہے ۔ نئی نسل سمجھتی ہے کہ ہماری پرانی نسل او رقیادت نے جو پرامن جدوجہد کی او رجو باربار عالمی دنیا کو جھنجھوڑا اس کا کوئی بڑا نتیجہ نہیں نکل سکا ۔ ان کے بقول ہمیں مزاحمت کی تحریک کو زیادہ شدت سے لڑنا ہوگا اور جوابی وار میں طاقت کے استعمال کو بھی وہ جائز سمجھتے ہیں ۔اگرچہ اب بھی کشمیری قیادت نئی نسل کا ہاتھ روکے ہوئے ہے او ران کو پرامن جدوجہد سے ہی جوڑے ہوئے ہے لیکن یہ کام کب تک چلے گا؟اس لئے بھارت کو یہ سوچنا ہوگا کہ اس کی جانب سے طاقت کا استعمال او رانسانی حقوق کی پامالی خود ان کے خلاف ہے اوراس کا جو ردعمل نئی نسل میں بڑھ رہا ہے اس سے بھارت کو خبردار رہنا چاہئے۔کیونکہ اگر واقعی وہاں مسلح سیاست کو طاقت دی گئی تو اس کا بھارت کو براہ راست فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہوگا ۔
اسی طرح کشمیر کی لڑائی میں جو حالیہ نئے پہلو ابھر کر سامنے آئے ہیں ان میں یہ پہلو بھی اہم ہے کہ کشمیر کی جدوجہد میں صرف نئی نسل ہی نہیں بلکہ اب بہت زیادہ پڑھے لکھے انجنیئر،ڈاکٹر اور دیگر پروفیشن کے لوگ اس آزادی کی جنگ میں شامل ہوگئے ہیں ۔ اس کی ایک بڑی وجہ موجودہ بھارتی پالیسیاں ہیں جن میں پر تشدد عنصر نمایاں ہے جو نوجوانوں کو خاموشی سے بیٹھنے کے بجائے جدوجہد پر مائل کرتا ہے ۔اس تحریک میں اب آپ کو نوجوان لڑکوں کے ساتھ ساتھ نوجوان پڑھی لکھی لڑکیاں بھی نظر آرہی ہیں ۔ نئی نسل کا ہیرو وانی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی تحریک میں شدت لاکر بھارت کو دفاعی حکمت عملی پر لاسکتے ہیں او ریہی اس وقت کشمیر میں ایک پاپولر سیاسی مزاج بن گیا ہے کہ ہمیں اپنی جدوجہد میں زیادہ شدت او ردباؤ کی سیاست کو ایک نئی سیاسی طاقت دینی ہوگی تاکہ اس جنگ کو کسی منطقی نتیجے پر پہنچایا جاسکے ۔
اب سوال یہ ہے کہ کشمیریوں کی اس جدوجہد میں پاکستان کیا کچھ کرسکتا ہے ۔ اول، ہمیں ہر سطح پر کشمیر کی آزادی کی پرامن حمایت کرنی چاہئے۔ دوئم، پاکستان کو اپنی سیاسی اور سفارتی محاذ پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم سمیت انسانی حقوق کی پامالی کے مقدمے کو زیادہ شواہد او رحقائق کے ساتھ پیش کرکے عالمی دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنا چاہئے ۔ سوئم، بھارت کو یہ باور کروانا ہوگا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کی طرف آئے او رطاقت کے استعمال کو مستردکرکے سیاسی بلوغت کا مظاہرہ پیش کرے ۔ چہارم، کشمیر کے مسئلہ پرسفارتی محاذ پر ہمیں اپنی سفارتی کوششوں کو زیادہ مؤثر انداز میں کام کو آگے بڑھاکر بھارت کو دفاعی حکمت عملی پر لانا ہوگا ۔ پنجم کشمیر یوں کی جدوجہد میں وہاں کی کشمیری قیادت کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھنا ہوگااو ران ہی کو فیصلے کی اصل طاقت دینے کی سیاست کو اہمیت دینی ہوگی ۔ششم ،اس احساس کی کشمیر کی قیادت سمیت عوام میں نفی کرنا ہوگی کہ پاکستان کشمیر کے مسئلے کے حل میں سنجیدہ نہیں بلکہ روائتی سیاست کررہا ہے ۔ہفتم، پاکستان او ربھارت کے درمیان مؤثر او ربامعنی مذاکرات ہی کشمیر کی صورتحال میں بھی تبدیلی لاسکتے ہیں۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ پیش قدمی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگی ۔ پاکستان سمیت بھارت کو بھی اپنی موجودہ پالیسی میں ٹکرائو اور طاقت سے گریز کرکے سیاسی حل کی طرف آنا ہوگا ۔ کیونکہ اس وقت پاکستان میں جو حکومت ہے وہ بھی اور فوجی قیادت دونوں بھارت سے بہتر تعلقات کے حامی ہیں ۔ کرتار پور راہداری کا پیغام اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان کا یہ کہنا کہ بھارت ایک قدم آگے بڑھے ہم دو قدم آگے بڑھیں گے اس کا بھارت کو بھی فائدہ اٹھانا چاہئے ۔وزیر اعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر کو خوب اجاگر کیاہے اور وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی بھی اس مسئلے کی شدت کو خوب اجاگر کررہے ہیں ۔ کیونکہ ایک بات طے ہے کہ اب تنازعات کو حل کرنے میں طاقت کا زمانہ بدلتا جارہا ہے اور اب پر تشدد انداز پر مبنی سیاست کی کوئی بھی حمایت نہیں کرے گا۔بھار ت کو سمجھنا چاہئے کہ اس کی جمہوریت،انسانی حقوق،قانون کی پاسداری اور انصاف پر مبنی حکمرانی کے سائے میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی ایسا داغ ہے جسے اسے دھونا چاہئے ۔اسی طرح عالمی سطح پر بھی بڑے طاقت ور ممالک کو بھی اپنے طرز عمل پر غور کرنا چاہئے کہ وہ کب تک کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کریں گے ۔ ان کا کردار مسئلہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر مذمت تک محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ عملی طور پر بھارت پر ایک بڑا دباؤ ڈالنا ہوگا کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پاسداری کرے اورپرامن سیاسی جدوجہد میں طاقت او رجنگ کے استعمال سے گریز کرکے سیاسی حل کی طرف پیش قدمی کرے ۔کشمیر کا سیاسی حل ہی خطے کے سیاسی، سماجی اور معاشی استحکام کی ضمانت ہے ۔


مضمون نگار ملک کے معروف تجزیہ نگار اور کالم نگار ہیں اور دہشت گردی ، جمہوریت سمیت پانچ اہم کتابوں کے مصنف او ر کئی اہم تھنک ٹینکس کے رکن ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 316مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP