قومی و بین الاقوامی ایشوز

مقبوضہ کشمیر  : برصغیر کی تقسیم کا نا مکمل ایجنڈا

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے وحشیانہ کارروائیوں کا سلسلہ پوری شدت سے جا ری ہے۔بلکہ گزشتہ سال بھارتی مظالم میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جس کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ صرف نومبر دوہزار اٹھارہ میں ٤٨ کشمیریوں نے جام شہادت نوش کیا جبکہ زخمی اور لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔دسمبر میں ان پُرتشدد کارروائیوں میں مزید شدت آ گئی، پاکستان نے ہر سطح پر کشمیریوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کی۔ جس کا غصہ بھارت سرحد ی حدود کی خلاف وزری کرکے نکالتا رہا۔




٢٠١٨ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی تعداد اور اس کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصانات گزشتہ ١٣سالوں کی مجموعی تعداد سے بھی زائد ہیں۔ جنگی صورتحال سے نمٹنے کی بہترین صلاحیت کی حامل پاک فوج نے بھارتی فوج کی سیز فائر کی خلاف ورزیوں پر بروقت جوابی کارروائی کرتے ہوئے شہری آبادی پر بلااشتعال فائرنگ کرنے والی بھارتی پوسٹوں کو نشانہ بنایا۔عسکری حکام کے مطابق ٢٠٠٣ سے ٢٠١٦ تک بھارتی فوج نے جنگ بندی معاہدے کی٢٠٠٧ مرتبہ خلاف ورزی کی۔ بھارتی فوج کی ٢٠١٥ میں جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیوں کے دوران ٣٩ شہری شہید اور١٤٢ شہری زخمی ہوئے۔٢٠١٦ میں بھارتی فوج کی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے دوران ٤٦ شہری شہید اور ١٥٠ شہری زخمی ہوئے۔٢٠١٧ اور ٢٠١٨ میں بھارتی فوج کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔
بھارتی فوج نے ٢٠١٧ میںجنگ بندی معاہدے کی١٨٨١ بار خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری آبادی پر بھاری ہتھیاروں سے بلااشتعال فائرنگ کی جس کے نتیجے میں٥٢ شہری شہید اور٢٥٤ زخمی ہوئے۔٢٠١٨ میں بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پرجنگ بندی کی٢٩٣٣مرتبہ خلاف ورزیاں کی گئیں جس کے نتیجے میں٥٥ شہری شہید اور٣٠٠ شہری زخمی ہوئے ہیں جن میں بچے اورخواتین بھی شامل ہیں۔لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر پاک فوج کے جوانوں نے ان تمام خلاف ورزیوں پر بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارتی فوج کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں بھارتی فوج کو بھر پور جانی اور مالی نقصان ہوا۔پاک فوج کے مطابق پاکستان پرامن ملک ہے، ہم جنگ نہیں چاہتے مگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو اس کا بھر پور جواب دینے کی صلاحیت اور اس کا حق رکھتے ہیں اور ضرورت پڑی تو اسے استعمال بھی کیا جائے گا۔
 ١٩ دسمبر٢٠١٨ کو مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے گورنر راج کی مدت پوری ہونے کے بعد صدر راج نافذ کر دیاگیا۔١٩٩٦کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ مقبوضہ علاقے میں صدراتی راج عمل میں آیا ۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال جون میں مقبوضہ کشمیرکی نام نہاد اسمبلی میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی اتحادی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے حکمران اتحاد سے علیحدگی اختیار کی تھی جس کے بعد کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی حکومت اسمبلی میں اکثریت کھو بیٹھی تھی اور ان کی حکومت ختم ہو گئی تھی جس کے بعد مقبوضہ علاقے میں گورنر راج لگ گیا تھا جس کی مدت چھ ماہ تھی۔گورنر راج کے دوران مقبوضہ کشمیر میںنام نہاد بلدیاتی انتخابات کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں ٧٣.٩٥ فیصد کشمیریوں نے بائیکاٹ کر کے بھارت اور دنیا بھر کو واشگاف انداز میں اپنا فیصلہ سنایا کہ وہ صرف اور صرف اپنا پیدائشی حق، حق خود رادیت چاہتے ہیں۔ میونسپل انتخابات کا ٹرن آؤٹ٢٧.٤ فیصد رہا، اتنا کم ٹرن آؤٹ وادی میں ١٩٥١ء سے اب تک کم ترین ریکارڈ ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ضلع بارہ مولا میں ایک امیدوار صرف ایک ووٹ لے کر کامیاب ہوا تھا۔


پانچ فروری '' یوم یک جہتی کشمیر'' کے موقع پر پاکستان ،آزاد کشمیر، مقبوضہ کشمیراوردنیا کے سبھی حصوں میں مقیم پاکستانی اس عزم کو دہراتے ہیں کہ وہ کشمیریوں کی سیاسی اور اخلاقی حمایت مسلسل جاری رکھیں گے اور اس مقصد کےحصول کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔



ان تمام حالات کے باوجود نہ معصوم کشمیریوں کے حوصلے پست ہو رہے ہیں اور نہ ہی ہندو برہمنی سامراج کے مظالم ۔بلکہ دنیا بھر میں پانچ فروری جو''یوم یکجہتی کشمیر'' کے طور پر منایا جاتا ہے، میں بھی پہلے سے زیادہ شدت آ گئی ہے۔کشمیرایشو کے بارے میں زیادہ بات ہونے لگی ہے، مگر عالمی خاموشی ہنوز قائم ہے۔ واضح رہے کہ پانچ فروری '' یوم یک جہتی کشمیر'' کے موقع پر پاکستان ،آزاد کشمیر، مقبوضہ کشمیراوردنیا کے سبھی حصوں میں مقیم پاکستانی اس عزم کو دہراتے ہیں کہ وہ کشمیریوں کی سیاسی اور اخلاقی حمایت مسلسل جاری رکھیں گے اور اس مقصد کے حصول کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ یاد رہے کہ پانچ فروری کا دن١٩٩٠ میں پہلی بار'' کشمیر ڈے ''کے طور پر منایا گیا۔ اس موقع پرپاکستان اور کشمیر کے عوام ریلیاں ، جلوس، جلسے منعقد کر کے ایک دوسرے سے اپنی جذباتی وابستگی اور    یک جہتی کا اظہارکرتے ہیں اور اس عہد کا اعادہ کیا جاتا ہے کہ اس دیرینہ مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے گا اور اس ضمن میںحکومت پاکستان ، عوام اور معاشرے کے سبھی طبقات اپنا اخلاقی اور سفارتی فریضہ پوری دیانتداری سے نبھائیں گے۔
جہاں ظلم ہوتا ہے وہاںمزاحمت بھی ہوتی ہے، جو خون کے آخری قطرے تک جاری رہتی ہے ۔لیکن یہ طویل اور صبر آزما جد و جہد کبھی سست پڑ جاتی ہے تو کبھی یوں لگتاہے کہ ایک چنگاری پورے گلستان میں آگ لگادے گی۔کشمیریوں کی بھارت کے خلاف جاری جدو جہد میں کئی نشیب و فراز آئے ۔کبھی تو ان کی عاقبت نا اندیش قیادت نے بھارتی حکمرانوں کی منافقانہ سیکولر از م کے ساتھ سودے بازی کر لی،تو کبھی پاکستان کے بعض حکمرانوں اورسیاست دانوں کے نیم دلانہ اور بزدلانہ رویّے اور بیانات نے عین اس وقت دھوکہ دیا جب لب بام تک پہنچنے میں دوچار ہاتھ رہ گئے تھے۔اس امر میں دو رائے نہیں کہ کشمیر بر عظیم کی تقسیم کا نا مکمل ایجنڈا ہے اور اس مسئلے کے منصفانہ حل تک اس خطے کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ برعظیم کی تقسیم کو ستر سال سے زائدہوچکے ہیں تاہم اتنے سالوں سے حل طلب مسئلہ کشمیر کی وجہ سے جہاں پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن کے قیام کو سنگین خطرات لاحق ہیں وہیں لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب بسنے والے کشمیری عوام کے مصائب و مشکلات میں بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔
خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں جس بدترین طریقے سے کشمیر ی عوام کے بنیادی حقوق پامال ہو رہے ہیں، اس پر پوری دنیا میں پھیلی ہوئی کشمیری قوم سراپا احتجاج ہے۔ تاہم نہ تو عالمی طاقتوں کے کان پر جُوں رینگتی ہے اور نہ ہی بھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی میں فرق آتا ہے۔اقوام متحدہ کا کردار سب پر واضح ہے کہ اگر کسی اسلامی ریاست سے وابستہ کسی غیر مسلم صوبے یا ریاست کو کوئی شکایت ہوتی ہے تو اس حوالے سے وہ ہر ممکن قدم اٹھاتی ہے کہ ا ن کواپنی ایک آزادانہ شناخت مل جائے تاہم اگر بات کشمیر یا فلسطین کی یا پھر میانمارکی ہو گی تو تمام عالمی طاقتیں خاموش تماشائی ہیں۔عدمِ تشدد کا سبق دینے والے بھارتی سیاست دان اور افواج ظالم درندوں کے سوا کچھ نہیں۔
 بھارت میں حقوق اورخواتین کے احترام کی بات کرنے والے کشمیری خواتین کے دکھ اور ان پرڈھائے جانے والے مظالم پر خاموش بیٹھے ہیں اور ان کو کھلی چھٹی ہے کہ جو کرنا ہے کر لو، ہم کچھ نہیں بولیں گے۔ دنیا بھر میںانسانی، بنیادی حقوق پر اور اسلامی معاشروں میں پائی جانے والی بیماریوں پر فلمیں بنانے والوں کو بھی کشمیر کے حقیقی مظالم نظر نہیں آتے کیونکہ ان پر ظلم کرنے والا کوئی مولوی یا مسلمان نہیں ہے بلکہ ہندو ہے جس کا کشمیر میں گھناؤنا کردار پوری بے ایمانی سے نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ افسوس ہوتا ہے ان لوگوں کی مجرمانہ خاموشی پر،ثنا خوانِ تقدیس ِآدم، کشمیر پر خاموش ہیں ۔ جب تک بھارت پر بین الاقوامی سطح پر معاشی پابندیوں کا دباؤ نہیں ڈالا جائے گا وہ خطے میں ایسی ہی ہٹ دھرمی دکھاتا رہے گا۔
بھارتی ظلم اورسفاکیت کے خلاف کشمیری عوام کی مزاحمت جاری ہے جبکہ ا س دوران کبھی کشمیری حریت پسندوں کو تختہ دارپر چڑھایا گیا اور کبھی پوری وادی ان کی قربانیوں کے خون سے لالہ زار بن گئی اور کبھی ان کو قید و بند اور جلاوطنی سے دوچار ہونا پڑا۔ جیسا کہ پہلے بھی کہا گیا کہ جہاں تک کشمیر کے حوالے سے عالمی طاقتوں کا تعلق ہے تو ان کی اولین ترجیح ہمیشہ سے بھارتی حکمران رہے ہیں۔ کشمیری عوام کبھی بھی کسی بھی، طاقت کے مفاد کے چوکھٹے میں فٹ نہیں بیٹھے۔ چنانچہ انہیں کسی بھی عالمی بلاک کی جانب سے حمایت حاصل نہیں ہو سکی اور نہ ہی کبھی ہونے کا امکان ہے۔  ان تمام نشیب و فراز کے باوجود ہر بار کشمیری عوام پہلے سے بھی زیادہ جوش اور جذبہ حریت سے سرشار ہو کر اُبھرتے ہیں کیونکہ ان کامسئلہ حقیقی اور صحیح ہے۔ان کو اپنی آزادی کے حصول کے لئے ایک طویل اور صبر آزما جدوجہد سے دوچار ہونا پڑا۔ تاریخ کا یہ سبق ہے کہ مسلسل مزاحمت بار آور ثابت ہوتی ہے اور حریت پسند آزادی کی صبح طلوع ہوتے ضرور دیکھتے ہیں۔واضح رہے کہ اگر افغانستان سے روس اور امریکہ، اور ویت نام سے امریکہ کو نکلنا پڑا تو کشمیر سے بھارت بھی نکلے گا اوراس کا بھی روس والا حا ل ہو گا۔ پاکستان کی اب تک آنے والی سیاسی اور فوجی قیادت کا کشمیر کے حوالے سے مؤقف واضح رہا ہے ۔مگر    کشمیر یوں کو صرف خالی پاکستان ہی نہیںبلکہ پورے عالمِ اسلام کے سیاسی اور اخلاقی تعاون کی ضرورت ہے ۔
  دوسری جانب پوری دنیا پر بھارتی مورکھوںکے تمام منافقانہ رویے بھی کھل کر سامنے آ چکے ہیں ،جنہیں مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ بھارت کی تمام حکومتیں بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کی عملی تصویر ہیں۔کشمیری عوام بھی بھارت کے دوغلے رویےّ کو پرکھ چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے اندر آزادی حاصل کرنے کا جذبہ زور پکڑتا جا رہا ہے اور اب دنیا کی کوئی بھی طاقت ان کی آزادی کے سفر کو روک نہیں سکتی اور وہ دن بھی دور نہیں جب بھارت کی بالادستی کا جنازہ کشمیری عوام کے ہاتھوں سے ہی نکلے گا۔ وہ دن کہ جس کا وعدہ کیا جاچکا ہے وہ دن ہم بھی دیکھیں گے کیونکہ وہ دن لوح محفوظ پر رقم ہے اور وہ دن ہے کشمیر کی آزادی کا دن۔


مضمون نگارصحافی،کالمسٹ ، فکشن رائٹراور شاعرہ ہیں، سماجی اور غیر سماجی موضوعات پرکئی قومی اخبارات اور ماھانہ مجلّوں کے لئے لکھتی ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 198مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP