قومی و بین الاقوامی ایشوز

مقبوضہ کشمیر، کروناوائرس کی وبا اوربھارتی فوج کے انسانیت کے خلاف جرائم

دنیا آج جس لاک ڈاؤن کاشکارہے مقبوضہ کشمیر کے عوام پچھلے سال 5 اگست سے اس سے بدتر لاک ڈاون اور کرفیو کے عذاب سے گزررہے ہیں۔ایک طرف بھارتی فوج کے مظالم ہیں اوردوسری طرف کروناوائرس نے انھیں خوف زدہ کیاہوا ہے۔دنیابھرمیں کروناوائرس کے شکارمریضوں کوطبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں،لیکن مقبوضہ کشمیر میں ایسابالکل نہیں ہے۔



کروناوائرس کاشکارلوگوں کے نہ ٹیسٹ کیے جارہے ہیں اورنہ انھیں کوئی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔خدشہ ہے کہ بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث مقبوضہ کشمیر میں کروناوائرس پھیل جائے گا۔بھارت بڑے ظالمانہ طریقے سے اس وباکوکشمیریوں کی نسل کشی کے لیے استعمال کررہاہے۔مقبوضہ کشمیر کے عوام بھوک اوروباسے مررہے ہیں،جواحتجاج کے لیے باہرنکلتے ہیں انھیں بھارتی فوج گولیوں کانشانہ بناتی ہے۔کشمیریوں کونہ کروناوائرس سے نجات مل رہی ہے اورنہ بھارتی فوج کے ظلم وستم سے۔یہاں کے رہنے والوں کے لیے پہلے بھارتی فوج ایک وبابنی ہوئی تھی اوپرسے کروناوائرس بھی آگیا۔عالمی ادارہ صحت نے کروناوائرس سے بچنے کے لیے جوگائیڈ لائن دی ہے بھارتی فوج اس کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔بہت سے گھروں میں فاقوں کی نوبت آپہنچی ہے۔روزگارختم ہوگیاہے۔شایدہی کوئی گھرہوجہاں صف ماتم نہ بچھی ہو۔عالمی برادری کومقبوضہ کشمیر کے رہنے والوں کوکروناوائرس اورانڈین آرمی سے بچانے کے لیے فوری ایکشن لیناہوگا۔اب تک کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں کروناوائرس کے دوسوکے قریب کیس سامنے آچکے ہیں،کئی افراد کروناکے باعث مارے جاچکے ہیں۔لیکن مودی سرکار نے نہ وہاں طبی آلات بھیجے اورنہ ہی میڈیکل سٹاف بھیجا۔سیکڑوں لوگ بے یارومددگارگھروں میں قید ہیں۔کئی این جی اوز اورغیرملکی اداروں نے مقبوضہ کشمیر میں امدادپہنچانے کی پیشکش کی ہے لیکن بھارت کسی کووہاں جانے کی اجازت نہیں دے رہا،ظاہرہے وہ ڈرتاہے کہ غیرجانب دار ادارے اورتنظیمیں مقبوضہ کشمیر جائیں گی تووہاں کی اصل صورتحال دنیا کے سامنے آجائے گی جس سے غاصب بھارت کی سبکی ہوگی۔اسی وجہ سے وادی میں فورجی انٹرنیٹ پراب بھی پابندی ہے اورکئی علاقوں میں انٹرنیٹ اورموبائل فون سروس بندہے۔انسانی حقوق کے لیے کام کرنیوالی چھ تنظیمیں کہہ چکی ہیں کہ کروناوائرس کامقابلہ کرنے کے لیے ہرفردکے حقوق کاخیال رکھاجائے اور5اگست 2019 کے بعدمقبوضہ کشمیر میں گرفتارتمام سیاسی قیدیوں،انسانی حقوق کے محافظوںاوران تمام افراد کورہاکیاجاناچاہیے۔لیکن بھارت کے کان پرجوں نہیں رینگ رہی ،وجہ اس کی یہ ہے کہ جب تک بھارت کواس بات کاڈر نہیں ہوگاکہ انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں پراس پرعالمی پابندیاں لگ سکتی ہیں وہ کشمیریوں کے قتل عام اورانسانی حقوق کی خلا ف ورزیوں سے بازنہیں آئے گا۔چند دن پہلے انسانی حقوق پرنظررکھنے والی امریکی تنظیم ایچ آرڈبلیونے مقبوضہ کشمیر میں کروناکی صورتحال جاننے کے لیے کرفیوکوختم کرنے کامطالبہ کیا۔ایک رپورٹ کے مطابق ایچ آرڈبلیونے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیاکہ کشمیرمیں انٹرنیٹ کی بندش کوفوری طورپربحال کیاجائے تاکہ وہاں کروناوائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال کادرست اندازہ لگایاجاسکے۔عالمی تنظیم انٹرنیٹ فائونڈیشن نے بھی بھارتی حکومت کوتیزانٹرنیٹ بحال کرنے کے لیے خط لکھالیکن سیکرٹری داخلہ نے ڈھٹائی کامظاہرہ کرتے ہوئے کہاکہ انٹرنیٹ بحال نہیں کیاجاسکتا۔چونکہ انٹرنیٹ کی رفتاربے حد سست ہے اس لیے کروناوائرس کے حوالے سے کیے جانے والے حفاظتی اقدامات اورطبی عملے کوبھی پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی میں مشکل پیش آرہی ہے۔ ڈاکٹرزآپس میں ویڈیوکانفرنس نہیں کرسکتے ہیں اورنہ دنیا میں کسی دوسرے ملک کے میڈیکل اسٹاف سے مشاورت کرسکتے ہیں۔کچھ اس سے زیادہ براحال تعلیمی نظام کاہے، مقبوضہ کشمیر میں کئی ماہ سے کرفیو جاری ہے۔تعلیمی ادارے بند ہیں ،جوکھلے تھے کروناوائر س کے بعد وہ بھی بند ہیں۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں نجی وسرکاری سکولوں میں طلبہ وطالبات کی تعداد15  لاکھ ہے۔پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن کے مطابق انہوں نے آن لائن کلاسز اورسلیبس ترتیب دیاہے لیکن انٹرنیٹ ہی میسر نہیں اورجہاںہے وہاں اس کی رفتاراتنی سست ہے کہ آن لائن کلاسز نہیں ہوسکتیں۔بھارتی وزیراعظم مودی زبانی جمع خرچ میں جوبھی دعوے کریں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ان کی پالیسیاں متعصبانہ ہیں۔ وہ مقبوضہ کشمیر پراپنے تسلط کومضبوط بنانے کی کوششیں کررہے ہیں وہ مقبوضہ کشمیر کواپنامفتوحہ علاقہ اوریہاں کے عوام کواپناغلام سمجھتے ہیں ۔ایک سماجی کارکن کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران دنیا بھرمیں واٹس ایپ کے ذریعے لاکھوں لوگوں کی مدد کی جارہی ہے لیکن مقبوضہ کشمیر کے عوام کویہ سہولت بھی میسرنہیں۔جس کام میں پہلے ایک گھنٹہ لگتاتھاانٹرنیٹ پابندی کے باعث اس میں دودن لگ رہے ہیں۔ انٹرنیٹ پرپابندی مقبوضہ کشمیرمیں کروناوائرس کودوگناکررہی ہے۔ سارک ویڈیوکانفرنس میں جس میں بھارتی وزیراعظم مودی شریک تھے، ڈاکٹرظفرمرزا نے بھی مودی کوآئینہ دکھایااورمقبوضہ کشمیر میں لاک ڈائون ختم کرنے ،اطلاعات کی ترسیل پرپابندیاں ختم کرنے اورکشمیریوں تک ادویات، علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کاکہا،لیکن وزیراعظم مودی آئیں بائیں شائیں کرتے رہے۔مقبوضہ کشمیر میں مسلسل لاک ڈائون سے کروناوائرس سے ہلاکتوں میں اضافے کاخطرہ ہے۔
 مقبوضہ کشمیر پرظلم وستم کی نئی تاریخ رقم کی جارہی ہے۔غیرجانب دار میڈیا نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صورتحال انتہائی گھمبیرہے،لوگوں کوسیدھی گولیاں ماری جارہی ہیں، چند ماہ کے دوران ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کیاجاچکاہے،ان کاجرم یہ ہے کہ بھارتی تسلط اورغلامی سے آزادی چاہتے ہیں۔غیرجانب دار میڈیا اس بات کی بھی تصدیق کرچکاہے کہ مقبوضہ کشمیر میں احتجاج کے دوران نوجوانوں کے ہاتھوں میں پاکستانی پرچم نظرآتے ہیں،وہ پاکستان سے اپنی محبت کااظہارکرتے ہیں ۔بھارت مسلسل عالمی قوانین اورسلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کررہاہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کروناوائرس کے بعد بھی انڈین آرمی نے گھرگھرتلاشی اورگرفتاریوں کاسلسلہ جاری رکھاہواہے۔صرف فروری اور مارچ کے مہینے میں45کشمیری نوجوانوں کوشہید کردیاگیا۔وادی میں ایک سوسے زائد نام نہاد سرچ آپریشن کیے گئے۔چارگھروں کودھماکہ خیزمواد سے اڑادیاگیاجبکہ مزید ایک ہزار سے زائدکشمیریوں کوگرفتارکرلیاگیاہے۔
 جب پور ی دنیا کروناوائرس کی آفت سے لڑرہی ہے،بھارت کی ساری توجہ پاکستان میں جاسوسی کرنے اورالزامات لگانے پر ہے،بھارتی ڈرون ایل اوسی کے ساتھ سانکھ سیکٹرکی فضائی حدودکی خلاف ورزی کرتاہواپاکستانی علاقے میں گھس آیا۔بھارتی ڈرون نے پاکستانی سرحد میں چھ سومیٹراندرتک پروازکی، ظاہرہے اس ڈرون کوپاکستانی علاقے کی نگرانی اورجاسوسی کے لیے بھیجا گیا تھا،پاک فوج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارتی کواڈ کاپٹر کومار گرایا۔ بھارت ، پاکستان کے خلاف کسی نہ کسی طریقے سے جارحیت کی کوشش کرتاہے، لیکن جوابی کارروائی میں ہمیشہ مارکھاتاہے۔دنیاکوبھی احساس ہوگیاہے کہ بھارت اپنی حرکتیں چھپانے کے لیے پروپیگنڈا کرتاہے۔


مودی سرکار مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کواقلیت میں بدلنے کے لیے مختلف حربے استعمال کررہی ہے ۔غیرملکی میڈیاکے مقبوضہ کشمیر میں جانے پرپابندی ہے کہ انڈین آرمی کے ظلم وستم کارازنہ کھل جائے۔گھرکے اندر کرونا ہے اورگھرکے باہربھارتی فوج ،یہ فیصلہ کرنامشکل ہوجاتاہے کہ کون زیادہ خطرناک ہے۔بھارتی فوج پہلے ہی کروناوائرس بن کربے گناہ کشمیریوں کونگل رہی ہے۔


مقبوضہ کشمیرمیں کروناوائرس کاشکارمریضوں کی تعداد میںمسلسل اضافہ ہورہاہے،لیکن نہ کشمیریوں کوادویات فراہم کی جارہی ہیں اورنہ اسپتالوں میں کروناوائرس سے نمٹنے کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں۔اس حوالے سے بھی مودی سرکاری کی پالیسی متعصبانہ ہے۔مقبوضہ کشمیر کے ساتھ ساتھ بھارت کے جن شہروں اورریاستوں میں مسلمان زیادہ تعداد میں ہیں ان کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری کاسلوک کیاجارہاہے۔بھارتیہ جنتاپارٹی کے ترجمان بعض انڈین نیوز چینلزپر کروناوائرس پھیلانے کاذمہ دار مسلمانوں اورکشمیریوں کو قراردے رہے ہیں ،یہ پروپیگنڈا کیاجارہاہے کہ مسلمان بھارت میںپھیلا رہے ہیں۔ بھارتی نیوزچینل پرایک ویڈیو دکھا کریہ پروپیگنڈاکیاگیا کہ مسلمان تھوک رہے ہیںتاکہ کروناپھیلے،جب کہ وہ صوفی اللہ اللہ کاورد کررہے تھے۔ ایک انڈین نیوزچینل اور سوشل میڈیا پر ایک بزرگ کشمیری پھل فروش کی ویڈیویہ کہہ کرپھیلائی گئی کہ وہ بزرگ پھلوں پرتھوک رہے ہیں تاکہ بھارتی کروناوائرس کاشکارہوجائیں جبکہ غیرجانب دار میڈیا نے اس بات کی تصدیق کی کہ ویڈیو تین سال پرانی ہے،بزرگ پھلوں پرتھوک نہیں رہے بلکہ سیبوں کوایک ایک کرکے دیکھ رہے ہیں اورہاتھ سے صاف کررہے ہیں۔اس ویڈیو اورایسی ملی جلتی ویڈیو زبھارت میں اس وقت بہت زیادہ وائرل ہیں ۔بھارتیہ جنتاپارٹی اورانتہاپسند ہندوگروپ ان ویڈیو زکی آڑ میں کشمیریوں اوردوسری ریاستوں میں رہنے والے مسلمانوں کوتشدد کانشانہ بنارہے ہیں۔مسلمانوں پرپہلے ہی زندگی تنگ کی جاچکی ہے،بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کی شہریت کومشکوک قراردے دیاگیاہے۔حکمران پارٹی اوربعض انڈین نیوز چینلزآج خود اس بات کی تصدیق کررہے ہیں کہ دوقومی نظریہ درست تھا۔
 مودی سرکار مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کواقلیت میں بدلنے کے لیے مختلف حربے استعمال کررہی ہے ۔غیرملکی میڈیاکے مقبوضہ کشمیر میں جانے پرپابندی ہے کہ انڈین آرمی کے ظلم وستم کارازنہ کھل جائے۔گھرکے اندر کرونا ہے اورگھرکے باہربھارتی فوج ،یہ فیصلہ کرنامشکل ہوجاتاہے کہ کون زیادہ خطرناک ہے۔بھارتی فوج پہلے ہی کروناوائرس بن کربے گناہ کشمیریوں کونگل رہی ہے۔ جن علاقوں میں کرفیونہیں صرف لاک ڈائون ہے وہاں بھی لوگوں کوگھروں میں گھس کرماراجارہاہے۔لاک ڈائون میں جان بوجھ کرکوئی ریلیف نہیں،گھروں میں اشیائے ضرورت کی شدید قلت پیدا ہوچکی ہے۔نہ گھروں میں راشن فراہم کیاجارہاہے اورنہ ادویات ،دراصل قابض انتظامیہ کے پاس کوئی پلان ہی نہیں ،ان کوایک ہی ٹارگٹ دیاگیاہے کشمیریوں کومارنا۔ بھارتی فورسز کی جانب سے کشمیریوں پرگولیاں چلانا،انھیں تشدد کانشانہ بنانا اور نوجوانوں کوعقوبت خانوں میں بندکرنامعمول بن چکاہے ۔مقبوضہ کشمیر کے بہت سے علاقوں میں قحط کی سی صورتحال ہے۔
 بی بی سی نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایاہے کہ کرفیواورپابندیوں کے باعث مقبوضہ کشمیر کی معیشت کو اٹھارہ ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں رہنے والاعام کشمیری معاشی دبائو اورپریشانی کاشکارہیں۔مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم اور کرفیو پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس ایک بار نہیں کئی بار اپنی تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔لیکن بھارت اقوام متحدہ اورعالمی برادری کے مطالبے کامذاق اڑا رہاہے۔سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 80 لاکھ افراد قید کی زندگی گزار رہے ہیں، مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان اور بھارت مذاکرات کریں۔لیکن بھارت اس کے لیے تیارنہیں۔
 انسانی حقوق کی تنظیمیں اپنی متعدد رپورٹس میں اس بات کی نشاندہی کرچکی ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں انڈین آرمی کے مظالم کے باعث حالات بہت خراب ہیں ۔میں انٹر نیشنل ہیومن رائٹس کورٹ کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ پڑھ رہاتھاجس میں لکھا تھا کہ بانڈی پورہ، بارہ مولہ اور کپواڑہ کے 55 دیہات میں کی جانے والی کھدائی کے دوران 2 ہزار 700 قبریں دریافت ہوئیں، جن میں کم از کم 2 ہزار 900 افراد کو دفن کیا گیا ہے۔غیر جانب دار تنظیموں اورعالمی اداروں کی کئی رپورٹس میں بھارتی فوج کے مظالم سے پردہ اٹھایاگیاہے۔ کشمیریوں کوجن میں اکثریت نوجوانوں کی ہوتی ہے گھروں سے اٹھاکرلے جایاجاتاہے۔انھیں بہیمانہ تشددکانشانہ بنایاجاتاہے اورپھرکہیں گڑھاکھودکردفن کردیاجاتاہے۔کئی اجتماعی قبریں دریافت ہوچکی ہیں۔بوسنیامیں جوسرب قصاب نے کیاتھاوہ ہی مودی مقبوضہ کشمیر میں دوہرارہے ہیں۔بوسنیامیں جاری مظالم پرآخرکارعالمی برادری خواب غفلت سے جاگی، کشمیریوں کویقین ہے کہ ایک دن عالمی برادری ان پرڈھائے جانے والے مظالم کابھی بھارت سے حساب لے گی ۔مودی اورمقبوضہ کشمیر میں نسل کشی ،جنگی جرائم اورانسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ چلایاجائے گا۔
حقیقت یہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کو انڈین آرمی نے دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کردیاہے۔کشمیریوں کے خلاف پیلٹ گن کااستعمال معمول بن گیاہے،جس کے باعث سیکڑوں کشمیری اپنی آنکھوں کی روشنی کھو چکے ہیں،ان کے چہرے پرچھروں کے نشان ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیمیں،یورپی یونین کے اراکین پارلیمنٹ،عالمی میڈیا بھی پیلٹ گن کے استعمال کی مذمت کرچکاہے۔بی بی سی بھی اپنی کئی رپورٹس میں اس کاحوالہ دے چکاہے۔ایک انیس ماہ کابچہ پیلٹ گن کے باعث نابیناہوگیا،ایسی درجنوں مثالیں ہیں۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں رہنے والوں کوبنیادی انسانی حقوق ہی حاصل نہیں،وہاں تعینات لاکھوں بھارتی فوجی قصائی کاکردارادا کررہے ہیں۔عالمی برادری نے اس ظلم وستم اورنسل کشی کوروکنے میں اپناموثر کردار ادا نہیں کیاتوخدشہ ہے کہ وہاں کوئی بڑاانسانی المیہ رونماہوسکتاہے جس کے نتائج بھی بہت بھیانک ہوں گے۔
عالمی برادری کی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پرنظرہے ۔پاکستان کے اس مؤقف کوپذیرائی مل رہی ہے کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتاجنوبی ایشیامیں پائیدارامن قائم نہیں ہوسکتا۔عالمی لیڈرایک نہیں کئی مرتبہ وزیراعظم مودی کوبھی ان کے منہ پرمقبوضہ کشمیر کی صورتحال بہتربنانے اورمسئلہ کشمیر بات چیت کے ذریعے حل کرنے پرزوردے چکے ہیں۔انھیں علم ہے کہ بھارتی وزیراعظم مودی نے آرٹیکل 370 جس کے تحت مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی،اسے ختم کیا، مقبوضہ کشمیر کودوحصوں میں تقسیم کردیا ۔مودی کے اس فیصلے کے خلاف پورامقبوضہ کشمیر سراپااحتجاج ہے۔ جرمن چانسلر اینجلامرکل چند ماہ قبل انڈیا کے دورے پرگئیں توعالمی میڈیا نے ان کے حوالے سے یہ خبرشائع کی کہ انہوں نے مودی سے کہا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے حالات ٹھیک کرنے کی کوشش کریں،وہاں حالات ٹھیک نہیں۔جس پرمودی شرمندہ ہوگئے۔ اسی طرح امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے اپنے کئی بیانات میں مسئلہ کشمیر حل کرنے کاکہا اورمسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنی ثالثی کی پیشکش بھی کی لیکن بھارت نے اسے مسترد کردیا۔فرانسیسی صدربھی کہہ چکے ہیں کہ انڈیا اورپاکستان مل کرمسئلہ کشمیر کاحل نکالیں۔مسئلہ کشمیر پرچین کی پالیسی بالکل واضح ہے اوروہ پاکستان کے موقف کی حمایت کرتاہے۔پاکستان کی درخواست پرسلامتی کونسل کاہنگامی اجلاس بھی ہوچکاہے۔سلامتی کونسل نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اوروہاں انسانی حقوق کی صورتحال پربھی تشویش کااظہارکیاتھا۔بھارت ایک طرف عالمی برادری کے سامنے یہ کہتاہے کہ مسئلہ کشمیر پاکستان سے بات چیت کے ذریعے حل کرلیاجائے گالیکن دوسری طرف وہ فوراً پینترا بدل کریہ راگ بھی الاپنے لگتاہے کہ مقبوضہ کشمیر پرپاکستان سے بات نہیں کی جائے گی ۔دراصل اس کی یہ پالیسی عالمی برادری کوگمراہ کرنے کی ہے۔انڈیا میں جرمنی،امریکہ اوربرطانیہ کی ہزاروںکمپنیاں کام کررہی ہیں، بھارت کے تجارتی واقتصادی مفادات ان ممالک سے جڑے ہیں اگریہ ممالک چاہیں توبھارت پرمسئلہ کشمیر کاحل نکالنے کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں۔بھارتی اسٹیبلشمنٹ یہ سمجھتی ہے کہ امریکہ اوریورپی ممالک اس سے مقبوضہ کشمیر کے حالات بہتربنانے اورمسئلہ کشمیر حل کرنے کاتوکہتے رہیں گے لیکن وہ کبھی اس پرپابندیاں نہیں لگائیں گے۔چونکہ بھارت کواقوام متحدہ اور عالمی برادری کی بات نہ ماننے پرپابندیوں کاکوئی خوف نہیں اس لیے وہ ان مطالبات اوربیانات کونظراندازکرتاآیاہے۔عالمی برادری کویہ احساس کرناہوگاکہ اگرمسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھارت پرپابندیاں نہ لگائی گئیں تو یہ مسئلہ خطے میں ایک نئی جنگ کاسبب بن سکتاہے جس کے اثرات ان تک بھی پہنچیں گے۔
 دنیامیں نسل کشی روکنے کے لیے عالمی ادارے جینوسائڈواچ نے ایک انتباہی رپورٹ جاری کی جس میں کہاگیاکہ مقبوضہ کشمیر اورآسام میں بھارت نسل کشی میں ملوث ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے سربراہ مشیل ہاشلے بھی مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پرتشویش کااظہارکرچکے ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پرتشویش کااظہارکرچکی ہے،ایمسنٹی نے مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام بحال کرنے کے لیے ایک آن لائن پٹیشن کابھی آغازکیاتھا۔
بھارتی فوج کی جانب سے سرچ آپریشن اوراس کی آڑمیں کشمیری نوجوانوں کاقتل عام ،کشمیریوں کی نسل کشی نہیں تواورکیاہے۔انڈین آرمی کوجس گھرکے بارے میں شک ہو کہ بھارت سے آزادی کے حق میں ہے اس گھرکوبموں سے اڑادیاجاتاہے۔انڈین آرمی نے کشمیریوںکی نسل کشی کے لیے اب توپوں کااستعمال بھی شروع کردیاہے۔کشمیر میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج نے ضلع کپواڑہ کے علاقے تومینہ اورچوکی بل میں ایک گاؤں پرگولہ باری کی جس میں ایک خاتون سمیت تین لوگ شہید ہوگئے۔پورا گاؤں تباہ کردیاگیا۔ایساجنگوں میں بھی نہیں ہوتا۔بھارتی فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں گلی گلی اورگاؤں گاؤں سرچ آپریشن کامقصدکشمیریوں کوخوف زدہ کرناہے تاکہ وہ اپنے آزادی کے مطالبے سے پیچھے ہٹ جائیں ۔ایک طرف یہ نسل کشی کی کوشش ہے تودوسری طرف نفسیاتی دباؤ اورخوف وہراس پھیلانے کاحربہ۔لیکن کشمیر ی اس سے ڈرنے والے نہیں،انڈین آرمی کے خلاف مزاحمت ان کے خون میں شامل ہوچکی ہے۔وہ بھارت سے آزادی سے کم کسی بات کوماننے کے لیے تیارنہیں۔


مضمون نگاراخبارات اورٹی وی چینلزکے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر اُن کی آٹھ کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔[email protected]

یہ تحریر 40مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP