قومی و بین الاقوامی ایشوز

مقبوضہ وادی میں ''را'' ایجنٹ جعلی سیاح بن گئے

مقبوضہ جموں وکشمیر میں کرفیو،لاک ڈائون اور انٹرنیٹ و کاروبار کی بندش جاری ہے۔ہر طرف خاموشی ہے اور خزاں کے موسم میں پت جھڑ کے باعث جنت نظیر وادی ایک بیاباں کی صورت اختیار کرچکی ہے۔کشمیر دنیا کے ان چند خطوں میں شمار ہوتا ہے جہاں خزاں میں بھی بہار جیسے مناظر نظر آتے تھے۔ زعفران،انار، سیب اور دیگر پھلوں کے باغات ایک دلفریب نظارہ پیش کرتے تھے مگر بھارتی فوج کی جانب سے چارماہ سے زائد کرفیو،لاک ڈائون، انٹرنیٹ،تعلیمی اداروںاورکاروباری مراکز کی بندش سے کشمیر کا قدرتی حسن بالکل ماند پڑ چکا ہے۔دنیا نے اس صورتحال کو مانیٹر کیا اور عالمی میڈیا نے کشمیر کی صورتحال کو سنگین قرار دے کر اپنے ادارتی صفحات میں کشمیر کو جگہ دی ۔بڑے بڑے نیوز چینلز نے کشمیر کے ان دل سوز مناظر کو فلمایا،اب بھارت نے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے وادی کی سڑکوں پر ''را ''کے ایجنٹوں کو گاڑیاں دے کر گھومنے اور سیاحوں کے روپ میں ایجنسی کے اہلکاروں کو وادی میں بھیج دیا ہے۔بھارت نواز میڈیا اس کی کوریج کرکے ظاہر کررہا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں حالات مکمل معمول پر ہیں۔ حال ہی میں علاج کے سلسلے میں سری نگر سے نئی دہلی جانے والے ایک کشمیر ی ڈاکٹر راشد ڈار نے اپنے ویڈیو پیغام میں انکشاف کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں سب سے زیادہ نقصان سیاحت، زعفران، قالین بافی ،زراعت،باغبانی اور ٹرانسپورٹ کے شعبہ کے لوگوں کو ہوا ہے اور یہ نقصان کھربوں ڈالر میں بنتا ہے جبکہ روز مرہ کی اشیائ، کریانہ، ڈیری، سبزی فروٹ،کپڑے ہوزری،جوتوں کے کاروبار کے علاوہ بک ڈپوز ، اخبارات وجرائد سمیت عام مزدور بھی پس کر رہ گیاہے۔گزشتہ چار ماہ سے ریاست کی لاکھوں دکانیں اور کاروباری مراکز مکمل طورپر بند رہنے کی وجہ سے عوام معاشی طورپر مکمل مفلوک الحال ہوچکے ہیں۔ ڈیری کے شعبے سے وابستہ ہزاروں افراد بھی بہت متاثر ہوئے ہیں جن کے پاس مال مویشی تو موجود ہے مگر گھر گھر دودھ پہنچانے ،مکھن،گھی اور دیگر ڈیری اشیاء کی سپلائی نہ ہونے کے باعث ان کا یومیہ کروڑوں روپے کانقصان ہورہا ہے۔ جبکہ سیب کے سیزن میں 8ارب روپے کا نقصان ہوا جب درختوں پر لگے سیب ٹہنیوں پر ہی گل سڑ کر گرگئے مگر بھارتی فوج نے انہیں اتار کر مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی۔
دنیا بھر میں کشمیریوں کے حق میں آواز بلند ہونے کے بعد بھارتی سرکار نے اب اس تاثر کو زائل کرنے کے لئے کہ مقبوضہ کشمیر میں مکمل لاک ڈائون کرفیو اور انٹرنیٹ بندش کی وجہ سے کاروباری حضرات کے ساتھ ساتھ عام عوام اور طلباء کا شدید نقصان ہورہا ہے،اپنی ایجنسیوں کے ذریعے جعلی نقل وحمل اور جعلی سیاحت کا ڈرامہ رچا لیا ہے جسے کشمیری عوام نے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور او آئی سی مقبوضہ کشمیر میں فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیج کر صورتحال کو اپنی آنکھوں سے مانیٹر کریں شدید سردی جو نقطہ انجماد سے بھی کم درجے پر ہے ،عوام کو ایل پی جی یاجلانے کے لئے لکڑی دستیاب نہیں ،بجلی کے بلیک آئوٹ کے نام پر چار ماہ سے عوام کو بجلی کی سہولت سے دور رکھا گیا ہے اور عملاً مقبوضہ وادی جیل کے ساتھ ساتھ ایک بیابان کی صورت اختیار کرچکی ہے۔اس کے باوجود عالمی برادری کا ضمیر جاگ نہیں رہا۔بھارت نے جعلی سیاح اور جعلی ٹرانسپورٹ نظام چلاکر دنیا کو دھوکہ دینے کی تو کوشش کی مگر وہ کشمیریوں کی ذہانت کو شکست نہیں دے سکتا جنہوںنے جان بوجھ کر اب کاروباری مراکز بند کررکھے ہیں۔صبح دو گھنٹے اور شام کو دوگھنٹے عوامی سہولت کے لئے دکانیں کھول کر پھر بند کرلیتے ہیں۔ بھارت کے لئے یہ سب سے بڑی شکست ہے اور کشمیریوں کی جانب سے نفرت کا پیغام کہ وہ لاکھ سہولیات اور مراعات اور ٹیکسوں کومعا ف کرنے کی آفرز دینے کے باوجود بھی کشمیریوں کو اب اپنے مشن سے نہیں ہٹا سکا۔دوسری جانب دنیا کا دوہرا معیار دیکھیں کہ کریمیا جیسی طاقت ور ریاست پر روسی فوج کے قبضے کو لے کر یورپ اور امریکہ نے سلامتی کونسل میں قرارداد منظور کروالی ہے کہ روسی فوج کریمیا سے نکل جائے کیونکہ اس کی کریمیامیں موجودگی سے یورپ اور امریکہ کو خطرہ ہے جبکہ جموں وکشمیر پربھارت نے غاصبانہ قبضہ جمارکھا ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت نے خود کشمیریوں کوحق خود ارادیت دینے کی قرارداد پیش کی جو منظور ہوگئی اور پاکستان نے بھی اس کی حمایت کی مگر آج تک کشمیریوںکو یہ حق نہیں مل سکا۔آج کشمیر سلگ رہا ہے اور دنیا اس کے جلنے کی حدت محسوس نہیں کررہی جو دراصل ایٹمی خطے میںجنگ کی چنگاری ہے جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے دنیا کو اس پر سوچنا ہوگا۔


کالم نگار ایک کشمیری صحافی اور تجزیہ نگار ہیں جو مظفرآباد سے شائع ہونے والے بڑے روزنامہ  کے ایڈیٹر اور سینٹرل پریس کلب مظفرآباد کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل بھی ہیں۔
[email protected]


 

یہ تحریر 2مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP