قومی و بین الاقوامی ایشوز

مقبوضہ جموں وکشمیر..... لاک ڈائون کا ایک سال

رواں سال 2020ء میں پوری دنیا کو کرونا وائرس کی وبا کے باعث لاک ڈائون کا سامنا کرنا پڑا۔ کاروبار، صنعتی و تجارتی سرگرمیوں، تعلیمی اداروں، تفریحی مقامات کی بندش اور شہریوں کے میل جول اور آمدورفت پر پابندی سے پوری دنیا بلبلا اٹھی۔ امریکا و یورپ سمیت بیشترممالک میں لاک ڈائون کے خلاف مظاہرے ہوئے اور اسے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔ وبا کی لہر میں کمی کے باعث زیادہ تر ریاستوں نے لاک ڈائون ختم یا نرم کردیا ہے۔ لیکن! کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں ایک خطہ اب بھی لاک ڈائون کی زد میں ہے اور یہاں کے باشندے اُس وقت سے لاک ڈائون کا سامنا کر رہے ہیں، جب پوری دنیا آزاد تھی اور انہیں لاک ڈائون کی سختیوں کا کبھی اندازہ ہی نہیں ہوا تھا۔



جی ہاں! دنیا اس خطے کو ''مقبوضہ جموں و کشمیر'' کے نام سے جانتی ہے اور یہاں کے باشندے اگرچہ گزشتہ پون صدی سے بھارت کے غاصبانہ قبضے کے باعث دنیا کی سب سے بڑی جیل میں ہیں۔ تاہم گزشتہ برس 5اگست 2019ء کو جب بھارت نے اپنے آئین کی دفعہ370 اور اس کی ذیلی شق35A منسوخ کرکے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا اعلان کیا، تو کشمیری ایک نئی آزمائش میں مبتلا ہوگئے۔ 5اگست سے کشمیر میں نافذ غیر انسانی کرفیو اور مواصلاتی رابطوں کی کلی یا جزوی بندش پر ایک سال بیت گیا ہے۔ اس دوران 80لاکھ کشمیریوں کوگھروں میں قید رکھا گیا۔ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں۔ کشمیری حریت قیادت بھی ایک عرصے سے قید و نظربندی کی صعوبتوں کا سامنا کر رہی ہے۔ اس کے باوجود سلامتی کونسل یا حقوقِ انسانی کے ادارے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے انسانیت سوز مظالم پر محض ''تشویش'' کا اظہار کر رہے ہیں۔ دوسری جانب بھارت بھی اس دیرینہ تنازعے کو حل کرنے کے بجائے اسے مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ جب بھی مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر موضوع بحث بنتا ہے، توبھارت یہ کہہ کر عالمی برادری کی کوششوں کو ٹھکرا دیتا ہے کہ یہ مسئلہ پاکستان و بھارت کے درمیان دو طرفہ ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ بھارت نے اپنے دعوے کے مطابق کبھی دو طرفہ سطح پر کشمیر میں رائے شماری کے لئے سنجیدہ کوششیں بھی نہیں کیں۔ اگر اس بابت مذاکرات ہوئے بھی تو ان کو وقت گزاری کا حربہ بنائے رکھا۔ گزشتہ برس بھی جب بھارت نے 5اگست کو کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا اعلان کیا، تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان و بھارت کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالثی کی پیشکش کی تھی جسے بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے یہ کہہ کر مسترد کردی کہ ''اگر کشمیر کے معاملے پر کبھی بات ہوئی تو وہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان ہی ہوگی۔''
اقوام متحدہ میں تعینات بھارت کے مستقل مندوب سید اکبر الدین کا ایک موقعے پر کہنا تھا: ''آرٹیکل370 کے متعلق بھارت کا اقدام اندرونی معاملہ ہے  اور جو بھی مسائل ہیں وہ شملہ معاہدے کے تحت ہی حل کئے جائیں گے۔'' یہ کہنا شرم ناک اور باعثِ حیرت ہے، سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت بین الاقوامی حیثیت رکھنے والا تنازع کشمیر آخر بی جے پی کے اقتدار کے دوران بھارت کا اندرونی معاملہ کیسے بن گیا؟ بھارت جس شملہ معاہدے کی اوٹ لے کر مسئلہ کشمیر سے فرار چاہتا ہے، اس معاہدے میں یہ بھی درج ہے کہ ''تنازعات کے قطعی تصفیے تک کوئی فریق یک طرفہ طور پر صورت حال میں تبدیلی کا مجاز نہیں ہوگا۔'' گویا کہ بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں کے علاوہ دو طرفہ معاہدوں کی پاسداری بھی نہیں کر رہا۔ لیکن اس کے باوجود نام نہاد جمہوریت اور سیکولرازم کا دعوے دار یہ ملک دنیا کے سامنے جھوٹ اور فریب کی بنیاد پر اپنے بیانیے کو سہارا دے رہا ہے۔ 
مقبوضہ کشمیر کے موجودہ حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2020 کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران 150 کے قریب کشمیریوں کو شہید کیا جاچکا ہے۔ جنوری سے جون2020ء تک بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں زخمی کشمیریوں کی تعداد ساڑھے چار سو کے قریب ہے۔ جب کہ اس دوران 21سو سے زائد کشمیریوں کو حراست میں لیا گیا۔ ساڑھے آٹھ سو سے زائد گھروں و دیگر املاک کو نذر آتش کیا گیا اور 32خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی یا انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔ یہ رواں سال کے صرف چھ ماہ کی ایک جھلک ہے، جس سے کشمیریوں پر ڈھائے گئے مظالم کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

بلا شبہ کشمیری فی الوقت سخت ترین پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ مواصلاتی رابطوں کی بندش سے زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ کشمیری تاجروں کے کاروبار تباہ اور بنیادی ضروریات زندگی ناپید ہیں۔ بچوں کی تعلیم کا ضیاع اس پر مستزاد ہے۔ یہاں یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ بھارت کا ظلم و جبر صرف مقبوضہ کشمیر تک محدود نہیں۔ ایل او سی کے اِس پار آزاد کشمیر کے مختلف دیہات اور آبادیاں بھی بھارتی سکیورٹی فورسز کی گولہ باری اور اشتعال انگیزی سے  محفوظ نہیں ہیں۔ بھارت کے آرمی چیف منوج مکند نراوان برملا طور پر آزاد کشمیر پر باقاعدہ حملے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔ ان شاء اللہ بھارت ماضی کی اپنی بزدلانہ حرکتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آزاد کشمیر پر حملے کی کبھی جرأت نہیں کرے گا۔ اہل پاکستان مظلوم کشمیریوں کے درد کو اپنا درد سمجھتے ہیں اور ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ لیکن سوال دنیا کے امن اور انسانی حقوق کے نام نہاد ٹھیکیداروں سے بھی ہے۔ کیا وہ بھی کشمیریوں کے درد کو محسوس کرتے ہیں؟ یاد رہے! اقوام متحدہ کی تنظیم کشیدہ صورت حال پر تشویش ظاہر کرنے یا مذمت کے اظہار کے لئے وجود میں نہیں لائی گئی۔ اس ادارے کو مصالحانہ کردار ادا کرنے کے بجائے اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کے لئے سخت اقدامات بھی کرنا ہوں گے۔ بصورت دیگرکشمیریوں کے لئے اس ادارے کا وجود اور عدم دونوں برابر ہیں۔ ||


مضمون نگار جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ایم فل کررھے ھیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 43مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP