متفرقات

معین اختر

کُلُّ نَفسٍ ذَاءِقَۃُ ا لْمَوْتِ ط
ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہوتا ہے۔ موت کے وقت کا تعین زندگی ملنے کے ساتھ ہی ہو چکا ہوتا ہے ۔ پھر بھی کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب یہ خبر سماعتوں سے گزرتی ہے کہ انہوں نے داعی اجل کو لبیک کہہ دیا ہے تو بے ساختہ دل سے یہ کراہ نکلتی ہے۔
تم کون سے ایسے تھے کھرے داد و سند کے
کرتا ملک الموت تقاضا کوئی دن اور
معین اختر ایک ایسا نام کہ جس پر لکھنے کے لئے قلم اٹھاؤ تو لفظ آنکھ مچولی کھیلنے لگتے ہیں کہ جو خود لفظوں کا کھلاڑی تھا‘ اس کے بارے میں لکھنے کے لئے کِن الفاظ کا انتخاب کیا جائے۔
بہت دنوں سے لکھنا چاہ رہی تھی اپنے پڑھنے والوں سے معین اختر کا تعارف کروانا چاہ رہی تھی جو ان کا ایک نہایت ہی الگ روپ ہے۔ (بہروپ تو معین نے بہت بھرے‘اصلی روپ میں معین کیا تھا بہت کم لوگ ہی جانتے ہیں) لیکن حوصلہ نہیں پڑ رہا تھا۔
معین اختر کو بچپن سے ٹی وی پر دیکھتی آئی اور سب لوگوں کی طرح میرے ذہن میں بھی یہ بات پلی تھی کہ بس اب معین سکرین پر آ گئے ہیں تو ہنسانے کی باتیں ہوگی۔ لیکن یہ سوچ اس وقت بالکل تبدیل ہوگئی جب ایک نجی چینل میں اپنے ایک پروگرام ’نظر آتے ہیں کچھ‘ جس میں گفتگو کے ساتھ ساتھ اس مشہور شخصیت کا سائیکی لوجیکل ایسسمنٹ بھی ہوتا تھا، ایک نشست ہوئی۔
مجھ کو بھی گرچہ چہرہ شناسی کا زعم تھا
مشکل یہ آپڑی کہ اداکار وہ بھی تھا
اور اس نشست میں پرت در پرت معین کا ایک الگ ہی روپ نظر آنا شروع ہوا جو میرے لئے حیران کن تھا کیونکہ میں بھی اپنے ذہن میں یہی سوچ کر گئی تھی کہ میں بھی بہت ہنسوں گی۔ لیکن اس گفتگو کے دوران کئی موضوعات پر بات کرتے ہوئے میری ملاقات اس معین اختر سے نہیں ہوئی جو ٹی وی کی سکرین پر مختلف بہروپ بھر کر عوام کو ہنساتا تھا۔ بلکہ وہ روپ جو کبھی کسی کے سامنے نہیں لایا۔ ایک حساس دل رکھنے والا انسان‘ ایک فلسفی‘ ایک شاعر‘ ایک دانشور اور کسی کی مدد کرتے ہوئے اس کی عزتِ نفس کی اس درجہ احتیاط کہ 
انیسؔ ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو
ان تین گھنٹوں کی گفتگو نے معین کا یہ راز بھی فاش کیا کہ: 
ہمارے لہجے میں توازن بڑی صعوبت کے بعد آیا
کئی مزاجوں کے دشت دیکھے‘ کئی رویوں کی خاک چھانی
اور پھرجب سائیکی لوجیکل ٹسٹس کے ذریعے ان کی شخصیت کا تجزیہ کیا گیا اور جب وہ آن ایئر ہوا تو میں پہلے ہی حیران ہونے کی کیفیت سے گزر چکی تھی لیکن جس جس نے بھی یہ پروگرام دیکھا وہ عجیب کیفیت کا شکار ہوگیا۔ جس میں معین اختر خود بھی شامل تھے کہ ان ٹیسٹ کے نتائج میں ایچیومنٹ کی خواہش بہت زیادہ تھی اور ایچیو کر بھی لیں لیکن ایک بے نام اداسی مستقل اندر ڈیرا جمائے بیٹھے تھی۔ ’’بہت عملی انسان۔ مذہب کی طرف بھی گہرا رجحان۔ سوچ انتہائی منطقی‘ لیکن پھر بھی کچھ ایسے دکھ تھے کہ جو ان کویاسیت کی طرف کھینچ رہے تھے۔‘‘
پروگرام کے آن ایئر ہونے کے دس منٹ بعد میرے موبائل پر گھنٹی بجی۔ معین اختر کالنگ سکرین پر چمک رہا تھا۔
’’ہیلو ‘‘ میں نے فون اٹھایا۔
معین: ’’یہ کیا ظلم کردیا۔‘‘


’’ جو بھی کیا آپ کی اجازت سے کیا‘‘ میرا جواب تھا۔
معین: اجازت سے تو کیا لیکن یہ سب تو میں نے اپنے اندر ایک کونے میں چھپا کر رکھا ہوا تھا۔ تم نے اپنے پروگرام میں بتایا کہ میں اپنے آپ کو تنہا محسوس کرتا ہوں۔ کبھی کبھی یہ اداسی اور تنہائی اور وہ بھی آپ کے اندر کی‘ آپ کو بہت زور سے جکڑ لیتی ہے۔ ٹی وی پر نظر آنے والا معین اپنے اس بہروپ کے ڈائیلاگ ادا کرتا ہے جو اس نے سوانگ رچایا ہوتا ہے۔ بات کرنے اور ڈائیلاگ ادا کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ سمجھتی ہو اس فرق کو؟‘‘
’’جی کوشش کررہی ہوں۔‘‘
معین: ماہرِ نفسیات !
’’جی ڈگری تو اسی مضمون میں لی ہے‘‘ میرا جواب ۔
معین : ٹھیک ہے پھر کسی دن بیٹھتے ہیں۔میں تم سے کچھ سیکھوں گا۔ تم نے کہا تھا کہ شیکسپئر یہ تو کہہ کر چلا گیا۔ کہ ’’دنیا ایک سٹیج کی طرح ہے جس میں ہر شخص اپنا کردار ادا کرنے کے بعد چلا جاتا ہے۔‘‘
’’لیکن میں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہر شخص کو اس کی مرضی کا رول نہیں ملتا۔ پھر بھی اس کو نبھانا پڑتا ہے۔ ہر کوئی بادشاہ نہیں بنتا۔ کسی کو پیادہ بھی بننا پڑتا ہے۔‘‘ میں نے تیزی سے بات کاٹی۔
’’ہاں اسی پر گفتگو کریں گے۔‘‘


اور پھر معین اختر سے باقاعدگی سے مکالمہ ہونے لگا۔ انہی مباحث کے دوران ایک دن معین نے اس خواہش کا اظہار کردیا کہ چلو ساتھ مل کر میری ڈاکومینٹری بناتے ہیں۔ لیکن وہ کوئی عام سی ڈاکومینٹری نہیں ہوگی۔ بہت الگ قسم کی بناؤں گا اور پھر سلسلہ چل نکلا۔ (معین اختر کی وہی باتیں اور وہی یادیں اپنے پڑھنے والوں سے شیئرکر رہی ہوں)۔ بات اسی موضوع سے شروع ہوئی کہ شیکسپئرکا قول اور معین اختر آج جورول دنیا کے سامنے پرفارم کررہا ہے معین اختر خود اپنے اس رول سے کتنا مطمئن ہے؟
معین:’’ دیکھئے میرا یہ خیال ہے کہ بنیادی طور پر سوائے اﷲ تعالیٰ کے کائنات کی ہر چیزنامکمل ہے اور یہ اس کا بڑا احسان ہے کہ کائنات کی ہر چیز نامکمل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگرتکمیل ہو جاتی ہر چیزمیں تو انسان خدا کو کیوں یاد کرتا( نعوذ باﷲ )۔ یہ اﷲ تعالیٰ کی قدرت ہے ‘ اس کا کمال ہے اور شکر ادا کرنے والی بات ہے کہ اس نے کچھ کمزوریاں اور خامیاں ہم میں رکھی ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اطمینان تو موت کا دوسرا نام ہے۔ جب آدمی ہر غم سے بیگانہ ہو جاتا ہے تو وہ موت ہوتی ہے اس کی۔ اس کے احساسات ختم ہو جاتے ہیں۔ یہ بات تو طے ہے کہ کچھ نہ کچھ کمی اس میں ضرور رہ جاتی ہے اور وہ اپنے ان خوابوں کو پورا کرنے کی کوشش ضرور کرتا ہے‘ تو جیسے اور چیزیں نامکمل ہیں میں بھی نامکمل ہوں۔ بہت سی کمزوریاں ہیں میری ذات کے اندر جو میں سوچتا ہوں کہ
'If I were blessesd by those qualities, I would have been a different man'
تو کمی تو ہے کہیں نہ کہیں میری پرفارمنس میں بھی اور حقیقی زندگی میں بھی۔‘‘
ایک دن شاعری پر بحث ہو رہی تھی معین کی پسند کے اشعار پر بات نکلی۔ ان کے دو پسندیدہ ترین اشعار: 
؂ ہوا کے دوش پر رکھے ہوئے چراغ ہیں ہم
جو بجھ گئے تو ہوا سے شکایتیں کیسی۔۔۔؟
؂ اے جگر ہے میری ہستی کی حقیقت اتنی
مجھ میں آباد ہیں سب‘ میں کہیں آباد نہیں
کچھ لوگوں کے مقدر میں شہرت لکھ دی جاتی ہے لیکن میرا ماننا تھا کہ معین اختر شہرت کے مقدر میں لکھ دیئے گئے تھے‘ وہ جہاں جاتے ‘چھاجاتے۔ وہ بہت افسانوی شخصیت کے مالک تھے اور جس طرح افسانوں میں کئی ٹوسٹ ہوتے ہیں اسی طرح ان کی زندگی کے افسانے میں بہت ٹوسٹ تھے۔ ایک دن اپنی کتابِ زندگی کے اوراق سے یہ باب سنایا۔
معین:’’ میں نے جونیئر کیمبرج کیا تھا۔ پھر گھر کی ذمہ داریاں بہت تھیں تو مجھے بہت جلد عملی زندگی میں آنا پڑا۔ اس لئے تعلیم کا سلسلہ منقطع کرکے سولہ سترہ سال کی عمر سے ہی فیملی کوسپورٹ کرنا پڑا کیونکہ میں سب سے بڑا تھا۔
میں نے سٹیج پر سب سے پہلے شیکسپئر کے کھیل
"Merchant of Venice"

میں اداکاری کی ‘ میری بہت اچھی پرفارمنس تھی اور مجھے پہلا انعامبھی ملا تھا۔ 1968 میں سب سے پہلا کھیل سید امیر امام کے لئے کیمرے کے سامنے ڈرامہ ’’چور‘‘ کیا تھا۔ اس زمانے میں ہمیں کچھ پتہ ہی نہیں ہوتا تھا کہ کیسا ہے، کس نے دیکھا ہے‘ کس نے نہیں ۔ مزے کی بات بتاؤں تم کو‘ جن لوگوں نے کروایا تھا اُن کا رسپانس بہت خراب تھا۔ انہوں نے مجھے کہہ دیا تھا کہ اداکاری آپ کے بس کاکام نہیں ہے اور اب وہی سیدامیر امام ہیں جنہوں نے پریس کانفرنس میں ایک نجی ٹی وی چینل پر اعلان کیا کہ معین اختر سے بڑا آرٹسٹ پورے برصغیر میں نہیں ہے اور معین اختر پاکستان کا سب سے قیمتی سرمایہ اور اثاثہ ہیں‘ اﷲ کا بہت کرم ہے میری ذات پر اور پھر جس نے یہ کہا اداکاری تمہارے بس کا روگ نہیں انہی کی سیریل کی جس کی تقریباً دو سو اسی سے زیادہ اقساط آن ایئر ہوئی تھیں (ہنستے ہوئے) تو یہ ہے شیکسپئر کا قول کہ دنیا ایک سٹیج ہے اور اس سٹیج پر میرا رول۔‘‘
معین اختر نے انسانی نفسیات کو بھی بہت خوبصورتی سے بیان کیا۔ جب ایک دن میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کو اپنا کون سا کردار پسند ہے تو اس کا جواب بہت سادگی سے دیا۔
’’ اپنا کیا ہوا کام سب کو پسند ہوتا ہے۔ جب آپ کوئی کام کریں گے تو اس کو بار بار دیکھیں گے۔ یہ انسانی نفسیات ہے اور اپنے کیریئر میں جن کاموں کو خود بہت زیادہ پسند کرتا ہوں ان میں روزی ہے‘ ہاف پلیٹ ہے۔ اسٹوڈیو ڈھائی ‘ پونے تین ‘ سچ مچ اور لوز ٹاک۔ خاص طور پر ان میں میرا ٹیلنٹ سامنے آیا لوذ ٹاک کے دوسو سے زیادہ شو آن ایئر ہوئے ہیں۔‘‘
انور مقصود صاحب کی تخلیقات پر کچھ کہنا گویا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ وہ ایک بہترین نقاش ہیں لیکن اس نقش میں جو عکس ابھرتا تھا وہ معین اختر کا کمال ہوتا تھا۔ معین بڑی آسانی سے انور صاحب کے ہاتھوں سے تصویر نکال کر اس میں حقیقت کا رنگ بھر دیتے تھے۔
اپنی اور انور صاحب کی دوستی اور ساتھ کا ذکر کرتے ہوئے ایک دن بتایا۔
’’انور کے ساتھ کام کرتے ہوئے چونتیس سال ہوگئے ہیں۔ انور لکھتے ہی میرے لئے ہیں۔ ایک بار میں اور انور بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے کہا چلو ریٹائر ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے پھر میں بھی لکھنا چھوڑ دیتا ہوں۔ اکٹھے ہی ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ کوئی اور انور مقصود ہو ہی نہیں سکتا پاکستان میں۔ 
He is a genius
' اور میں انور کے لئے یہی کہتا ہوں کہ
'He is unpredictably dangerous'
مجھے پتہ ہے کہ وہ کس زاویے سے لکھتے ہیں۔ ایک عام پڑھنے والا وہ رخ اتنی سہولت سے پکڑ نہیں کر سکتا۔‘‘ 
معین اختر کی شخصیت ہی ایسی کرشماتی تھی کہ جب وہ گفتگو کرتے تو وقت جیسے ٹھہر سا جاتا تھا۔ ہر بات میں ایک نیا نقطہ سیکھنے کو ملتا۔
ایک دن ایک ٹی وی پروگرام دیکھتے ہوئے کہنے لگے کہ ’’کیا ہوگیا ہے لکھنے والوں کو‘ کہاں گئے وہ مزاح نگار؟‘‘ میں نے پھر پوچھا کہ پاکستان میں آج کل مزاح پر جو کام ہو رہا ہے۔ اس سے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟
معین نے عجیب سی شکل بنائی اور کہنے لگے۔


’’بس کام ہی ہو رہا ہے اور اس قدر برا ہو رہا ہے کہ کیا بتاؤں ‘کیا کہوں جتنے بڑے نام ہیں کمال احمد رضوی‘ اطہر شاہ خان یہ لوگ لکھ نہیں رہے۔ اب ہے کون جوجینوئن مزاح لکھے۔ انور مقصود اور یونس بٹ؟ اور بس! صاف بات ہے مجھے تو سرے سے پلے ہی نہیں پڑتا کہ آج ہم آخر دکھانا کیا چاہ رہے ہیں؟میں نے ایک کردار کیا تھا ’روزی‘ آج کل ایک کردار ہے بیگم نوازش علی۔۔۔ کسی چیز کو چھپانا بہت مشکل ہے۔ میں کبھی اس سے ملا نہیں ہوں لیکن میں نے سنا ہے کہ وہ عام زندگی میں بھی ایسا ہی ہے۔ اس لئے اس کو ایسا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ جہاں تک پرفارمنس کی بات ہے وہ پُر فارم بہت اچھا کرتا ہے مگر زبان کی بات کریں تو وہ ذرا کم مہذبانہ ہوتی ہے۔ ہمیں زبان کا خیال رکھنا چاہئے۔ کیونکہ جب پڑھے لکھے لوگ بے ہودگی کریں گے تو پھر ہم جاہل کو کیا کہیں گے۔ اسے کیسے روکیں گے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم ایک اچھی مثال بنیں۔ لوگ فیملی کے ساتھ ٹی وی دیکھتے ہوئے ایک دوسرے سے نظریں نہ چرائیں۔ ہماری نوجوان نسل بہت قابل ہے۔ وہ آئیں اس فیلڈ میں‘ مزاح لکھیں لیکن اس بات کا خیال ذہن میں مستقل رہے کہ وہ جو بھی لکھیں وہ چیز اپنی فیملز کے ساتھ دیکھتے ہوئے ان کو جھجک نہ ہو۔‘‘
باتیں اور یادیں تو اتنی ہیں کہ لکھتی جاؤں تو بھی کم ہیں لیکن ان باتوں کو کرنے والا نہیں رہا۔۔۔!
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
تم ہی سو گئے داستاں کہتے کہتے
اسی طرح ایک گفتگو کے دوران معین نے یہ اشعار سنائے کہ اگر میری زندگی پر کوئی ڈاکو مینٹری بناؤ تو آخر میں یہ اشعار ضرور شامل کرنا۔
ہم نہ رہیں گے یہ ہم جانتے ہیں
ہماری کمی تو رہے گی
سکوں سے جیوگے مگر یاد رکھنا
بڑی بے سکونی رہے گی


[email protected]

یہ تحریر 69مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP