متفرقات

معر کۂ شیرین درّہ

فر نٹے ئر کور خیبر پختونخوا نے ہمیشہ وطن عزیز کے دفاع اور استحکام کے لئے بھر پور کردار ادا کیا ہے۔ مغربی سرحدوں کی حفاظت، دہشت گردوں کے خلاف جنگ،فاٹا سے منشیات کا خاتمہ، امن و امان کی بحالی، حکومتی عملداری کا قیام اور قبائلی عوام کی تر قی و خوشحالی کے سلسلے میں فر ٹےئر کور کے سیکڑوں جوانوں نے قربانیاں دے کراس فورس کی تاریخ کو مزید منوّر کیا ہے۔اس فورس کے جوانمردوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیا ہے اور دہشت گردی کا قلع قمع کر نے لئے متعدد آپریشنز کئے۔ان آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے بہت سے مراکز اور ٹھکانوں کا خاتمہ کیا گیا ہے۔ فرنٹےئر کور نے پچھلے سالوں کی طرح سال 2014ء میں بھی کئی آپر یشنز کئے جن میں آپر یشن فصیل آہن (باجوڑ ایجنسی)، آپر یشن تورہ شپہ (ایف آر پشاور)، آپر یشن میلمستیا(ٹل)، آپر یشن حشم (شمالی وزیرستان) اور آپر یشن خیبر ون( خیبر/اورکزئی ایجنسی) نمایاں ہیں۔

ان نمایاںآپر یشنز کے علاوہ فرنٹےئر کور نے دہشت گردوں کے خلاف کئی انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز بھی کئے۔اس کے ساتھ ساتھ اس فورس کے بہادر اور نڈر جوانوں نے دہشت گردوں کے کئی حملے ناکام بنائے اور کئی معرکوں میں فتح یاب ہو ئے۔ اس طرح کا ایک معرکہ ’’معرکہ شیرین درہ‘‘ بھی ہے جو ایف سی کی تاریخ میں سُنہرے حروف سے رقم کیا جا چکا ہے۔

جب قومی قیادت کی بھر پور حوصلہ افزائی اور عوام کی یک جہتی کے ساتھ پاک فوج، پاک فضائیہ، خُفیہ اداروں اور فر نٹےئر کور نے مشترکہ طور پر شمالی وزیرستان میں آپر یشن ضرب عضب کا آغاز کیا تو ملُک دُشمن عناصر پر پاک سر زمین تنگ ہو نے لگی۔اس کاری ضرب کے ذریعے سیکڑوں دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔ جب دہشت گردوں کے کئی کمانڈر ہلاک کر دئیے گئے تو باقی علاقوں میں موجود ان ملک دشمن عناصر نے سکیورٹی فورسز پر حملے شروع کر دئے۔ان حملوں کی روک تھام کی غرض سے سکیورٹی فورسز نے دوسرے علاقوں میں بھی آپریشنز شروع کر دئیے جن میں سب سے نمایاں’’آپر یشن خیبر ون‘‘ ہے جو خیبر اور اور کزئی ایجنسی میں کیا گیا۔آپر یشن خیبر ون کا آغاز 12 اکتوبر2014ء کو ہوا اور اس کا مقصد باڑہ،تیراہ اور اورکزئی ایجنسی کو دہشت گردوں سے پاک کر نا اور صوبائی دارالحکومت پشاور کو محفوظ بنانا تھا۔اس کے ساتھ ساتھ اس آپر یشن کا مقصد دہشت گردوں کے ممکنہ رد عمل کا توڑ کر نابھی تھا۔ جب فرنٹےئر کور نے آپر یشن کا آغاز کیا تو دہشت گردوں کو اپنی بقاء کی فکر لاحق ہو گئی اور انہوں نے خیبر اور اور کزئی ایجنسی میں سکیورٹی فورسز پر حملے شروع کر دئیے۔ ایف سی کے بہادر جوانوں نے دہشت گردوں کے تمام حملے ناکام بنا دئیے اور ان کو منُہ کی کھانی پڑی۔خیبر اور اورکزئی میں حق و باطل کے درمیان ہو نے والے ان خُون آشام معرکوں میں سب سے مشہور ’’ معرکہ شیرین درہ‘‘ ہے۔

شیرین درہ خیبر ایجنسی اور اورکزئی ایجنسی کے درمیان واقع ہے اور ایک انتہائی اہم سٹریٹیجک اور دفاعی پہاڑی سلسلہ ہے۔جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے یہ سکیورٹی فورسزاور دہشت گردوں دونوں کے لئے اہم مقام رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس مقام پر کئی خونریز جھڑپیں رپورٹ ہو ئی ہیں۔شیرین درہ کی اہمیت کے پیش نظر فر نٹےئر کور نے یہاں پر کئی پوسٹیں بنائی تھیں جن میں نُور ٹاپ، خزینہ کنڈؤاور شیرین درہ شامل ہیں۔ اس مقام پر ہو نے والی خونریز جھڑپوں میں 11 نومبر اور27 دسمبر والی جھڑپیں سب سے زیادہ قابل ذکرہ ہیں۔

10 اور 11 نومبر کی درمیانی شب  ۲۰۰ سے زیادہ دہشت گردوں نے نور ٹاپ پوسٹ اور شیرین درہ پوسٹ پر مختلف اطراف سے بھاری ہتھیاروں کے ساتھ شدید حملہ کردیا۔ فرنٹےئر کور کے جوانوں نے بھی اتنی ہی شدت سے جوابی کارروائی شروع کر دی۔ہمارے بہادر جوانوں نے انتہائی جرأت کا مظاہرہ کیا اور چار گھنوں تک لڑتے رہے۔دوطرفہ فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا اور شدید لڑائی کے دوران 80 کے قریب دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا اور سکیورٹی فورسز کے تین جوانوں نے شہادت کا عظیم رتبہ پالیا۔دہشت گردوں کی تعداد زیادہ ہو نے کی وجہ سے وہ کچھ دیر کے لئے سکیورٹی فورسز پر حاوی ہو گئے اور انہوں نے شیرین درہ پو سٹ کے ایک حصے پر قبضہ کر لیا۔لیکن اس کے باوجود فر نٹےئر کور اور پاک آرمی کے جوانوں نے ہمت نہ ہاری اور دہشت گردوں کی پوزیشنوں کومسلسل نشانہ بنا تے رہے۔ اس دوران کمانڈنٹ اورکزئی سکاؤٹس کیو آر ایف کے ہمراہ شیرین درہ پوسٹ کی جانب روانہ ہو ئے تاکہ دہشت گردوں سے پوسٹ کو خالی کر ایا جائے ۔کمانڈنٹ اپنے بہادر جوانوں کے ہمراہ انتہائی تیزی کے ساتھ پوسٹ کی جانب بڑھتے رہے اور دہشت گردوں کے ساتھ لڑتے ہو ئے پیش قدمی کر تے رہے۔دریں اثناء کمانڈر سیکٹر ہیڈ کوار ٹر ساؤتھ ویسٹ بھی دہشت گردوں کے زیر قبضہ علاقے کی طرف روانہ ہو ئے تاکہ مختلف اطراف سے جوابی حملہ کر کے پو سٹ کو واپس حاصل کیا جا سکے۔اس طرح کمانڈر سیکٹر ساؤتھ ویسٹ کی قیادت میں مختلف اطراف سے جوابی کارروائی شروع کی گئی اور آدھے گھنٹے کے اندر اندر شیرین درہ پو سٹ کو دوبارہ حاصل کر لیا اوردہشت گردوں کا قبضہ ختم کر کے ان کو ہلاک کر دیاگیا۔شیرین درہ پوسٹ کو کلیئر کر نے کے بعدقریب میں واقع خزینہ پوسٹ اور دوسرے پوسٹوں کو بھی دہشت گردوں سے پاک کر دیا گیا۔ اس کلئیرنس آپریشن کے بعد ان تمام پوسٹوں پر سکیورٹی فورسز نے مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ان جھڑپوں کے دوران دہشت گردوں کو بھاری جانی نقصان پہنچایاگیا اور اہم کمانڈرز سمیت 80 کے قریب ہلاک کر دئیے گئے اور بڑی تعداد میں زخمی ہو گئے ۔یہ آپریشن جدید پہاڑی گوریلا جنگ کی ایک بہترین مثال ہے جس میں فر نٹےئر کور اور پاک آرمی کے جوانوں نے بہادری اور سرفروشی کی ان مٹ داستانیں رقم کیں۔

چونکہ 11 نومبر والی جھڑپوں کے دوران دہشت گردوں کو بھاری جانی نقصان پہنچا تھا اوران کے کچھ کمانڈرز بھی مارے گئے تھے اس لئے وہ موقع کی تلاش میں تھے اور نور ٹاپ،شیرین درہ اور خزینہ پوسٹ پرقبضے کے خواب دیکھتے رہے۔اپنے کمانڈروں اور ساتھیوں کا بدلہ لینے کی غرض سے ان ملک دشمنوں نے ایک با رپھر ان اہم پو سٹوں پر حملے کی منصوبہ بندی کی اور اپنی مکارانہ چالوں سے باز نہ آنے والے ان دہشت گردوں نے ایک دفعہ پھر 26 اور27 دسمبر کے درمیانی شب رات 12 بجے شیرین درہ اور خزینہ کنڈاؤ پوسٹوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کر دیا۔سکیورٹی فورسز کے بہادر جوانوں نے پہلے کی طرح ایک بار پھربھر پور جوابی کارروائی کر تے ہو ئے دہشت گردوں کا حملہ نہ صرف پسپا کر دیا بلکہ دو گھنٹے تک ثابت قدمی کے ساتھ مقابلہ جاری رکھااور دُشمنوں کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ اس جھڑپ میں ایک بار پھردہشت گردوں کا بھاری جانی نقصان ہوا اور 30 دہشت گرد مارے گئے اور 20 سے زیادہ زخمی ہو ئے۔ 9 دہشت گردوں کی لاشیں بمعہ اسلحہ سکیورٹی فورسز نے قبضے میں لے لیں جن میں تین کا تعلق اورکزئی ایجنسی سے تھا۔جھڑپوں کے دوران سکیورٹی فورسز کے 4 جوان بھی زخمی ہو ئے۔ ایک با رپھر سکیورٹی فورسز کے جوانوں نے ان ملک دشمن عناصر کے دانت کھٹے کر دئیے۔

ان معرکوں کے دوران ہمارے نڈر جوان دُشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئے اور انہوں نے ثابت کیا کہ پا ک سر زمین سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے۔اور یہ واضح کر دیا کہ پاکستانی قوم اور سکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خلاف یک جان ہیں اور کسی کو اپنے نا پاک عزائم کی تکمیل کر نے نہیں دیں گے۔ان معرکوں سے دہشت گردوں کو بھی یہ واضح پیغام مل گیا کہ پاک سر زمین پر ان کے لئے کو ئی جگہ نہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 34مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP