قومی و بین الاقوامی ایشوز

معرکہ بیلونیا

یہ ایک ایسا ہیلی بورن آپریشن تھا جسے شاید ہی دنیا کی کسی آرمی نے کیا ہو۔ ویت نام‘ ایران ‘ عراق ‘ جاپان کی کسی بھی بڑی لڑائی میں اس قسم کے ہیلی بورن لینڈنگ کی تاریخی مثال نہیں ملتی۔ اس آپریشن کی اہمیت سمجھتے ہوئے جنرل رحیم خان خود ہیلی پیڈ پر اس کے آغاز کے لئے موجود تھے۔اندھیرا چھاتے ہی میجر لیاقت بخاری اور میجر علی جواہر نے کمانڈوز کیپٹن نادر کے زیرِ کمان لے کر ٹیک آف کیا۔ پانچ منٹ بعد میجر علی قلی خان اور میجر پیٹرک نے دوسرے ہیلی کاپٹر میں 24 جوانوں کے ساتھ پروازکی اور صرف 15 منٹ کی پرواز کے بعد ایک انجانی منزل پر مکمل تاریکی میں دشمنوں کے بیچوں بیچ لینڈ کرکے سپاہ کو دشمن کے درمیان اُتارنا تھا

18جون 1971 کی صبح تقریباً دس بجے ہم جنرل رحیم خان‘ جنرل آفیسر کمانڈنگ 14 انفنٹری ڈویژن کے ساتھ فینی ہیلی پیڈ پر اترے تو بریگیڈ کمانڈر نے جنگی صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ صبح جب ان کی دو انفنٹری بٹالین 24 ایف ایف اور 20 بلوچ نے بیلونیا بلج‘ جو تقریباً 4 میل چوڑا اور 20 میل لمبا پہاڑیوں میں گھرا ہوا علاقہ انڈین آرمی کے قبضہ میں تھا‘ آزاد کرانے کے لئے پیش قدمی کی تو وہ دشمن کی بارودی سرنگوں اور توپ خانے کی زد میں آگئیں۔ اس علاقہ کے آس پاس کی تمام پہاڑیوں اور اونچے مقامات پر بھارتی فوج نے مضبوط مورچے بنائے ہوئے تھے۔ ان کی دفاعی پلاننگ کے مطابق پاک فوج کو چاروں طرف سے گھیرنے کے لئے یہ جگہ نہایت موزوں تھی۔

جونہی ہماری بٹالین کھلے میدان میں پہنچی تو بھارتی فوج نے آس پاس کی پہاڑیوں سے اُن کو گھیرے میں لے لیا اور اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ ہماری بٹالین دشمن کے جال میں بری طرح پھنس گئی۔ دو ہی گھنٹہ میں ہمارے تقریباً 28 جوان شہید و زخمی ہوگئے۔ ان حالات میں ہماری انفنٹری کے لئے ایڈوانس جاری رکھنا ناممکن ہوگیا۔ بریگیڈ کمانڈر کے پاس نہ تو ان کی مدد کے لئے کوئی اضافی کمک تھی اور نہ ہی بھارتی توپ خانہ کو خاموش کرانے کا کوئی ذریعہ تھا۔ بیلونیا کیونکہ پاک بھارت سرحد پر واقع تھا‘ وہاں ایئر فورس بھی مدد کو نہیں آسکتی تھی۔

ان مشکل حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے جنرل رحیم خان نے فیصلہ کیا کہ پاک آرمی کی ایڈوانس جاری رکھنے کا واحد طریقہ کمانڈو ایکشن ہے مگر اس کارروائی کے لئے تو باقاعدہ ایک کمانڈو فورس اور زیادہ تعداد میں ہیلی کاپٹر چاہئیں تھے اور ائرفورس کی مدد کی بھی اشد ضرور ت تھی۔ مگر اُس وقت ہیلی پیڈ پر صرف ایک ہی ہیلی کاپٹر تھا اور کوئی بھی کمانڈوز نہ تھے۔ علاوہ ازیں 30 کے قریب شدید زخمی فوجی طبی امداد کے منتظر تھے۔ دوسرے ہیلی کاپٹر کو میجر علی قلی خان اور میجر پیٹرک کی قیادت میں ڈھاکہ سے فینی طلب کر لیا تاکہ زخمیوں کو محاذ سے ڈھاکہ سی ایم ایچ میں پہنچایا جائے اور اگلے مشن کے لئے تیار رہیں۔ دریں اثنا بریگیڈ کمانڈر نے میجر لیاقت بخاری کو چٹاگانگ کی پہاڑیوں‘ محل چری اور رنگا متی سے جتنے بھی کمانڈوز مل سکیں‘ لانے کا حکم دیا۔ کیونکہ وہ سب ہی نہایت حساس پوسٹ پر متعین تھے جن کو کسی بھی حالت میں خالی نہیں چھوڑا جاسکتا تھا۔ ان کی جگہ چکمہ قبیلہ کے بااعتماد شہر‘ پہنچانے کے لئے کہا۔ چٹا گانگ کی پہاڑیوں میں جو میلوں میل پھیلی ہوئی تھیں‘ ایسی بہت کم جگہ تھیں جہاں ہیلی کاپٹر لینڈ کرسکتا مگر اس کام کو ہر صورت میں شام سے پہلے مکمل کرنا تھا۔ میجر بخاری اور میجر علی جواہر نے صبح سے شام تک مختلف پوزیشنوں سے تقریباً 20 کمانڈوز اکٹھے کر لئے۔ جب ہم آخری مشن مکمل کرکے ہیلی پیڈ فینی پر پہنچے ‘ مجھے جی او سی کا پیغام ملا کہ فوراً آپریشن روم میں بریفنگ کے لئے رپورٹ کروں۔ جہاں جنرل رحیم ‘ بریگیڈ کمانڈر‘ کرنل لطیف اعوان۔4 ایوی ایشن سکاڈرن کمانڈر‘ کرنل شکور جان‘ کمانڈوز بٹالین کمانڈر‘ پہلے سے موجود تھے۔ جونہی میں آپریشن روم میں داخل ہو‘ جنرل رحیم خان نے اپنے مخصوص لہجے میں کہا کہ انہوں نے میرے لئے ایک خاص ہیلی بورن آپریشن پلان کیا ہے‘ کیا میں اس کے لئے تیار ہوں۔ میں نے آرمی ٹریننگ کے مطابق بغیر کسی جھجک یا سوال کے اثبات میں Yes sir کہتے ہو ئے سر ہلا دیا۔

اﷲ تعالیٰ کی مدد اور ہماری خوش قسمتی سے یہ لینڈنگ بھارتی پوزیشن کے عین وسط میں ہوئی۔ اُن کی اگلی پوزیشن اس خیال میں رہی کہ اُن کی پچھلی پوزیشن پر پاکستانی کمانڈوز نے قبضہ کرلیا ہے اور پچھلے مورچے والے سمجھتے رہے کہ اُن کی اگلی صفوں پر پاکستانی فوج نے حملہ کردیا ہے۔ وہ رات بھر ایک دوسرے کو دشمن سمجھ کر آپس میں فائرنگ کرتے رہے۔ اس طرح انہوں نے خود اپنے آپ کو بہت جانی نقصان پہنچایا۔ جبکہ ہمارے کمانڈوز خاموشی سے بیٹھ کر تماشہ دیکھتے رہے۔

جنرل رحیم نے اپنا پلان بتاتے ہوئے آرڈر دیا کہ مجھے رات کی تاریکی میں اپنے صرف دو ہیلی کاپٹرز سے بھارتی انفنٹری پوزیشن جس نے ہمارا ایڈوانس روک دیا تھا‘ کے بیچ اور پیچھے کمانڈوز اور سپاہی اتارنے ہیں۔ پھر یہ ہیلی بورن فورس 24 ایف ایف بٹالین کو دشمن کی زد سے نکالتے ہوئے انہیں ایڈوانس جاری رکھنے میں مدد دے گی۔

اتنے بڑے آپریشن کے لئے جہاں ہمارے پورے بریگیڈ کا ایڈوانس دشمن کی برتری کی وجہ سے رک گیا تھا‘ ایک مناسب و مضبوط کمانڈوز فورس اور زیادہ ہیلی کاپٹرز درکار تھے۔ مگر اس کے برعکس ہمارے پاس صرف دو ہیلی کاپٹرز‘ 24 کمانڈوز اور 24 مختلف جنگوں سے اکٹھے کئے گئے ناتجربہ کار سپاہی ایک لیفٹیننٹ کی قیادت میں ( جو خودبریگیڈ ہیڈکوارٹرز کا رابطہ افسر تھا) دستیاب تھے۔ ہمارے پاس نہ تو آپریشن کے علاقے کے بارے میں کوئی علم تھا اور نہ ہی دشمن کی صحیح طاقت‘ پوزیشن اور ہتھیاروں کی کوئی معلومات تھیں۔

یہ تاریخی اور اپنی نوعیت کا پہلا آپریشن دو نہتے ہیلی کاپٹرز نے رات کی سیاہی میں بغیر کسی روشنی کے دشمن کی مضبوط پوزیشن کے عین وسط میں اُتر کر کرنا تھا۔ میجر لیاقت بخاری اور میجر جواہر نے اندھیرا چھاتے ہی 24 کمانڈوز کو لے کر پہلے ٹیک آف کرنا تھا۔15 منٹ بعد میجر علی قلی اور میجر پیٹرک نے 24 نا تجربہ کار سپاہیوں کے ساتھ پیچھے پیچھے آنا تھا۔

اس مشن کی نوعیت‘ نہایت قلیل و سائل اور فورس کی صلاحیت دیکھتے ہوئے میجر پیٹرک میرے پاس آئے اور کہنے لگے مگر یہ آپریشن کیسے ہوگا؟ ان وسائل کے ساتھ تو ناممکن ہے۔ میں نے بڑے پیار و تحمل سے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ میں اﷲ کا نام لیتا ہوں اور تم خدا اور حضرت عیسیٰ کو یادکرو۔ سب ٹھیک ہوجائے گا۔

یہ ایک ایسا ہیلی بورن آپریشن تھا جسے شاید ہی دنیا کی کسی آرمی نے کیا ہو۔ ویت نام‘ ایران ‘ عراق ‘ جاپان کی کسی بھی بڑی لڑائی میں اس قسم کے ہیلی بورن لینڈنگ کی تاریخی مثال نہیں ملتی۔ اس آپریشن کی اہمیت سمجھتے ہوئے جنرل رحیم خان خود ہیلی پیڈ پر اس کے آغاز کے لئے موجود تھے۔اندھیرا چھاتے ہی میجر لیاقت بخاری اور میجر علی جواہر نے کمانڈوز کیپٹن نادر کے زیرِ کمان لے کر ٹیک آف کیا۔ پانچ منٹ بعد میجر علی قلی خان اور میجر پیٹرک نے دوسرے ہیلی کاپٹر میں 24 جوانوں کے ساتھ پروازکی اور صرف 15 منٹ کی پرواز کے بعد ایک انجانی منزل پر مکمل تاریکی میں دشمنوں کے بیچوں بیچ لینڈ کرکے سپاہ کو دشمن کے درمیان اُتارنا تھا۔

جونہی میجر لیاقت بخاری اور میجر جواہر دشمن کی پوزیشن پر پہنچے تو ہر طرف سے گولیوں کی بوچھاڑ شروع ہوگئی۔ ہیلی کاپٹر کے آگے پیچھے‘ دائیں بائیں شعلے ہی شعلے دکھائی دے رہے تھے۔ دشمن کی اینٹی ایئر کرافٹ توپوں اور مشین گنوں کی اندھا دھند فائرنگ کو نظر انداز کرتے ہوئے اﷲ کا نام لے کر میجر بخاری نے لینڈنگ کا آغاز کیا۔ مشرقی پاکستان کا پورا صوبہ اونچے اونچے درختوں سے بھرا ہوا ہے۔ زمین کے زیادہ تر حصہ میں پانی اور دلدل ہے۔ وہاں اندھیری رات تو کیا‘ اکثر مقامات پر دن کو بھی لینڈ کرنا ممکن نہیں۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے ہیلی کاپٹر اندھیرے کنویں میں اتر رہے ہیں۔ جونہی ہیلی کاپٹر کے پہیوں نے زمین کو چھوا کیپٹن نادر اپنی کمانڈو فورس کے ساتھ باہر کود گئے۔میجر لیاقت بخاری نے فوراً پرواز کرکے میجر علی قلی کے لئے جگہ چھوڑ دی کہ کہیں دوسرے ہیلی کاپٹر کے لینڈنگ کے دوران دونوں رات کی سیاہی میں میں آپس ٹکرا نہ جائیں۔ پہلے ہیلی کاپٹر کے پرواز کرتے ہی میجر علی قلی کا ہیلی کاپٹر بھی اُتر گیا۔ مگر چونکہ اس جہاز میں ناتجریہ کار سپاہی ایک نوجوان لیفٹیننٹ کی قیادت میں تھے‘ جن کا آپس میں اس سے قبل کوئی رابطہ نہ تھا اور نہ ہی ان کو پہلے کبھی ہیلی کاپٹر میں سوار ہونے کا تجربہ تھا‘ باہر کودنے سے ڈر رہے تھے۔ جونہی وہ باہر جھانکتے نیچے پانی اور دلدل کو دیکھ کر اترنے سے گریز کرتے۔ میجر علی قلی اور میجر پیٹرک نے تقریباً 15 منٹ تک ان کو مختلف چھ جگہ پر اُتارنے کی کوشش کی۔ مگر ہر دفعہ انہوں نے یہ کہہ کر وہاں پانی ہے‘ باہر نکلنے سے انکار کردیا۔ بہت سمجھانے کے باوجود کہ یہ سارا علاقہ ایسا ہی ہے وہ اُترنے پر رضامند نہ ہوئے۔ اُنہیں زبردستی اُتارا گیا۔قدرت کی طرف سے ہمیں اس جھجک نے یہ فائدہ پہنچایا کہ دشمن کو غلط فہمی ہوگئی کہ بہت سارے ہیلی کاپٹر مختلف جگہوں پر کمانڈوز اُتار رہے ہیں اور وہ خوفزدہ ہوگئے۔

اﷲ تعالیٰ کی مدد اور ہماری خوش قسمتی سے یہ لینڈنگ بھارتی پوزیشن کے عین وسط میں ہوئی۔ اُن کی اگلی پوزیشن اس خیال میں رہی کہ اُن کی پچھلی پوزیشن پر پاکستانی کمانڈوز نے قبضہ کرلیا ہے اور پچھلے مورچے والے سمجھتے رہے کہ اُن کی اگلی صفوں پر پاکستانی فوج نے حملہ کردیا ہے۔ وہ رات بھر ایک دوسرے کو دشمن سمجھ کر آپس میں فائرنگ کرتے رہے۔ اس طرح انہوں نے خود اپنے آپ کو بہت جانی نقصان پہنچایا۔ جبکہ ہمارے کمانڈوز خاموشی سے بیٹھ کر تماشہ دیکھتے رہے۔

اس ہیلی بورن آپریشن سے بھارتی فوج میں اتنی دہشت پھیل گئی کہ وہ صبح پو پھٹنے سے پہلے اپنے مورچے اور بھاری ہتھیار چھوڑ کر پسپا ہوگئے۔اگلی صبح 24 ایف ایف اور 20 بلوچ نے بغیر کسی مقابلہ اور رکاوٹ کے اپنا ایڈوانس جاری رکھتے ہوئے پورے بلونیا کے علاقے پر قبضہ کرلیا۔

 4 آرمی ایوی ایشن سکواڈرن کے صرف دو ہیلی کاپٹرز کا یہ ایک ایسا مشن تھا جس کی مثال دنیا کی کسی بھی آرمی تاریخ میں نہیں ملتی۔ پاکستانی فوج اور 4 سکوارڈن کے لئے  یہ فخر کا مقام تھا کہ انہوں نے پہلی دفعہ ایسا بے مثال اور دلیرانہ آپریشن کیا۔ دو ہیلی کاپٹروں نے دشمن کے وسط میں لینڈ کرکے اُن کو شکستِ فاش دی۔

یہ تحریر 13مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP