قومی و بین الاقوامی ایشوز

مضبوط دفاع مضبوط معیشت

اس سال چھ ستمبر ایک عرصے کے بعد بڑے قومی اور ملی جذبے کے ساتھ منایا گیا جس کا بنیادی اثر ملکی حالات اور خاص کر امن و امان کی صورتحال اور لاتعداد معاشی مسائل سے دوچار گھرانوں کی ذاتی زندگی اور ملک میں معیشت کا پہیہ چلانے والوں پر اچھاپڑا ہے ۔ ہر طرف ایک سوچ یہ ابھری ہے کہ ’’یہ وطن ہمارا ہے‘‘ یہی ہمارا سہارا ہے اور اسے ہم نے ہی بچانا اور چلانا ہے۔ چھ ستمبر65ٰٓ ء کا وہ جذبہ جو اس وقت کے نوجوانوں کا تھا وہ آج کے جدید ٹیکنالوجی سے وابستہ نوجوانوں میں بھی دیکھ کر اطمینان ہو ا کہ اس ملک کو بچانے اورصحیح سمت میں چلانے والے نوجوان خون کی کوئی کمی نہیں صرف اسے صحیح قیادت کی ضرورت ہے۔ وہ بغیر وردی کے ہو یا وردی والی ‘‘ اسے صرف پاکستان کو 2025کی منزل پر کامیابی سے لے جانے والی قیادت کا انتظار ہے جسے پاکستان کا درد ہو اور اس نے پاکستان بنتے اگر نہیں بھی دیکھا تو کم از کم اس میں وطن کو سنوارنے کی صلاحیت بھی ہو ۔

 

یہاں اس بات سے مراد نوجوان قیادت سے ہے جس کو پاکستان کے معاشی اور سماجی حالات کا درد بھی ہو اور وہ اتنی صلاحیت بھی رکھتی ہو کہ یہاں کے معاشی حالات میں بہتری کیسے لانی ہے، سب کو ساتھ ملا کر اور اداروں کو ساتھ چلا کر ۔تاریخ بتاتی ہے کہ6ستمبر1965کا عرصہ پاکستان کا وہ قابلِ ذکر عرصہ ہے جس میں ہر شخص وطن کے سپاہیوں کے جذبے اور قربانیوں کے ساتھ تھا۔

 

سانحہ پشاور کے بعد واقعی یہ جذبہ قوم میں دوبارہ ابھرا ہے اس کا کریڈٹ پاک فوج کی قیادت اور اس کی بہترین میڈیا ہینڈلنگ اور حکمتِ عملی ہے حالانکہ ان دنوں پاکستان میں سیاسی حکومت ہے، پارلیمنٹ بھی اپنا کام کر رہی ہے، عدلیہ بھی آزادی سے اپنے امور نمٹا رہی ہے لیکن ملک کے داخلی اور خارجی امور خاص کر امن و امان کی بحالی اور معاشی حالات کی بہتری کے لئے دہشت گردوں، انتہاپسندی اور بھارت و اسرائیل سمیت تمام پاکستان دشمن قوتوں کے ایجنٹوں کو ختم کرنے کے لئے فوجی قیادت جس دل جمعی سے کام کرتی نظر آرہی ہے وہ کہیں اور نظرنہیں آرہی۔حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ سب سیاسی اور انتظامی قوتیں اپنے آپ کو نہیں اداروں کو مضبوط بنانے پر اپنی توجہ بڑھائیں اس لئے کہ زندگی کے تمام شعبوں میں ترقی اور وطن کی خوشحالی کے لئے امن ناگزیر ہے۔

 

یہاں جوں جوں امن قائم ہو گا تُوں تُوں غیر ملکی سرمایہ کار یہاں اپنا سرمایہ لے کر آئیں گے ۔ جیسے کراچی کے حالات کی بہتری سے معاشی سرگرمیوں میں نہ صرف کراچی بلکہ پورے ملک میں اس حوالے سے مثبت سگنل مل رہے ہیں۔ اگر حکومت تھوڑی سی توجہ اکنامک گورننس پر بڑھا دے اور قومی وسائل کے ضیاع کو روکنے اور ان کے صحیح استعمال کے لئے اقدامات کر دے تو حالات میں بہتری کی رفتار خود بخود تیز ہوتی جائے گی ۔اسی طرح اب کی بار قوم نے جس ملی جذبے سے 6ستمبر منایا اس کے بعد پاکستان بھر میں ایک اطمینان سا بڑھا کہ اب یہاں حالات بہتری کی طرف جا رہے ہیں‘ اس سے یقینی طور پر ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا‘ اور ان کا یہ خوف دور ہو گا کہ قیامِ امن کی کوششیں صرف کراچی یا وزیرستان تک نہیں، ہر جگہ ہرشعبے میں ہو رہی ہیں اور پاکستان کے عوام وطن کی سلامتی اور اس کے دفاع پر پورا یقین اور بھرپور عزم رکھتے ہیں ۔اس سے بھارت ہو یا اسرائیل سب ملک دشمنوں کوایک واضح پیغام ملا ہے کہ پاکستان کسی بھی جارح ملک کا تر نوالہ نہیں بن سکتا۔یہ پاکستان ایٹمی پاکستان ہے اس کی مسلح افواج اور عوام ایک ہی سوچ اور جذبے کے ساتھ وطن کو بچانے کا بھرپور عزم رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ کسی بھی طرح ملک میں تعلیم اور سستی تعلیم کے فروغ کو یقینی بنانے کی ضرورت اس لئے بڑھ رہی ہے کہ جوں جوں قوم زیور تعلیم سے آراستہ ہوگی تُوں تُوں ملک میں جہالت اور انتہا پسندی کے خاتمے میں مدد مل سکے گی۔

 

دوسری طرف جب معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا تو پھر ملک میں بے روزگاری کے خاتمے سے نوجوانوں کو غلط سمت میں لے جانے والوں کی حوصلہ شکنی ہو گی ۔اس سلسلے میں حکومت اور تمام ریاستی اداروں کو مل جل کر قومی سطح پر فروغ تعلیم اور لازمی تعلیم کی پالیسی کا اجراء کرنا ہو گا جبکہ اس کے ساتھ انرجی کے بحران کو حل کرنے کی حکمتِ عملی میں ہائیڈل انرجی کی پیداوار میں اضافہ اور بجلی چوری کی روک تھام کی بھی اشد ضرورت ہے ۔اس سلسلے میں تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت سے مثبت نتائج اور مقاصد حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس حوالے سے یہ کہا جاتا ہے کہ حکومت اور فوجی قیادت کو صرف دہشت گردی کا چیلنج نہیں انرجی بحران کا چیلنج بھی پیش نظر رکھنا ہو گا اس لئے کہ پاکستان جوں جوں معاشی طور پر بہتر ہو گا اور عوام کو برابری اور مساوات کی بنیاد پر معاشی حقوق ملیں گے تُوں تُوں ملک میں امن کی کوششوں کو فروغ بھی حاصل ہوگاجس سے خوشحال پاکستان میں صرف چند خاندانوں کو نہیں ساری قوم کو اس کے ثمرات مل سکیں گے ۔

[email protected]

یہ تحریر 31مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP