قومی و بین الاقوامی ایشوز

مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال اور پاکستان

مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس کا خطہ اپنے مخصوص جغرافیائی محلِ وقوع کی وجہ سے اگرچہ صدیوں سے قوموں اور سلطنتوں کے درمیان محاذ آرائی اور جنگ و جدل کا میدان رہا ہے لیکن یورپی نو آبادیاتی نظام کے ظہور کے بعد اس خطے کی اہمیت میں متعدد نئی جہتیں شامل ہوچکی ہیں۔ انیسویں صدی کے اختتام پر جب ایشیا اور افریقہ کے بیشتر حصوں کو یورپ کے سات بڑے ممالک نے اپنی نو آبادیوں میں تبدیل کرلیاتھا توعراق سے لے کر مصر تک مشرقِ وسطیٰ کے علاقے سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھے۔لیکن اس کے اردگرد واقع نو آبادیات کے دفاع کے لئے اس کی اہمیت بہت بڑھ چکی تھی۔بیسویں صدی کے شروع ہونے کے ساتھ ہی جب ایران سے تیل کی تجارتی بنیادوں پر پیداوار شروع ہوئی اور اس کے بعد جزیرہ نما عرب کے دیگر حصوں میں بھی تیل دریافت ہونے لگاتو مشرقِ وسطیٰ صرف یورپی طاقتوں کے لئے ہی نہیں بلکہ امریکہ کے لئے بھی ایک انتہائی اہم خطے کی حیثیت اختیار کر گیا۔ اس پر کنڑول حاصل کرنے کے لئے وہ موقع کی تلاش میں تھے۔بالآخر پہلی جنگ عظیم کی صورت میں وہ موقع ان کے ہاتھ آیا چونکہ ترکی نے اس جنگ میں جرمنی کا ساتھ دیا تھا اس لئے برطانیہ نے عربوں کو ترکوں کے خلاف بغاوت پر اُکساکر فلسطین اور عراق پر بالواسطہ قبضہ کر لیا۔ لیگ آف نیشنز کے مینڈیٹ سسٹم کے ذریعے شام اور لبنان فرانس کے کنڑول میں چلے گئے اور اریٹیریا پر اٹلی نے اپنا قبضہ جمالیا۔مشرقِ وسطیٰ کا موجودہ سیاسی نقشہ یورپی طاقتوں کی اسی بندربانٹ کا نتیجہ ہے اور آج مشرقِ وسطیٰ جن مسائل سے دوچار ہے اْن سب کے تانے بانے یورپی طاقتوں کی ان ہی ریشہ دوانیوں اور چالوں سے ملتے ہیں۔ان میں مسئلہ فلسطین بھی شامل ہے جس کی وجہ سے 1948 سے لے کر اب تک عربوں اور اسرائیل کے درمیان چاربڑی جنگیں ہوچکی ہیں اور چھوٹے بڑے تصادم اور جھڑپیں اب بھی جاری ہیں جن میں اب تک ہزاروں فلسطینی شہری جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں، اسرائیل کے ہوائی اور زمینی حملوں میں شہید ہوچکے ہیں۔ ابھی عرب،اسرائیل تنازعہ سے مشرقِ وسطیٰ باہر نہیں نکلا تھا کہ خطے کو مزید غیرمستحکم کرنے کے لئے ’’داعش‘‘ یا

Islamic State in Iraq and Syria

آئی ایس ائی ایس نے سراُٹھا لیا۔روسی ذرائع کے مطابق عراق کے وسیع علاقوں سمیت جن میں تیل پیدا کرنے والے علاقے بھی شامل ہیں کے علاوہ ’’داعش‘‘نے شام کے بھی وسیع علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور اس کے پاس70ہزار مسلح اور تربیت یافتہ جنگجو ہیں۔ ’’داعش‘‘مشرقِ وسطیٰ کے لئے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن کے لئے خطرے کی علامت بن چکی ہے کیونکہ اس کے ایجنڈے میں مشرقِ وسطیٰ سے باہر بھی کئی علاقوں میں اپنی ’’خلافت‘‘قائم کرنے کے منصوبے شامل ہیں۔ اپنے اس ایجنڈے پر عمل درآمد کے لئے’’داعش‘‘نے دہشت گردی کا راستہ اپنایا ہے جس کی مثال پیرس،امریکہ اور دیگر کئی علاقوں میں دہشت گردی کے ایسے واقعات کی صورت میں موجود ہے جن کی داعش نے خود ذمہ داری قبول کی ہے۔

 

مسئلہ فلسطین سے شام کی خانہ جنگی اور ’’داعش‘‘کے ظہور تک مشرقِ وسطیٰ کے امن اور استحکام کے لئے خطرہ بننے والے تمام مسائل پر پاکستان کو برابر کی تشویش لاحق رہی ہے۔کیونکہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ سے جغرافیائی لحاظ سے متصل خطے یعنی جنوبی ایشیا میں واقع ہے ۔ازمنہ قدیم سے لے کر اب تک مشرقِ وسطیٰ میں واقع ہونے والی تبدیلی اور تحریک نے خواہ وہ سماجی ہو،مذہبی ہو یا سیاسی، جنوبی ایشیا ئی خطے کو ہمیشہ متاثر کیا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ جغرافیہ ہے جس کی بنیاد پر دونوں خطوں کے درمیان نہ صرف تجارتی اشیا بلکہ خیالات اور ثقافت کی بھی آمدورفت جاری رہی ہے۔جدید تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ وادی سندھ کی قدیم تہذیب ہڑپہ اور موہنجوداڑو اور مصر اور میسو پوٹیمیا کی تہذیبوں کے درمیان آج سے پانچ ہزار سال پہلے تعلقات قائم تھے۔قدیم شاہراہِ ریشم کے ذریعے جنوبی ایشیا نہ صرف وسطی ایشیا اور چین بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ بھی تجارتی رشتوں میں منسلک تھا۔ یورپی نو آبادیاتی تسلط نے ان رشتوں کو منقطع کر دیا۔ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت اب بری کی بجائے بحری راستوں کے ذریعے ہونے لگی لیکن اس کے باوجود تہذیبی،ثقافتی اور مذہبی رشتے قائم رہے اور ان رشتوں کی بنیاد پر ہی آزمائش کی ہر گھڑی میں خواہ ترکی کیخلاف یورپی اقوام کی جارحیت ہویا مسئلہ فلسطین،برصغیر کے مسلمانوں نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے ہم مذہب لوگوں کا ساتھ دیا۔ اس وقت بھی مشرقِ وسطیٰ ایک دورِ ابتلاء سے گزر رہا ہے۔شام جو کسی زمانے میں عرب قوم پرستی او رعرب سوشلزم جیسی تحریکوں کا مرکز تھا،گزشتہ پانچ برس سے خانہ جنگی کا شکار ہے۔صدر بشارالاسد کی حکومت اور باغیوں کے درمیان خون ریز جھڑپوں کے نتیجے میں ایک اندازے کے مطابق ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ملک چھوڑ کر جو مقامی باشندے ہمسایہ ممالک یا اُن سے آگے دیگر ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے اُن کی تعداد 90 لاکھ کے قریب ہے۔

 

امریکہ، روس، فرانس اور برطانیہ کی طرف سے شام میں ’’داعش‘‘کے ٹھکانوں اور فوجی قافلوں کو ہوائی حملوں کا نشانہ بنانے کے بعد شام کے بحران میں نہ صرف تیزی آچکی ہے بلکہ اب یہ لڑائی محض شام کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک بین الاقومی تصادم کی شکل اختیار کر چکی ہے۔شام کے ہمسایہ ممالک جن میں ترکی،لبنان،اُردن اور عراق شامل ہیں،اس لڑائی سے براہ راست متاثر ہورہے ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ شام کے بحران نے مشرقِ وسطیٰ کے مسلم ممالک کو تقریباًدودھڑوں میں تقسیم کر دیاہے۔ایک دھڑا جس کی قیادت ایران کررہا ہے، صدر بشار الاسد کا حامی ہے جبکہ سعودی عرب ترکی اور مغربی طاقتوں سے مل کر صدر بشارالاسد کے خلاف برسرِپیکار باغیوں کی حمایت کررہا ہے۔ شام کے بحران کو مزید پیچیدہ کرنے میں روس کی طرف سے صدر بشارالاسد کی حمایت اور باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کو بڑادخل ہے۔جب سعودی عرب اور مغربی ملکوں کی طرف سے مالی اور عسکری امداد کے باوجود اپوزیشن صدر بشارالاسد کے خلاف غیر مؤثر ثابت ہوئی تو رپورٹس کے مطابق القائدہ سے منسلک انتہا پسندسُنی عقیدے کے مالک ایک گروپ’’النصریٰ‘‘کی حمایت شروع کر دی گئی۔ داعش نے عراق اور شام میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں اُن کے پیچھے بھی یہی محرک نظرآتا ہے۔

 

’’عرب سپرنگ‘‘کے نام سے سیاسی تبدیلی کی جو لہر آج سے پانچ سال قبل تیونس،لیبیا اور مصر میں شروع ہوئی تھی،اُس نے شام کے بعد خلیج فارس تک پورے جزیرہ نما عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔جس کی گھن گرج دور سے سُنائی دے رہی تھی۔اب وہ طوفان ہماری سرحدوں پر دستک دے رہا ہے۔ پاکستان کی حکومت اور عوام کے سامنے اس وقت سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ شام اور عراق میں غلبہ حاصل کرنے والی انتہا پسند تنظیم’’داعش‘‘اور ایران اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعہ کے اثرات سے ملک کو کیسے محفوظ رکھا جاسکے۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے جغرافیائی قربت اور تاریخی روابط کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کسی بھی فکری اور سیاسی تحریک سے جنوبی ایشیا کا متاثر ہونا ناگزیر ہے۔ پاکستان پر داعش کے جو مضر اثرات مرتب ہورہے ہیں، اُن کا پس منظربھی یہی ہے۔پاکستان کے انتہا پسند عناصر اور دہشت گرد تنظیموں کے ’’داعش‘‘کے ساتھ بڑھتے ہوئے رابطوں کی جو اطلاعات سامنے آئی ہیں،اُن سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں ’’داعش‘‘کے اثرورسوخ اور اُس کے وجود کو قائم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔لیکن یہ امر باعث اطمینان ہے کہ پاکستان کی قومی، سیاسی اور عسکری قیادت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک میں دہشت گردی کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں وہ کسی سمجھوتے یا مصلحت پر تیار نہیں۔پوری قوم کی بھی یہی سوچ ہے اور وہ اپنی حکومت اور قانون نافذکرنے والے اداروں کی مکمل حمایت پر آمادہ ہیں۔ تاہم سعودی عرب اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی شکل میں پاکستان کو ایک نئے اور مشکل چیلنج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں کا پاکستان کے قریبی دوست ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ ایران پاکستان کا برادر اسلامی ہمسایہ ملک ہے جبکہ سعودی عرب کے ساتھ نہایت اہم مذہبی و معاشی تعلقات ہیں۔بیرونی ممالک میں کام کرنے والے پاکستانیوں کی بھیجی ہوئی رقوم فارن ری میٹینسز پاکستانی زرِمبادلہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں اور اس لحاظ سے انہیں پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔اس کے علاوہ سعودی عرب نے ہمیشہ آڑے وقتوں میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ خصوصاً 1998 کے ایٹمی دھماکوں کے بعد جب پاکستان کو امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی طرف سے اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تو یہ سعودی عرب ہی تھا جس نے بعد میں ادائیگی کی بنیاد پر پاکستان کو تیل سپلائی کیا تھا۔ سعودی عرب نے برادار ملک پاکستان کی فلاح اور ترقی میں ہمیشہ گہری دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے اور جب بھی پاکستان کو اندرونی یا بیرونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے سعودی فرمانرواؤں نے پاکستان کی امداد میں کبھی بُخل سے کام نہیں لیا۔

 

دوسری طرف ایران کے ساتھ ہماری نہ صرف مشترکہ جغرافیائی سرحد ہے بلکہ پاکستان اور ایران ہزاروں برس قدیم تہذیبی،ثقافتی،لسانی اور فکری رشتوں میں جُڑے ہوئے ہیں۔گزشتہ 68 برسوں میں پاکستان اور ایران متعدد اندرونی سیاسی تبدیلیوں کے عمل سے گزرے اور خطے میں بہت سے جیو سٹریٹجک اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آئے لیکن ایران اور پاکستان کے تعلقات ان سے متاثر نہ ہوئے۔ 1965 کی جنگ میں ایران نے پاکستان کو جو لاجسٹک امدادفراہم کی، اُسے بھلایا نہیں جاسکتا۔1960 کی دہائی کے آخر میں اور خاص طور پر 1971 کی جنگ کے بعد جب پاکستان کو امریکی امداد تقریباً بند ہوگئی تھی تو اُس وقت یہ ایران ہی تھا جس نے پاکستان کو اشد ضروری مالی امداد فراہم کی۔مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے پاکستانی معیشت کو جو شدید جھٹکا لگا تھا،اُس کی تلافی کے لئے ایران نے پاکستانی مصنوعات کے لئے اپنی منڈیاں کھول دیں تھیں۔ اس لئے پاکستان کے لئے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے کہ ان دونوں میں سے کس کا ساتھ دے۔ دوسری طرف ایران اور سعودی عرب کے درمیان علاقائی بالادستی کے لئے مسابقت پورے خطے، جس میں پاکستان بھی شامل ہے،کے استحکام کے لئے شدید خطرہ ہے۔جیسا کہ امریکی صدر بارک اوبامہ نے اپنے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ،افغانستان اور پاک بھارت خطوں کے علاقائی استحکام کو صرف دہشت گردی سے ہی خطرہ نہیں بلکہ مقامی ملکوں کے درمیان محاذ آرائی یا تنازعات بھی ان علاقوں کے امن کو خاکستر کر سکتے ہیں۔

 

ایران اور سعودی عرب کے درمیان مسابقت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی سے بھی علاقائی امن اور استحکام کو ایک بڑاخطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ اس خطے کا ایک اہم ذمہ دار ملک ہونے کی حیثیت سے پاکستان کی اولین ترجیح ان دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کو کم کروانا ہونی چاہئے اور خوشی کی بات ہے کہ پاکستان نے یہ اعلان کرکے کہ اُس کی فوجوں کو کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر تعینات نہیں کیا جائے گا،ایک درست راستہ اختیار کیا ہے۔اس کے ساتھ ہی پاکستان نے سعودی عرب کی قیادت میں قائم ہونے والے34ملکوں کے اتحاد میں شمولیت کرکے سعودی عرب کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے۔34 ملکوں کا یہ اتحاد ایک ڈھیلا ڈھالا اتحاد ہے اور اس کے پلیٹ فارم سے کسی جارحانہ فوجی اقدام کا کوئی امکان نہیں اس لئے پاکستان کے اس فیصلے کو ایران کے خلاف اقدام سے تعبیر نہیں کیاجاسکتا ۔ لیکن جیسا کہ مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کے قومی اسمبلی میں دئیے گئے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے پاکستانی ڈپلومیسی کا سارازور ایران۔سعودی کشیدگی میں کمی لانا ہے اور اس کے لئے پاکستان نے نہ صرف اپنی خدمات پیش کی ہیں بلکہ او آئی سی وزرائے خارجہ کے ایک سپیشل اجلاس میں بھی پاکستان نے اس مقصد کے لئے بھر پور کردار اداکرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان کی موجودہ سیاسی و عسکری قیادت کا ایک ساتھ سعودی عرب اور ایران کا حالیہ دورہ اسی کشمکش کو کم کرنے کے لئے ایک قابل تحسین کاوش ہے۔ امید ہے کہ اس عمل سے دور رَس مثبت نتائج حاصل ہوں گے۔34 ملکوں کے اتحاد کے فریم ورک میں اگر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے خفیہ معلومات کا تبادلہ ہوتا ہے یا دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان تعاون میں اضافہ ہوتا ہے،تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ پاکستان نے سعودی عر ب کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لئے اپنے پورے عزم کا اعلان کیا ہے تاہم یہ تعاون سختی سے دوطرفہ بنیادوں پر ہو گا اور کسی تیسرے ملک کے خلاف اسے استعمال نہیں کیا جائے گا۔کیونکہ ایسا کرنا پاکستان کی دیرینہ پالیسی کی نفی ہے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ پاکستانی عوام اس کی کبھی اجازت نہیں دیں گے۔


پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد خان یونیورسٹی آف سرگودھا میں شعبہ بین الاقوامی تعلقات و سیاسیات کے چیئرمین ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 85مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP