خصوصی رپوٹ

مشترکہ ٹریننگ ۔ مشترکہ حکمت عملی۔

پاکستان اور روس کی پہلی مشترکہ جنگی مشقوں کے بارے میں سپیشل سروسز گروپ کے تربیتی مرکز چراٹ سے صبا زیب کی خصوصی رپورٹ

پہاڑوں میں گونجتی ہوئی گاڑی کی آواز اور اس کی بازگشت بل کھاتے راستوں میں دل کی دھڑکن کو مزید تیز کر رہی تھی۔ اپنے ملک کے ایس ایس جی کے جوانوں کو دیکھنے کی خواہش اور جوش دل و ماغ کو کسی اور ہی دنیا کی سیر کروا رہا تھا۔ کانوں میں ابھی سے اپنے ہی کمانڈوز کے بوٹوں کی دھمک اور ’’من جانبازم‘‘ کی گونج ان پہاڑوں میں سنائی دے رہی تھی۔ دل چاہ رہا تھا کہ یہ راستے جلد از جلد ختم ہو جائیں اور میں ان جوانوں سے ملوں، جو اس ملک کی خاطر جان ہتھیلی پر لئے پھرتے ہیں جن کی زندگی کا مقصد صرف ملک کی خاطر کچھ کرگزرنا ہے۔ آج ہم چراٹ جا رہے تھے جہاں پاکستان اور روس کے فوجی جوان مشترکہ فوجی مشقیں کر رہے تھے۔ ہمارا یہ مختصر قافلہ یوسف عالمگیرین (ایڈیٹر ہلال اردو)، ماریہ خالد (ایڈیٹر ہلال انگلش)، راقم (ڈپٹی ایڈیٹر ہلال اردو) پر مشتمل تھا۔ چراٹ کو دیکھنے کی خواہش بہت عرصے سے تھی کیونکہ یہاں پاکستان کے سپیشل سروس گروپ (ایس ایس جی)کا بیس کیمپ تھا۔ چراٹ کو 1956 میں ایس ایس جی کے قیام کے بعد ’کمانڈوز کے گھر‘ کا درجہ ملا لیکن اس سے پہلے آرمڈ کور کے بوائز ونگ نے بھی کچھ عرصہ یہاں قیام کیا۔ چراٹ میں سپیشل سروس گروپ نے جہاں اپنے ملک کے جوانوں کی تربیت کی وہاں بہت سی غیرملکی فوجوں کو بھی اپنی مہارتیں سکھائیں۔ روسی حکومت نے بھی پہلی بار اپنے فوجی جوانوں کو پاکستان کے اس پہاڑی مقام پر مشترکہ فوجی مشقوں کے لئے بھیجااور پاکستان نے بھی ان کا دل سے استقبال کیا۔ایسے وقت میں جہاں انڈیا امریکہ کے ساتھ مل کر خطے میں طاقت کے توازن میں بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے وہاں پاکستان اور روس کی یہ مشترکہ فوجی مشقیں خطے میں امن لانے کی طرف ایک اچھی پیش رفت ہے۔ ماضی میں پاکستان کی طرح روس کو بھی علاقائی دہشت گردی کا سامنا رہا ہے۔ لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان مشقوں کے ذریعے خطے میں دہشت گردی کے واقعات کو بھی کم کرنے میں خاصی مدد ملے گی۔
پاک روس مشترکہ مشقوں کی اہمیت کے پیش نظر ہلال کی ٹیم نے فیصلہ کیا کہ ان مشقوں کو دیکھا جائے اور قارئین کو بھی ان مشقوں کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا جائے نیز یہ بھی بتایا جائے کہ روسی فوجیوں کے شب و روز یہاں، پاکستان میں، کیسے گزر رہے ہیں۔


مشترکہ مشقوں کے لئے آئے ہوئے روسی فوجیوں میں تقریباً15مسلمان فوجی بھی شامل ہیں۔ ہمارے 
Liaison Officer
اور ایس ایس جی ٹریننگ کے ذمہ دار افسر لیفٹیننٹ کرنل سجاد نے ہمیں بتایا کہ ان مشقوں کے دوران ہم ایک دوسرے سے چھوٹے پیمانے پر ایکشن لینا، پہاڑوں میں جنگی تربیت اور ایریا کلیئرنس کے علاوہ ایک دوسرے سے ٹارگٹس کو نشانہ لگانے کی مختلف ٹرکس کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے ہتھیار بھی استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان مشقوں میں جسمانی فٹنس کی مشقیں، ہدف کو نشانہ بنانے،رسی کے ساتھ اور بغیر رسی کے، ہیلی کاپٹر سے چھلانگ، شامل ہیں۔ کرنل سجاد نے بتایا کہ اس ٹریننگ کا مقصد دونوں ممالک کی فوجوں کو ایک دوسرے کی جنگی مہارتیں سکھانا ہے۔ اس کے علاوہ اس ٹریننگ کے آخری روز پاکستان ایئرفورس کو بھی اس ٹریننگ کا حصہ بنایا جائے گا۔ ہم لیفٹیننٹ کرنل سجاد سے باتیں کر رہے تھے کہ اچانک میری نظر تھوڑے فاصلے پر روسی اور پاکستانی فوجیوں پر پڑی جو جمگھٹا بنا کر کھڑے تھے۔ اپنی ساتھی ماریہ (انگلش ایڈیٹر) کی توجہ اس طرف دلائی اور ہم فوراً ہی اس طرف چل پڑے۔ وہاں پہنچ کر دیکھا کہ ایک روسی فوجی زمین پر لیٹا ہوا تھا اور دو روسی فوجی اپنے سینئر فوجی کی ہدایات پر اس لیٹے ہوئے فوجی کو رسیوں سے ایک مخصوص انداز میں باندھ رہے تھے۔ ہمارے کچھ فوجی جوان بھی انہیں دیکھ رہے تھے۔ ہمارے پوچھنے پر ایک روسی مترجم نے ہمیں بتایا کہ ہم زخمی فوجی کو پہاڑوں سے نیچے محفوظ طریقے سے ایسے ہی لے کر جاتے ہیں۔ اگر ہمارے پاس یہ رسیاں موجود نہ ہوں تو ہم
Sleeping bags
استعمال کرتے ہیں۔ باندھے جانے والے فوجی کا ایک ہاتھ رسیوں سے باہر تھا جس کا مقصد خون کے بہاؤ میں روانی تھی۔ ہمارے فوجی رسیوں کی بجائے بانس اور لکڑی استعمال کرتے ہیں ۔روس چونکہ سرد علاقہ ہے وہاں لکڑی اور بانس نہیں ملتے اس لئے رسی استعمال کی جاتی ہے۔ اسی دوران ہمارے مترجمین صوبیدار نصیر احمد اور نائب صوبیدار محمد ریاض نے ہمیں بتایا کہ ان مشقوں کے دوران ایک روسی فوجی بیمار ہو گیا اور جب اسے ہسپتال لے جایا گیا تو اس نے کہا کہ مجھے واپس مشقوں والی جگہ پر لے کر جاؤ میں یہاں آرام کرنے نہیں آیا بلکہ کچھ سیکھنے آیا ہوں۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ یہ روسی فوجی بہت محنتی ہیں اور ان کا اخلاق بھی بہت اچھا ہے اور واقعی جب ہم نے ان سے بات کرنا شروع کی تو ہمیں ان سے بالکل بھی اجنبیت محسوس نہیں ہوئی۔ ان کے چہروں سے ہی ان کی خوشی کا اندازہ بآسانی لگایا جا سکتا تھا۔ وہاں پر موجود ہر جوان پر جوش اور پُراعتماد نظر آ رہا تھا روسی کمانڈر اور کرنل سجاد کی ایک میٹنگ کا وقت تھا۔ اس لئے ہم نے سوچا کہ پہلے جوانوں سے بات کی جائے لہٰذا ہم نے وہیں کھڑے کھڑے روسی جوانوں سے بات چیت کرنا شروع کر دی۔ آندرے نے جو کہ روس کی فوج میں ایک سارجنٹ کے عہدے پر ہے، ہمیں بتایا کہ اسے یہاں پر آنا بہت ہی اچھا لگا۔ یہاں کے لوگ اور خاص طور پر یہاں کے فوجی بہت اچھے ہیں۔ ان کی ضیافت اور مہماں داری مجھے بہت پسند آئی ہے۔


رجب علی بھی روسی فوج میں ایک سارجنٹ ہے کا کہنا تھا کہ یہ مشترکہ مشقیں ہمارے لئے بہت فائدہ مند ہیں اور یہ ایک اچھا تجربہ ہے۔ اس طرح کی مشقیں آئندہ بھی ہونی چاہئیں۔ رجب علی نے بتایا کہ اس نے اس ٹریننگ میں بہت سی نئی چیزیں سیکھیں۔ خاص طور پر ایک مخصوص جمپ جسے پاکستان میں ٹائیگر جمپ کہا جاتا ہے۔ رجب علی نے کہا کہ وہ اس جمپ کو اپنی ٹریننگ میں باقاعدہ شامل کرے گا۔ پاک روس مشترکہ مشقوں کے حوالے سے ہماری روسی فوجیوں کے بریگیڈ کمانڈر کرنل
Dmitriev 
Sergie Alexandrovich
سے بھی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ میرے لئے بہت خوش نصیبی کی بات ہے کہ میں پاکستان میں اپنے ملک کی نمائندگی کر رہا ہوں۔ ہمارا مقصد آپس میں اچھے تعلقات قائم کرنا ہے۔ پاکستانی فوجیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ لوگ بہت اچھے تربیت یافتہ ہیں اور ان کا رویہ بھی ہمارے ساتھ نہایت پیشہ ورانہ ہے۔ ان کے اخلاق نے بھی ہمیں بہت متاثر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے حالات کے بارے میں میرے خیالات ہمیشہ سے مثبت رہے ہیں۔ یہ صرف میڈیا پروپیگنڈا ہے جس نے پاکستان کا تاثر اتنا غلط دیا ہوا ہے جبکہ یہاں آ کر میرے خیالات پاکستان کے بارے میں مزید مثبت ہو گئے ہیں۔ یہاں ہمارے لئے خاص طور پر اتوار کے دن چرچ میں عبادت کا انتظام کیا گیا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ اقلیتوں کو ان کی عبادت گاہوں میں جانے سے منع نہیں کرتے بلکہ انہیں آزادی سے عبادت کرنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ مشترکہ فوجی مشقوں کے حوالے سے 
Dmitriev Sergie
نے کہا کہ یہاں کے سولجرز پیشہ ورانہ انداز سے تربیت دے اورلے رہے ہیں۔ ویسے تو زیادہ تر مشقیں پوری دنیا میں ایک جیسی ہوتی ہیں لیکن کچھ مشقیں جگہوں کے لحاظ سے منفرد ہوتی ہیں۔ لہٰذا ہم نے یہاں چراٹ کے علاقے میں بہت سی منفرد ٹیکنیکس سیکھی ہیں۔ یہاں کے انسٹرکٹرز اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں کافی مہارت رکھتے ہیں۔ اس لئے ہم ان سے بہت کچھ سیکھ رہے ہیں اور بدلے میں انہیں بھی سکھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں بھی ایسی مشقیں ہونی چاہئیں ۔ یہ دونوں ممالک، پاکستان اور روس کی، مشترکہ فوجی مشقیں اس خطے کے لئے ایک بہت بڑا بریک تھرو ہے۔ مجھے امید ہے کہ ہمارے باہمی تعاون سے ہمیں دہشت گردوں سے نپٹنے میں آسانی ہو گی اور امن ضرور قائم ہو گا۔ موجودہ مشترکہ فوجی مشقیں روس اور پاکستان کو قریب لے آئی ہیں اور خطے میں ایک توازن کی فضا قائم ہو رہی ہے جو اس خطے کے تمام ممالک میں امن کی صورت حال بہتر کرنے میں معاون ثابت ہو گی۔ میں چاہوں گا کہ پاکستانی فوج کے جوان بھی ہمارے ملک میں آئیں۔ ہم انہیں ضرور خوش آمدید کہیں گے۔ یہاں کے کلچر کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ہمارے ملک میں بھی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور ہماری فوج میں بھی کافی مسلمان موجود ہیں۔ لہٰذا یہاں کے لوگوں کا رہن سہن ہمارے لئے اجنبی نہیں ہے۔ 
بریگیڈکمانڈر سے بات کرنے کے بعد ہم نے روسی اور پاکستانی نوجوانوں کی مشقیں دیکھنے کا ارادہ کیا۔ ان جوانوں کو تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ایک گروپ پہاڑ پر چڑھنے کی مشق میں مصروف تھا دوسرا گروپ پہاڑ میں چھپے دہشت گردوں کی تلاش کی تیاری میں تھا اور تیسرا گروپ 
Fighting in Builtup Area
یعنی کسی آبادی میں چھپے ہوئے دشمن کو ڈھونڈنے کی تیاری میں تھا۔ سب سے پہلے ہم نے فوجی جوانوں کی پہاڑ پر چڑھنے کی مشق دیکھی۔ دونوں ملکوں کے فوجی جوان بڑی مہارت اور پھرتی کے ساتھ پہاڑ پر کمند کی مدد سے چڑھے ۔ کچھ دیر بعد دو دو اور تین تین کی ٹولیوں میں اپنی مہارتیں دکھاتے ہوئے برق رفتاری سے فائرنگ کرتے ہوئے پہاڑ سے نیچے اترے۔ ایک گروپ پاکستان اور روس کے پرچم بھی اپنے ساتھ اوپر سے نیچے لایا۔ اس کے بعد ہلال ٹیم کو اس جگہ لے جایا گیا۔ جہاں دونوں ممالک کے فوجی جوان
Ambush
کرنے کی مشقوں میں مشغول تھے۔ایکسرسائز کی جگہ پہنچے جہاں دوسرے گروپ نے پہاڑ میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کی تیاری مکمل کی ہوئی تھی۔ اس آپریشن میں کچھ فوجی جوان سڑک کی اطراف میں چھپ کر دہشت گردوں کی گاڑی کا انتظار کرنے لگے۔ اچانک گاڑی ایک موڑ سے نمودار ہوئی اور چھپے ہوئے فوجیوں نے اس گاڑی پر اچانک حملہ کیا۔ اس وقت دہشت گردوں نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے کچھ فوجیوں کو مارگرایا۔ لیکن پھر بھی دہشت گردوں پر فوجیوں نے قابو پا لیا۔ یہ مشق اتنی حقیقی لگ رہی تھی کہ اگر ہمیں پہلے سے معلوم نہ ہوتا کہ اس میں بلینک فائر استعمال کیا گیا ہے تو ہم کبھی بھی یہ سب اتنے قریب سے نہ دیکھتے۔اسی طرح تیسری ایکسرسائیز جو گھر کو دشمنوں سے کلیئر کرنے کی تھی۔ اس مشق کے لئے ان فوجی جوانوں نے مٹی اور اینٹوں سے گھر بنائے ہوئے تھے۔ جن میں انہوں نے یہ مشق کامیابی کے ساتھ پوری کی۔ پاکستانی فوجی تو تھے ہی ہمارے اپنے لیکن روس کے فوجیوں کے ساتھ بھی اجنبیت کا احساس تک نہیں ہوا۔ ان فوجیوں سے ملاقات ہمارے لئے خاص طور پر ایک منفرد تجربہ تھا۔ ہم نے اپنے میزبان میجر کفیل کا شکریہ ادا کیا اوراس احساس تفاخر کے ساتھ چراٹ سے واپس روانہ ہوئے کہ ہماری افواج پاکستان اور بالخصوص ہمارے سپیشل سروسز گروپ کے جوان دنیا بھر کی کسی بھی پیشہ ورانہ جدید ہتھیاروں سے لیس افواج سے

چنداں کم نہیں۔ اور ہم اس احساس کے ساتھ بھی واپس آئے کہ ہماری پیشہ ور افواج کے ہوتے ہوئے کوئی بھی دشمن پاکستان کی جانب میلی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا کہ پاکستان خطے کے ایک اہم اور مضبوط ملک کے طور پر سامنے آیا ہے جو اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا بخوبی جانتا ہے۔

یہ تحریر 83مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP