قومی و بین الاقوامی ایشوز

مسئلہ کشمیر، چند تاریخی حقائق

جنت نظیر وادئ کشمیر کے بارے میں زبانِ زد عام سیکڑوں کہانیوں اور کہاوتوں سے قطع نظر تاریخی طور پر یوسف شاہ چک وہ آخری کشمیری حکمران تھا جسے مغلوں نے شکست دے کر کشمیر فتح کیا۔ جب18ویں صدی عیسوی میں مغلیہ شہنشاہیت کا سورج غروب ہونے لگا تو افغانوں نے درانی عہد میں کشمیر ان کے ہاتھوں سے چھین لیا۔ بعد میں یہی افغان سکھ فوج سے شکست کھا گئے اور یوں کشمیر پر سکھوں کی حکومت قائم ہوگئی۔ انگریز ایسٹ انڈیا کمپنی کے بہروپ میں ہندوستان میں اپنے قدم جما چکے تھے۔ سامراجی عزائم کے تحت انہوں نے جب کشمیر پر حملہ کیا تو سکھ ان سے شکست فاش کھانے پر مجبور ہوگئے لیکن انگریزوں کو دقت یہ پیش آئی کہ وہ اس خوبصورت وادی کا کیا کریں گے کیونکہ اس وقت ان کے پیشِ نظر بر صغیر پر مکمل قبضہ کرکے یہاں کے وسائل کو لوٹ کھسوٹ کرکے جدید صنعتی انگلستان کی ترقی یقینی بنانا تھا۔ اسی باعث انہوں نے سکھوں سے بطور خراج وادی کے عوض ڈیڑھ کروڑ روپے کا مطالبہ کیا لیکن سکھ اتنی بڑی رقم کا بندوبست نہ کر سکے اور وادی کا قبضہ انگریزوں کو دے دیا۔انگریز سکھ جنگ کے دوران ایک سکھ جرنیل نے اپنی قوم سے غداری کا ارتکاب کرتے ہوئے انگریزوں کی مدد کی تھی جس کے باعث انگریز جنگ جیتنے میں کامیاب رہے تھے اس لئے انگریزوں نے اس غدار سکھ جرنیل کو نوازنے کے لئے بدنام زمانہ معاہدے کے تحت16 مارچ 1846 کو جنت ارضی اور اس میں بسنے والے لاکھوں زندہ انسانوں سمیت محض 75 لاکھ نانک شاہی سکوں کے عوض بیچ دی۔ اس غدار سکھ جرنیل کا نام گلاب سنگھ تھا جو کہ ڈوگرہ قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا۔ گلاب سنگھ (1846-1857)کے بعد رنبیر سنگھ (1857-1885)، پرناب سنگھ (1885-1925) اور ہری سنگھ (1925-1949) حکمران بنے۔ تقسیم بر صغیر کے وقت آخر الذکر مہاراجہ ہری سنگھ کشمیر کا حکمران تھا جس کی نا عاقبت اندیشی اور جاہلیت کے باعث آج تک کشمیر جنت ارضی ہو کر بھی بھارتی افواج کی دہکائی ہوئی دوزخ میں جل رہا ہے۔ اس بارے میں تفصیلی روشنی ڈالنے سے پہلے کشمیر کا جغرافیہ اور اس کی تزویراتی اہمیت کا اجمالی تذکرہ کر دیا جائے تو مناسب معلوم ہوگا۔ ریاست جموں و کشمیر بنیادی طور پر 7 بڑے ریجنوں پر مشتمل رہی ہے۔

وادی کشمیر، جموں، کارگل، لداخ، بلتستان، گلگت اور پونچھ شامل ہیں۔ جن میں ان کے علاوہ درجنوں چھوٹے چھوٹے ریجنز بھی موجود ہیں جن کو ملا کر ریاست کا کل رقبہ84ہزار471مربع میل بنتا تھا۔ یہ ریاست دنیا کے تین عظیم الشان پہاڑی سلسلوں یعنی قراقرم، ہمالیہ اور کوہ ہندو کش سے منسلک تھی۔ جغرافیائی اعتبار سے بھی کشمیر اس مقام پر واقع ہے جہاں پر اس کی سرحدیں دنیا کے اہم ملکوں یعنی پاکستان، بھارت، چین اور افغانستان سے بھی ملتی ہیں۔

14اگست 1947 کو پاکستان معرض وجود میں آیا ۔ 15 اگست کو مہاراجہ ہری سنگھ نے

Stand-Still Agreement

پیش کیا۔پاکستان نے اسے بلا تامل قبول کر لیا لیکن بھارت نے روایتی مکاری کے سبب اس کو قبول نہ کیا۔ حقیقت یہ تھی کہ مہاراجہ اور بھارتی حکومت نے آپس میں مکارانہ ساز باز کر رکھی تھی اس لئے کشمیر کی ریاست اپنے مسلمان عوام پر بالخصوص مظالم کے پہاڑ ڈھاتی تھی۔ کشمیری مسلمانوں نے جب اس جبر کے خلاف آواز اٹھائی تو مہاراجہ ہری سنگھ کی فوج اور پولیس نے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیئے اور بے دریغ قتل عام کیا۔ اس پر محسود اور آفریدی قبائل کے جانباز جنگجوؤں نے اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کے لئے وادی میں گھس کر جہاد شروع کر دیا اور 22 اکتوبر 1947 کو جب بحران پونچھ شروع ہوا تو وہ بارہ مولا تک پہنچ گئے ۔بزدل مہاراجہ نے گھبرا کر بھارت سے مدد مانگ لی۔جس پر پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق بھارت نے الحاق کا مطالبہ کر دیا ۔مہاراجہ نے سازباز کے عین مطابق وادی کے عوام کی رائے کے بالکل برعکس وادی کا الحاق بھارت سے کردیا۔ جس کو جواز بنا کر پہلے سے تیار بیٹھی بھارتی افواج فوراً وادی میں گھس گئی اور بدترین قتل و غارت گری شروع کر دی ۔ بعض اہم محققین کے مطابق بھارتی فوج الحاق کے اس ڈاکومنٹ پر دستخط سے پہلے ہی کشمیر میں داخل ہو چکی تھی جو کہ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے جس پر بعد میں پاکستان اور بھارت کی جنگ چھڑ گئی ۔ پاکستانی افواج نے کشمیری مجاہدین کی مدد سے آزاد کشمیر کا علاقہ واگزار کرا لیا جبکہ گلگت بلتستان نے پاکستان سے الحاق کے لئے اپنی جنگ خود لڑی۔ ابھی یہ جنگ جاری تھی کہ بھارت کو صاف لگا کہ وادی اس کے ہاتھ سے نکل جائے گی تو وہ بھاگم بھاگ روتا پیٹتا یکم جنوری 1948 کو اقوام متحدہ جا پہنچا اور جنگ بندی کی اپیل کر دی ۔ 17جنوری کو سلامتی کونسل نے جنگ بندی کی قراد داد پاس کردی۔ جنگ بند ہوگئی۔ لائن آف فائر سیزفائرلائن قرار پائی۔20 جنوری کو پاکستان بھارت کمیشن بنا دیا گیا ۔ 5 اگست 1948 اور یکم جنوری 1949 کی قراردادوں کی روشنی میں پوری ریاست کشمیر کو متنازعہ علاقہ قراد دیا گیا ۔ کمیشن نے بھی اپنی سفارشات پیش کیں جس کی رو سے دونوں ممالک کو اپنی اپنی افواج کو وادی سے نکال لینے کا کہا گیا تاکہ کشمیر میں آزادانہ حق خود ارادیت کے انعقاد کو یقینی بنایا جا سکے ۔ پاکستان نے اس بات کو قبول کیا لیکن بھارت نے روایتی چالاکی و مکاری کا مظاہرہ کیا اور لیت و لعل سے کام لیا۔اقوام متحدہ کی 17 اپریل 1948، 13اگست 1948، 5جنوری 1949 اور 23 دسمبر 1952 کی قراردادوں کے تحت کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے اور قرار یہ پایا کہ استصواب رائے کے تحت کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے دیا جائے گا۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ مہاراجہ کی پیش کردہ جس دستاویز کے تحت بھارتی افواج کشمیر میں گھس گئی تھیں اس دستاویز کی بھی بنیادی ترین شق یہ تھی کہ جونہی کشمیر سے مسلمان قبائلی جنگجوؤں کو نکالا جائے گا تو بھارتی افواج بھی کشمیر کو خالی کر دیں گی۔

 

تب کشمیر میں بذریعہ ریفرنڈم عوام کی رائے معلوم کی جائے گی جس کے مطابق فیصلہ کر دیا جائے گا ۔لیکن ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہیے کے مصداق چاہے وہ دستاویز ہو یا اقوام متحدہ کی پاس کردہ قراردادیں، بھارت نے کسی ایک کو بھی درخوراعتنا نہیں جانا بلکہ ہٹ دھرمی اور بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیری عوام کا استحصال جاری رکھے ہوئے ہے اور ریاستی اداروں کی بربریت اور سفاکیت کی وہ مثالیں قائم کی ہیں کہ دنیا چنگیز خان اور ہلاکو خان کی درندگی بھول بیٹھی ہے۔ یکم جنوری 1949 کو بھارت پاک جنگ کا سیز فائر ہوا۔65% رقبے پر بھارت نے قبضہ کر رکھا ہے جبکہ باقی ماندہ حصہ پاکستان کے زیر انتظام ہے۔ 1971کی جنگ کے بعد شملہ معاہدہ کے تحتسیزفائر لائن کو ہی لائن آف کنٹرول کا درجہ دے دیا گیا ۔1957 میں بھارت نے اقوام متحدہ کی تمام قراردادوں اور مسلمہ و مروجہ بین الاقوامی ضابطوں اور اصولوں کو نہایت بے شرمی کے ساتھ پس پشت ڈال کر اپنے دستور میں ترمیم کردی اور شق 370 کے تحت کشمیر کو دستور کا حصہ بنا کر اسے خصوصی حیثیت دے دی ۔جس کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کی سیاسی مخاصمت میں اضافہ ہوگیا جو بالآخر 1965 کی جنگ کا سبب بنا۔یکم فروری 1966 کو معاہدہ تاشقند ہوا اور جنگ بندی ہوگئی۔ 1971 کی جنگ براہ راست کشمیر کے مسئلے کے باعث تو نہیں ہوئی لیکن اس کے تانے بانے اسی پیچیدہ مسئلے سے بھی جڑے ہوئے تھے۔ بھارت نے اپنی روایتی کمینگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشرقی پاکستان میں ننگی جارحیت کا ارتکاب کیا اور یوں پاکستان کا مشرقی بازو اس سے علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش کے نام سے ابھرا۔ 1947 سے 1980 تک پھر 1980 سے 1989 تک بھارت نے کشمیر میں مکروہ سیاسی کھیل کھیل کر کشمیری عوام کو بہلانے پھسلانے کے کئی گھناؤنے حربے استعمال کئے لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا کشمیری عوام پر بھارتی بدنیتی کھلتی چلی گئی اور وہ اس گندے کھیل کو بہتر طور پر سمجھنا شروع ہوگئے۔ بھارت نے اس دوران وہاں کے ابن الوقت سیاست دانوں کو خرید کر کٹھ پتلی حکومتیں بنائیں لیکن وہ عوام کے دل جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ۔1989 میں کاروان آزادی کچھ ایسی آن بان اور شان سے از سر نو عازم،منزل،آزادی ہوا کہ ساری دنیا اپنی آنکھیں مل مل کر دیکھنے پر مجبور ہوگئی۔آزادی کے متوالوں نے سر پر کفن باندہ لئے اور اس راہ دشوار کی ہر تکلیف کو نہایت خندہ پیشانی سے برداشت کرنے لگے۔دوسری طرف بھارتیوں نے اپنی درندگی اور سفاکیت کی انتہا کردی۔ آٹھ لاکھ فوج تعینات کر کے اس کو ہر طرح کے ستم کی کھلی چھٹی دے دی۔ جس نے ہزاروں عفت مآب خواتین کی عصمت دری کے نہایت مکروہ اور گھناؤنے فعل کا ارتکاب کیا اور نوجوان کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلی۔ بچوں،بوڑھوں الغرض ہر طبقہ فکر کے لوگوں کی جان و مال کو فوجی بوٹوں اور بندوقوں کی سنگینوں پر رکھے ہوئے ہے۔ کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں۔

 

سترہ سال پہلے ایک بار پھر یہی مسئلہ کشمیر چوتھی پاک بھارت جنگ یعنی جنگ کارگل کا سبب بنا۔اس جنگ میں کافی جانی و مالی نقصان ہوا۔ مئی 1998 میں دونوں ممالک ایٹمی دھماکے کر کے ایٹمی ملک بن چکے ہیں۔جبکہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پرجُوں کا تُوں موجود ہے ۔یہ دنیا کا وہ واحد مسئلہ ہے جو 69 برس گزر جانے کے بعد بھی حل نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات نہایت پیچیدگی کا رخ اختیار کر گئے ہیں۔ یوں پوری دنیا ایک ممکنہ ایٹمی جنگ کے سنگین خطرے سے دوچار ہوگئی ہے۔ یہ سرحدی تنازعہ نہیں بلکہ لاکھوں زندہ انسانوں کے بنیادی حقوق کی بات ہے۔ایک طرف غاصب بھارتی افواج ہیں جو لاکھوں کشمیریوں کو ریاستی دہشت گردی کے تحت غلام بنانے پہ تلی ہوئی ہیں اور ایک لاکھ سے زائد کشمیری جوانوں کا قتل بھی کر چکی ہیں۔ اس کے علاوہ مالی نقصان اور املاک کے نقصان کا کچھ حساب و شمار نہیں۔ تازہ ترین بہیمانہ تشدد کے واقعات میں بے گناہوں کا ماورائے عدالت قتل عام کیا جا رہا ہے اور اس وقت پوری وادی بھڑکتی ہوئی دوزخ بنا دی گئی ہے۔ جبکہ ان سارے دہشت گردانہ اقدامات کے باوجود کشمیری بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں اور ان کے جذبہ حریت کو سرد نہیں کیا جا سکا۔انتہا تو یہ ہے کہ خود بھارتی سیاستدان بھارتی حکومت پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔گانگریسی رہنما راہول گاندھی بے اختیار چیخ اٹھا کہ خدا مودی کو جہالت سے نجات دے۔ یہی وہ بھارتی جہالت اور دہشت گردی پر مبنی کارروائیاں ہیں جنہوں نے جنت ارضی کو دوزخ بنا رکھا ہے اور وہ پچھلے 69 سالوں سے کشمیریوں کے جان و مال سے سنگین کھیل کھیل رہے ہیں اور کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقِ خودارادیت، دینے سے انکاری ہیں۔ حالیہ بدترین ریاستی تشدد پر او آئی سی سمیت اقوام عالم کے سب سے بڑے ادارے کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی آواز بلند کی ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کیا جائے۔ غیور کشمیری عوام نے لاکھوں جانوں اور عصمتوں کی بے مثال قربانیاں دے کر دنیا کو بتلا اور دکھلا دیا ہے کہ وہ اپنے بنیادی انسانی حق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ چاہے انہیں اس کی کتنی ہی قیمت چکانی پڑے۔ پاکستان کشمیریوں کی تحریک کو بنیادی انسانی حقوق کی تحریک سمجھتا ہے اور مظلوم بے بس کشمیریوں کی ہر اخلاقی مدد کو اپنا فرض عین گردان کر دنیا بھر میں ان کے حق کی پر زور وکالت بھی کرتا ہے۔ آج کے اس اکیسویں صدی کے سبھی مہذب معاشروں اور نمائندہ پلیٹ فارمز کا اولین فرض ہے کہ وہ اس دہائیوں پرانے انسانی مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرا کر انسانیت کے ماتھے سے رسوائی کا داغ مٹا دیں اور دنیا کو ممکنہ ایٹمی جنگ کے خطرے سے نجات دلائیں۔ ایسا کرنے میں کشمیری عوام کی تو بھلائی ہے ہی ہے ساتھ ساتھ پاکستان بھارت اور دنیا بھر کے انسانوں کو ایٹمی جنگ کی ہولناکیوں سے بھی بچانے کا راز بھی مضمر ہے۔


مضمون نگار حالات حاضرہ سے متعلق موضوعات پر لکھتے ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 43مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP