قومی و بین الاقوامی ایشوز

مذہبی انتہا پسندی اور سیکولر بھارت

ایک سیکولر آدمی کے لئے عقیدہ انفرادی مسئلہ ہے اور اس کا معاشرے کی اجتماعی زندگی سے کوئی واسطہ نہیں۔ ریاستی امور میں مذہب کا کوئی کردار نہیں اور یہ کہ کوئی ایک مذہب ریاست کا مذہب نہیں ہوسکتا بلکہ ریاست تمام مذاہب کا برابر احترام کرے گی اور ہر شخص کو اپنے عقیدے کے مطابق انفرادی زندگی گزارنے کا پورا حق حاصل ہوگا۔ یہاں یہ بات واضح کرتا چلوں کہ سیکولرازم سے مراد لادینیت قطعاً نہیں بلکہ یہ ذہنی ہم آہنگی کا نام ہے جہاں روا داری اور برداشت کو فروغ دینا مراد ہے۔

لیکن یہ تمام تر تعریف دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد سیکولر ریاست بھارت میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ بھارت کے آئین میں گوکہ ریاست کو ایک سیکولر ریاست قرار دیا گیا ہے لیکن عملی طورپر یہ بات رد ہوتی ہے جب ان واقعات کو دیکھتے ہیں جہاں غیر ہندو کمیونٹیز کو زبردستی مسلمان کیا جاتا ہے۔حتیٰ کہ بھارت کے آئین میں بھی ایسی شقیں موجود ہیں جن کو بنیاد بنا کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ سیکولرازمBiased Interpretationہے۔ ابھی حال ہی میں بھارتی ریاست اترپردیشن میں 200 مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنانے کا واقعہ پیش آیا جس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ بھارت کے اندر اداراتی تسلط کی بنا پر مسلمانوں کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں جس سے یہ کہا جاسکے کہ بھارتی ریاست Hindutva نظریے کو پروان چڑھانے میں نہ صرف پیش پیش ہے بلکہ اس کی اخلاقی اور مالی اعانت بھی کرتی ہے۔ اس طرح کے واقعات برطانوی سامراج کے زمانے میں بھی دیکھے جاسکتے ہیں جب شدھی تحریک کے دوران ہزاروں مسلمانوں اور دوسری غیر ہندو اقوام کو زبردستی ہندو مذہب قبول کرنے پرمجبورکیا گیا۔1980 کی دہائی میں سکھوں کا قتلِ عام ہو یا 1992 میں بابری مسجدکی شہادت‘ 2002 میں گجرات کے اندر عام مسلمانوں کا قتلِ عام ہو یا پھر2008 کے بمبئی حملوں کی بات‘ مسلمانوں کو ہراساں کرنے کی کوشش یہ وہ تمام واقعات ہیں جو بھارتی ریاستی مذہب پرستی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ باوجود بھارتی سیکولر ریاست کے‘ موجودہ حکومت کیونکر ہندو مذہب کا پرچار کرے گی۔ اگر ہم بی جے پی کے حالیہ انتخابات پر نظرڈالیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ بھارت کے اندر 21 ویں صدی کی پہلی دہائی سے ہی ایک نیا اتحاد ابھرا جس میں سرمایہ داروں اور مذہبی پیشواؤں کا گٹھ جوڑ بنا۔ اس نئے اتحاد نے معاشرے کے اندر پنپنے والے فرسودہ نظریات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاسی امور کے اندر اپنی اجارہ داری قائم کی۔ ترقی پذیر معاشروں کا سب سے بڑا مسئلہ یہی رہا ہے کہ مذہبی پیشواؤں نے معاشرے کے اندر اپنے نظریات کو ختم ہوتا دیکھ کر نئی جنم لینے والے معاشی طبقے کے ساتھ اتحاد بنا لیا جہاں ایک طرف مالی فائدے اٹھانے کا موقع ملا تو دوسری طرف معاشرے کی فرسودہ روایات کو کو خاتمے سے بچانے کے لئے ایک نیا جال بچھانے کی کوشش کی گئی۔ سرمایہ دار طبقے نے یہ دیکھتے ہوئے کہ مذہبی طبقہ معاشرے کی نبض سے بخوبی واقف ہے‘ اس اتحاد سے مالی فائدہ اٹھایا اور آخر کار سیاسی میدان میں بھی اپنے من پسند امیدوار کامیاب کروا لئے۔ اس تمام تر سلسلے کو Religious Political Economy کا نام دیا گیا۔ جہاں تین طبقات اپنی اجارہ داری کے ذریعے مل کر کام کریں گے۔

یہ بات سُن کر حیرانی ہوگی کہ بھارت کا آئین بھی اس تمام تر سلسلے کو مشکوک بنا دیتا ہے۔ ایک طرف بھارتی آئین کا آرٹیکل 25 آزادی رائے‘ اور مذہبی عقائد کے آزادانہ پرچار کا راگ الاپتا ہے تو دوسری طرف آرٹیکل48 گائے ذبح کرنے سے روکتا ہے جو اسلامی شعائر کی پامالی کے مترادف ہے‘ اس کے ساتھ ساتھ اگر ہم کوٹہ سسٹم کو دیکھیں تو زندگی کے ہر پہلو میں ہندومذہب کو ماننے والوں کو ترجیح دی جاتی ہے اور غیر ہندو قوموں کو پولیس‘ سول سروسز‘ فوج‘ تعلیم اور کھیل کے میدان میں بہت کم مواقع دیئے جاتے ہیں۔ Anti-Muslim Biased ہونے کا سب سے بڑا مظہر بھارتی وزیراعظم مودی کی حالیہ الیکشن مہم تھی جس میں انہوں نے مذہب کے نام پرلوگوں کو اکسایا اور مسلم دشمنی کی بنیاد پر اقتدار میں آئے۔ مودی کے دور میں ہی بھارت کے اندر دھرم جگران سمیتی نے گھر واپسی مہم کا آغاز کیا جس کے تحت 2021 تک تمام غیر ہندو اقوام کو ہندو مذہب قبول کروانا ہے۔ بھارتی حکومت کی اس تمام تر صورتِ حال پر خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ دھرم جگران سمیتی بھی RSS کا ایک نیاروپ ہے اور یہ کہ اس کے پیچھے نہ صرف بی جے پی کے رہنماؤں کا ہاتھ ہے بلکہ وہ اس کو ریاستی تحفظ بھی فراہم کررہے ہیں۔

اس تمام تر صورت حال کے باوجود بھارت کی اکثریتی آبادی مذہبی انتہا پسندی سے بالا تر ہو کر زندگی گزارنا چاہتی ہے اس کی واضح مثال دہلی کی ریاست میں ہونے والے انتخابات ہیں جنہوں نے بیک وقت بی جے پی کے اصل چہرے کو بے نقاب بھی کیا اور متوسط طبقے کی نمائندہ جماعت AAP یعنی عام آدمی پارٹی کو فتح دلوائی۔بی جے پی اپنی مذہبی مہم اور سرمایہ داری کی حمایت کے باوجود الیکشن میں ناکام رہی جو اس بات کا مظہر ہے کہ انسانی خیالات کو ایک مخصوص نظریے پر قائل کرنے کا کام خود اپنے لئے مصیبت پیدا کرناہے۔

انسانی تاریخ میں یہ بحث ہمیشہ سے چلی آئی ہے کہ نظریہ طاقت کا مرہونِ منت ہے یا طاقت نظریے کی بنیاد پر اپنا رعب قائم کرتی ہے۔ واقعات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نظریہ انسانی تہذیب کے ان افکار کا نام ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے میں پروان چڑھتے ہیں اور یہ کہ مذہب ان نظریات کے لئے مشعلِ راہ بن کر آتا ہے۔ اگر ایک ریاست طاقت کے استعمال سے نظریے کا پرچار کرے گی تو وہ خود اس کا شکار ہو جائے گی کیونکہ ریاست کا اپنا وجود کسی ایک نظریے کے تابع ہوتا ہے۔ سیکولر نظریہ بھی ان نظریات میں سے ہے جس کو بنیاد بنا کر جدید ریاست اپنا وجود قائم رکھتی ہے۔ جہاں تمام نظریات کو برابر پنپنے کا موقع ملتا ہے اور کسی ایک نظریے کی اجارہ داری قائم نہیں ہوتی۔ بھارتی قیادت کو یہ سوچنا ہوگا کہ وہ مذہبی انتہاپسندی کو ہوا دے کر اپنے لئے نئے محاذ کھولے گی۔ بھارت کے اندر پہلے سے موجود علیحدگی پسند تحریکیں بھی کسی نہ کسی نظریے کی بنیاد پر چل رہی ہیں اور اگر ایک نظریے نے ریاستی تحفظ کی بنا پر دوسرے نظریات کو دبانے کو کوشش کی تو وہ دن دور نہیں کہ جب 100 سے زیادہ نظریاتی تحریکیں بھارت میں جنم لیں گی اور سب مل کر اس انتہا پسندی کے نظریے کے خلاف کھڑی ہوں گی۔


[email protected]

یہ تحریر 55مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP