ہمارے غازی وشہداء

محمد امین ۔۔معرکہ پدم کے آخری مجاہد

 جنگ آزادی گلگت بلتستان کے نمایاں غازی اور معرکہ پدم کے ہیرو محمد امین سندوس طویل علالت کے بعد قضائے الٰہی سے وفات پاگئے۔ مرحوم نے ایک نو عمر مجاہد کی حیثیت سے جنگِ آزادی میں حصہ لیا اور نا قابل فراموش خدمات انجام دیتے ہوئے قوم کو آزادی سے ہمکنار کرنے کے بعد ملازمت سے علیحدگی اختیار کی۔ 
 محمد امین کا تعلق سکردوسندوس کے نمبردار خاندان سے تھا۔ ان کے والدین ڈوگرہ دور کے اَواخر میں سکردو سندوس سے جاکر ہندوستان کے شہرشملہ میں آباد ہوگئے تھے اور محمد امین نے1935 میں شملہ میں آنکھ کھولی۔ 1940 میں اُن کے والدین محمد امین اوراپنے دیگر چاربڑے بھائیوں نمبردار غلام حسن، غلام مہدی، ہاشم اور سلیم کو ساتھ لے کر واپس سکردو آئے لیکن چند ہی سال بعد ان کے والد دوبارہ سرینگر کشمیر چلے گئے۔ 1946 میں نمبردار محمد اپنے چھوٹے بیٹے محمد امین اور ان کی والدہ کو بلا کرکشمیر سرینگر لے گئے۔ 1947 کے اوائل میں جب تحریک پاکستان نے زور پکڑ ا تو نمبردار غلام حسن اپنے والدین اور بھائی محمد امین کو لینے سرینگر گئے۔ والدین تو واپس نہیں آئے لیکن محمد امین کو نمبردار غلام حسن اپنے ساتھ سکردو لانے میں کامیاب ہوگئے۔ محمد امین سرینگر میں پرائمری سطح پر زیر تعلیم تھے ۔ چونکہ وہ لاڈ پیار سے پلتے ہوئے شہروں کی ہوا کھا چکے تھے ، اس لئے عمر کم ہونے کے باوجود جسمانی طور پر بھی وہ صحت مند تھے اور ذہنی طور پر بھی تیز ، سمجھدار اور آزادی کی اہمیت وافادیت سے بخوبی آگاہ تھے۔ چنانچہ 1948 میں جب بلتستان میں جنگ آزادی چھڑ گئی تو محمد امین نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اس میدان کارزار میں کود پڑے۔ جنگ آزادی کے دوران چونکہ سندوس آزاد فورس کی نقل و حمل کا مرکز اور فوجی ہیڈکوارٹر تھا، اس لئے گلگت سکاؤٹس کے ایریا کمانڈر اور جنگ آزادی بلتستان کے ہیرو میجر احسان علی اور کیپٹن محمد بابر خان بھی یہیں قیام پزیر تھے۔ سندوس کے لوگوں نے جنگ آزادی کی خاطر نہ صرف اپنی تمام تر جمع پونجی آزاد فورس کے حوالے کردی بلکہ اس چھوٹے سے گاؤں کے چودہ منتخب جوان شوق جہاد دل میں لئے رضاکارانہ طور پر مجاہدین کے کارواں میں شامل ہوگئے، ان آشفتہ سر مجاہدین میں سے ایک محمد امین تھے۔ محمد امین اس وقت بارہ یا تیرہ سال کے نوجوان تھے جو کم عمر ہونے کے باعث بھرتی کرنے سے انکار کے باوجوداپنے جذبے کی بدولت مجاہدینِ آزادی کی صف میں شامل ہوگئے۔ آزادی کی جنونیت کی بنا پر انہوں نے سکردو سے کارگل اور کارگل سے زانسکار پدم تک کے سنگلاخ پہاڑوں کو روند ڈالا۔ اس جنونیت کے پیچھے صرف اور صرف ڈوگروں سے آزادی اور پاکستان سے الحاق کا خالص جذبہ کارفرما تھا۔ محمد امین اگرچہ جنگ آزادی کے سب سے نو خیز مجاہد تھے لیکن کارکردگی کے اعتبار سے وہ عسکری تاریخ کا ایک نمایاں کردار ثابت ہوئے اور جرأت و بہادری کی بے مثال داستانیں رقم کیں۔ بالخصوص معرکہ پدم میں محمد امین اور ان کے دیگر 34 ساتھیوں نے مختلف مواقع پر جس جرأت و بہادری کا مظاہرہ کیا وہ تاریخِ جنگِ آزادی کا سنہرا باب ہے۔ معرکہ پدم میں کل 35 مجاہد دشمن سے برسرِپیکار تھے جن میں محمد امین کے علاوہ دیگر 10 مجاہدین کا تعلق بھی انہی کے گاؤں سندوس سے تھا جو محمد امین کے قومی و ملی جوش وجذبے اور ہمت کو تقویت پہنچانے کا باعث بنے۔ان مجاہدین نے چھ ماہ تک زانسکار پدم کے مقام پر دشمن کے گھیرے میں کسمپرسی کی حالت میں رہ کر مد مقابل فوج کا جس جوانمردی کے ساتھ مقابلہ کیا وہ ہماری عسکری تاریخ کی ایک منفرد اور دنیا کی ایک انوکھی جنگ تھی۔ نہ ان کے پاس دشمن کے مقابلے کا اسلحہ، نہ وافر ایمونیشن اور نہ ہی راشن، وردی اور سر چھپانے کے لئے کوئی مورچہ نہ تھا۔ گھر سے گیارہ مہینے پہلے جو کپڑے پہن کر جنگ میں کود پڑے تھے، وہ کپڑے بھی گل سڑ چکے تھے۔ اب انہوں نے اپنے لئے بوریوں اور ٹاٹ سے ستر پوشی کا انتظام کر رکھا تھا جب کہ راشن کے طور پر چلو بھر پانی میں ستو ملاکر پیٹ کا ایندھن بجھا لیا کرتے تھے۔ دشمن کے نرغے میں رہ کر مختلف جنگی حکمتِ عملیوں کے ذریعے دشمن کو ناکوں چنے چبوانا محمد امین اور ان کے ساتھیوں کا کارنامہ تھا۔ کہیں سے امداد اور رابطے کی کوئی سبیل نہیں تھی۔بس اللہ تعالی نے معجزانہ طور پر ان مجاہدین کی زندگی بچانے میں غیبی مدد کی۔ یکم جنوری1949 کو جنگ بندی ہوگئی تھی لیکن پدم کے مقام پر مجاہدین کا یہ قافلہ دنیا و مافیہا سے بے خبر بھارتی فوج سے برسر پیکار تھا۔ چنانچہ بھارت نے اقوام متحدہ میں اس بات کی شکایت کی کہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود پاکستانی فوج لڑ رہی ہے۔۔ دوسری طرف آزاد فورس کے کمانڈروں اور اس وقت کی پاکستانی حکومت کو اس بات کاعلم ہی نہ تھا کہ مجاہدین کے اس کارواں نے پدم کو میدان جنگ بنایا ہوا ہے۔ بلکہ علاقے میں ان مجاہدین کی شہادت کے قصے گرم تھے۔ قصہ مختصر اقوام متحدہ کی مداخلت سے پدم پارٹی کو نکال لانے کا فیصلہ ہوا۔ یہ معاملہ ہنزہ گنش کے میجر غلام مرتضیٰ کے سپرد کیا گیا۔  میجر غلام مرتضیٰ نے پدم میں جاکر پہلے دُورسے ایک ٹیلے سے مجاہدین کو آواز دیتے ہوے کہا کہ ''بھائیو!  بلتستان کاآزاد ہوکر پاکستان کے ساتھ الحاق ہوا ہے اور کارگل سے اس طرف ہندوستان کا قبضہ ہے۔ آپ لوگ دشمن کے گھیرے میں ہیں۔ میں میجر مرتضیٰ آپ لوگوں کو لینے آیا ہوں۔'' 
      پدم کے مجاہدین کی طرف سے جواب تھا: 
''چاہے پوری دنیا پاکستان بن جائے یا ہندوستان۔ ہم جہاں ہیں وہاں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہراتا رہے گا''یہ ان مجاہدین کی پاکستان سے محبت اور خلوص کا تقاضا تھا۔
 معرکہ پدم اور ان مجاہدین کی خلاصی، ایک طویل داستان ہے اور ان سب کا تذکرہ اس مختصر سے مضمون میں ممکن نہیں۔ مختصر یہ کہ پدم پارٹی کے مجاہدین جب سکردو پہنچے تو ان کو اس وقت 21 توپوں کی سلامی دی گئی ۔ اس کے بعد ان کے چنیدہ افراد کو گلگت لے جایاگیا جن میں کمانڈر صوبیدار حاجی محمد علی کواردو، حوالدار علی نصیب ڈورو، حوالدار محمد امین سندوس، وزیر سکندر روندو، سرور کرگل، وزیر عبداللہ کواردو اور مہدی سندوس شامل تھے۔وزیرِاعظم پاکستان نواب زادہ لیاقت علی خان ان سے ملاقات کے لئے گلگت آئے۔ پدم پارٹی سے ملاقات کرکے لیاقت علی خان نے ان کی جرأت وبہادری کی بڑی تعریف کی اور ان کی خدمات کو سراہا ۔ ان کو نہ صرف انعام و اکرام دینے بلکہ پورے پاکستان میں بطور ماڈل دکھانے کے لئے لے جانے کا وعدہ کیا۔ مگراس کے بعد وہ سارا قصہ ختم۔ 
محمد امین مرحوم معرکہ پدم کے آخری کردار تھے جو آج ہم سے بچھڑ کر ابدی دنیا کو سدھار گئے۔ اللہ تعالی مرحوم کو غریقِ رحمت فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ 
 محمد امین اور ان جیسے ہزاروں غازیوں اور شہیدوں کے طفیل گلگت بلتستان آزاد ہوا ہے۔ ان شہیدوں اور غازیوں کی خدمات کا قومی اور ملکی سطح پر اعتراف ہم سب کا فریضہ ہے کیونکہ یہ ہماری تاریخ کا اثاثہ ہیں۔ ہم ان کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں اور شمع ِآزادی کے ان پروانوں کی خدمات کی قومی سطح پر پذیرائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ||


مضمون نگار ممتاز ماہرِ تعلیم ہیں۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے انہیں پرائڈ آپ پرفارمنس سے بھی نوازا گیا۔
[email protected]
 

یہ تحریر 4مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP