شعر و ادب

محمدعلی سد پارہ ۔۔۔ شہیدِ عشقِ کوہسار

پہاڑ جیسی زندگی، پہاڑ ہی پہ وار دی
قبائے خاک اُس نے جا کے برف میں اُتار دی
وہ موت سے ڈرا نہیں، وہ مر کے بھی مَرا نہیں
قمار خانے میں گیا تو زندگی ہی ہار دی
بلندیوں کی چاہ میں ضرورتوں سے کٹ گیا
جو پَستیوں میں لے چلے، وہ آرزو ہی مار دی
اَزل سے پُرخروش تھا، وہ کتنا گرم جوش تھا
وہ جس نے ساری زندگی پہاڑ پر گزار دی
وہ مشکلوں میں پڑ کے بھی ڈٹا رہا، کھڑا رہا
خدا نے ایک زندگی ہی اُس کو بار بار دی
وہ نقشِ پا سے نقشِ گل بنا گیا پہاڑ پر
اُسی نے برف زار کو شباہتِ بہار دی
بجا ہے ہم اُسے کہیں، شہیدِ عشقِ کوہسار
خدا نے موت بھی اُسے بہت ہی شان دار دی
  


 

یہ تحریر 124مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP