متفرقات

ماں واری ۔۔۔ ماں صدقے

مما۔۔۔ کتنی سردی ہے۔۔۔ باہر منہ نکالنے کو بھی جی نہیں چاہتا۔۔۔‘‘ سعد نے ماں کو موسم کی بابت یوں بتایا جیسے ماں کو اثر ہونے والا ہو۔ اچھا۔۔۔ باہر نکلنے کو جی کیوں نہیں چاہ رہا آپ کا بیٹا۔۔۔ ‘‘ ’’آپ کو معلوم ہے کہ میں رات کو ہوم ورک بھی مکمل نہیں کر سکا۔۔۔ ‘‘ اس نے ایک اور جواز گھڑا۔ ’’ تو میڈم کو بتا دینا بیٹا کہ آپ کو زکام تھا اور آپ سکول سے واپس آ کر دیر تک سوتے رہے۔۔۔ ‘‘ ماں نے اسے سمجھایا‘ ’’ کوئی بہانہ کرنے کی ضرورت نہیں‘ سچ بتا دینا بیٹا‘ سچ انسان کو بہت سی مصیبتوں سے بچاتا ہے!!‘‘ ’’ میرا دل نہیں چاہ رہا مما سکول جانے کو۔۔۔ ‘‘ وہ لاڈ دکھانے لگا۔ ’’ امتحانات کے دن ہیں بیٹا۔۔۔ چند دن میں تو تمہیں سکول سے طویل چھٹیاں ہونے والی ہیں‘ پھر جی بھر کر سونا۔۔۔ ‘‘ ماں نے لاڈ سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔۔ ’’ چلو اٹھو میرے لال‘ تیار ہو جاؤ۔۔۔ سکول نہیں جاؤ گے تو بڑے آدمی کیسے بنو گے‘ اپنے بابا کی طرح وطن کی خاطر لڑو گے کیسے!!‘‘ ’’ بس آج چھٹی کر لیتا ہوں مما۔۔۔ وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی نہیں کہوں گا چھٹی کرنے کو۔۔۔ ‘‘ ’’ آج ایسا کیا خاص ہے جو آج چھٹی کر لو گے تو ؟ ‘‘ ماں نے بحث کی۔ ’’ میرا دل چاہ رہا تھا آج سارا دن آپ کے ساتھ گزارنے کو۔۔۔ ‘‘ وہ سستی سے بستر سے اٹھا‘ ’’ بابا ہوتے تو مجھے آج کبھی زبردستی سکول نہ بھیجتے۔۔۔‘‘ ’’ کیوں بابا کیوں نہ سکول بھیجتے؟ ‘‘ ماں نے حیرت سے سوال کیا۔ ’’ کیونکہ وہ میری ہر خواہش پوری کرتے ہیں۔۔۔ ‘‘ وہ بڑبڑایا تو ا س کی ماں کی ہنسی نکل گئی‘ ’’ میں بھی بڑا ہو کر بابا کی ہر خواہش پوری کروں گا۔۔۔ ان کی طرح فوج میں جاؤں گا‘ وطن کی خاطر لڑتے ہوئے شہید ہوں جاؤں گا!‘‘ ’’ اچھا چلو۔۔۔ ‘‘ ماں نے اسے پیار سے تھپتھپایا۔۔۔ ’’ تیار ہو کر آ جاؤ‘ میں تمہارا ناشتہ بنا دیتی ہوں ! ‘‘ ’’ پہلے میرا بیگ تیار کر دیں مما۔۔۔ ‘‘ اس نے غسل خانے سے آواز لگائی۔ وہ ا س کی کتابیں سمیٹ کر رکھ رہی تھی کہ اسے اس کی بیڈ سائیڈ ٹیبل پر اس کی اردو کی کاپی نظر آئی‘ اس نے اٹھا کر اسے سیدھا کیا‘ ’’ میری پیاری ماں ‘‘ کے عنوان پر لکھا گیا اس کا نا مکمل مضمون ۔۔۔ اس نے کاپی اور پین کو باہر ہی رکھا اور سوچا کہ اس کے ناشتے کے بعد اس کی سکول کی وین آنے تک وہ اسے کہے گی کہ اس مضمون کو مکمل کر لے‘ تا کہ اسے ڈانٹ نہ پڑے‘ یقیناًاس نا مکمل کام کا خوف ہی اسے سکول نہ جانے کے بہانے سجھا رہا تھا۔ نہا کر وہ تیار ہوا۔۔۔ بیٹے کو دیکھ کر دل ہی دل میں اس نے‘ ’’ ماں صدقے ‘ ماں واری‘‘ کہا ‘ اس کی نظر اس کے پیارے اور صبیح چہرے پر نہ ٹھہر رہی تھی‘ ابھی ناشتہ آدھا بھی نہ ہواتھا کہ وین کے ہار ن کی آواز آئی‘ وہ فوراً اٹھا‘ ماں کو گلے سے لگا کر بوسہ دیا۔۔۔ ’’ میرا بیگ ٹھیک سے تیار کر دیا تھا ناں مما؟ ‘‘ وہ ناشتے کی پلیٹ لئے اس کے پیچھے لپکی کہ وہ باہر تک دو نوالے اور کھا لیتا۔ ’’ بس مما۔۔۔ ‘‘ اس نے ماں کا ہاتھ تھام لیا‘ ’’ دعا کریں کہ آج ڈانٹ نہ پڑے ‘‘ ماں کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر اس نے ماں کے ہاتھ پر بوسہ دیا اور بھاگا۔ ’’ اوہ۔۔۔ ‘‘ ماں کو یاد آیا‘ ’’ رکو!!‘‘ اس نے چیخ کر اسے روکا‘ ’’ایک منٹ۔۔۔‘‘ ’’ اب نہ روکیں مما۔۔۔ ‘‘ وہ گیٹ کے باہر پہنچ چکا تھا،’’ گاڑی میں باقی بچے لیٹ ہوجانے پر اپ سیٹ ہوتے ہیں۔۔۔ ‘‘ماں ہاتھ ہلاتی رہ گئی‘ وین روانہ ہوئی تو وہ واپسی کو مڑی۔ اندر پہنچی تو سامنے ہی اسے بیٹے کی کاپی نظر آئی‘ اتنی سی بات پر اس کا دل جیسے کسی نے اپنی مٹھی میں لے لیا‘ جاتے جاتے بھی وہ اس سے کہہ رہا تھا کہ دعا کرے کہ اسے ڈانٹ نہ پڑے، ’’کوشش کرتی ہوں کہ کسی طرح نا مکمل ہی سہی مگر اس کا کام سکول بھجوا دوں‘‘ اس نے دل ہی دل میں سوچا‘ ’ ممکن ہے کہ کاپی گھر پر بھول جانے پر کم ڈانٹ پڑے اور نا مکمل کام پر زیادہ!!‘ اس نے پھر سوچا۔۔۔ ’’ یا اللہ۔۔۔ میرے بیٹے کو استاد کی ڈانٹ سے بچانا! ‘‘ اس نے دعا کی‘ اسے معلوم تھا کہ سعد اس معاملے میں کس قدر حساس تھا۔ اسے دوسروں کے سامنے ڈانٹ پڑ جانابچپن سے ہی بُرا لگتا تھا‘ اسے ہمیشہ کہتا‘ ’ ’ مما ۔۔۔ آپ دوسروں کے سامنے مجھے نہ ڈانٹا کریں!‘‘ وہ اس کی اس درخواست کا احترام کرتی۔۔۔ ایک ہی ایک تو اس کا بیٹا تھا‘ اس کی پوری دنیا‘ اس کی ہر سوچ کا محور و مرکز۔ خصوصاً اب کچھ سالوں سے جب اس کا بیٹا اور وہ دونوں گھر پر تنہا ہوتے تھے‘ اسے لگا کہ اس کا بیٹا اچانک بہت بڑا اور سمجھ دار ہو گیا تھا۔ وہ اسے دنیا کا سب سے بہترین بیٹا دیکھنا چاہتی تھی۔ وہ کا م میں اس کا ہاتھ بٹاتا۔۔۔ ماں کو وقت دیتا تا کہ اس کی زندگی میں اس کے باپ کے گھر پر نہ ہونے کا خلا پر ہو سکے۔ جب بابا گھر پر آتے تو وہ دو دن ماں بیٹے کے لئے عیدسمان ہو جاتے‘ زندگی یوں تو تیزی سے محو پرواز ہے اور گزرتی جا رہی ہے مگر بابا کے ہوتے ہوئے انتہائی تیزی سے‘ اور ان کے نہ ہوتے ہوئے سستی سے گزرتا وقت دسمبر کے مہینے تک پہنچ گیا تھا ۔ اس بار اس نے بابا سے وعدہ لیا تھا کہ اس کی دسمبر کی چھٹیوں کے دوران وہ زیادہ وقت کے لئے گھر آئیں گے‘ نہ کہ ایک ویک اینڈ کے لئے۔ اس کے با با اس کی دنیا تھے اور وہ اپنے بابا کی کل کائنات کہ اس کے پہلے اور اس کے بعد بھی اس کے ہاں اور کوئی اولاد نہ تھی۔ وہ بھی ماں باپ کا انتہائی فرمانبردار اور پیاری عادات کاما لک بچہ تھا۔۔۔ ’’ ایک ہو اور نیک ہو ‘‘ کی عملی تفسیر۔ ’’ کیا تیار ہو کر جا کر اس کی کاپی سکول میں دے آؤں ؟ ‘‘ اس نے سوچا اور پھر جلدی جلدی ناشتے کی میز کو سمیٹنے لگی‘ ملازم بھی چھٹی پر تھا ورنہ اسی کو کاپی دے کر سکول کی طرف بھگاتی‘ اب یہی سوچ کر کہ فارغ ہوتے ہی تیار ہو کر وہ سکول جا کر کاپی دے آئے گی‘ اسے تو وہاں پہنچنے میں پندرہ منٹ لگتے اور سعد کو گیٹ پر بلا کر کاپی اس کے حوالے کر دیتی۔ کام سے فارغ ہو کر وہ تیار ہوئی اور باہر نکلی‘ ہڈیوں میں گودا جمانے والی سردی تھی‘ اس نے سوچا کہ اب تو بچوں کے سکولوں میں چھٹیاں ہو جانی چاہئیں‘ اتنی سردی میں ان معصوم بچوں کا کیا حال ہوتا ہو گا۔ اس کی گاڑی نے سٹارٹ ہونے سے انکار کر دیا‘ مایوسی سے واپس آئی کہ اب ٹیکسی میں ا س کی کاپی دینے کے لئے جانے کا کوئی جواز نہ تھا‘ نہ وہ کسی پڑوسن کا اس چھوٹی سی بات پر احسان لینے کو تیار تھی۔ چند منٹ ہی باہر گزارنے سے اس کے ہاتھ اور پاؤں برف کی طرح سرد ہو گئے تھے‘ وہ جلدی اند ر کو بھاگی کہ اپنے لئے کافی بنا کر ایک کپ پئے مگر چشم فلک نے اسے چند ہی لمحوں کے بعد اسے پیروں میں ربڑ کی چپل پہنے ایک ہلکے سے سویٹر کے ساتھ۔۔۔ اسی سڑک پر دیوانوں کی طرح بھاگتے دیکھا تھا۔۔۔ اس کے ہاتھ میں سعد کی کاپی تھی۔۔۔ اندر جا کر اس نے بند جوتے اتار کر چپل پہنی تھی‘ کوٹ اتار کر صوفے کی ٹیک پر رکھا تھا اور کافی بنانے کا ارادہ کرتے ہوئے ٹیلی ویژن کا بٹن آن کیا تھا جس کے ساتھ ہی اس کا دماغ بھک سے اڑ گیا تھا ۔۔۔ سکول کا نام اگر چہ ابھی تک ٹیلی ویژن پر نہ بتایا گیا تھا مگر اس کا سارا جسم سکتے میں آ گیا تھا اور اگلے ہی لمحے اس نے سعد کی نوٹ بک اٹھائی اور اندھا دھند باہر کو بھاگی‘ اسے علم تھا کہ اس کی گاڑی سٹارٹ نہ ہوئی تھی‘ وہ ہوتی بھی تو اس وقت اس حالت میں ہی نہ تھی کہ کوئی دوسری بات سوچتی۔۔۔ اب تو اسے سردی محسوس ہی نہ ہوئی تھی‘ اس سڑک پر وہ اکیلی نہیں بھاگ رہی تھی‘ گاڑیوں کے علاوہ اس جیسے کتنے ہی لوگ اس سمت میں بھاگ رہے تھے ‘ کیا قیامت آ گئی تھی؟ اس نے سوچا‘ سڑک اس وقت میدان حشر کا نقشہ ہی تو پیش کر رہی تھی۔ ایک مقام پر سب لوگوں کو آگے بڑھنے سے روک دیا گیا تھا۔۔۔ ’’ مجھے اپنے بیٹے کو اس کی ہوم ورک کی کاپی دینا ہے پلیز۔۔۔ ‘‘ ا س نے التجا کی‘ اسے کوئی شک نہ رہا تھا کہ جس سکول کا نام ٹیلی وژن چینل نہیں بتا رہے تھے‘ اس کے سعد کا سکول ہی تھا۔ ایک وہی نہیں تھی‘ کئی مائیں اور باپ التجائیں کر رہے تھے کہ انہیں آگے جانے دیا جائے‘ مگر انہیں بتایا گیا کہ بچوں کو سکول سے بحفاظت نکالا جا رہا تھا اور ان کا آگے جانا اس کام میں رکاوٹ ڈال سکتا تھا۔۔۔ وہ وہیں سڑک کے کنارے ایک فٹ پاتھ پر بیٹھ گئی‘ کاپی سینے سے لگا لی‘ اسے لگا کہ سعد اس کے سامنے کھڑا اس سے کاپی مانگ رہا تھا ‘ اس نے فورا آنکھیں وا کیں مگر ایسا کوئی منظر نہ تھا‘ ’’ یا اللہ ! میرے بچے کو۔۔۔ نہیں نہیں ۔۔۔ سب کے بچوں کو محفوظ رکھنا میرے مولا‘ کسی بچے کابال بھی بیکا نہ ہو! ‘‘ اس نے دل سے دعا کی‘ بہت سے لوگ اس کی طرح زمین پر ہی بیٹھے‘ سردی سے بے نیاز‘ دعائیں کر رہے تھے‘ بار باراٹھ کر سکول کی طرف دیکھتے اور پھر ڈھ جاتے۔ سڑ ک پر فوجی گاڑیوں‘ ٹیلی ویژن چینلز کی وینوں‘ بچوں کے والدین کی کاروں اور پیدل چل کر آنے والوں کا میلہ لگا ہوا تھا‘ کوئی شور سا شور تھا‘ کوئی حشر سا حشر تھا‘ کوئی قیامت سی قیامت تھی۔۔۔ ’’تین بچوں کی لاشیں برآمدے میں ملی ہیں۔۔۔ ‘‘ کسی نے اپنے ٹیلی فون کے ذریعے چیک کر کے اعلان کیا تو کتنی ہی ماؤں کے دل ڈوب کر ابھرے‘ اس کا بھی کلیجہ اچھل کر حلق میں آ گیا۔۔۔ ’’کوئی نام ‘ کوئی شناخت ان بچوں کی؟ ‘‘ کسی نے سوال کیا تو اس نے بھی چونک کر دیکھا‘ ’’ خدارا ۔۔۔ کوئی نام نہ بتانا ۔۔۔ ‘‘ اس نے دل ہی دل میں التجا کی۔۔۔ ’’ ایک گارڈ اور ایک مالی کی لاشیں بھی مل گئی ہیں۔۔۔ ‘‘ ایک اور اطلاع۔ ’’ یااللہ۔۔۔ میں تجھ سے کیا مانگوں ؟ ‘‘ وہ بلکنے لگی‘ ’’ سلامتی دے ہم سب کے بچوں کو‘ ان کے استادوں کو‘ ان کی مدد کو آنے والوں کو۔۔۔ ‘‘ ابھی ایک گھنٹہ بھی نہ گزرا تھا ۔۔۔ ’’اٹھارہ بچوں اور تین اساتذہ کے شہید ہونے کی اطلاع ہے۔۔۔ ‘‘ اس نے گہری سانس لینے کی کوشش کی کیونکہ سانس ساکن ہو گئی تھی۔ ’’ شہید۔۔۔ شہداء ؟؟ ‘‘ کون شہید ہو رہا ہے‘ کس طرح ؟ اس کا دماغ کچھ سوچنے سے مفلوج ہونے لگا‘ جب سعد کہتا تھا کہ وہ بابا کی طرح فوج میں جائے گا اور ایک دن شہید ہوجائے گا تو اس کے دل کو کوئی مٹھی میں لے لیتا تھا مگر وہ اپنے بیٹے کے جذبے کی دا د دل میں ضرور دیتی‘ اس کی آنکھوں کے گوشوں پر آنسو جم جاتے‘ ’’ مما۔۔۔ جب آپ شہید کی ماں ہونے کے فخر کے ساتھ کسی یوم شہداء کی تقریب میں بیٹھی ہوں گی ناں۔۔۔ آپ کی آنکھوں کے کونوں پر سجے یہ ستارے‘ کیمرے کی آنکھ سے دنیا دیکھے گی! ‘‘ ’’ اللہ کرے میری زندگی میں ایسا نہ ہو!! ‘‘ وہ دل ہی دل میں کہتی‘ اس میں حوصلہ کہاں تھا ایسی بات سننے کا‘ اس نے سینے سے لگائی ہوئی کاپی کو کھولا‘ سعد کی اردو کمزور تھی اسی لئے اس کا ہوم ورک نا مکمل رہ گیا تھا ورنہ وہ نالائق بچہ نہ تھا‘ ہمیشہ اول یا دوم پوزیشن حاصل کرتا‘ تعلیمی میدان میں جھنڈے گاڑنے کے علاوہ وہ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی سب سے آگے ہوتا تھا۔ جانے کتنا وقت امید اور ناامیدی کی سولی پر لٹکے ہوئے ہو گیا تھا‘ اس کے وجود کو وہ سردی بھی محسوس نہ ہو رہی تھی جو ہڈیوں کو چیر رہی تھی۔ فوجی گاڑیوں کی تعداد بڑھ رہی تھی‘ گولیوں کی آوازیں۔۔۔ کبھی دھماکوں کی آوازیں ان کے دلوں کو خوف میں مبتلا کر دیتیں ‘ انہیں دہلا دیتیں‘ ’’ انہوں نے سب بچوں اور اساتذہ کو آڈیٹوریم میں یر غمال بنا لیا ہے!‘‘ ایک آواز نے اطلاع دی‘ اسی اثنا ء میں جن جن بچوں کو سکول سے بحفاظت نکالا جا رہا تھا‘ انہیں ان کے والدین کے حوالے کیا جا رہا تھا‘ زخمیوں کو وہیں سے ایمبولینسوں میں ڈال کر ہسپتالوں میں بھیجا جا رہا تھا۔ سب والدین کی طرح وہ بھی ہر باہر نکلنے والے کو اس امید پر دیکھتی کہ اس کے بعد اسے اپنے لال کا چہرہ نظر آ ئے گا‘ ہر بچے کو دیکھ کر دل ہی دل میں شکر ادا کرتی اور نظروں میں امید کا چراغ پھر سے جلا لیتی تھی‘ اس کے لال کا چہرہ بھی نظر آئے گا‘ اسی طرح‘ ابھی وہ آئے گا‘ اپنے قدموں پر چلتا ہوا۔۔۔ کہیں زخمی نہ ہو۔۔۔ چلو ہوا بھی تو اللہ کرم کرے گا‘ اور بچے بھی تو زخمی ہیں ناں۔۔۔ وہ بھی ٹھیک ہو جائے گا‘ وہ سوچے جا رہی تھی‘ شاید بڑبڑا رہی تھی‘ زخمی سے زیادہ وہ کچھ سوچنا نہیں چاہ رہی تھی۔ اس نے کاپی نادانستگی میں کھول لی۔۔۔ نامکمل مضمون ‘ اس نے صفحہ پلٹا‘ ’’میری ماں کے بارے میں دل میں بہت سے خیالات ہیں‘ مگر میرا قلم انہیں اس صفحے پر بکھیرنے سے محروم ہے۔۔۔ میری ماں ‘ میری دنیا‘ میری کائنات‘ میری جنت‘ میری آخرت کا سامان ۔۔۔‘‘ وہ مسکرائی‘ اس کی اردو اتنی اچھی نہ تھی‘ یقیناًاس نے کسی دوست سے مدد لی ہو گی یا پھر انٹر نیٹ سے نقل کیا ہو گا ۔ اس نے مضمون کا پہلا صفحہ کھولا۔۔۔ ’’ دنیا میں مجھے سب سے زیادہ پیار مجھے اپنی مما سے ہے‘ وہ میرا سب کچھ ہیں‘ میری ماں‘ میری بہن‘ میری دوست۔۔۔ ‘‘ وہ مسکرائی‘ یہ اس کا اپنا انداز تھا‘ ’’ وہ میری ہر کام میں مدد کرتی ہیں‘ میں گھر کے کام میں ان کا ہاتھ بٹاتا ہوں اور وہ پڑھائی میں میری مدد کرتی ہیں‘ اس طرح میرا زیادہ تر وقت ان کے ساتھ گزرتا ہے۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ مجھ سے ہمیشہ خوش رہیں ‘ مجھ پر فخر کریں۔۔۔ ‘‘ گھنٹوں گزر گئے تھے‘ آپریشن تکمیل کے قریب تھا‘ چھیاسی بچوں اور آٹھ اساتذہ کی شہادت کی خبر پھیل گئی تھی‘ اس کا دل بالکل بند ہو رہا تھا‘ لوگ اپنے پیاروں کے بارے میں مثبت خبر سننا چاہ رہے تھے مگر جونہی شہداء کی تعداد میں اضافے کی خبر آتی فضا میں آہیں اور سسکیاں گونجنے لگتیں۔ لوگوں سے کہا جا رہا تھا کہ وہ وہاں سے ہٹ جائیں‘ اپنے گھروں کو لوٹ جائیں‘ ہسپتالوں میں جا کر زخمیوں میں اپنے بچوں کو تلاش کریں‘ وہ بھی ان لوگوں کے ساتھ جا کر مایوس لوٹ آئی تھی جنہیں اپنے بچے کسی ہسپتال میں نہ ملے تھے‘ سعد کے بابا بھی پہنچ گئے تھے اور اسے زبردستی گھر لے کر آئے تھے‘ ’’ بند جوتے پہن لو اور شال لے لو‘ میں تمہیں پھر واپس لئے چلتا ہوں ۔۔۔‘‘ انہوں نے اسے تسلی دی تھی‘ ’’کمانڈوز پہنچ چکے ہیں‘ اللہ ان کی مدد کرے گا‘ ہم سب کے بچے اللہ کی امان میں ہیں‘ وہ سب خیر کرے گا! ‘‘ گاڑی کو چیک کر کے انہوں نے چلا لیا تھا‘ اب وہ اپنی گاڑی میں روانہ ہوئے اور گاڑی فاصلے پر ہی پارک کر کے سکول کے گیٹ کے نزدیک ہی پہنچ گئے تھے۔ آپریشن مکمل ہو گیا تھا‘ خود کش حملہ آورں کو مار دیا گیا تھا‘ کچھ نے خود کو اڑا لیا تھا‘ سکول کے اندر امدادی کاروائیاں جاری تھیں‘ وہ بھی دونوں اجازت ملنے پر سکول کی عمارت میں داخل ہوئے۔۔۔ پھر اسے تو تاب نظارہ نہ رہی‘ اس کے بے ہوش وجود کو ایک سٹریچر پر ڈال کر ہسپتال روانہ کیا گیا‘ اچھا ہے کہ وہ ہوش میں نہ رہی تھی‘ جو وہ اپنے لال کو اس طرح دیکھتی جس طرح اس کے باپ نے دیکھا تو وہ مر ہی جاتی۔۔۔ ہاں وہ ہوش میں ہوتی تو مرنے ہی کی خواہش کرتی‘ اس سے تو اوروں کے لال نہ دیکھے گئے تھے ۔۔۔ ’’ میرا سعدزیادہ زخمی تو نہیں تھا؟ ‘‘ ہوش میں ا کر ا س نے پہلا سوال کیا۔ ’’ نہیں ۔۔۔ ‘‘ مختصر سا جواب اس کے شریک سفر کا‘ اس کے دل کو تسلی کیوں نہ دے سکا تھا۔ ’’ کہاں ہے وہ؟ ‘‘ اس نے بے قراری سے پوچھا۔ ’’ گھر پر۔۔۔ ‘‘ اسے مدد کر کے اٹھا کر گھر کی طرف روانہ ہو ئے‘ گھر پہنچنے تک اس کے شریک سفر نے کوئی بات نہ کی تھی‘ اس کا وجود لرز رہا تھا‘ جانے کیوں ۔۔۔ ’’ ہمت کر کے باہر نکلنا میری جان ۔۔۔‘‘ گیٹ پر پہنچ کر پہلا جملہ ‘ وہ اس سے لپٹ گئی۔ ’’ مجھے کوئی بری خبر نہ سنانا ۔۔۔ ‘‘ اس کی سانس اکھڑ رہی تھی‘ ’ ’ میں مر جاؤں گی!! میرا سعد۔۔۔ بتائیں وہ ہے نا؟ ‘‘ ’’ ہاں ہے میری جان ‘ بالکل ہے۔۔۔ جہاں ہے‘ وہ جگہ اس جگہ سے بہت بہتر ہے‘ وہ مجھ سے بہت پہلے وہ رتبہ پا گیا ہے جس کی اسے آرزو تھی۔۔۔ ‘‘ اس کا گھر لوگوں سے کھچا کھچ بھر ا ہواتھا۔ ’’ مجھے گاڑی سے مت نکالیں۔۔۔ ‘‘ وہ ہذیانی انداز میں چیخ رہی تھی‘ ’’ میں نہیں دیکھ سکوں گی اسے۔۔۔ ‘‘ جن ستاروں کو اس کی پلکوں کے کناروں پر چمکنا تھا‘ وہ دریا بن کر اس کے چہرے اور سینے تک چلے گئے تھے‘ آنسو سینہ کوبی کر رہے تھے اور وہ چیخ رہی تھی۔۔۔ شادی کے سات سال کے بعد اس کے آنگن میں یہ پھول کھلا تھا‘ اور پندرہ بہاریں دکھا کر وہ پھول مرجھا گیا تھا۔۔۔’ ’ میرے لال۔۔۔ ماں واری‘ ما ں صدقے‘ ماں کے بھائی‘ ماں کے دوست‘ ماں کے سب کچھ۔۔۔ ماں کیا کرے گی اب۔۔۔ ماں تجھ پر قربان ! ‘‘ زمین‘ آسمان‘ درخت‘ بادل‘ دھند‘ ہوائیں ‘ فضائیں۔۔۔ سب اس کے ساتھ نوحہ کناں تھے۔ 


[email protected]

یہ تحریر 23مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP