قومی و بین الاقوامی ایشوز

مالدیپ کا سیاسی بحران اور بحر ہندکی جیوپولیٹکس

اگر یہ جاننا مقصود ہو کہ ملک کاجغرافیائی محلِ وقوع، اس کی اندرونی سیاست اور خارجہ تعلقات پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے تو بحرِ ہند کے عین وسط میں واقع مالدیپ کو ایک تازہ مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ ایک ہزار سے زائد چھوٹے بڑے جزائر پر مشتمل آبادی (پانچ لاکھ سے کم) اور رقبہ( تقریباً تین سو مربع کلو میٹر) کے لحاظ سے مالدیپ اگرچہ ایشیا کا سب سے چھوٹا ملک ہے تاہم اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کی بنا پر علاقائی ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اسے نمایاں طور پر جیوسٹریٹجک اہمیت حاصل ہے کیونکہ بحرِ ہند کی تجارتی شاہراہیں جن سے دنیا کا دو تہائی تیل مختلف ملکوں کو پہنچایا جاتا ہے مالدیپ کے بالکل قریب سے گزرتی ہیں۔ اس کے علاوہ چین، جاپان، آسٹریلیا اور یورپ کے درمیان تجارتی سامان لے جانے والے کنٹینرز کا بھی 50 فیصد حصہ ان ہی بحری شاہراہوں کو استعمال کرتا ہے۔ مشرق اور مغرب کے درمیان تجارت کا ذریعہ ہونے کی وجہ سے بحرِ ہند کو قدیم ترین زمانے سے ہی غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے۔ پندرھویں صدی میں یورپی اقوام کی آمد کے بعد بحرِ ہند کو عالمی سطح پر نہ صرف ایک عظیم تجارتی شاہراہ بلکہ یورپی نوآبادیاتی اقوام کے اہم دفاعی مفادات کے تحفظ میں بھی ایک اہم مقام حاصل رہا ہے۔1970-1980 کی دہائیوں میں بحرِ ہند امریکہ اور سابق سوویت یونین کے درمیان کشمکش کا مرکز تھا لیکن 1990 کی دہائی کے آغاز پر سرد جنگ کے خاتمے کے بعد بحرِ ہند کے خطے میں تاریخ کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ اس دَور کی خصوصیات میں بحرِ ہند اور اس کے ارد گرد واقع ممالک جن میں مالدیپ بھی شامل ہے، کے ساتھ چین کے قریبی اقتصادی اور تجارتی تعلقات میں اضافہ اور بحرِ ہند میں چینی بحریہ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں ہیں۔ دو طرفہ بنیادوں پر چین اور جنوبی ایشیا کے ممالک کے درمیان تجارت ، سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کے شعبوں میںتعاون سے گزشتہ تین دہائیوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ چین اِن ممالک میں تعمیر و ترقی کے عمل کو تیز کرنے کے لئے آسان شرائط پر قرضے فراہم کرنے کے علاوہ اُن شعبوں میں سرمایہ کاری کرتا ہے جن کی ترقی سے یہ ممالک اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کے قابل ہوسکیں مثلاً انفراسٹرکچر اور توانائی کے شعبے ، پاکستان، نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے علاوہ مالدیپ میں بھی چین کی سرمایہ کاری سے بنیادی انفراسٹرکچر کو ترقی دی جارہی ہے تاکہ معاشی ترقی کے پیہم عمل کے لئے ایک مضبوط اور پائیدار بنیاد فراہم ہوسکے۔ لیکن بھارت کی طرف سے جنوبی ایشیا کے ان ممالک کے ساتھ چین کے بڑھتے ہوئے اقتصادی اور تجارتی روابط کو غلط رنگ دیا جارہا ہے۔ بھارت اور اس کے، مغربی دنیا میں، دوست ممالک کی طرف سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ان ممالک کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی روابط بڑھا کر چین، بحرِ ہند پر اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے۔ حالانکہ یہ تعلقات خالصتاً دوطرفہ، باہمی مفاد اور مساوی بنیادوں پر قائم ہیں۔ مالدیپ کے بارے میں بھارت کی حساسیت اسی وجہ سے اور بھی زیادہ ہے کہ یہ ملک بھارت کے زیرِقبضہ لکا دیپ سے صرف 700 کلومیٹر دُور اور بھارت کے اپنے ساحل سے 1200 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ بھارت، بحرِ ہند کو اپنی معیشت اور سلامتی کے لئے بہت اہم سمجھتا ہے کیونکہ اس کی بیرونی تجارت کا 90 فیصدسے زائد حصہ بحرِ ہند پر محیط ہے لیکن بھارت واحد ملک نہیں جس کے مفادات بحرِ ہند سے وابستہ ہیں۔ بحرِ ہند کے ارد گرد واقع ممالک کے علاوہ چین بھی اس سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتا کیونکہ خلیج فارس اور مشرقِ وسطیٰ سے تیل اور افریقی برِاعظم سے خام اشیاء بحرِ ہند ہی کے راستے آبنائے ملاکا سے گزر کر چین کے مشرقی ساحل پر واقع شنگھائی کی بندرگاہ پر پہنچتی ہیں۔ جب تک پاک چین اکنامک کاریڈور مکمل ہو کر پوری طرح فنکشنل نہیں ہوتا، تو انائی اور خام اشیاء کی درآمد کے لئے بحرِ ہند پر چین کا بھاری انحصار قائم رہے گا۔ جنوبی ایشیا کے چھوٹے ممالک کے ساتھ دو طرفہ بنیادوں پر تعلقات کو فروغ دینے کے لئے چین کی کوشش اور بحرِ ہند میں چینی بحریہ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو اسی سیاق و سباق میں دیکھنا چاہئے۔ بحرِ ہند کے جن ملکوں نے چین کے ساتھ قریبی تعلقات کو اپنے قومی مفاد کے لئے بہتر سمجھا ہے اُن میں مالدیپ بھی شامل ہے۔ گزشتہ سال دسمبر میں اس نے چین کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر دستخط کئے تھے۔ پاکستان کے بعد جنوبی ایشیا میں مالدیپ دوسراملک ہے جس نے چین کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کی بنیاد پر تعلقات قائم کئے ہیں۔ اس کے علاوہ مالدیپ نے چین کے ون بیلٹ وَن روڈ کے منصوبے
(OBOR)
(Maritime Silk Road) میں بھی شرکت کے لئے حامی بھرلی ہے۔ اس منصوبے کا ایک حصہ میری ٹائم سلک روڈ 

ہے جو چین کو مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے یورپ کے ساتھ ملانے کے لئے بحرِ ہند سے گزرتا ہے۔ مالدیپ اسی روٹ کے کنارے پر واقع ہے۔ مالدیپ میں چین کی سرمایہ کاری سے ایک بین الاقوامی ہوائی اڈہ اور دو بڑے جزیروں کو ملانے والا ایک پُِل بھی تعمیر کیا جارہاہے۔ اول الذکر منصوبہ اس لئے اہم ہے کہ پہلے اس کا ٹھیکہ بھارت کو دیا گیا تھا لیکن چین نے چونکہ بہتر شرائط پر تعمیر کرنے کی پیش کش کی تھی اس لئے موجودہ صدر عبداﷲ یامین کی حکومت نے 50 کروڑ ڈالر کے اس منصوبے کو بھارت کے بجائے چین کے ہاتھوں تعمیر کرنے کے معاہدے پر دستخط کردیئے۔ بھارت کو صرف اس معاہدے کی منسوخی کا رنج نہیں بلکہ اگست 2017 کو جب چین کے تین بحری جہاز مالدیپ کی بندرگاہ مالے (Male) میں لنگر انداز ہوئے تو بھارت کے عسکری حلقوں کی طرف سے اس پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔ بھارت کا دعویٰ ہے کہ چین، بحرہند پر اپنی سیادت قائم کرنے کے لئے جنوبی ایشیا کے ممالک کے ساتھ دو طرفہ تعلقات اور تعاون کو فروغ دے رہاہے۔ ان ممالک میں مالدیپ بھی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب 6 فروری کو مالدیپ کے صدر عبداﷲیامین نے ملک کی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے سے پیدا ہونے والے بحران پر قابو پانے کے لئے ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کیا، تو اس پر تبصروں اور اعلانات میں بحرِ ہند میں جاری نام نہاد چین بھارت، مسابقت کا رنگ بھی جھلکنے لگا۔ حالانکہ یہ مالدیپ کا خالصتاً اندرونی مسئلہ تھا اور کسی ملک کو اس میں مداخلت کا حق نہیں پہنچتا۔ اس کے علاوہ چین نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ بحرِہند پرغلبہ حاصل کرنے کے لئے اُس کا بھارت کے ساتھ کوئی مقابلہ ہے۔ اس کے مقابلے میں بھارت بحرِ ہند پر کنٹرول کو اپنا حق سمجھتا ہے اور اس حق کے دفاع میں جغرافیائی اور تاریخی عوامل پیش کئے ہیں۔ بھارت کی موجودہ حکمران پارٹی بی جے پی کی علاقائی حکمتِ عملی میں تو بحرِ ہند کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے اور اس کے تحت بھارت نے نہ صرف بڑی طاقتوں سے اشتراک کے ذریعے اپنی بحری قوت اور صلاحیت کو مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے بلکہ بحرِ ہند کے چھوٹے ممالک کے اندرونی معاملات میںمداخلت کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کے بھی اشارات دیئے ہیں۔ مثلاً بی جے پی کے ایک سرکردہ رہنما مہندر سنگھ نے مالدیپ کے بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنی حکومت کو مداخلت کی تلقین کی اور کہا کہ مالدیپ کے موجودہ بحران میںمداخلت کے ذریعے ''بھارت اپنے آپ کو ایک عالمی طاقت ثابت کرسکتا ہے۔ یہ ایک ایسا (مالدیپ میں فوجی مداخلت) موقع ہے جسے بھارت کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہئے۔ مالدیپ میں مداخلت بھارت کے لئے اس لئے ضروری ہے کیونکہ جب تک کوئی ملک اپنے ہمسایہ ممالک پر غلبہ حاصل نہیں کرلیتا، اس وقت تک وہ عالمی سطح پر ایک بڑی طاقت کی حیثیت سے اپنا کردار ادا نہیں کرسکتا۔'' یہ سوچ کسی ایک لیڈر کی نہیں اور نہ ہی یہ عزائم موجودہ حکمران جماعت بی جے پی تک محدود ہیں بلکہ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیرِ اعظم پنڈت جواہر لال نہرو سے نریندر مودی تک سبھی بھارتی لیڈر بھارت کے اِردگرد واقع جنوبی ایشیا کے چھوٹے ممالک کو اپنا حلقۂ اثر سمجھتے ہیں اور اس کی بنیاد پر ان کے نہ صرف خارجہ تعلقات بلکہ اندرونی سیاسی عمل کو بھی اپنی مرضی کی سمت میں چلانا اپنا استحقاق سمجھتے چلے آرہے ہیں۔ اس سوچ کے تحت 1950 میں بھارت نے نیپال میں رانا خاندان کی موروثی آمریت کے خلاف جمہوری جدوجہد میں مداخلت کی، 1971 میں پاکستان کو دو ٹکڑے کرنے کے لئے مشرقی پاکستان میںمداخلت کی ،1987 میں تامل ٹائیگرز کی بغاوت کو کچلنے کے بہانے سری لنکا میں اپنی فوجیں اتاریں اور 1988 میں مالدیپ کی ایک فوجی بغاوت کوناکام بنانے کے لئے اپنے فوجی دستے بھیجے۔ مالدیپ کے موجودہ بحران کے موقع پر بھی بھارت کی طرف سے مداخلت کا امکان موجود تھا۔ کیونکہ کئی حلقوں کی طرف سے بھارت کو ایسا کرنے پر زور دیا جارہا تھا۔ بھارتی فوجی مداخلت کا مطالبہ کرنے والوں میں بی جے پی کے انتہا پسند حلقوں کے علاوہ سابق صدر محمدناشید بھی شامل ہیں۔ ان حلقوں کی طرف سے یقین دلایا جارہا تھا کہ اگر بھارت نے مالدیپ میں پہلے کی طرح فوجی مداخلت کی تو دوسرے ممالک اس کی مذمت کرنے کے بجائے اس کی حمایت کریں گے۔ کیونکہ 1988 میںجب بھارت نے مالدیپ میں اُس وقت کی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کو کچلنے کے لئے اپنے فوجی دستے بھیجے تھے تو امریکہ اور برطانیہ نے اس اقدام کی حمایت کی تھی۔ لیکن 1988 اور آج کے حالات میں بہت فرق ہے۔ اگر بھارت آج مالدیپ میں مداخلت کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے خلاف بہت سی آوازیں اُٹھیں گی، بلکہ شدید قسم کا ردِ عمل بھی آسکتا ہے۔ اس قسم کے ردِ عمل کے امکان کو چین کے سرکاری میڈیا نے واضح طور پر ظاہر کیا ہے۔ چینی فوج کے اخبار ''گلوبل ٹائمز'' نے اپنے ایک اداریے میں خبردار کیا تھا کہ اگر بھارت نے مالدیپ میں یکطرفہ فوجی مداخلت کی، تو چین اس کو روکنے کے لئے ہر ممکن اقدام کرے گا۔'' مبصرین کے نزدیک بھارت نے اگر اس دفعہ مالدیپ میں1988 کے اقدام کو نہیں دہرایا تو اس کی سب سے بڑی وجہ چین کی طرف سے سخت ردِّعمل کا خطرہ تھا۔


مضمون نگار معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 181مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP