متفرقات

مالا کنڈ ڈویژن اور وادیِ سون سکیسر 

آسمانی جمالیات تہذیبوں، مذاہب اور معاشرتی رنگوں کو نہیں دیکھتی، وہ تو پے در پے اترتی ہے۔کبھی بمبوریت کی دلفریب گلیوں میں کبھی کنکورڈیا کے برفانی چوراہوں میں تو کبھی سون سکیسر کی کھبیکی جھیل کے کنارے۔جنسِ آدم کے آلہ بصارت پر کروڑوں جلوؤں کی شعاعیں کبھی کبھار کشف و وجدان کا ایسا در کھولتی ہیں کہ لاشعوری عقدے جو ہزاروں سال سے محبوس ہوتے ہیں، کھل جاتے ہیں اور ہم جیسے سیلانی ایسے مناظر کے فطری سحرسے کائنات کی تمام ارواح سے جڑنے لگتے ہیں۔زندگی میں چراغِ انجمن جلتا ہے جو عالمِ ارواح کی محفوظ یادداشتوں کو روشن کرتا ہے۔جام جمشید تو دیومالائی تصور بھی ہو سکتا ہے جو ایک ہی وقت میں ارض و سماوات کے حالات سے آگاہ کرتا تھامگر مالاکنڈ کی جمالیات کا بے ساختہ رنگ دیکھ کر خوش رنگ طیور اپنے پنکھ پھیلائے اس کے سینے پر گدگدی کرتے ہیں، دنیا بھر کی داستانیں ایک دوسرے کو سناتے ہیں۔زندگی کے حبس آلود ماحول سے اٹا ہوا سیاح ترکھنی موڑ سے اپنا سفر شروع کرتا ہے۔ وہ کارِ دنیا میں منہمک ضرور ہے مگر اس منجدھار میں ایک الگ موج کی صورت۔جو بے چارگی کی دھند کے پار نظارگی کا مشتاق ہے۔ اسی تڑپ سے بھرے پائوں لے کر خوشاب کی وادی سون کا رخ کرتا ہے۔وادی سون سکیسر ایک نیم دائرہ تشکیل دیتی ہے جو سطح سمندر سے کوہ نمک کے مغربی حصے پر دو ہزار فٹ کی بلندی پر موجود ہے۔مستقل پڑائو والے پرندوں کا اسکواڈ تو ویلکم کرتا ہی ہے مگر جھیل کے گرد و نواح میں سبز برگ و بار شاخیں اور جھاڑیوں کے ساوے رنگیلے پھول بھی مہاجر پرندوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔اس وادی کے پہاڑوں کا رنگ بھی بہت پرکشش ہے۔کہیں گہرا کہیں ہلکا اور کہیں برائون ہو جاتا ہے۔اس کا لینڈ اسیکپ انسانی آنکھوں میں حیرت کے سُرمے ڈالتا رہتا ہے۔



اگرچہ یہ علاقہ بھی قدیم تہذیبوں کا مرکز رہا ہے مگر آثار قدیمہ کے ماہرین کی تحقیق کا موضوع نہیں بن سکا۔ جبکہ بدھ مت کے بہت سارے آثار اِن علاقوں میں پائے جاتے تھے۔وادی سون کوہستان نمک اور پوٹھوہار ایک ہی ڈائریکشن میں واقع ہے۔جھیل کے ایک طرف نوشہرہ اور انگہ گائوں ہے۔احمد ندیم قاسمی کی نظموں میں جن جھیلوں اور پرندوں کا ذکر ملتا ہے وہ اس علاقے میں ہی پائے جاتے ہیں۔ دوسری طرف امب شریف کی سیکڑوں سال پرانی آبادی کے نشان ملتے ہیں۔امب پہاڑ پر قلعہ اور بڑی بڑی حویلیوں کے آثار موجود ہیں۔سو برس قبل قدیم کشمیری طرز کے تین مندر بھی بنائے گئے تھے جن میں سے دو اب بھی موجود ہیں۔
کھبیکی، اچھا لی اور جھا لر جھیلیں ''رامسر'' معاہدے کے تحت جنگلی جا نوروں کی پناہ گاہیں قراد دی گئی ہیں۔سپو ن بل پرندہ جو غول والے جوائنٹ فیملی سسٹم کا دلدادہ ہے اور چمچ کی طرح کی چونچ والا پرندہ ہے، اس کی سب سے پسندیدہ جھیل یہی ہے۔نمکین جھیلوں میں اگرچہ آبی پرندوں اور مچھلیوں کی حیات کو خطرات درپیش رہتے ہیں جیسے کہ بحیرہ مردار جو دراصل کھارے پانی کی ایک جھیل ہے جس میں دیگر سمندر کے مقابلے میں 9.6 گنا زائد نمک پایا جاتا ہے، یہاں تک کہ بحیرہ مردار میں شامل ہونے والا دریائے اردن کا میٹھا پانی بھی اس پر کوئی اثرات مرتب نہیں کرتا۔جیسے بدخو اور بد طینت انسان پر کبھی وفا کا اثر نہیں ہوتااور کوئی محبت والی ہستی اس کے دل کے اندر نہیں رہ سکتی، اسی طرح کوئی جاندار اس کوہ مردار جھیل کے نمک زدہ پانی میں زندہ نہیں رہ سکتا۔مگر کھبیکی جھیل کا پانی نمکین ہونے کے باوجود حیات افروز ہے۔
کھبیکی کا علاقہ نمکین اور کیچڑ زدہ ہے اور سردیوں میں پرندوں کی کئی اقسام کے لیے انتہائی پُرکشش ہے۔ گزشتہ چند سالوں سے جھیل پر آنے والی مرغابیوں کی تعداد میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ ہجرت کرنے والے لم ڈھینگوں کے لیے سرائے نشاط و راحت ہے۔ہر سال یہ پرندے دو سے چار مہینوں کے لیے یہاں قیام کرتے ہیں اور اپنے طویل سفر کو جاری رکھنے کے لیے یہاں توانائی جمع کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ سائبیرین مہاجر پرندے جس میں  سب سے اہم سفید سر والی بظخیں ہیں اس کے علاوہ لم ڈھینگ ، چتکبرا سارس، قاز ، سفید آنکھوں والی مرغابی، اور مختلف قسم کی مچھلیاں بھی پائی جاتی ہیں۔اس جھیل کے کنارے انسانی آنکھ کی حیرتیں دم سادھے بکھری ہوئی ملتی ہیں کہ کبھی یہ علاقہ کسی بڑے دریا کا وجود تھا جو اب انسانی آنکھ کے کیمرے کے اینگل کی گرفت میں آ چکا ہے۔ایک کلومیڑ لمبی اور دو کلومیٹر چوڑی قدرتی جھیل کہ جس کا پانی نمکین اور ناقابل استعمال ہے مگر اب کہا جاتا ہے کہ اس جھیل کا پانی معجزاتی طور پر قدرے میٹھا ہوچکا ہے۔



سیاحت کے لیے مارچ سے ستمبر نہایت موزوں مہینے ہیں۔وادی میں برسات سے پھولوں اور سبزے میں ایک تروتازگی آجاتی ہے اورگرمی کے موسم میں سرد ہوائیں جاڑے کا احساس دلاتی ہیں۔ برسات کا مزہ ایسی صورت میں اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ یہاں کا موسم انتہائی دلفریب ہے۔ ذرا سے بادل بنے اور پل بھر میں برس کے آسماں صاف ہو جاتا ہے۔رسول حمزہ توف نے کہا تھا کہ''میرے داغستان، تجھے کس چیز سے تشبیہ دوں کہ تیری تاریخ اور خوبصورتی کو بیان کر سکوں۔ممکن ہے آگے چل کر تیرے شایانِ شان الفاظ ڈھونڈ سکوں'' میں بھی کھبیکی جھیل کے متعلق کچھ ایسا ہی سوچتا ہوں۔
کون جانے ایک صدی بعد یہ جھیل پھر کسی دشت یا دریا کا روپ دھار لے۔ مشرقی اناطولیہ کی جھیل سے گزرنے والی فیری میں موجود مسافر جو ترکی سے ایران جاتے ہیں،ان کو کیا معلوم کہ 26 اگست 1071ء میں ملازکرد نامی جنگی طبل کیوں بجا؟سلجوقی اور بازنطینی جنگجوؤں کے درمیان لشکر کشی کے نتیجے میں کیسی خون ریزی ہوئی تھی۔کیسے رومانس چہارم کو رومیوں کے لیے جائے عبرت بنایا گیا تھا۔وہ مسافر تو چوکھے ساوے رنگوں کی گلکاریوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔اُن کو تاریخی کہانیوں سے شاید دلچسپی نہیں ہوتی۔
یہ درویش کھبیکی جھیل شانزے لیزے کی صبح کی خوشبوؤں سے زیادہ مہکتی ہے۔زیست کی شکست و ریخت کی پیمائشوں کی فصیل میں جکڑے اسیروں کو صرف ایک بار کسی شام اس جھیل پر ضرور آنا چاہیے۔کبھی کبھی ہم خوشیوں میں اختصار پسندی کی جانب مائل ہوتے ہیں مگر درد کے عمودی ترچھے زاوئیے اس جیون کی تشریح کو اک نیا رخ دے دیتے ہیں۔الٹرا وائلٹ تابکاری کا ایک دریا زیرِ بدن اُمڈ آنا چاہتا ہے مگر ہم ساکت رہتے ہیں۔یہ جھیل کا کنارہ دل و جاں کی راکھ ہوتی حساسیت کوشعلگی بخشتا ہے۔صعوبت کا کلس توڑتا ہے۔دید وشنید میں راحت بھرتا ہے۔کیف کے دریائوں کو سوچ کی سوکھ جانے والی زمینوں کی طرف بہاتا ہے۔بے ترتیب عناصر کو جمع کرکے فطرت کا مداح بناتا ہے اور بے عیب جھیل کا کنارہ زندگی میں تمام خامیوں کو دور کرکے اسے خوش گوار بناتا ہے۔پھر یہ زندگی بھی ہلکورے لیتی اور رنگ بکھیرتی آب گاہوں کے قیام کا آئینہ دکھاتی ہے اور ان کے کناروں پر اترتے ،چہچہاتے پرندے زندگی کے طاقچوں میں نئی امید کے چراغ جلاتے ہیں۔نقرئی جھانجھریں سماعتوں میں گونجتی ہیں خدائے عظیم کسی پربت کی اوٹ سے مسکراتا ہے اور قاضی ظفر اقبال جیسے عمدہ شاعر بھی بول اٹھتے ہیں۔
بند ہوں گنبدِ تحیر میں
رقص میں شش جہاتِ آئینہ ہے
جھیل سٹیٹر ہل خدا کی تخلیق کا شاندار مظاہرہ ہے۔یہ آسٹریا کے پہاڑوں میں گِھری ہوئی ایک خوبصورت جھیل ہے۔جب برف باری ہوتی ہے تو یہ جھیل سفید پربتوں کے بیچ ایک نیلگوں سحر طاری کرتی ہے۔کشادہ پاٹ رکھنے والی یہ جھیل اس لیے بھی منفرد ہے کہ اس پر دنیا کے نایاب پرندوں کی آمد ہوتی ہے۔یہ دنیا کے قدیم قصبے میں آباد ہے جو نمک کے کاروبار کی وجہ سے معروف ہے۔اسے سفید بالوں والی خوبصورت دیوی بھی کہا جاتا ہے۔اس جھیل کو دیکھنے کی خواہش جاگتی ہے تو ہم لوگ اپنے دیس کی نامعلوم جھیلوں کا رخ کرتے ہیں۔
مالاکنڈ ڈویژن کے پہاڑی سلسلے جنگ کے بعد بہت پرسکون ملے۔وہی سبزے سے لدی وادیاں، وہی روشن صبحیں اور دلفریب شامیں وہی چراگاہوں میں بھیڑیں اور بکریاں، سب مناظر خوش کن تھے۔اوشو کا جنگل،مسحور کن آبشاریں اور دلفریب جھرنے معیشت کی تنگ دامنی کو بھلانے کے لیے کافی ہیں۔ان علاقوں میں نگاہوں کا سکیل انتہائی سطح پر بڑھ جاتا ہے۔باریک نقطے بھی سمجھ آنا شروع ہو جاتے ہیں۔قدم قدم پر تختِ طاؤس کی سی رنگینی نظر آتی ہے۔
مالاکنڈ ڈویژن فلک بوس کہساروں ، گہری اور پیچ و تاب کھاتی وادیوں اور حسین مرغزاروں کی سرزمین ہے۔سوات، کالام کے دریا اور جھیلیں مدہوش کر دینے والے مناظر دکھاتی ہیں۔پانیوں کا زیروبم سوز و گداز رکھتا ہے۔ہوائوں کی دھنوں پر آسمانوں کے پار کھڑکیاں کْھلتی ہیں ایک دل آویز رقص وادیاں شروع کر دیتی ہیں۔ایسے ہی حسن کے ترکش سے تو میں گھائل ہوتا ہوں۔ ہماری مسافت بھی اگرچہ کالام تک ہی تھی مگر مقامی باشندوں کی مہوڈنڈ جھیل کے متعلق داستانیں اس قدر اشتیاق پیدا کر چکی تھیں کہ اسے دیکھے بغیر کوئی چارہ نہ تھا۔ڈیڑھ صدی قبل جب سوات کے شاہ نے اپنے گھوڑے کو اس راستے پر ڈالا تو وہ بہت حیران اور خوش ہوا اور قدرتی حسن پر اس نے وارفتہ ہو کر اپنے لیے مزدوروں سے راستہ بنوایا، جو کالام سے چترال تک انہی پہاڑوں سے ہوتا ہوا جاتا تھا۔
مہو کو پشتو میں مچھلی کو کہتے ہیں چونکہ اس جھیل میں ٹراؤٹ فِش بہت زیادہ ہوتی ہے تو اسے مہو ڈنڈ لیک کے نام سے جانا جاتا ہے۔یہ پتھریلے راستے گھوڑوں کے لیے تو ٹھیک ہیں مگر جیپ کے لیے انتہائی دشوار گزار۔ جیپ ڈکو ڈولے کھاتی دو گھنٹے میں مہوڈنڈ پہنچ گئی اور ساتھ ہی ہم لوگ کچلے ہوئے اورادھڑے ہوئے وجود کے ساتھ جب اترے تو ایک الگ ہی نظارہ دیکھا۔سبز رنگ خاص طور پر نمایاں تھا۔سفید دودھیا آبشاریں راستوں میں پربتوں کے سینے سے نکلتی ہوئی مِلیں۔گھوڑے گھاس پر رقص کرتے، دو دو جھیلیں آپس میں مربوط مگر راستہ بناتی ہوئی طِلسم بکھیرتی۔ ایک ایسا ماحول جو کہ سورة نمل میں خدا بیان کرتاہے:
''بھلا وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیااور تمہارے لیے آسمان سے پانی برسایااور پھراس کے ذریعے خوشنما باغات(جنگلات) اگائے جن  درختوں کا اُگانا تمہارے بس میں نہ تھا۔''  لگتا تھا کہ فرشتوں نے اس خطہ کے لیے خوبصورتی سپانسر کی ہے۔
جھیل سٹیٹر ہل اگرچہ میرے ذہن سے چپک گئی تھی مگر جیسے ہی میں نے جھیل سیف اللہ کو دیکھا تو آسٹریا بھول کر اس جھیل سیف اللہ اپر کے آتش دان میں جل کر راکھ ہو گیا تھا۔وہی کچھ تو تھا وہی چاروں طرف پہاڑ وہی جھیل وہی کنارہ، انسانی آنکھ اپنی بصارت کے حساب سے زیادہ دیکھ چکی تھی۔بہار کا رنگ میرے خوابوں جیسا تھا۔لگتا تھا خدا نے حُسن کا پرساد زمین کی تھالی کے اس حصے میں بہت دل کھول کے پروسا ہے۔جھیل سیف اللہ کے مئے کدے سے ساقی بھر بھر کر پلانے لگا۔ابھی کچھ وقت پہلے تنگ راستے، پتھریلی رہ گزر، سنگلاخ اور چُر مرے زاویے بکھرے ہوئے تھے۔بائیں بازو کا دریائے سوات پوری روانی سے بہتا جا رہا تھا اور دائیں جانب فلک شیر سربلند پہاڑ برف سے ڈھکا ہوا نظریں ملا رہا تھا۔ ایسے میں اچانک جیسے جنت کا بڑا گیٹ کھل گیا ہو۔وسیع اور کھلی وادی اُسو کا نظارہ ظاہر ہوا۔ایک مکمل لینڈ سکیپ نگاہوں میں وجد طاری کرنے لگا۔ایک وحشت سی جو دیوانگی کی حدوں کو چھو کر رقص کرنے پر بلھے شاہ کو اُکساتی رہی۔ایک جام جو سرمد کو پینے پہ مجبور کرتا رہا۔سنہرے پھول آپ ہی آپ کِھلتے نظر آئے۔دوستو وسکی کی سفید راتوں کی برف کا راز کھل چکا تھا اور ٹالسٹائی کے صوفیانہ رنگ کا مقصد سمجھ آ چکا تھا۔دھانی رنگ کے پھول، ہریاول کی لوبان بھری مہک، بنجر مگر برفیلے پہاڑوں پر قدرت کے حْسن کا تختہ سجا ہوا تھا۔آنکھ کے کیمرے کی میموری ختم ہو چکی تھی۔مگر مناظر ابھی تک لبِ بام بھی نہیں آئے تھے۔فیض صاحب نے کہا تھا:
    ع       رند مئے خانے سے شائستہ خرام آتا ہے
اِن علاقوں میں اگریونانی کہانی کار ہوتے تو اس کو کائنات کے تمام دیوتاؤں کا مرکز لکھتے۔مظاہرِ فطرت کو انسانوں کا پیش رو لکھتے۔وہ کائنات سے دیوتاؤں کے جنم لینے کے نظریے کو ان وادیوں، دریاؤں، اور پربتوں سے ثابت بھی کر دیتے۔جھیل سیف اللہ سے ہی چترال تک پرانا راستہ جاتا ہے اور پھر اس سے آگے کیلاش ویلی تک جو جنوب مغربی چترال کے تین علاقوں میں منقسم ہے۔دیار کے درختوں کی لمبی قطاریں اوشو کے جنگل میں ہاتھ باندھے تسبیح کرتی ہیں اور ایک طویل کھینچی ہوئی سفید نور کی روشنی کی لکیر بادلوں کی صورت سر پر سایہ کیے ہوئے تھی۔ہندوکش کے پہاڑوں کے اوپر صنوبر اور دیار کی چھتریاں سجی ہوئی تھیں۔
جھیل سیف اللہ لوئر بھی قدرتی حسن کا ایک شہکار ہے جو انسانی آنکھ اسے دیکھ لے اسے دنیاوی عشق ہیچ لگنے لگے۔ناظم حکمت جو ترکی میں رزمیہ ناول لکھنے کو مشہور تھا۔ اگر اس جھیل کو دیکھتا تو جمالیاتی آہنگ سے باہر نہیں نکل سکتا تھا۔اور میں ان پانچ دنوں کے لیے دنیا و جہان سے ماورا مدہوش پڑا ہوا سپرنگ والے پلنگ سے اچھلتا بہشت کے اس پار کا نظارہ کرتا اور پھر واپس زمین پر آ گرتا۔ ||


مضموں نگار، شاعر، سفرانچہ نگاراور دو کتابوں کے مصنف ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 59مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP