خصوصی ملاقات

لیلیٰ زبیری

اداکارہ لیلیٰ زبیری

میڈیا کے آزاد ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم لوگ مادرپدر آزاد ہو جائیں۔ چیک اینڈ بیلنس ہونا چاہئے۔

ٹیکنیکلی ہمارا آج کا ڈرامہ بہت بہتر ہوگیا ہے۔ پہلے وقتوں کا ڈرامہ پروفیشنلی بہت اچھا ہوتا تھا۔

میری ساری فیملی بیرونِ ملک مقیم ہے۔ لیکن میرا دل نہیں لگتا جو نام، عزت اور شہرت،مجھے میرے ملک نے دی میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ مجھے اپنے ملک سے محبت ہے۔

کچھ شخصیات قدرتی طور پرطلسماتی حسن اور کشش کی مالک ہوتی ہیں اور پھر اگر اس کے ساتھ ساتھ وہ باصلاحیت بھی ہوں توشہرت اور عزت ان کا مقدرہوتی ہے۔ لیلیٰ زبیری ایسی ہی ایک شخصیت اور ریڈیو، ٹی وی کا ایک جانا پہچانا نام ہیں۔
چائلڈ سٹار کی حیثیت سے اپنے فن کاآغاز کرنے والی لیلیٰ زبیری کی اداکاری جہاں ڈرامہ دیکھنے والوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے وہیں ان کا سدا بہار حسن ناظرین کو مبہوت کر دیتا ہے۔لمحہ بہ لمحہ ہونے والی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ لیکن معاشرتی اقدار اور روایات کی امین خوبصورت اداکارہ کے ساتھ ہونے والی ملاقات یقیناََ ہمارے قارئین کے لئے دلچسپی کا باعث ہو گی۔ 
س۔اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں کچھ بتائیے‘ بچپن کیسا گزرا ؟
ج۔میں کراچی میں پیدا ہوئی۔میرے والد ریڈیو پاکستان کراچی میں کام کرتے تھے۔وہ رائٹر بھی تھے۔ ان کی بہت سی کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ والدہ ٹیچنگ کے شعبے سے وابستہ تھیں۔میرے والد اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے اور میں اپنے خاندان کی پہلی بچی تھی۔ تودا دا، دادی، چچی،پھوپھیاں سب کا بہت پیار ملا۔ بلکہ وہ محبت ابھی تک قائم ہے۔ اس لاڈ پیار کی وجہ سے میں تھوڑی ضدی بھی تھی۔لیکن بڑے ہونے کے بعد میری ضد ختم ہو گئی بلکہ اب تو میری امی کہتی ہیں کہ تم بہت بدل گئی ہو۔
س۔اس فیلڈ میں آمد کیسے ہوئی؟
ج۔میرے والد ریڈیو کراچی میں ہوا کرتے تھے۔میں اور میری بہن بیلا کبھی کبھار ان کے ساتھ ریڈیوچلے جایا کرتے تھے۔ ہمیں بھی اس کا شوق پیدا ہوا۔ ہم نے والدصاحب سے کہا ہم ریڈیو پر کام کرنا چاہتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے آڈیشن دے دو۔ اگر کامیاب ہو جاتی ہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ ہم نے آڈیشن دیا اورپاس ہو گئیں اور یوں ریڈیو کا آغاز ہوا۔ بس پھر بچوں کے پروگرام، سکول براڈ کاسٹنگ، سٹوڈیو نمبر 9اورکہکشاں۔ ہر طرح کے پروگرام کئے۔ پھر بڑی ہوئی تو جشن طلباء، بزمِ طلباء سٹوڈنٹ فیسٹیول میں حصہ لیا اور پہلا انعام لیا۔ پھر ٹی وی آگیا تو بچپن سے ہی بچوں کے ڈراموں میں حصہ لیا۔ میرا پہلا ڈرامہ میرے والد کا ہی لکھا ہوا تھا۔ اس میں بہروز سبزواری میرے ساتھ تھے ا ورمیرا کریکٹر پری کا تھا۔ 
س۔ آپ کا ریڈیو پر پہلا ڈرامہ کون سا تھا؟
ج۔ ریڈیو پر کمرشل سروس کا جانسن بے بی پاؤڈر کاہفتہ وار پروگرام ہوا کرتا تھا۔ اس میں ڈرامہ ہوتا تھا۔ غزالہ رفیع میری والدہ اور فاطمہ خانم نانی کا کردار ادا کرتی تھیں۔ میں پپو میاں بنا کرتی تھی۔ یہ ایک لڑکے کا کریکٹر تھا۔ پروگرام کے آخر میں ہم پانچ خط نکالتے تھے اور ان کو انعام دیتے تھے۔ اس زمانے میں بے تحاشا خط آیا کرتے تھے۔ 
س۔ آپ کن لوگوں کو اپنے اساتذہ میں شمار کرتی ہیں؟
ج۔ سب سے پہلے میرے والد میں نے ان سے بہت سیکھا اور پھر کاظم پاشا۔ مجھے ٹی وی پر کاظم پاشا نے ہی متعار ف کروایا تھا۔ میرا پہلا ڈرامہ آبرو تھا۔ آج میں جو کچھ بھی ہوں اس کا کریڈٹ میں انہی کو دیتی ہوں۔ 
س۔ شادی کب ہوئی؟
ج۔ میری شادی ارینجڈ تھی۔ میں میٹرک میں تھی تو میری منگنی ہو گئی تھی۔ میرے شوہر میرے سیکنڈ کزن ہیں اورآرمی میں ہو اکرتے تھے۔ میری فرینڈز تو کہتی تھیں کہ تم بہت خوش قسمت ہو کہ تمہیں ایک آرمی آفیسر ملا ہے۔ اس زمانے میں موبائل تو ہوتے نہیں تھے۔ ہم ایک دوسرے کو روزانہ خط لکھا کرتے تھے۔ شادی کے بعد کافی عرصہ میں نے وہ خط سنبھال کر رکھے۔ میں سیکنڈ ایئر میں تھی تو میری شادی ہو گئی۔ 
س۔ شادی کے بعد کیسی زندگی گزری؟
ج۔ ہم لوگ کراچی میں تھے ااور میرے شوہر کی پوسٹنگ کھاریا ں میں تھی۔ میں نے کھاریاں کا نام بھی نہیں سنا تھا۔ میں تو سمجھی کہ شاید کوئی گاؤں ہو گا۔ لیکن جب وہاں جاکر دیکھا تو بہت خوبصورت جگہ تھی۔ ہم لوگ آرمی کے گیسٹ ہاؤس میں رہے۔ میس سے کھانا آجاتا تھا۔ بیٹ مین چائے بنا دیتا تھا۔ دیر سے سو کر اٹھتی تو کھانا ٹیبل پر تیارملتا۔ بہت مزا آتا تھا۔ کچھ عرصے بعد ہمیں گھر مل گیا۔ اس چھوٹے سے گھر کو بنانا سنوارنا بہت اچھا لگتا تھا۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ مجھے کھانا بنانانہیں آتا تھا۔ جب میرے شوہر نے کہا چلو اب جا کر گھر کا سودا سلف لاتے ہیں۔ کھانا اب گھر پر بناکرے گا تو میں بڑی پریشان ہوئی۔ میں نے کہا کہ کھانا کون بنائے گا؟توکہنے لگے تم بناؤ گی اور کون بنائے گا۔ پھر میں نے امی کو خط لکھا کہ مجھے کھانے کی ترکیبیں لکھ کر بھیجیں۔ اَمی نے مجھے ایک کاپی بنا کر بھیجی جس میں کھانوں کی آسان ترکیبیں تھیں۔ مثلاً چاول اُبالنے کی، دال پکانے کی۔ پھر دوسرا مسئلہ یہ تھا مجھے مقدار کا اندازہ نہیں تھا۔ ایک مرتبہ میرے گھر بہت سے مہمان آگئے اور میں نے صرف ایک پاؤ قیمہ منگوا کر پکا لیا۔ پھرکچھ عرصے بعدمیری کزن بھی شادی کر کے وہیں آگئی۔ کھانا بنانا اسے بھی نہیں آتا تھا تو ہم لوگ مل کر تجربے کیا کرتے تھے۔ کنٹونمنٹ کی لائف بہت خوبصورت ہوتی ہے۔ کیونکہ سب لوگ گھر سے دور ہوتے ہیں۔ آپس میں مل جل کرایک فیملی کی طرح رہتے ہیں۔ دوستیاں ہو جاتی ہیں ساری زندگی قائم رہتی ہیں۔ 
س۔ آپ کے اس سدا بہار حسن کا راز کیا ہے؟
ج۔ اللہ نے بنایا ہے اس کا شکر ادا کرتی ہوں اور اپنا خیال رکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔ میں ورزش اورواک باقاعدگی سے کرتی ہوں اور صبح نہار منہ تین چار گلاس پانی ضرور پیتی ہوں۔ غیر معیاری پروڈکٹس استعمال نہیں کرتی۔ 
س۔ آپ نے اپنی پروفیشنل لائف میں کبھی مشکلات کا سامنا کیا؟
ج۔ اگر آپ کا سٹرانگ فیملی بیک گراؤنڈ ہو تو گھر سے باہر کام کرنے میں مشکلات پیش نہیں آتیں۔ پھر دوسری بات یہ کہ انسان کی عزت اس کے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ جو عزت مجھے ملی ہے اس کو قائم رکھوں۔ مجھے 28سال ہوگئے ہیں اس فیلڈ میں کبھی کوئی بُرا واقعہ پیش نہیں آیا۔
س۔ پہلے وقتوں کے اور آج کے ڈرامے میں کیا فرق محسوس کرتی ہیں؟
ج۔ ٹیکنیکلی ہمارا آج کا ڈرامہ بہت بہتر ہوگیا ہے۔ پہلے وقتوں کا ڈرامہ پروفیشنلی بہت اچھا ہوتا تھا۔ پہلے سکرپٹ لکھا جاتا تھا۔ ہمیں سکرپٹ مل جاتا تو دو تین دن کے بعد ریہرسل شروع ہوتی تھی۔ ہم ہفتے میں 5دن ریہرسل کرتے بعض اوقات اس سے بھی زیادہ دن ریہرسل کی جاتی۔ پھر ساری ٹیم کا موجود ہونا ضروری ہوتا تھا۔ تو پورا ایک ماحول بن جاتا تھا۔ جب ہم ڈرامہ کرتے تو ریہرسل کی وجہ سے ڈائیلاگ ہمیں یاد ہوتے تھے۔ پھر اس وقت یہ بھی تھا کہ پیسہ بہت کم تھا۔ لوگ صرف اپنے شوق اور جنون کی خاطر ڈرامہ کرتے تھے اور ایک وقت میں ایک ہی ڈرامہ ہوتا تھا۔ میں نے جب ڈرامہ چھاؤں کیا تھاتو مسلسل ریہرسل کی وجہ سے مجھے لگتا تھا کہ میں وہی کردار ہوں۔ گھر آکر بھی میں اسی کردار اور ماحول میں رہنے لگی تھی۔ آج کل کمرشلزم زیادہ ہو گیا ہے۔ اب اس فیلڈ میں کام بھی بہت ہے اور پیسہ بھی بہت ہے۔ اب صرف اتنا کام کیا جاتا ہے جتنا آپ کو پیسہ ملتا ہے۔ ریہرسل نہیں کی جاتی۔ کریکٹر اور سٹوری کا پتہ نہیں ہوتاکہ اس کے آگے اور پیچھے کیا ہے۔ اس وجہ سے ڈرامے میں انجوائمنٹ نہیں رہتی جو پہلے وقتوں میں ہوا کرتی تھی۔ آج کل توہمیں یہ بھی پتا نہیں ہوتا کہ ہمارے علاوہ اس ڈرامے میں اور ہے کون۔ بعد میں جب ڈرامہ دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اور کون سے فنکار اس ڈرامے میں تھے۔ اس لحاظ سے مجھے پہلے والا ڈرامہ زیادہ پسند ہے۔ 
س۔ آپ اپنا ڈرامہ دیکھتی ہیں؟
ج۔ ٹائم ہی نہیں ملتا کیونکہ کام ہی اتنا زیادہ ہوتا ہے مگر میں کوشش کرتی ہوں کہ دیکھوں تا کہ اپنی غلطیوں کا پتہ چل جائے اور ان کو ٹھیک کیا جا سکے۔ 
س۔ آج کل کون سے لوگ بہترین کام کر رہے ہیں؟
ج۔ آج کل بڑے اچھے اچھے لوگ آرہے ہیں۔ صبا قمر بہت پروفیشنل ادا کارہ ہے۔ بہت اچھا او ر نیچرل کام کرتی ہے۔ لڑکوں میں خان وحید بہت اچھا کام کر رہا ہے۔ جب کہ ڈائریکٹرز میں سرمد سلطان بہت اچھا کر رہا ہے۔ بہت پروفیشنل ہے۔ 
س۔ آپ کااپنا پسندیدہ ڈرامہ یا کردار؟
ج۔ کوئٹہ سے میں نے ایک ڈرامہ کیا تھا۔ ’’خاک جاہ‘‘اس میں میرا کردار ایک ایسی لڑکی کا تھا جو کچرے کے ڈھیر سے چیزیں اکھٹی کرتی ہے۔ اس پر ایک ڈیزائنر کی نظر پڑتی ہے اور وہ اسے ماڈلنگ کے لئے لے جاتی ہے۔ وہ لڑکی جب ماڈلنگ کرتی ہے تو لوگوں کی نظروں سے خوفزدہ ہو کر اپنے کچرے کے ڈھیر کی طرف واپس لوٹ جاتی ہے۔ اس میں اداکاری کا بہت مارجن تھا۔ کیونکہ جو کردار آپ کی ذات سے ہٹ کر ہو وہ کرنے میں بہت مزا آتا ہے۔ فصیلِ جان سے آگے، جوابھی کچھ عرصہ پہلے میں نے ISPRکے ساتھ کیا تھا، وہ بھی میرا پسندیدہ ڈراموں میں سے ہے
س۔ آج کے ڈرامے کو بہتر بنانے کے لئے کیاکیاکرنا چاہئے؟
ج۔ آج کل اچھے سکرپٹ نہیں آتے۔ اچھے رائٹرز کی کمی ہے۔ کمرشلزم بہت ہے۔ مارکیٹنگ والے آپ کو بتاتے ہیں کہ اچھے گھر، خوبصورت عورتیں اور اس طرح کی چیزیں دکھائی جائیں تا کہ ڈرامہ بِکے۔ 
س۔ آپ کا اپنا پروڈکشن ہاؤ س بھی ہے اس کا خیال کیسے آیا؟
ج۔ میں نے2002 میں LEOs ENTERTAINMENT کے نام سے اپنا پروڈکشن ہاؤس قائم کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے دیکھا اسلام آباد میں بالکل کام نہیں ہوتا اور سارا کام لاہوراور کراچی میں ہوتاہے۔ میں چاہتی تھی کہ اسلام آباد میں بھی کام ہو۔ ’’آپ کو کیا تکلیف ہے، سیاست کمال کی‘‘اینٹی نارکوٹکس کا پروگرام زندگی تم بھی کہو اور بہت سے ڈرامے کئے۔ 
س۔ فلم میں کام کرنے کا ارادہ ہے؟
ج۔ با لکل ارادہ ہے۔ میرا بہت دل چاہتا ہے کہ میں فلم میں کام کروں۔ کیونکہ بڑی سکرین کی بات ہی کچھ اور ہے۔ اس کا اپنا ہی مزا ہے۔ میرے پاس ایک فلم کی آفر ہے‘ دیکھیں کیا فائنل ہوتاہے۔ 
س۔ باہر کے ڈرامے جو پاکستانی چینلز پر دکھائے جاتے ہیں‘ ان کے بارے میں کیا کہیں گی؟
ج۔ میں تو باہر کے ڈراموں کے سخت خلاف ہوں اور ہم نے اس کے خلاف احتجاج بھی کیا ہے۔ اس سے تو بہتر تھا دوسرے ملکوں کے چینل چلتے رہتے۔ چینل بند کر دئیے گئے ہیں مگر ان کے ڈرامے ہمارے چینلز پر چل رہے ہیں۔ ہمارے یہاں بہت اچھا اور بہت زیادہ کام ہو رہا ہے۔ لیکن اگر دوسرے ملکوں کے ڈرامے ہمارے چینلز پرچلیں گے تو ہمارے ڈرامے کدھر جائیں گے۔ خاص طور پر انڈین ڈرامے‘ ایک تو وہ غیر معیاری ہوتے ہیں۔ اور دوسرے یہ کہ کوئی بھی پاکستانی ڈرامہ ان کے ملک میں نہیں چلتا اور پرائم ٹائم یعنی سات سے گیارہ بجے تک ہمارے پاکستانی ڈراموں کے لئے مخصوص ہونا چاہئے۔ اگر ترکی ڈرامے چلانے بھی ہیں تو رات کو دیر سے یا دن کے وقت چلائیں۔ 
س۔ آزاد میڈیا کے بارے میں آپ کیا کہیں گی؟
ج۔ میڈیا کے آزاد ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم لوگ مادرپدر آزاد ہو جائیں۔ چیک اینڈ بیلنس ہونا چاہئے۔ ایک دفعہ سونیا گاندھی نے کہا تھاکہ ہمیں پاکستان کے ساتھ جنگ کی ضرورت نہیں بلکہ ہم میڈیا کے ذریعے ان پر فتح پا لیں گے اور یہی ہو رہا ہے۔ آہستہ آہستہ غیر محسوس طریقے سے ان کا کلچر ہماری زندگیوں میں شامل ہو رہا ہے اور اس کے اثرات ہماری نسلوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ہمارے ہاں پیمرا اتنا فعال نہیں ہے۔ اسے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے اورایسے قوانین بنانے چاہئیں جو سب چینلز پر یکساں لاگو ہوں۔ 
س۔ ایک سوشل ایکٹیوسٹ ہونے کی حیثیت سے آج کل کون کون سے فلاحی کام کر رہی ہیں؟
ج۔ میں مختلف NGOs کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہوں۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن، آیو ڈائزڈسالٹ اور اینٹی نارکوٹکس بورڈ کی برینڈ ایمبیسیڈر ہوں۔ فرسٹ ایڈایمبیسیڈر اور چیر پرسن ریڈ کریسنٹ ہوں۔ 
س۔ مطالعے سے کس حد تک دلچسپی ہے؟
ج۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا بہت شوق ہے۔ جو بھی اچھی کتا ب مل جائے پڑھ لیتی ہوں۔ مشتاق احمد یوسفی پسندیدہ رائٹر ہیں۔ شاعری میں پروین شاکر، فیض احمد فیض، جوش اور غالب سب کو پڑھتی ہوں۔ 
س۔ بچے کتنے ہیں اور ان کی تربیت میں کس چیز کاخیال رکھا؟
ج۔ میری دوبیٹیاں ہیں۔ ان کی شادیاں ہو چکی ہیں۔ ایک بیٹی سعودی عرب میں ہے۔ دوسری اسلام آباد میں ہوتی ہے۔ نانی بن چکی ہوں۔ اپنی نواسیوں سے بے تحاشا محبت ہے۔ وہ کہتے ہیں نا کہ اصل سے سود زیادہ پیارا ہوتا ہے تو واقعی ایساہی ہے۔ 
میں نے اپنے بچو ں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑا۔ جب وہ چھوٹے تھے تو کام نہیں کیا۔ ان کے ساتھ انہی کے سکول میں ٹیچنگ بھی کی۔ اچھے بُرے کی تمیز دی۔ ان پر بھروسا کیااور انہیں اعتماد دیا۔ کیونکہ بیٹیا ں تھیں تو بہت زیادہ دوستی رکھی اور میں یہی کہتی ہوں کہ ماؤں کو اپنے بچوں کے ساتھ دوستی کا رشتہ رکھنا چاہئے تا کہ انہیں اپنے دل کی بات کرنے کے لئے دوسروں کی طرف نہ جانا پڑے اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے میرے بھروسے اور اعتماد کو قائم رکھا۔ بچپن میں میری بیٹیوں نے اداکاری کی لیکن بعد میں چھوڑ دی کیونکہ اس طرف ان کا رجحان ہی نہیں تھا۔ البتہ میں نے کبھی کوئی پابندی نہیں لگائی۔ 
س۔ اب تک کتنے ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں ؟
ج۔ پی ٹی وی ایوارڈ، گریجوائٹ ایوارڈ، بولان ایورڈ ،پاکستان ایکسی لینس ایوارڈ اور بھی بہت سے ایوارڈز ملے۔ 
س۔ کتنے ملکوں کی سیر کی؟
ج۔ تقریباََ ساری دنیا گھوم چکی ہوں۔ امریکہ، برطانیہ، ہالینڈ، آسٹریلیا، انڈیا، اٹلی وغیرہ۔ لیکن جہاں بھی جاؤں دس پندرہ دن بعد مجھے بے چینی ہونے لگتی ہے کہ واپس اپنے ملک جاؤں۔ میری ساری فیملی بیرونِ ملک مقیم ہے۔ لیکن میرا دل نہیں لگتا جو نام، عزت اور شہرت،مجھے میرے ملک نے دی میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ مجھے اپنے ملک سے محبت ہے۔ 
س۔ ایک کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ آپ کی کامیابی کے پیچھے۔۔۔ ؟
ج۔ میرے شوہر کا۔ میری ہر کامیابی کے پیچھے میرے شوہر کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے مجھ پر بھروسا کیا،اعتماد دیا اورمجھے ہر قدم پر سپورٹ کیا۔ 
س۔ ہر سال 28مئی کو یوم تکبیر منایا جاتا ہے ا س کے حوالے سے کیا کہیں گی؟
ج۔ مجھے بہت خوشی کہ ہم آج اتنے مضبوط ہیں اور ہمارا دفاعی نظام اتنا طاقتور ہے کہ دشمن ہمیں کمزور سمجھ کر ہم پر وار نہیں کرسکتا۔ 
س۔ فوجی بھائیوں کے لئے کوئی پیغام دینا چاہیں گی؟
ج۔ پاک فوج کی وجہ سے ہم سکون کی زندگی گزارتے ہیں بلکہ اس ملک کا ہر شہری اگر عزت اور آزادی سے کام کر رہا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے فوجی جوان ہماری سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔ انہیں اس ملک سے محبت ہے اور ہمیں اپنی فوج اور اپنے ملک دونوں سے محبت ہے اور ہم اس کی قدر کرتے ہیں۔

میں ورزش اورواک باقاعدگی سے کرتی ہوں اور صبح نہار منہ تین چار گلاس پانی ضرور پیتی ہوں۔ غیر معیاری پروڈکٹس استعمال نہیں کرتی۔

جو بھی اچھی کتا ب مل جائے پڑھ لیتی ہوں۔ مشتاق احمد یوسفی پسندیدہ رائٹر ہیں۔ شاعری میں پروین شاکر، فیض احمد فیض، جوش اور غالب سب کو پڑھتی ہوں۔

ماؤں کو اپنے بچوں کے ساتھ دوستی کا رشتہ رکھنا چاہئے تا کہ انہیں اپنے دل کی بات کرنے کے لئے دوسروں کی طرف نہ جانا پڑے

یہ تحریر 21مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP