متفرقات

لہو میں سجے سہرے کے پھول

 کیپٹن زین آج بہت خوش تھا۔ کئی ماہ بعد آج اس کی چھٹی منظور ہو چکی تھی۔ زین کیلئے ہفتوں سے رشتہ پسند کئے بیٹھے اس کے گھر والے بے تابی سے اس کے منتظر تھے۔ زین کا رشتہ اس کی ماموں زاد سے طے پایا تھا۔ اس بار گھر والے ارادہ کئے بیٹھے تھے کہ بات پکی کر دی جائے۔ کیپٹن زین انفنٹری کا ایک نوجوان افسر تھا۔ وہ شکل کا معصوم ، ڈیل ڈول میں دبلااور انتہائی قابل اور دلیر افسر کے طور پر جانا جاتا تھا۔ وہ اپنے گھر سے دو ر سوات کے ایک نواحی علاقے میں تعینات تھا۔ حالات میں کشیدگی تو خاصی کم ہو چکی تھی مگر کبھی کبھار دہشتگردوں کی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ حسبِ معمول زین ایک فوجی کانوائے کے ذریعے سوات شہر پہنچا جہاں سے اس نے اپنے شہر کا سفر اختیار کیا۔ کیپٹن زین کے گھر پہنچنے پر اگلے ہی دن اس کے  بابا جانی ، اماں اختر سلطانہ اور اس کی بہن شابیب لڑکی والوں کے گھر پہنچ گئے۔ سب معاملات پہلے سے ہی طے تھے۔ بس لڑکے کا انتظار تھا۔ روبرو سرسری سے  دیدار کے بعد معاشرتی روایات کے عین مطابق رشتہ طے پا گیا۔ خواتین نے کچھ رسومات ادا کیں اور دونوں خاندان ایک دوسرے کومبارکباد دیتے ہوئے مٹھائیاں پیش کرنے لگے۔ کیپٹن زین بھی ایک تابعدار فرزند کی طرح اپنے والدین کی خوشی میں ہی خوش تھا۔  کچھ لمحے  رسمی گفتگو کے بعد طویل گپ شپ چلتی رہی جس کے بعد بابا جانی نے اجازت طلب کی اور سب لوگ ہنسی خوشی اپنے گھر لوٹ آئے۔ 
 چلو خیر سے یہ ذمہ داری بھی نمٹ گئی۔ کیپٹن زین کی اماں اختر سلطانہ نے اپنی چادر تہہ کرتے ہوے کمرے میں بیٹھے کیپٹن زین، اس کی بہن شابیب اور بابا جانی سے مخاطب ہو کر کہا۔ 
سب کو مبارک ہو ۔ ماشااللہ ۔ خیر سے معاملہ طے پا گیا اور تاریخ بھی بہت مبارک طے پائی۔ بابا جانی نے شفقت بھرے لہجے میں کہا۔ 
ابھی شادی میں کچھ دیر تھی مگر پھر بھی کیپٹن زین کے تاثرات کسی دلہے سے کم نہ تھے ۔ وہ کبھی اپنی اماں کو دیکھتا تو کبھی شرماتے ہوئے اپنے بابا جانی کی بات پر متوجہ ہوتا ۔ کافی عرصے کے خواہاں اس کے گھروالے آج اس کا رشتہ ماموں کے ہاں طے ہونے پر بہت خوش تھے اوراس خوشی کا خوب اظہار کر رہے تھے۔ 
ہماری ہونے والی بھابی کتنی اچھی لگ رہی تھی اب شابیب اپنے جذبات کا اظہار کرنے لگی ۔
 ماشااللہ بولتے ہیں پگلی!  اماں نے اسے ٹوکتے ہوے کہا۔ 
 کیپٹن زین مسکرا تو نہ رہا تھا مگر اس کی آنکھوں سے امڈتی چمک اور لبوں کی عجب سی لڑکھڑاہٹ اس کے دل میں پھوٹتی خوشی کا علان کر رہی تھی۔ وہ خوش تھا۔ آج اس نے زندگی کا ایک اور مرحلہ طے کر لیا تھا۔ زندگی بے حد خوبصورت لگ رہی تھی ۔ ایک حسین خواب کی طرح وہ اس میں محو تھا ۔ نہ جانے خیال ہی خیال میں وہ آس اور امیدوں کے کیسے کیسے پھول بوٹے آبیار کر تا جا رہاتھا۔ بے شک بیاہ کا تصور خود میں ایک خوشی کا لطف سمائے ہوئے ہوتا ہے۔ شاید یہ پرلطف کیفیت قدرت کی طرف سے عنایت کردہ ایک لاجواب تحفہ ہے جس کی وجہ سے بنیِ نوع اس  کارِ مقدس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔ شادی معاشرے کا  وہ اکمل ترین  نظامِ عمل ہے جو بکھرے افراد کو معاشرے کی شکل دینے کے کام آتا ہے۔ یہ وہ سماجی گروہ ہے جس کی مدد سے غیر منظم اور بے تعلق جہتوں کی ڈوریں  آپس میں جڑتی چلی جاتی ہیں ۔ یقینا یہی وجہ ہے کہ بیشتر مذاہب میں اس تعلق کو توڑنا ایک ناپسندیدہ فعل سمجھا گیا ہے یاپھر سرے سے اس کا ذکر ہی نہیں کیا گیا تاکہ کوئی جواز بھی روا نہ رکھا جا سکے۔  
  میں چائے بنا کر لاتی ہوں۔ شابیب صوفے سے چھلانگ مارتی یک دم کمرے سے باہر جانے لگی۔
  ارے بیٹا ساتھ مٹھا ئی بھی لیتی آنا ۔ مبارک دن ہے۔ بابا جانی نے جھٹ سے فرمائش کر دی جس پر اماں اختر فورا ًچونکی۔
  خوف کریں جی آپ۔ وہاں بھی خوب بہانے بہانے سے پھانک رہے تھے۔ کو ئی کہہ سکتا ہے بھلا یہ بندہ ذیابیطس کا مریض ہے۔ اختر سلطانہ نے سخت لہجے میں بابا جانی سے مخاطب ہو کر کہا۔ 
  ارے آج تو کھانے دو اختر بیگم۔ ایک ہی بیٹا ہے میرا۔ رب نے یہ دن دکھایا ہے۔
  اماں آج تو کھانے دیں۔ کیپٹن زین نے بھی اماں کے حضور اپنے بابا جانی کی سفارش پیش کی اور اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھا۔ 
  اب کہاں چلے دلہے میاں؟ بابا جانی نے جھٹ سے پوچھا۔
  ارے بابا جانی ! بس بھی کریں۔ ابھی نہیں بنا دلہا۔ معصوم سے چہرے پر خفیف سی مسکراہٹ سجائے باہر کو جانے لگا۔
  آتا ہوں جمال کو تو خوش خبری دے آو ٔں۔ 
  توبہ ہے۔ جمال کے بغیر ایک پل نہیں ٹکتا یہ لڑکا۔نہ جانے وہاں اس جمال کے بغیر کیسے رہتا ہے۔ اختر سلطانہ سر ہلا کر کوسنے لگی۔
  بچپن کے دوست ہیں دونوں۔۔۔ ملنے دیا کرو ۔ 
اکلوتا بیٹا ہے میرا ۔ دیکھنا میں اپنا ہر ایک شوق پورا کرونگی۔ کچھ دیر توقف کے بعد اختر سلطانہ نے حسرت سے مسکرا کر شادی کی تیاریوں کے خواب سجانے شروع کر دیے۔ بابا جانی نے بھی مسکراتے ہوئے اتفاق میں سر ہلایا۔ 
  میں اپنی ساری بہنوں کیساتھ مل کر اپنے زین کا سہرا تیار کروں گی۔ اختر سلطانہ کی آنکھوں میں ایک عجب سی چمک دوڑنے لگی۔ اپنے جواں بیٹوں کے دیدار کو ترستی، مجاہدوں کی ان ماؤں کی آنکھوں میں یہ چمک اکثر جھلکنے لگتی ہے جب ان کے جگر پارے مہینوں بعد ان کی نظروں کے سامنے ہوتے ہیں۔ اتناعرصہ اپنے بچوں کی راہ دیکھتی، مامتا کے احساس سے لبریز ان ماؤں کے دل اپنے جری بیٹوں کی یاد سے بھرے رہتے ہیں۔ مامتا کے احساس سے ماں کا دل بھلا خالی بھی کیسے رہ سکتا ہے۔ آخر اپنے ان بچوں کی جدائی انہیں لمحہ بھر اداس کر ہی دیتی ہے۔ ان کا ایمان چاہے کتنا ہی پختہ کیوں نہ ہومگر اپنی لطیف گود میں لیٹے اس مجاہد کی وہ ننھی تصویر بھلا کیسے بھلا سکتی ہیں، ان مجاہدوں کی ماؤں کا صبر چاہے کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو مگر کوکھ میں بیدار ہوتی وہ پہلی جنبش ان ماؤں کے وجود سے کیسے نکل سکتی ہے ۔ اختر سلطانہ بھی انہی عظیم ماؤں میں سے تھی جو اپنے دلارے ہنسی خوشی  وطن کی راہ میں وقف کر دیتی ہیں اور اولاد کی یاد کے دشوار لمحات میں صبر کا گھونٹ بھر لیتی ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ آج اختر سلطانہ اس خوشی کے موقع پر دل کھول کر اپنے برسوں کے بنے خواب سچ ہوتے دیکھ کر بے حد خوش نظر آ رہی تھی۔ 
  میں بھی اپنے بھائی کا سہرا سجاؤں گی۔ شابیب چائے کے کپوں سے بھری  ٹرے اٹھائے کمرے میں داخل ہوئی ۔ 
  ارے پگلی ۔۔۔ ہمارے ہاں رواج ہے کہ لڑکے کی خالائیں سہرا سجاتی ہیں۔
  اماں ! آپ بھی ماں ہیں ۔ خالہ تو نہیں۔ توآپ کیوں سجائیں گی؟ شابیب کے ایسے احتجاج نے تو جیسے اختر سلطانہ کو لاجواب ہی کر دیا۔
  کن چکروں میں پڑے ہو؟ آج کل کون ایسے بناتا ہے سہرے ۔ یہ پرانے دور کے رسم و رواج ہیں۔ بابا جانی شاید یہ نہیں جانتے تھے کہ دور چاہے کوئی سا بھی ہو مگر مامتا ہر دور میں ایک ہی جیسی ہوا کرتی ہے۔
  آپ مت بولئے جی۔ آپ کیا جانیں یہ رسم و رواج۔ یہ عورتوں کا معاملہ ہے ۔ ہم جانیں ہمارا کام۔ باباجانی نے چائے کاگھونٹ بھرنے میں ہی عافیت جانی۔ 
  شب و روز گزرتے گئے، کیپٹن زین بھی مقررہ چھٹی کاٹ کر واپس سوات چلا گیا۔ ماں کیپٹن زین کے جانے پہ اداس تو ہوگئی مگر شادی کی مسرتوں نے اس کا دل بہلائے رکھا۔ دونوں خاندانوں کے رابطے بحال رہے۔ شادی سے متعلق تمام انتظامات طے پاتے رہے ۔ اختر سلطانہ نے اپنی دونوں بہنوں قدسیہ اور مسرت کو بھی بلا لیا ۔ عین خاندانی رسومات کے مطابق سب بہنیں بڑے چاؤ سے اکٹھے ہو کر مینا بازار گئیں۔ انہوں نے ایک دلہاسٹور سے کورا سہرا لیا جس کے بعد منیاری کی دکانوں کے چکر شروع ہوئے ۔ طرح طرح کے گوٹے خریدے گئے۔ کبھی چمکیلی لڑیوں اور نت نئی کناریوں کے انتخاب پر ان کے درمیان لمبی بحث ہوتی تو کبھی کوئی موتی متفقہ طور پر لبھا جاتے۔ ایک دکان پر تِلے کی ڈوری پسند کرتے ہوئے اختر سلطانہ کی آنکھیں اچانک بھر آئیں۔ برسوں سے ماں کے دل میں پلتے اور اب سچ ہوتے یہ وہ ارمان تھے جو اپنی شدت کو پہنچ کر آنکھوں سے جھلکنے لگے تھے۔ قدسیہ نے مسکراتے ہوئے اختر سلطانہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر حوصلہ دیا۔ دونوں بہنیں بھی خوشی کے یہ آنسو دیکھ کر جذباتی ہونے لگیں۔
  شادی کے دن اب قریب آچکے تھے۔زین بھی چھٹی کی درخواست دے چکا تھا۔ زین کی خالائیں اور اماں اختر سلطانہ سہرے کی سجاوٹ میں جتی تھیں۔
  ہمارا زین اس میں کتنا اچھا لگے گا نا۔ مسرت خالہ سہرا ہتھیلی پر ٹکا کر سوئی سے تِلہ بھرتے ہوئے ساتھ بیٹھی قدسیہ خالہ سے کہنے لگی۔
  ماشااللہ ۔ بہت پیارا بن رہا ہے۔ رب تعالیٰ بری نظرسے بچائے۔ قدسیہ نے بے حد شفقت سے جواب دیا۔ اختر سلطانہ بھی باآوازِ بلند آمین کہتی وہاں پہنچ گئیں۔تینوں بہنوں نے مل کر باری باری کیپٹن زین کے سہرے کو بے حد لگن سے سجانا شروع کر دیا۔ 
  ایک دو روز میں سہرا تیار ہو گیا۔ قسم قسم کے لوازمات سے بھرا انتہائی دلفریب سہرا شادی پہ آئے سب مہمانوں کا مرکزِ نگاہ بن گیا۔ خالاؤ ں اور ماں کی محبت سے بھرے اس شاہکار کی ہر کوئی تعریف کرتا۔ اختر سلطانہ کی بھی آتے جاتے نگاہ بس اسی سہرے پر ہی ٹکی تھی اور اب بے قرار تھی کہ وہ جلد یہ سہرا اپنے چاند سے بیٹے کے سر پر سجا دیکھے۔ مگر قسمت نے اختر سلطانہ کی مامتا کو پرکھنے کا کچھ اور ہی فیصلہ کر رکھا تھا۔ 
  چھٹی سے ایک روز قبل شام کو سفاک دہشتگردوں نے کیپٹن زین کی پوسٹ پر دھاوا بول دیا۔ یہ حملہ ایک عرصے کے بعد اچانک کیا گیا تھا۔ کیپٹن زین اور اس کے جری سپاہی جواں مردی سے مقابلہ کرنے لگے۔ کیپٹن زین کبھی حملہ آوروں پر فائر داغتا ، توکبھی پوسٹ کی مختلف جگہوں سے دشمن کے حملے کا جائزہ لیتا۔ اس نے دشمن کی کمزوری جلد ہی پھانپ لی۔ دشمن  بڑی تعداد میں ایک مخصوص جگہ پر اکٹھے ہو کر فائر کر رہے تھے۔ کیپٹن زین نے راکٹ لانچر منگوایا اور آگے بڑھا۔وہ ایک مقام پر تنِ تنہا کھڑا ہو کر راکٹ لانچر سے دشمن کا نشانہ لینے لگا۔ اللہ اکبر کے ایک فلک شگاف نعرے کے ساتھ گولہ راکٹ لانچر سے فائر ہوا۔ فائر کردہ گولہ مطلوبہ ہدف پر جا لگا جس سے دشمن کو بھاری نقصان پہنچا۔ مگر اسی لمحے دور ایک چوٹی پر بیٹھے نامراد اسنائپر کی گولی آکر کیپٹن زین کے سینے میں پیوست ہو گئی۔ کیپٹن زین کا جسد زمین پر آن پڑا۔ اس کے لبوں پہ کلمے کی جنبش آنے لگی جو کچھ ہی لمحوں میں تھم گئی۔ وہ اپنا کام کر چکا تھا۔ وہ اپنے عہد کا ہر پاس رکھ چکا تھا۔  
دوسری طرف وہاں گھر پر اداس شام کے ایک جھونکے نے میز پر رکھے سہرے کو دھکیل کر زمین پر گرا دیا۔ دور بیٹھی ماں جیسے تڑپ اٹھی ہو، بھاگی اور سہرے کو اپنے ہاتھوں میں لے کرچادر سے صاف کرنے لگی۔ کچھ ہی لمحے بعد فون کی گھنٹی بجی۔ بابا جانی دوسرے کمرے سے آئے اور فون کانوں سے لگا کر ہیلو کہا۔ صدا کا مسکراتا چہرہ جھٹ سے افسردہ ہوگیا۔ اپنے کل سہارے کی شہادت کی خبر سنتے ہی بابا جانی دیوار کا سہارا لینے لگے۔ لڑکھڑاتی سی آواز میں منہ سے محض یہی نکلا۔ الحمدللہ۔ 
  خبر کا پتا چلتے ہی گھر میں کہرام مچ گیا۔ ہر آنکھ نم بھی تھی اور ساتھ ہی ساتھ ہر ایک ہاتھ شکرِ خدا بھی بجا لا رہا تھا۔ پہلے جس گھر میں شادی کی آب و تاب تھی اب وہاں جسدِ خاکی کا انتظار ہونے لگا۔ رات ہو چکی تھی اور اختر سلطانہ گود میں سہرا رکھے ایک کونے میں ساکت بیٹھی تھی۔ اپنے بچے کو جنت کی خوشنما ہواؤں میں مخمور تصور کرتی تو حوصلہ پاتی مگر جوں ہی اس کے ہمیشہ کیلئے چلے جانے کا خیال آتا تو غم کے سمندر میں ڈوبنے لگتی۔ رات یوں ہی کٹی اور صبح سویرے سبز ہلالی پرچم میں لپٹا کیپٹن زین کا جسدِ خاکی گھر پہنچ گیا۔ پرچم کو تابوت پر سے محدود سا سرکایا گیا تاکہ دیدارِ میت ہو سکے۔ تابوت پر لگے کشادہ شیشے سے کیپٹن زین کا منور چہرہ اب واضح نظر آنے لگاتھا۔ کفن میں لپٹا والدہ کا لاڈلہ اب رب کا لاڈلہ ہو چکا تھا جس کی خوشی اس کے بے جان چہرے سے عیاں تھی۔  رات بھر کی تھکی ماندی آنکھیں ایک مرتبہ بھر سے اشکبار ہونے لگیں۔ شابیب سمیت تمام رشتے دار کیپٹن زین کی ایسی سجی لاش پر رشک بھی کر رہے تھے اورساتھ ہی ساتھ انہیں زین کی جدائی کا احساس بھی ستا رہا تھا۔ اس شہادت نے علاقہ مکینوں کے جذبات بھی بلند کر دیے۔ کوئی بھی سنتا تو اس نثارِ وطن کی ایک جھلک دیکھنے کو دوڑا چلا آتا۔ اختر سلطانہ پرچم سے لپٹے تابوت کے سرہانے بیٹھی رہی۔ وہ کسی سے کچھ کہتی نہ کسی کی بات کا جواب دیتی۔ اس کی نگاہیں اپنے بیٹے کے پرنور چہرے پہ جیسے جم گئی ہوں۔ 
  وقت گزرتا گیا گھر کے باہر مردوں اور گھر کے اندر خواتین کا تانتا بندھا رہا۔ بابا جانی حوصلے میں تھے مگر ان کے اندر کا خالی پن ان کے چہرے پر صاف ظاہر ہونے لگا تھا۔ آخر تدفین کا وقت آن پہنچا اور بابا جانی کچھ قریبی رفقا کے ساتھ تابوت کو کندھا دینے لگے۔ جن کندھوں پر ننھا زین سوار ہو کرکر بازار گھومنے جایا کرتا تھا آج ان کندھوں پر کڑی آزمائش آن پڑی تھی۔زین کا دوست جمال بھی نم آنکھوں سے بابا جانی کے ہمراہ اپنے دوست کو کندھا دینے آیا تھا۔ جب میت اٹھانے کا موقع آیا تو اس بار صبر کی بیڑیاں ٹوٹنے لگیں۔ آنسو بلاتفریقِ رشتہ اور تعلق شدت سے بہنے لگے۔ شابیب دھاڑیں مار کر رونے لگی تو ساتھ کھڑی اَشک بار عورتوں نے گلے لگا کر حوصلہ دیا۔ جوں ہی بابا جانی اور دیگر مرد حضرات آگے بڑھے تو اماں اختر سلطانہ بِلبلا کر اٹھی اور انتہائی سنجیدگی سے ہاتھ کے اشارہے سے بابا جانی کو روکنے لگیں۔ بابا جانی غمگین سے ہونے لگے۔ مگر اختر سلطانہ کی اگلی حرکت نے تو جیسے وہاں موجود ہر ایک شخص کو سخت حیرت میں مبتلا کر دیا۔ سب لوگ دنگ رہ گئے جب اختر سلطانہ نے جھٹ سے اپنی چادر میں سے سہرا نکال کر بابا جانی کے آگے کیا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ تقاضا کرنے لگی۔ یہ پہلی مرتبہ تھی جب بابا جانی کی آنکھ بھی تر ہو ئی اور آنسو ٹپک گیا۔ بابا جانی کے کانپتے ہوئے ہاتھ تابوت کی طرف بڑھے، تابوت کی دروازہ نما چھت اٹھائی گئی۔ ماں اپنے ارمان پورے کرنے لگی۔ اس چاؤ سے کیپٹن زین کے سر پر سہرا سجایا کہ شائد وہ اس کی شادی کے موقع پربھی ایسا نہ سجا پاتی۔ یہ ایک دلخراش نظارہ تھا جسے ہر آنکھ انہماک سے دیکھ رہی تھی۔ ماں شہید کے سر پر سہرا سجا چکی تو نم آنکھوں سے مسکرا کر اپنے بیٹے کو دیکھا۔ ماں کے کچھ انمول اشک سہرے پر گرے تو وہ اور بھی انمول ہو گیا۔ یہ ایک اور تحفہ تھا جو یہ شہید اپنے ساتھ لئے چلا تھا۔ 
  اب لگ رہا ہے نا اصل دلہا۔ بابا جانی نے لڑکھڑاتی سی آواز میں مسکرا کرکہا۔
 تابوت کی چھت بند ہوئی اور لوگ میت کو کندھا دینے لگے۔ تابوت پر لگے شیشے سے کیپٹن زین کا سجا، چمکتا لاشہ صاف دکھائی دے رہا تھا۔ اس شہید مجاہد کی میت اب میت نہ تھی۔ کلمہِ شہادت کے ورد میں جہاں جہاں سے گزرتی، لوگوں کے ولولوں اور ایمان کو جِلا بخشتی۔ ہر کوئی اس مجاہد دلہے کو کندھا دینے کیلئے بے قرار نظر آتا۔ لوگ چھتوں سے امڈ کر سہرے میں سجی اس جری سپوت کی لاش دیکھتے تو رشک کرتے۔  سبز ہلالی پرچم میں لپٹا، سہرا سجائے کیپٹن زین ایسی شان سے مدفن کو نکلا کہ یہ نظارہ چشم فلک نے بھی پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ ||


[email protected]

یہ تحریر 109مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP