قومی و بین الاقوامی ایشوز

لباسِ زندگی یا قبائے بندگی

موسم بدل رہا ہے۔۔۔ موسم بدلنے پر قادر ہے۔ عجیب بات ہے۔ جب موسم سردی کی نوید دینے کے لئے بدلتا ہے تو اس کی ہواؤں میں خنکی اور خوشگواری آجاتی ہے۔ صبحیں

سانولی ہو جاتی ہیں۔ دوپہریں گھمبیر ہو جاتی ہیں۔۔۔ ہوا لڑکھڑاتے ہوئے چلتی ہے۔ پرندوں کی بولیاں بدل جاتی ہیں۔۔۔ روح کو نئی تازگی ملتی ہے حالانکہ یہی موسم جب انتہا پر پہنچتا ہے تو خزاں کا پیرہن پہن لیتا ہے۔

 

مگر موسم جب یخ بستہ صبح و شام کے اختتام کا اعلان کرنے آتا ہے تو اس کی ہواؤں میں شوخی اور گرم رفتاری ہوتی ہے۔ حالانکہ سردیاں ختم ہوتے ہی بہار کی آمد ہوتی ہے۔۔۔

رب نے بندے کو متلون مزاجی عطا کی تاکہ وہ بدلتے موسموں کے ساتھ اپنی طبیعت کو بھی بدل کر چلتا رہے پھر اس نے کہا انسان تبدیلئ موسم سے حالات اور واردات کی تبدیلی کا اندازہ کرتا رہے۔ کیونکہ

ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں

سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں

 

بندہ بھی اﷲ کی نادر تخلیق ہے۔ کامرانی‘ راجدھانی‘ سروری‘ سکندری اور من مانی کو تو پیشہ کے لئے رکھنا چاہتا ہے‘ دولت کو باندی کی طرح برتنا چاہتا ہے۔۔۔ شہرت کو کمبل کی طرح اوڑھنا چاہتا ہے۔ تمکنت اور سلطنت کو پا بہ زنجیر رکھنا چاہتا ہے اور صحت کو اپنی جاگیر سمجھتا ہے۔۔۔ جب ان چیزوں میں تبدیلی آتی ہے تو چلاتا ہے دہائی دیتا ہے، اسے سب سے بڑا ظلم کہنے لگتا ہے۔ کیا تیرے رب نے نہیں کہا تھا کہ میں دن اور رات کا الٹ پھیر کرتا ہوں۔۔۔

 

اس الٹ پھیر میں کیا کیا نہیں الٹ پلٹ ہو جاتا :

تبھی تو اس نے کہا۔۔۔ تو اپنے نفس کا عرفان کر‘ تاکہ تجھے اپنے رب کا عرفان حاصل ہو۔

پاکستان کے اندر کا موسم بھی بدل رہا ہے۔۔۔۔۔۔

اس موسم کو دل اور ذہن محسوس کرسکتے ہیں۔۔۔ یا وہ لوگ جن کو اﷲ نے تیسری آنکھ عطا کی ہے۔ قوموں کی تقدیر بدلنے والے بھی اﷲ نے قوموں کے اندر پیدا کئے ہوتے ہیں۔

کچھ روحوں نے پاکستان کے اندر ایک حشر بپا کئے رکھا!

 

پہلے تو اقتدار کی ’’کوڈی کوڈی‘‘ کھیلی، پھر تمغۂ اختیار و اقتدار گلے میں ڈال کر ’’مرُونڈے‘‘ کھانے کا پروگرام بنایا۔ دیہات کے لوگ جانتے ہیں ’’مرُونڈے‘‘ کیا ہوتے ہیں اور کیسے بنائے جاتے ہیں بلکہ کبھی کبھی محبانِ پاکستان کے ’’مرونڈے‘‘ بھی بنائے گئے۔ بزعمِ خود۔۔۔ اپنی ذہانت ‘ فطانت‘ شرارت ‘ خباثت اور مصلحت کے ڈنکے بھی بجوائے گئے، جہاں گئے نیا چہرہ لے کر گئے۔ جہاں سے اٹھے، نیا مہرہ لے کر اٹھے۔ ایسے مسکراتے رہے جیسے دوسرے کے خرمن میں آگ لگا کر مسکرایا جاتا ہے۔ ایسے للکارتے رہے جیسے مفتوحہ علاقے کے میدان میں کھڑے ہو کر للکارتے ہیں۔۔۔

اندر باہر جو کچھ ہوتا رہا، ان روحوں کے احکامات پر ہوتا رہا۔۔۔ پاکستان دیکھتا رہا!

 

پاکستان ایک فانی بدن نہیں ہے، جس کے اندر بد روحیں بھی سما جائیں۔ پاکستان زمین کا ایک لازوال ٹکڑا ہے۔ آسمان اس کے سر پر دعا کی طرح کھڑا ہے۔ چاند تارے اس پر سایہ فگن رہیں گے۔ کبھی کبھی زیرِ آسمان اتفاق ہو جاتا ہے۔۔۔ کہ کچھ فانی روحیں مل کر ایک لازوال جسم کو نوچنا شروع کردیتی ہیں۔ غارت کرنے کا قصد کرلیتی ہیں۔۔۔ عمدِ قتل الزامِ قتل ہی بن جاتا ہے۔ ناانصافی ماحول کو قتل میں ڈھال دیتی ہے۔۔۔

 

کوئی روح پاکستان کے اندر بیٹھ کر پاکستان کو گالی نہیں دے سکتی۔ تخت پر بیٹھنے والے اٹھارہ کروڑ عوام کو تیرہ بختی نہیں دے سکتے۔ تم کو اس لئے خزانے کی کنجیاں دی گئیں کہ تم اصل سکّے نکال کے اسے

کھوٹے سکوں سے بھر دو۔۔۔

 

کچھ روحیں یہ سمجھ بیٹھیں کہ پاکستان کے عوام نابینا ہیں۔ ان پر چھومنتر کا منتر آسانی سے پھونکا جاسکتا ہے۔۔۔ اور یہ کہ ظلم کی دراز رسی کو کوئی تلوار نہیں کاٹ سکتی۔۔۔۔

کسی روح کو یہ جرأت کیسے ملتی ہے اور کہاں سے ملتی ہے کہ وہ پاکستان کو دھمکائے۔۔۔ پاکستان کو چیلنج کرے۔۔۔ بام پر چڑھ کر پاکستان کو گالی دے۔۔۔ کیا کسی ایسی روح نے اپنی ماں کو گالی دی ہے۔۔۔ تو

پھر مادرِ وطن کو گالی کیوں۔۔۔؟

 

اور روحیں یہ سمجھ بیٹھی تھیں کہ پاکستان کے اندر احتساب کا عمل رُک گیا ہے۔ یہ احتساب تو خود قدرت نے کرنا ہے، روحیں قدرت سے چھپ کر کہاں ٹھکانہ کریں گی۔۔۔؟

اگر روحیں دولت کے نشے میں دھت ہو کر پاکستان کو گالی دیں گی۔۔۔ دشمن کی زبان بولیں گی۔ تو جواب دیں انہوں نے یہ دولت کس کے خون سے نچوڑی ہے۔۔۔؟ اور تم کیا دے رہے ہو پاکستان کو۔۔۔

پاکستان کی فوج تو جان نچھاور کرنے کو ہر دم تیار رہتی ہے۔

 

پاکستان کے عوام تو پاکستان کے اوپر اپنا تن، من اور دھن لٹانے کو تیار رہتے ہیں۔ پاکستان کی زمین‘ اپنے اندر کی نعمتیں اگلنے کے لئے تیار رہتی ہے۔ اے گندگی پھیلانے والی روحو ! تم کیا دیتی ہو پاکستان کو۔۔۔ خوف ۔۔۔ دھمکی ۔۔۔ للکار ! اب موسم بدل رہا ہے۔ موسم احتساب مانگتا ہے۔۔۔ موسم ایسی روحوں سے نجات مانگتا ہے۔۔۔

موسم عذاب اور شدّت سے پناہ مانگتا ہے۔

 

ایک راجہ تھا۔ جو دولت کا رسیا تھا۔ اس نے دنیا جہان کی دولت اپنے خزانوں میں اکٹھی کر لی تھی۔ دنیا کی ہر نعمت اس کے پاس تھی۔ ہرسُکھ اور ہر آسائش اس کے علاوہ۔۔۔ مگر اس کو سکونِ قلب نہیں تھا۔ سو جتن کرنے کے بعد ایک دن اس نے بھیس بدلا اور یہ دیکھنے کے لئے نکل کھڑا ہوا کہ لوگ سکونِ دل کس طرح حاصل کرتے ہیں۔۔۔ ایک کھیت میں جا نکلا دیکھا کہ کسان نے پھٹے پُرانے کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور ایک درخت کے نیچے بیٹھا دال روٹی کھا رہا ہے۔ راجہ کو ترس آیا۔ اس نے اپنی جیب میں سے چار اشرفیاں نکال کر اس کسان کو دیں اور کہا: میں نے تمہاری اجازت کے بغیر اس کھیت میں چار گھڑیاں آرام کیا ہے۔ تم اس کے عوض سونے کے چار سکے رکھ لو۔ شاید تمہارے کام آئیں۔ کسان بولا۔ جناب یہ سونے کے سکے میرے کام کے نہیں یہ میرے کام میں خلل ڈالیں گے۔ راجہ بہت حیران ہوا اور کہا مال کی ضرورت کسے نہیں ہوتی۔۔۔ بھلا کوئی گھر آئی دولت کو ٹھکراتا ہے۔ کسان نے جواب میں کہا ۔۔۔ جناب : میں روزانہ چالیس روپے کماتا ہوں۔ ان میں سے دس روپے میں کنوئیں میں ڈال دیتا ہوں۔ دس روپے سے قرض چکا دیتا ہوں۔ تیسرے دس ادھار دے دیتا ہوں اور چوتھے دس مٹی میں گاڑدیتا ہوں اور خوش رہتا ہوں۔ راجہ حیران و پریشان اپنی راجدھانی میں لوٹ آیا۔ سارے وزیروں‘ مشیروں اور درباریوں سے ان چار فقروں کا مطلب پوچھا۔ کوئی نہ بتا سکا۔ بالآخر راجہ نے اس کسان کو تلاش کروا کے دربار میں بلایا، عزت سے بٹھایا اور اپنے بھیس بدل کر کھیت میں جانے کی کہانی سنا دی اور درخواست کی کہ مجھے ان چار سوالوں کا جواب کہیں سے نہیں ملا بلکہ اور بھی بے سکون ہوا ہوں۔ تمہارے ان چار سوالوں کے جواب میں تمہارے چہرے کا سکون پوشیدہ ہے۔ میری مشکل حل کردو۔

 

کسان نے کہا۔ حضور میں دس روپے کنوئیں میں ڈالتا ہوں۔ یعنی اپنے بال بچوں کے نان نفقہ پر خرچ کرتا ہوں۔ دوسرے دس روپے میں قرض چکا تا ہوں۔ یعنی اپنے بوڑھے والدین کو دے دیتا ہوں۔ تیسرے دس روپے میں ادھار دیتا ہوں۔ یعنی اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت میں لگا رہتا ہوں اور چوتھے دس روپے مٹی میں گاڑ دیتا ہوں۔ یعنی کل کے لئے بچت کرلیتا ہوں تاکہ ضرورت پڑنے پر مجھے کسی سے مانگنے نہ پڑیں۔

 

راجہ کا مسئلہ حل ہوگیا کہ دولت جمع کرنے سے صرف دولت کی ہوس بڑھتی ہے۔ مگر دولت کو صحیح مد میں خرچ کردینے سے سکونِ دل ملتا ہے۔

سکونِ دل جسے کہتے ہیں ملتا ہے مقدر سے

لباسِ زندگی کچھ کم نہیں کانٹوں کی چادر سے

یہ تحریر 45مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP