متفرقات

قید خانے کی آواز

جیل کے سخت گیروں کا لکھنے لکھانے جیسے لطیف معاملے سے بھلا کیا تعلق ؟ تاہم نیم خود ستائی پر مبنی یہ مضمون لکھنے میں میرا قصور محض چار آنے ہے۔ جرم کے بارہ آنے ایڈیٹر ہلال کے کھاتے میں ہیں جنھوں نے مضمون ہذا کی نگاری کے لئے ’’اکسایا‘‘ اور اِس طرح دیگر بہت ساروں کی طرح ’’ناحق‘‘ مجھے اِس کیس میں بھی پھنسایا۔ اِسی پر بس نہیں کی بلکہ اِس خالصتاً ’’غیر متعلقہ‘‘ مضمون کو ہلال میں چھاپ کر جیل والے کے لکھے کو’’حلال‘‘ قرار دے دیا۔ چنانچہ تحریر پسند نہ آئے تو گلہ شکوہ سیدھا سیدھا ایڈیٹر ہلال کے ای میل پر کیا جائے۔ میرا ای میل فقط’’ مشہوری‘‘ کے لئے ہے۔ دریافت کیا گیاتھا کہ جیل خانہ جات کا قومی سلامتی میں کردار کیا ہے؟ تحقیق پر معلوم ہوا کہ قومی سلامتی کی تعریف وسیع تر انسانی سلامتی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے ۔ اِس جڑی ہوئی تعریف کو الگ کرنے کی مشقت سے بچنے کے لئے جیل خانہ جات میں فی الحال ’’قومی سلامتی‘‘سے مراد اندر باہر ’’صاحب سلامت‘‘ کہنے میں ہی ہر طرح کی ’’سلامتی‘‘کو مضمر سمجھا جاتا ہے۔

آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق جیل سے مراد ایک ایسی جگہ ہے جہاں لوگوں کو ان کے جرائم کی سزا کی پاداش میں یا عدالتی کارروائی کے انتظار میں بند رکھا جاتا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا (Encyclopaedia Britannica)میں جیل کی تعریف ایک ایسے ادارے کے طور پر کی گئی ہے جو ان افراد کو قیدمیں رکھنے کے لئے ہو جنھیں کسی عدالتی حاکم نے تحویل میں رکھنے کا حکم جاری کیا ہو ، یاجِن کی آزادی کسی جرم کی سزا کے طور پر سلب کر لی گئی ہو۔ آپ کا دِل کرے تو آپ جیل اور جیل والوں کے متعلق فلم دیکھ کر پہلے سے ’’سوچی سمجھی‘‘ رائے پر ہی قائم رہ سکتے ہیں۔ دنیا میں بے قاعدہ یا باقاعدہ جیلیں کب سے موجود تھیں، کوئی نہیں جانتا۔ جنوبی ایشیا کے اس خطے میں صوبہ سندھ کے ضلع دادو میں کلہوڑہ عہد کی جیل (موجودہ ڈسٹرکٹ جیل دادو )کو قدیم ترین جیل سمجھا جاتا ہے۔ برِ صغیر میں انگریزی دورِ حکومت کے دوران جیلوں کے باقاعدہ نظام کا آغاز 1894 میں جیل خانہ جات ایکٹ کی منظوری سے ہوا۔

مختلف جیلوں کے دفاتر میں نصب Incumbency Roll ملاحظہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ برطانوی عہد سے زمانہ حال تک حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی افسران کے جیلوں کا سپرنٹنڈنٹ تعینات ہونے کی روایت موجود رہی ہے ۔ بعض انتظامی قوانین اور پیشہ ورانہ کلچر کے لحاظ سے بھی محکمہ جیل خانہ جات اورمسلح افواج میں کافی میل جول نظر آتا ہے ۔ اصل مماثلت البتہ شام کے وقت کسی فوجی یونٹ کے کمانڈنگ آفیسر کو بھجوایا جانے والا ’’او۔کے رپورٹ رجسٹر‘‘اور سپرنٹنڈنٹ جیل کوپیش کی جانے والی ’’سب۔اچھا رپورٹ‘‘ میں پائی جاتی ہے۔ چنانچہ اگر او۔کے رپورٹ رجسٹر کیذریعے ’’سر، چھٹی پر گئے فلاں فلاں تین نئے ریکروٹ آج حاضر ڈیوٹی نہیں ہوئے اور ممکنہ طور پر بھگوڑے ہو گئے ہیں۔‘‘ جیسی او۔کے رپورٹس پیش کی جاتی ہیں تو دوسری طرف جیل کی سب اچھا رپورٹ ’’جنابِ عالی! بارک نمبر 11میں فلاں حوالاتیوں اور قیدیوں کے دو گروپوں میں تصادم کے نتیجے میں ایک حوالاتی اور دو قیدی شدید زخمی ہو گئے ہیں جنھیں سِول ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ایک کی حالت انتہائی نازک ہے‘‘ جیسے سب اچھوں ہی سے ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے سخت کوش تربیت فراہم کرنے والے ملٹری اکیڈمی اور سٹاف کالج جیسے اداروں کا ’’فوجداری دعویٰ‘‘ ہو کہ ان سے تربیت لینے والے آگے چل کر افواج کے سپہ سالار بنتے ہیں۔ دوسری طرف جیلوں کا ’’دیوانی دعویٰ‘‘یا ’’جواب دعویٰ‘‘ یہ ہے کہ ان کے ہاں سے پختہ سیاسی شعور حاصل کر کے سیاسی کارکن آگے چل کر اقوام کی قیادت کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات انہی جیلوں میں دورانِ قید حاصل ہونے والی سیاسی بصیرت نیلسن منڈیلا جیسے عالمی سطح کے راہنما تخلیق کردیتی ہے۔

جیل خانہ جات کا غیر تحریر شدہ ماٹو ہے: ’’ہم جاگتے ہیں کہ تم سو سکو۔‘‘ کسی نے پوچھا، اِس ماٹو کو ضبطِ تحریر میں کیوں نہیں لاتے؟ جواب ملا ، جیل والوں کے پاس وقت کے علاوہ سب کچھ ہے۔ کیا مطلب؟ دوبارہ پوچھا گیا۔ جواب آیا: ’’جیل ، میل اور ریل میں چھٹی نہیں ہوتی، میل کو جان بوجھ کر فی میل کا مذکر نہ پڑھیں ۔ انگریزی عہد کے مندرجہ بالا محاورے میں ڈاک خانہ والا Mail مراد ہے جِس کی اور جیل خانہ کی’’جات‘‘مشترک ہوتی ہے(میل اور ریل کا تو پتہ نہیں، جیل میں چھٹی کا عالم تادمِ تحریر محاورے کے مطابق ہے۔) ایک بھلے مانس نے ازراہِ ہمدردی جیل والے کو جیل سے باہر کسی تقریب میں شرکت کی دعوت دی۔ جواب ملا، ہم جیل والے ہوتے ہیں، اور جیل میں ہی ہوتے ہیں۔ کسی پہنچے ہوئے کا بیان ہے کہ جیل کی نوکری قید خانے کی پھسلواں دیوار کے اوپر کم از کم 25 برس چل کر کی جاتی ہے، ذرا پھسلے تو جیل کے اندر، وگرنہ جب تلک بس چل سکے، ساغر چلے۔

’’جیل کی بلند دیواروں کے پیچھے بہت کچھ ہوتا ہے جس کا کوئی حساب نہیں لیا جاتا۔ ‘‘ الزام کی حد تک کافی درست ہو سکتا ہے ۔ بس اتنا اضافہ کرنے کی ضرورت ہے کہ سماج میں عمومی طور پر بدنام جیل کے عملے کو پسِ دیوارِ زنداں چوبیس گھنٹے اور ساتوں دِن وطن کی اندرونی سلامتی کی خاطر جرائم پیشہ افراد اور منظم گروہوں سے گالیوں کے علاوہ خطرناک دھمکیوں اور جان و مال کے اندیشوں کا سامنا بھی بے حساب طور پر ہی ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ جیل والوں کی’’بدعنوانیوں‘‘اور ’’ظلم وستم‘‘کی داستانوں کے کہانی نویس عام طور پرخونی ڈاکو، گامی برسٹ اور اچھو پستول جیسے کردار ہوتے ہیں ۔ ایسے ’’صاحبِ کردار‘‘حضرات کی گواہی کتنی معتبر ہے؟

جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی حراست کو جیل سے جڑے تمام مسائل کی جڑسمجھا جاتا ہے جو ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ شاید اِ سی لئے آکسفورڈ ڈکشنری ’’جیل‘‘ کے لئے مستعمل ایک دیگر اصطلاح Prison کے مفہوم کو بیان کرتے ہوئے لکھتی ہے :’’Prisons are overcrowded‘‘۔ جملہ متعلقین مسئلے کے حل پر زور دیتے ہیں ۔ چنانچہ حل تجویز کرتے ہوئے بہت پہلے کسی نے کہا :’’ہم جیلوں کا جال بچھا دیں گے۔‘‘ جسے سن کر مسئلے کا شور مچانے والے بھی ہنس دیئے۔ اِس مسئلے سے جڑی مشکلات کو بعض اوقات خواہ مخواہ جیل کے عملے کی نااہلی سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ حکومتیں جیلوں کی Overcrowdingکے مسئلے سے نمٹنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔ مساوی طور پر گھمبیر مسئلہ جیل والوں کی گھر والیوں کا ہے اور برابر کی توجہ کا متقاضی بھی۔ وہ یہ کہ حضرات کے دفتروں کو روانہ ہو جانے کے بعد منعقد ہونے والے مقامی غیبت اجلاس کے دوران فلاں محترمہ بڑے فخر سے بتاتی ہیں کہ ان کے میاں ڈویژنل انجینئر ہیں۔ ساتھ بیٹھی بیگم صاحبہ دِل پر ہاتھ کر اعلان کرتی ہیں کہ ان کے شوہر دِل کے مشہور ڈاکٹر ہیں۔ صوفے پر تشریف فرما رانی بی بی پر غرور لہجے میں گویا ہوتی ہیں:’’رانا صاحب شہر کے چوٹی کے وکیل ہیں۔‘‘ایسے میں کلب کی اعزازی ممبر ، جیل والے کی بیوی سے بھی پوچھ گچھ ہوتی ہے: ’’خیر سے تمھارا گھر والا کیا کام کرتا ہے؟ ‘‘بیچاری منمناتے ہوئے بولتی ہے ’’میرے میاں جیل میں ۔ ۔ ۔‘‘ابھی وہ فقرے کا باقی حصہ ’’بڑے آفیسر ہیں‘‘ کہہ ہی نہیں پاتی کہ ہمدردری کے ناقابلِ کنٹرول جذبے کے ساتھ اگلا سوال داغ دیا جاتا ہے ’’ہائے اللہ، کِس جرم میں؟ پہلے کہتی تھی وہ بڑا شریف آدمی ہے۔‘‘

کیا یہ جان کر جیل کے ادارے پر آپ کا اعتماد دو چند نہیں ہو جاتا کہ بین الاضلاعی گینگ کا کوئی ’’طوطی ڈاکو‘‘ اگر جیل سے باہر ہو تو آٹھ دس اضلاع کی پولیس کی راتوں کی نیندیں حرام ہوتی ہیں۔ جیل کے اندر البتہ ایسے چار پانچ ہزار طوطی لنگر پر روٹیاں تھاپتے، کھیتوں میں ہل چلاتے اور نادرو نایاب نمونوں کے قالین بناتے نظر آتے ہیں۔ پھر بھی ’’جیل سے چھوٹا مجرم بڑا مجرم بن کر نکلتا ہے۔‘‘کا محاورہ یا مغالطہ موجود ہے۔ شاید ہی کوئی جانتا ہو کہ اسیروں کی ایک معقول تعداد جیل سے حافظِ قرآن بن کر اور تعلیمی ڈگریاں لے کر نکلتی ہے۔ جیلوں میں تخلیق ہونے والے شعری و نثری ادبی شہ پارے(جِن میں جیل کی پابندیوں کے گلے شکوے بھی یقیناًہوتے ہیں) اور سید ابو الاعلی مودودی کی ’’تفہیم القرآن‘‘ جیسی مستند تفاسیر وغیرہ اِس کے علاوہ ہیں۔ امید ہے یہ سب جان کر آپ جیل والوں کو ’’شک کا فائدہ‘‘ دینے کو تیار ہوں گے۔

نشہ کے عادی ہزاروں بے گھر قسم کے افراد کو نشہ چھڑا کر تندرست شہری بنانے میں جیل اپنا کردار کماحقہ ادا کرتی ہے جِس دوران ایسے افراد کو عملًا کسی گھر کی طرح روٹی‘ کپڑا ، مکان اور علاج معالجہ کی سہولیات بہم پہنچائی جاتی ہیں۔بڑے بڑے جرائم میں سزا یافتہ افراد کو معاشرے کا مفید شہری بنانے کے لئے جیلوں میں مذہبی تعلیم و تربیت، غیر رسمی تعلیم اور تعلیمِ بالغاں، پرائمری سے ماسٹر لیول تک کی باقاعدہ تعلیم ، صنعت و حرفت کی تربیت، کھیتی باڑی، ڈیری فارمنگ، مرغبانی، الیکٹریشن، آٹو موبائیل مکینک اور موٹر وائنڈنگ کی تربیت اورہم نصابی سرگرمیوں کے مواقع بہم پہنچائے جاتے ہیں۔ پنجاب کی موجودہ حکومت یوتھ فیسٹیول کا انعقاد عام نوجوانوں کے علاوہ قیدیوں کے لئے بھی کر رہی ہے جِس دوران مختلف جیلوں میں قیدیوں کے مابین کبڈی، باسکٹ بال، رسہ کشی وغیرہ کے مقابلے منعقد ہو رہے ہیں۔

معروف ماہرِ جرمیات ڈاکٹر عبدالمجید احمد اولکھ کے بقول جیل خانہ جات کے بنیادی طور پر چارمقاصد ہیں جو انگریزی کے حرف Cسے شروع ہونے والے چار الفاظCustody,Control,Care اور Correction پر مشتمل ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں جیلوں کو Correctional Facility کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے جِس کے پیچھے جیلوں کے ’’سزا دہندہ‘‘ ادارے کا تصور ختم کر کے انہیں اصلاحی اداروں میں بدلنے کی سوچ کارفرما ہے۔ دیکھا جائے تو دورِ جدید کا یہ تصور کافی حد تک صحیح ہے ۔ اِس طرح سزا یافتہ اسیروں کی افرادی قوت کو بعد از تربیت قومی منصوبوں میں استعمال کر کے ملک کی معاشی ترقی میں حصہ ڈالا جا سکتا ہے۔ تاہم ’’سزا بطور اصلاح کاری‘‘ اور مظلوم کو بدلہ دلوانے کے تصور کو یکسر مسترد کر نا کسی طور درست طرزِ عمل نہیں ہوسکتا۔ اگر منظم طور پر فساد پھیلانے والے افراد اور گروہوں کو الہامی قوانین کے تحت سزا دینا چھوڑ کر محض ان کی نام نہاد اصلاح کاری کی طرف توجہ دی جائے گی اور بطور سزا دہندہ ادارے کے جیل کا خوف ختم کر دیا جائے گا تو یقیناًپورے سماج میں اس کے طویل المدتی نوعیت کے مضر اثرات مرتب ہوں گے۔

[email protected]

یہ تحریر 80مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP