قومی و بین الاقوامی ایشوز

قیام پاکستان کے ابتدائی ایام اور پاک فوج کا ایثار

افواج پاکستان نے جس جانفشانی اور بے لوث جذبے کے ساتھ ذمہ داریاں نبھائیں‘ اس کی تعریف بیرونی دنیا کے اکابرین نے بھی کی۔ بہت سے بھارتیوں نے نہ صرف پاکستانی فوجیوں کا احسان مانا بلکہ ضلع راولپنڈی کے گاؤں دولتالہ کے سکھوں کے سربراہ نے کمانڈر انچیف کے نام ایک مشترکہ مراسلہ بھیجا جس میں انہوں نے لکھا کہ ہماری جانیں بچانے کے لئے 14پنجاب کے دستے نے جو مصیبتیں اٹھائیں اس کے لئے ہم دل سے شکر گزار ہیں۔یہ سپاہی بالکل غیرجانبدار ہے اور ان کے اعلیٰ طرز عمل کی ہم جتنی بھی تعریف کریں کم ہے۔ قیام پاکستان کے پہلے ہفتے ہی ہجرت کرنے والے مسلمانوں کی تعداد اس قدر بڑھ گئی تھی کہ سول انتظامیہ کا انہیں سنبھالنا مشکل ہو گیا تھا۔ لہٰذا 20اگست 1947کو مغربی پنجاب میں مہاجر کیمپوں کا انتظام فوج کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ اتنے انسانوں کو پاکستانی سرحدوں سے لانا‘ ان کے ناموں کا اندراج کرنا‘ عارضی قیام گاہیں فراہم کرنا اور پھر فوجی افسروں اور جوانوں نے اپنے حصے کی خوراک اور دیگر ضروریات کی چیزوں میں سے جومہاجرین کے لئے پس انداز کر سکتے تھے‘ وہ کیا۔ یونٹوں نے رضاکارانہ طور سے اپنے راشن کا ایک حصہ مہاجرین کو پیش کر دیاتاکہ ان کی قلیل خوراک میں اضافہ کیا جا سکے۔ آرمی میڈیکل کور میں تربیت یافتہ ڈاکٹروں اور نرسنگ کے عملے کی کمی کے باوجود مہاجرین کو ہر ممکن طبی امداد اور مہاجر کیمپوں سے وبائی امراض کا سدباب کیا۔ پھر جب ستمبر 1947کے وسط میں قائداعظم نے قوم سے مہاجرین کی فلاح و بہبود کے لئے ریلیف فنڈ میں چندے کی اپیل کی تو دیکھتے ہی دیکھتے فوج کے سیون‘ ایٹ اور ٹین ڈویژن کے علاوہ نائن فرنٹیئر ڈویژن اور ایسٹ پاکستان سب ایریا نے فوری طور پر تقریباً 6لاکھ روپے ریلیف فنڈ میں جمع کرا دیئے۔ اس کے علاوہ فوجیوں نے فیاضی اور اس فراخ دلی سے کھانے پینے کی چیزیں‘ کپڑے اور بستر وغیرہ دیئے کہ گمان ہو چلا تھا۔ کہیں وہ اپنے ذاتی استعمال کی اشیاء بھی نہ دے دیں۔ اس لئے یونٹ کمانڈروں نے اپنے افسروں اور جوانوں سے مزید چندہ اور سامان لینے سے انکار کر دیا۔ قائداعظم بھی فوج کے کام‘ لگن‘ خلوص اور ایثار سے اس قدر متاثر تھے کہ وہ بھی ان سے چندے اور دیگر سامان کی صورت میں ریلیف فنڈ لینے سے گریزاں تھے۔ کیونکہ فوجیوں کی فیاضی سے ان کی اپنی نجی گھریلو زندگی پر اخراجات کے سلسلے میں اثر پڑ رہا تھا۔ فوج کا دسواں ڈویژن چونکہ بقیہ فوج کی نسبت مہاجرین کے زیادہ قریب تھا‘ اس لئے اس کے جوانوں اور افسروں نے اپنے سارے کپڑے مہاجرین کو دے دیئے تھے۔

پاکستان اتنی آسانی سے نہیں بنا تھا جس قدر سمجھ لیا گیا ہے۔ بیاس اور ستلج ویسے ہی خشک نہیں ہوئے۔ پاک دھرتی پر ان کی روانی فطرت نے ایسے ہی نہیں روک دی۔ انہوں نے پاکستان کے لئے ہجرت کرنے والے لاکھوں مسلمانوں کا لہو پیا تھا۔ راوی کا پانی آج بھی سرخ ہے۔ وہ گواہی دے رہا ہے کہ پاکستان خون کے دریا سے گزر کر ملا تھا۔ کسی کو بھی یقین نہیں آتا تھا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کی انتھک کاوشیں مقصود پائیں گی۔ ایک دفعہ تحریک پاکستان کے سلسلے کا ایک جلسہ ہو رہا تھا تو ہندو بلوائیوں نے وہا ں آ کر طنزیہ کہا کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ تو مسلمانوں نے والہانہ اور فی البدیہہ جواب دیا کہ ’’لاالٰہ الا اﷲ‘‘ اور پھر ایسا ہی ہوا‘ رب تعالیٰ نے رمضان المبارک کی ستائیسویں شب 1366ہجری مطابق 14اور 15اگست 1947کی درمیانی رات مملکت خداداد پاکستان کی نعمت سے برصغیر کے مسلمانوں کو سرفراز کیا۔ پلٹ کے دیکھیں تو دنیا لہو لہو دکھائی دیتی ہے۔ کتنے ہی چہرے پرندوں کی طرح اپنی منقاریں پروں میں دبائے ہوئے ہیں۔ کانگریس کی مخالفت تو سمجھ آتی ہے۔ مگر جمعیت العلمائے ہند ‘ خاکسار تحریک اور احراری بھی قیام پاکستان کی مخاصمت میں پیش پیش تھے۔ پاکستان کے قیام سے بہت پہلے ہندوستان کا مشہور پارسی صحافی اور ’’چنکنگ ڈائری‘‘کا مصنف F.D karaka(ایف ڈی کاراکا) ‘ مسلسل پاکستان کے خلاف لکھا کرتا تھا۔ اس عرصے میں اس نے قائداعظم کا انٹرویو کرنے کی بھی کوششیں کیں لیکن قائداعظم نے ہر بار اس کی درخواست کو رد کر دیا پھر جب 3جون 1947کو اعلان پاکستان ہوا تو قائداعظم نے بطور خاص اسی پارسی صحافی کاراکا کو بلوایا اور کہا کہ آپ مسلسل پاکستان کے ناقابل عمل ہونے کے بارے میں لکھتے تھے۔ میں نے اسی وقت ارادہ کر لیا تھا کہ آپ کو صرف پاکستان کی کامیابی کے بعد ہی انٹرویو دوں گا۔ تو اب آپ کی تمام پاکستان مخالف تحریروں کا جواب یہی ہے کہ ’’آپ پہلے صحافی ہیں جنہیں میں اعلان پاکستان کے بعد انٹرویو دے رہا ہوں۔‘‘ 14اور 15 اگست 1947 کی درمیانی رات لاہور‘ پشاور اور ڈھاکہ کے ریڈیو سٹیشنوں سے 11بجے آل انڈیا ریڈیو سروس نے اپنا آخری پروگرام نشر کیا اور ٹھیک بارہ بجے رات سے تھوڑا پہلے پاکستان کی مخصوص شناختی دھن بجائی گئی تھی۔ پھر لاہور سے جناب ظہور آذر کی آواز میں انگریزی زبان میں اعلان ہوا کہ آدھی رات کے وقت پاکستان کی آزاد اور خود مختار مملکت وجود میں آ جائے گی۔ پھر ٹھیک بارہ بجے پہلے انگریزی میں اور بعد میں اردو میں یہ الفاظ گونجے کہ ’’یہ پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس ہے۔‘‘ انگریزی میں ظہور آذر اور اردو میں مصطفی علی ہمدانی نے اعلان کیا۔ مولانا زاہر القاسمی نے قرآن پاک کی سورۃ فتح کی تلاوت کی پھر ترجمہ نشر ہوا۔ بعد میں خواجہ خورشید انور کا مرتب کردہ ایک سازینہ بجایا گیا۔ پھر سنتو خان اور ان کے ساتھیوں نے قوالی میں علامہ اقبال کی نظم ساقی نامہ کے چند بند پیش کئے۔ ٹرانسمیشن کا اختتام شاعر حفیظ ہوشیارپوری کی تقریر پر ہوا۔ پشاور ریڈیو سے بھی آدھی رات کے وقت آفتاب احمد بسمل نے اردو میں اور عبداﷲ جان مغموم نے پشتو میں پاکستان کے قیام کا اعلان کیا اور قرآن مجید کی تلاوت کا شرف قاری فدا محمد کے حصے میں آیا جبکہ نشریات کا اختتام جناب احمد ندیم قاسمی کے اس نغمے پر ہوا کہ ’’پاکستان بنانے والے پاکستان مبارک ہو‘‘ ڈھاکہ ریڈیو سٹیشن سے بھی اسی نوعیت کا اعلان انگریزی میں جناب کلیم اﷲ نے کیا اور بنگلہ زبان میں اس کا ترجمہ بھی نشر ہوا۔ اگلی صبح بروز سوموار 27رمضان المبارک مطابق 15اگست 1947کراچی میں علامہ شبیر احمد عثمانی اور ڈھاکہ میں مولانا ظفر احمد عثمانی نے پاکستان کا قومی پرچم لہرایا۔ پاکستان کے لئے سب سے پہلا قومی ترانہ مشہور ترقی پسند شاعر اسرار الحق مجاز نے 1945میں لکھا تھا۔ بیرونِ ملک پاکستان کا قومی پرچم سب سے پہلے فرانس کے شہر مائیسن (Miosson) میں لہرایا گیا تھا۔ یہ بہت ہی دلچسپ روداد ہے کہ 9سے 17اگست 1947کو چھٹی بین الاقوامی اسکاؤٹ جمبوری میں شرکت کے لئے برصغیر سے سکاؤٹ دستہ گیا ہوا تھا۔ پاکستان کے قیام کے اعلان کے ساتھ ہی رات کو دو فرانسیسی گرل گائیڈ نے پاکستانی پرچم کی سلائی کی اور صبح لہرا دیا گیا تھا۔ پرچم کے لئے ہرے رنگ کا کپڑا شملہ کے ایک ہندو سکاؤٹ مدن موہن نے اپنی پگڑی سے اور سفید رنگ ملتان کے ایک سکاؤٹ عباس علی گردیزی نے اپنی قمیص پھاڑ کر فراہم کیا تھا۔ پاکستان کا پہلا ترانہ جو ملک سے باہر گایا گیا تھا‘ وہ میجر سید ضمیر جعفری کا لکھا ہوا تھا اس کا عنوان ’’خیرمقدم‘‘ تھا جس کے بول تھے۔ جو ستارے کھو چکے تھے اپنی کرنیں اپنی ضَو وہ ستارے ضو فگن انجم فشاں ہونے لگے ایشیا خوش ہو کہ اے مظلوم انسانوں کی خاک تیرے فرزندوں کے پرچم پُرفشاں ہونے لگے اس ترانے کی دھن کیپٹن مسعود احمد (ماشو) نے ترتیب دی تھی جو اُن دنوں سنگاپور میں آئی ایس پی آر کے پرچے ’’جوان‘‘ کے ایڈیٹر تھے اور بعد میں کرنل ہوئے۔ وہ تقریب سیون فرسٹ پنجاب بٹالین (جو بعد میں 18پنجاب بٹالین بن گئی) سنگاپور میں منعقد ہوئی تھی جو جاپانی قیدیوں کی حفاظت کے لئے چانگی جیل کے علاقے میں مقیم تھی۔ اس تقریب کا سٹیج کیپٹن محمد ابراہیم قریشی نے ڈیزائن کیا تھا جنہیں حافظ اقبال بھی کہا جاتا تھا۔ ابراہیم قریشی بعد میں بریگیڈیئر ہوئے اور بیرون ملک پاکستان کے سفیر بھی رہے۔ 1965کی پاک بھارت جنگ میں جس سترہ پنجاب رجمنٹ کے اے کمپنی کمانڈر راجہ عزیز بھٹی کو نشان حیدر ملا تھا‘ اس یونٹ کی کمان بھی ان دنوں ابراہیم قریشی کر رہے تھے۔ ابراہیم قریشی نے جنرل شیر علی خان کی فرمائش پر فرسٹ پنجاب رجمنٹ کی تاریخ بھی لکھی تھی جو برطانیہ سے چھپی تھی جس کی ایک کاپی جی ایچ کیو لائبریری راولپنڈی اور ایک نسخہ قریشی صاحب کے گھر اسلام آباد میں محفوظ ہے۔ 19اگست 1947کو سیون فرسٹ پنجاب بٹالین میں منعقد ہونے والی اس تقریب کے سٹیج پر بڑا سابینر لگا ہوا تھا جس پر لکھا تھا۔ ’’سنگاپور میں آزادی کا پہلا سورج‘‘ سٹیج پر تقریباً 16فوجیوں نے ‘ ضمیر جعفری کا ترانہ گایا تھا جن میں جعفری صاحب کے علاوہ کیپٹن ریاض شمیم بھی شامل تھے جو بعد میں میجر جنرل ہوئے۔ یہ وہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں تھیں جو اندرون اور بیرون ملک ہر کسی نے اپنے اپنے طور منائیں۔ خوشی کی یہ ساری کرنیں اس ایک بڑی خوشی‘ قیام پاکستان سے منعکس ہیں لیکن پاکستان جس کرب‘ دکھ اور مشکل سے گزر کر حاصل ہوا‘ اس کی ہلکی سی جھلک مضمون کے ابتدا میں آ گئی تھی۔ دراصل پاکستان بے سروسامانی اور کسمپرسی میں ظہور پذیر ہوا۔ کوئی ادارہ مکمل نہیں تھا۔ ہمارے پاس کوئلہ تھا نہ لوہا‘ نہ بینک‘ نہ انشورنس کمپنیاں‘ فوجی ہیڈکوارٹرز اور نہ ہی انتظامی ہیڈکوارٹرز۔ تقسیم برصغیر کے چند روز پہلے کراچی میں کام شروع ہوا تھا۔ پرانی بیرکوں میں بیٹھ کر ملازمین کام کرتے تھے۔ فائلوں کے ساتھ جو سرکاری ملازمین بذریعہ ٹرین سوار ہو کر براستہ راجپوتانہ کراچی جاتے‘ ان میں سے اکثر کے سر کٹے ہوئے اور فائلیں خون آلود ہوتیں۔ خزانہ نہیں تھا اور پاکستان کے حصے کے جو پچھتر کروڑ روپے تھے‘ بھارتی حکومت نے وہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ایسے میں کراچی‘ احمد آ باد‘ بمبئی‘ مدراس اور وہاڑی کے مسلمان سیٹھوں اور زمینداروں نے تقریباً ستر کروڑ روپے پاکستان کے حوالے کر دیئے۔ جب بھارت نے دیکھا کہ پاکستان اپنے حصے کی رقم کے بغیر ہی کام چلانے کے قابل ہو گیا ہے تو اس وقت محض اپنی نیک نامی کے لئے گاندھی نے بھارتی حکومت کو دھمکی دی تھی کہ پاکستان کی رقم ادا کی جائے ورنہ مرن برت رکھوں گا۔ پاکستان کے حصے میں آنے والی مسلمان فوج کا ایک بریگیڈ بھی ان علاقوں میں نہیں تھا جن علاقوں میں پاکستان بننا تھا۔ جو چند یونٹ ان علاقوں میں تھے‘ ان کی ذمہ داریاں بہت زیادہ تھیں۔ یونٹوں میں افراد کی تعداد بھی پوری نہ تھی۔ 3جون 1947 کو اعلان پاکستان کے ساتھ ہی مسلمان یونٹوں سے ہندو‘ سکھ اور گورکھوں نے مختلف حیلوں بہانوں سے بھارت جانا شروع کر دیا تھا۔ بعض بھارتی فوجی یونٹ جو صوبہ این ڈبلیو ایف پی (موجودہ خیبرپختونخوا) میں تھے ان کو ان علاقوں سے بحفاظت بھارت پہنچانا بھی پاکستانی افواج کے ذمے تھا۔ عام شہریوں کی پاکستان سے بھارت روانگی اور حفاظت بھی افواج پاکستان کے کندھوں پر تھی۔ اس کے برعکس بھارت میں مہاراجہ پٹیالہ کی قیادت میں سکھ پنجاب میں از سر نو اپنی حکومت بنانے کی کوشش میں تھے اور ہندو اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھنے لگ گئے تھے۔ ہندوؤں نے سکھوں کے جوش و جذبے کو ابھار کر مسلمانوں کے خلاف تحریک دی۔ ذاتی فوجیں تشکیل دی گئیں۔ ’’راشٹریہ سیوگ سنگھ‘‘ اور ’’اکالی دل‘‘ منظم کی گئی۔ مندروں اور گورودواروں کو ہر قسم کے اسلحہ سے بھر دیا گیا تھا۔ نوجوان سکھوں کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ ستر ہزار سابق فوجی سکھ رضاکاروں کو بموں‘ گرینیڈوں‘ رائفلوں‘ تلواروں‘ بھالوں اور کلہاڑیوں سے مسلح کر کے میدان میں اتار دیا گیا تھا۔ مشرقی پنجاب میں ماسٹر تارا سنگھ اور گیانی کرتار سنگھ مسلمانوں کو مٹانے پر تلے ہوئے تھے۔ پاکستان کے قیام کے چند دن بعد 18اگست 1947 کو عیدالفطر تھی۔ مسلمانوں نے کھلے میدانوں میں عید کی نماز پڑھی تو سکھ ان پر ٹوٹ پڑے۔ امن و امان قائم رکھنے کے سلسلے میں جو مشترکہ طور پر پنجاب باؤنڈری فورس تشکیل دی گئی تھی‘ سکھ ریاستیں ان کے دائرہ اختیار سے باہر تھیں۔ جبکہ سکھ مسلح جتھے یہی ریاستیں بھیج رہی تھیں۔ ایک سازش کے تحت پولیس سے اسلحہ جمع کر لیا گیا تھا۔ کیونکہ پولیس میں اسی فیصد مسلمان تھے۔ اس کے علاوہ مسلمان عورتوں اور بچیوں کو جو گاڑیوں میں امرتسر سے پاکستان کی سرحد واہگہ تک لے کر آتی تھیں‘ ایک منصوبے کے تحت ان کے ڈرائیور سکھ ہوتے تھے جو سکھ بلوائیوں سے ملے ہوئے تھے۔ وہ طے شدہ پروگرام کے مطابق ان گاڑیوں کو اس جگہ پر آ کر روک دیتے تھے جہاں سکھ جتھے انتظار میں ہوتے تھے پھر وہ بچوں اور عمر رسیدہ خواتین کو قتل کر دیتے اور نوجوان لڑکیوں کو اٹھا کر لے جاتے اس طرح کتنی ہی عصمتیں لٹیں اور کتنے ہی کنویں دوشیزاؤں کی لاشوں سے بھرے پڑے ملے جو ناموس کی حفاظت کے لئے کنوؤں میں کود جاتی رہیں۔ حالات اس قدر کشیدہ کر دیئے گئے تھے کہ اس قسم کی خبریں گردش کرنے لگ گئی تھیں کہ ہو سکتا ہے کہ قائداعظم کراچی نہ پہنچ سکیں یا ان کی جان کو شدید خطرہ ہے۔ لیفٹیننٹ کرنل گلزار احمد نے کہا تھا کہ قائداعظم حکم کریں تو میری پلٹن کو دہلی آنے سے کوئی مائی کا لال نہیں روک سکتا۔ یاد رہے کہ وہی کرنل گلزار بعد میں بریگیڈیئر ہوئے اور پاکستان آرمی کے پہلے ڈائریکٹر ملٹری آپریشن بھی۔ ممتاز دانشور‘ قلمکار اور کئی کتابوں کا مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ سو میٹر دوڑ میں بھی انہوں نے ریکارڈ قائم کیا۔ 15اگست 1947کو کراچی میں قائداعظم کو بطور گورنر جنرل سلامی پیش کرنے کا اعزاز بھی کرنل گلزار احمد کی پلٹن کو ملا تھا۔ قیام پاکستان کے وقت پاکسان کے حصے میں آنے والی فوج میں آفیسرز کی بہت کمی تھی۔پاکستان کو 13جرنیلوں کی ضرورت تھی جبکہ ایک میجر جنرل حصے میں آئے تھے۔40 بریگیڈیئر صاحبان کی ضرورت تھی۔ مگر 2ملے تھے جبکہ 53کرنیلوں کی بجائے 6دیئے گئے تھے۔ جو میجر اور کپتان پاکستان کو دیئے گئے تھے ان میں بھی 1950شارٹ سروس یا ایمرجنسی کمشن آفیسر تھے۔ یہی وجہ تھی کہ قائداعظم نے حکومت برطانیہ سے اس سلسلے میں مدد طلب کی تھی۔ چنانچہ رضاکار برطانوی افسروں میں سے 355افسر چن لئے گئے تھے۔ قائداعظم ان برطانوی افسروں سے اپنے نئے بھرتی ہونے والے فوجیوں کی تربیت چاہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر اپنے آفیسرز اور جے سی اوز ٹریننگ سینٹروں میں بھیج دیئے گئے تو پاکستان کے لئے ہجرت کرنے والے لوگوں کی حفاظت اور پاکستان میں ان کی آبادکاری میں مشکلات پیش آئیں گی۔ جناب قیوم نظامی کی پاکستان کے حوالے سے ایک کتاب میں درج ہے کہ ان دنوں پاکستانی فوج کے ایک آفیسر کرنل اکبرخان‘ جو بعد میں جنرل ہوئے‘ نے قائداعظم سے گلہ بھی کیا تھا کہ ہم دیسی لوگوں کی صلاحیتوں کو آزمانے کی بجائے آپ نے غیرملکی آفیسرز کا انتخاب کیا تو اس پر قائداعظم نے یہ کہہ کر اکبر خان کو چپ کرا دیا تھا کہ یہ سیاسی فیصلہ ہے۔ آپ کو اس پر رائے دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ بہرطور تقسیم کے اس لمحے‘ انتشار اور ہنگامے کے اس دور میں پاکستان کی مختصر غیرمنظم اور منقسم فوج کو جہاں طرح طرح کی مشکلات درپیش تھیں وہیں پر انہیں کئی قسم کی ذمہ داریاں بھی سونپی گئی تھیں۔ ملک میں امن و امان قائم رکھنا فوج کی پہلی ذمہ داری قرار دی گئی تھی اور شہری نظم و نسق میں سول حکومت کا ہاتھ بٹانا بھی فوج کے فرائض میں شامل تھا۔ اس کے بعد سب سے بڑا مسئلہ لاکھوں مہاجرین کا تھا جنہیں بھارتی علاقوں سے بحفاظت نکال کر پاکستان لانا اور پاکستان سے جو ہندو سکھ جا رہے تھے انہیں بھارت پہنچانا تھا۔ پھر یہ کہ این ڈبلیو ایف پی (موجودہ خیبرپختونخوا) یعنی پاکستان کی مغربی سرحد پر نگاہ رکھنا اور سب سے اہم بات پاکستان کے نام پر وجود میں آنے والی دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت کی متعین کردہ سرحدوں کی حفاظت کرنا فوج کی انتہائی اہم ذمہ داریوں میں سے فرض اولین تھی۔ ایسے نازک حالات میں شہری حکام کی نظریں ہر گھڑی فوج کی طرف اٹھتی تھیں۔ فوج کے افسروں اور جوانوں پر اتنا کام آ پڑا تھا کہ انہیں کئی کئی ہفتوں تک لگاتار رات دن ڈیوٹی دینا پڑی تھی۔ مگر افواج پاکستان نے کمال ہمت اور جرأت سے ہر قسم کی ذمہ داری نبھائی۔ ایک دفعہ امرتسر اور واہگہ کے درمیان مہاجرین کے پیدل قافلوں کی حفاظت کے لئے کافی عرصے سے 5/13فرنٹیئر فورس رائفلز کی دو کمپنیاں ڈیوٹی دے رہی تھیں۔ ان کے بارے میں اطلاعات تھیں کہ وہ تھک چکی ہیں‘ کچھ جوان بیمار پڑ گئے تھے۔ انہیں پورا راشن بھی نہیں مل رہا تھا کیونکہ وہ لوگ اپنا راشن بڑی فراخ دلی سے مہاجرین میں بانٹ دیتے تھے۔ مہاجرین سے کچھ متعدی امراض بھی جن میں ہیضہ ملیریا وغیرہ تھا‘ انہیں لگ گئے تھے۔ لاہور ایریا کمانڈر نے ڈاکٹر کے مشورے سے انہیں پندرہ دن کے آرام کا حکم دیا تھا۔ لیفٹیننٹ کرنل موسیٰ خان جی ایس او ون جو بعد میں پاکستان آرمی کے کمانڈر انچیف‘ گورنر مغربی پاکستان اور گورنر بلوچستان بھی ہوئے‘ وہ حکم لے کر ایک نوجوان میجر کے پاس واہگہ گئے جو ایک لاکھ مہاجرین کے 32میل لمبے قافلے کو بحفاظت پاکستان لا رہے تھے۔ موسیٰ خان نے ایریا کمانڈر کا پیغام دینے کے بعد کہا کہ میں غیرسرکاری طور پر اطلاع دے رہا ہوں کہ امرتسر سے اس طرف مہاجرین کا ایک قافلہ سفر کے لئے تیار ہے جن کو لانے کے لئے میرے پاس مزید دستے نہیں ہیں۔ انہیں تحفظ فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ اب فیصلہ آپ لوگوں نے کرنا ہے کہ لاہور چل کر پندرہ دن آرام کرنا ہے یا پاکستان کے لئے ہجرت کرنے والے ان لٹے پٹے لوگوں کو بحفاظت لانا ہے۔ پاکستانی فوج کے تھکے ماندے‘ بھوکے پیاسے اور بیمار جوان کرنل موسیٰ خان کے وہ الفاظ سنتے ہی اپنا تمام دکھ‘ درد بھول کر واپس امرتسر قافلہ لینے چلے گئے۔ اس وقت اتنے بڑے پیمانے پر آبادی کا ایک ملک سے دوسرے ملک میں منتقل ہونا تاریخ عالم میں اپنی نوعیت کی واحد مثال تھی۔ پاکستان کی فوج خراجِ تحسین کی مستحق ہے جس نے مسلمان مہاجرین کو خطرے کے علاقوں سے بحفاظت نکال کر سلامتی کے ساتھ پاکستان پہنچانے کا اہم انسانی فریضہ انجام دیا۔ لاکھوں بے بس مردوں‘ عورتوں‘ بچوں کی جانیں بھی بچائیں‘ بیماروں اور زخمیوں کو سنبھالا بھی اور ماں باپ سے بچھڑے ہوئے بچوں اور دیگر رشتہ داروں کو آپس میں ملایا بھی۔ دیہاتوں اور قصبوں سے مہاجرین کو بحفاظت نکالنا بہت مشکل کام تھا کیونکہ وہاں مسلح گروہوں سے لڑنا پڑتا تھا۔ ایک دفعہ بریگیڈیئر ایوب خان جو بعد میں پاکستان آرمی کے فیلڈ مارشل اور ملک کے صدر بھی ہوئے‘ وہ پنجاب باؤ نڈری فورس کے کمانڈنگ جنرل کے پاکستانی مشیر تھے۔ ایک انگریز افسر کے ساتھ ہوشیار پور جا رہے تھے کہ انہیں مسلح جتھوں نے گھیر لیا جہاں سے وہ کافی دیر مقابلے کے بعد نکلے۔ ریل گاڑیوں کے ساتھ جانے والے حفاظتی دستے چند جوانوں پر مشتمل ہوتے تھے۔ گاڑیوں کا پٹڑی سے اتر جانا بلاوجہ سٹیشنوں پر رُکے رہنا اور میدانوں میں ٹرینوں کو بلاوجہ روک دینے کا ہر وقت اندیشہ رہتا تھا۔ اکثر ٹرینیں بدمعاشوں اور غنڈوں کے کہنے پر روک دی جاتی تھیں یا انہیں ایسی جگہ کھڑا کر دیا جاتا تھا جہاں بلوائی آسانی سے مسلمانوں کو قتل کر سکتے تھے مگر حفاظتی دستوں کے گنے چنے چند فوجی بھی سیکڑوں سکھ بلوائیوں کو مار بھگاتے تھے۔ سرہند کے قریب 30ہزار سکھوں کے حملے کو ناکام بنایا گیا تھا۔ پاکستانی سپاہی خواہ مہاجرین کی گاڑیوں پر مامور ہوتے یا خود آ رہے ہوتے‘ حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے سے نہیں گھبراتے تھے۔ انہیں صرف اس بات سے چڑ تھی کہ اس قسم کی جھڑپوں کے بعد انہیں تحقیقاتی عدالتوں کے سامنے پیش ہونا پڑتا تھا۔ جس سے ٹرینوں کے آنے جانے میں تاخیر ہو جایا کرتی اور یوں مہاجرین کے لئے خطرہ بڑھ جایا کرتا تھا۔ فوج کا سب سے مشکل کام پیدل قافلوں کی حفاظت اور دیکھ بھال تھا۔ بیس ہزار‘ چالیس ہزار‘ ساٹھ ہزار اور کبھی ایک ایک لاکھ مرد‘ عورتیں اور بچے اپنے گھروں کی بچی کچھی چیزیں اُٹھائے‘ مویشی اور بیل گاڑیاں لئے‘ قافلوں میں شامل ہوتے۔ اکثر قافلے دس میل سے تیس میل تک پھیلے ہوا کرتے تھے۔ پندرہ پندرہ میل کا پڑاؤ ہوا کرتا تھا۔ ہر پڑاؤ پر انہیں کھانے پینے کی چیزیں دی جاتیں۔ وہ کارروائی آدھی رات تک جاری رہتی۔ پھر قافلے کو تھوڑا آرام کرنے کو چند گھنٹے دیئے جاتے اور صبح چار بجے پھر سفر شروع کر دیا جاتا۔ اس عمل سے فوجیوں کی صحت پر منفی اثرات پڑے۔ چھوٹے فوجی دستے تقریباً 80سے 100جوانوں پر مشتمل ہوتے۔ ان کی کمان کوئی نوجوان افسر کر رہا ہوتا تھا۔ جو مہاجرین ہی کے ساتھ رہتے۔ کھانا پکوا کر مہاجرین میں تقسیم کرتے۔ لنگڑے لولوں کو سنبھالتے۔ عورتوں اور ضعیفوں کی دیکھ بھال کرتے۔ یتیموں بیواؤں سے ہمدردی کرتے۔ قافلے کی ابتدا سے انتہا تک اور پڑاؤ کے دوران گشت میں باقاعدگی رہتی۔ بیاس اور اٹاری کے درمیان رسالے کا ایک سکواڈرن متحرک رہتا۔ ایک پڑاؤ کے دوران تقریباً دو اڑھائی ہزار مہاجرین بیمار پڑ گئے۔ تحقیق پر پتہ چلا کہ انہیں جو آٹا فراہم کیاگیا تھا اس میں شیشہ ملا ہوا تھا۔ اس کے بعد فوج نے پاکستان سے آٹا منگوانا شروع کر دیا۔ پروبنز(Proybns) رسالے نے بیاس‘ اٹاری‘ موگا‘فیروزپور اور گنڈا سنگھ والا کے راستوں سے کم و بیش 24لاکھ مہاجرین کو بحفاظت پاکستان پہنچایا۔ 3/16 پنجاب رجمنٹ کی ایک کمپنی گورداسپور سے ایک لاکھ مہاجرین کو بحفاظت پاکستان لائی جس پر کمپنی کمانڈر ایم ڈی شاہ ‘ صوبیدار افضل خان اور سپاہی جھلا خان کو کمانڈر انچیف نے سند افتخار دی۔ 5/13فرنٹیئر فورس رائفلز جس کی قیادت میجر خورشید علی کر رہے تھے۔ نے 60ہزار مہاجرین کو امرتسر سے اپرباری دو آبہ نہر کے راستے پاکستان پہنچایا تھا۔ 3/12فرنٹیئرفورس رجمنٹ بھی جالندھر سے اسی طرح ہزاروں مہاجرین کو کوئی گزند پہنچے بغیر پاکستان لے آئی۔ مہاجرین کی حفاظت اور خدمت کا فریضہ صرف رسالے اور انفنٹری یونٹس نے ہی انجام نہیں دیا بلکہ فوج کے ہر شعبے نے اپنے حصے کا کام کیا۔ مثلاً انجینئر کی 33فیلڈ کمپنی امرتسر میں ہوائی اڈے کی حفاظت پر مامور تھی مگر اسے بھی مہاجر قافلوں کو تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری سونپ دی گئی تھی۔ اسی طرح آرمی سروس کور کی جنرل ٹرانسپورٹ کمپنی امرتسر میں گھیرے میں آئی ہوئی آخری چند ہزار مسلمان بہنوں کو کمال جرأت اور جوانمردی سے بلوائیوں سے مقابلہ کر کے نکال لائی تھی۔ افواج پاکستان کے ان کارناموں کو مدتوں یاد کیا جاتا رہا ہے۔ لاکھوں مہاجرین یہ کہہ کر فوجی جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا کرتے تھے کہ ’’پھر بلوچ رجمنٹ کے جوان پہنچ گئے جو ہمیں پاکستان لے آئے۔‘‘ ’’فرنٹیئر فورس کا ٹرک دیکھ کر ہماری جان میں جان آئی‘‘ یا یہ کہ ’’پنجاب رجمنٹ کے بہادر مجاہدوں کو دیکھ کر ہماری آنکھوں میں خوشی کے آنسو امڈ آئے۔‘‘ سابق فوجیوں نے بھی اپنی بساط سے بڑھ کر ہمت اور جاں نثاری دکھائی۔ ایک سابق کپتان حبیب اﷲ خان نے تحصیل پھلور کے قصبہ تلوان میں اپنے گھر کو قلعہ میں بدل کر جہاں کہیں سے اور جس قیمت پر اسلحہ ملا انہوں نے وہ جمع کیا۔ پھر علاقے کے سابق فوجیوں کی چھوٹی چھوٹی ٹولیاں بنائیں اور انہیں فوجی ڈیوٹی پر متعین کیا۔ اس طرح انہوں نے سکھ جتھوں کے کئی حملے پسپا کئے اور قیام پاکستان کے بعد اپنے علاقے کے مرد و خواتین پوری ذمہ داری سے پاکستان پہنچائے۔ اسی طرح چک سعد اﷲ کے کیپٹن ریاض احمد چوہدری جو بعد میں میجر ہو گئے تھے اور جنہیں مسلمانوں کی حمایت پر مئی 1947میں فوج سے ریلیز کر دیا گیا تھا‘ انہوں نے اپنے گاؤں کوایک مضبوط فوجی چوکی کی طرح منظم کیا اور اگست 1947کے پہلے دو عشروں میں نہ صرف سکھوں کے دو بڑے حملے روکے بلکہ قیام پاکستان کے بعد 33ہزار مہاجرین کو پوری حفاظت کے ساتھ پاکستان لائے۔ جن دیہاتوں‘ قصبوں اور چھوٹے بڑے دیہات میں سابق فوجی نہیں تھے‘ وہاں مسلمان آبادی کا بہت نقصان ہوا۔ مثلاً موگہ نامی گاؤں کی ساری کی ساری مسلمان آبادی کو شہید کر دیا گیا تھا۔ جن میں سینئر سول جج چوہدری عبدالعزیز اور ان کے اہل خانہ شامل تھے۔ اس قسم کی ظلم و ستم اور جبر کی خبروں نے این ڈبلیو ایف پی (خیبرپختونخوا) کے غیور پختونوں کو آگ بگولا کر رکھا تھا وہ سکھوں سے مسلمانوں کے خون کا بدلہ لینے کے لئے انتہائی اشتعال میں تھے۔ قریب تھا کہ پاکستان سے بھارت جانے والے عام شہری یا بھارت کے حصے میں آنے والے ہندو سکھ فوجیوں پر حملہ ہوتا یا انہیں کسی قسم کا نقصان پہنچتا‘ پاکستان آرمی نے کمال اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں واہگہ کے اس پار بھارت تک پہنچایا۔ اس سلسلے میں نویں اور دسویں ڈویژن کے جو دستے متعین کئے گئے تھے انہوں نے اپنا فریضہ پوری دیانت سے ادا کیا۔ جن میں تھل کے علاقے میں 5/8پنجاب رجمنٹ‘ نوشہرہ میں 8/1پنجاب اور ڈیرہ غازی خان میں 2بلوچ رجمنٹ شامل ہے۔ ان لوگوں نے اقلیتوں کے تحفظ کے فریضے پر جہاں فوج کی اعلیٰ کمان سے شاباش لی وہاں وزارت امور مہاجرین سے بھی خراج تحسین ملا۔ اس دور کے اخبار گواہ ہیں کہ ’’شمال مغربی سرحدی صوبے سے سکھوں اور ہندوؤں کو کسی بڑے حادثے کے بغیر نکال لانے میں پاکستانی فوج نے جو کردار ادا کیا وہ ایک قابل تعریف کارنامہ ہے۔ خصوصاً جب کہ قبائلی اس قدر غیض و غضب میں تھے۔‘‘ فوج کو فتنہ و فساد کے ہر مقام پر مقابلے کے لئے کھڑا کر دیا گیا تھا۔ پاکستانی فوج کی موجودگی امن و امان اور لوگوں کے اعتماد کی ضمانت سمجھی جاتی تھی۔ 5/13 فرنٹیئر فورس رائفلز اگر ضلع لاہور کے بیرونی علاقوں میں گشت کر رہی تھی تو 4/12 فرنٹیئر فورس رجمنٹ جہلم اور 3/1پنجاب رجمنٹ مغربی پنجاب کے وسطی اضلاع سے بھارت جانے والے ہندوؤں اور سکھوں کونکال کے لا رہی تھی۔ ڈسکہ‘ نارووال اور سمبڑیال جیسے دوردراز قصبوں میں بھی 42فیلڈ کمپنی کے انجینئرز اس کوشش میں تھے کہ غیرمسلم آبادی اپنے مال و متاع سمیت خیریت کے ساتھ پاکستان سے نکل جائے۔ افواج پاکستان نے جس جانفشانی اور بے لوث جذبے کے ساتھ ذمہ داریاں نبھائیں‘ اس کی تعریف بیرونی دنیا کے اکابرین نے بھی کی۔ بہت سے بھارتیوں نے نہ صرف پاکستانی فوجیوں کا احسان مانا بلکہ ضلع راولپنڈی کے گاؤں دولتالہ کے سکھوں کے سربراہ نے کمانڈر انچیف کے نام ایک مشترکہ مراسلہ بھیجا جس میں انہوں نے لکھا کہ ہماری جانیں بچانے کے لئے 14پنجاب کے دستے نے جو مصیبتیں اٹھائیں اس کے لئے ہم دل سے شکر گزار ہیں۔یہ سپاہی بالکل غیرجانبدار ہے اور ان کے اعلیٰ طرز عمل کی ہم جتنی بھی تعریف کریں کم ہے۔ قیام پاکستان کے پہلے ہفتے ہی ہجرت کرنے والے مسلمانوں کی تعداد اس قدر بڑھ گئی تھی کہ سول انتظامیہ کا انہیں سنبھالنا مشکل ہو گیا تھا۔ لہٰذا 20اگست 1947کو مغربی پنجاب میں مہاجر کیمپوں کا انتظام فوج کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ اتنے انسانوں کو پاکستانی سرحدوں سے لانا‘ ان کے ناموں کا اندراج کرنا‘ عارضی قیام گاہیں فراہم کرنا اور پھر فوجی افسروں اور جوانوں نے اپنے حصے کی خوراک اور دیگر ضروریات کی چیزوں میں سے جومہاجرین کے لئے پس انداز کر سکتے تھے‘ وہ کیا۔ یونٹوں نے رضاکارانہ طور سے اپنے راشن کا ایک حصہ مہاجرین کو پیش کر دیاتاکہ ان کی قلیل خوراک میں اضافہ کیا جا سکے۔ آرمی میڈیکل کور میں تربیت یافتہ ڈاکٹروں اور نرسنگ کے عملے کی کمی کے باوجود مہاجرین کو ہر ممکن طبی امداد اور مہاجر کیمپوں سے وبائی امراض کا سدباب کیا۔ پھر جب ستمبر 1947کے وسط میں قائداعظم نے قوم سے مہاجرین کی فلاح و بہبود کے لئے ریلیف فنڈ میں چندے کی اپیل کی تو دیکھتے ہی دیکھتے فوج کے سیون‘ ایٹ اور ٹین ڈویژن کے علاوہ نائن فرنٹیئر ڈویژن اور ایسٹ پاکستان سب ایریا نے فوری طور پر تقریباً 6لاکھ روپے ریلیف فنڈ میں جمع کرا دیئے۔ اس کے علاوہ فوجیوں نے فیاضی اور اس فراخ دلی سے کھانے پینے کی چیزیں‘ کپڑے اور بستر وغیرہ دیئے کہ گمان ہو چلا تھا۔ کہیں وہ اپنے ذاتی استعمال کی اشیاء بھی نہ دے دیں۔ اس لئے یونٹ کمانڈروں نے اپنے افسروں اور جوانوں سے مزید چندہ اور سامان لینے سے انکار کر دیا۔ قائداعظم بھی فوج کے کام‘ لگن‘ خلوص اور ایثار سے اس قدر متاثر تھے کہ وہ بھی ان سے چندے اور دیگر سامان کی صورت میں ریلیف فنڈ لینے سے گریزاں تھے۔ کیونکہ فوجیوں کی فیاضی سے ان کی اپنی نجی گھریلو زندگی پر اخراجات کے سلسلے میں اثر پڑ رہا تھا۔ فوج کا دسواں ڈویژن چونکہ بقیہ فوج کی نسبت مہاجرین کے زیادہ قریب تھا‘ اس لئے اس کے جوانوں اور افسروں نے اپنے سارے کپڑے مہاجرین کو دے دیئے تھے۔ آج کی پاکستانی فوج کے پاس ایٹم بم ہے‘ دنیا کا جدید ترین اسلحہ اور اسلحہ ساز فیکٹریاں ہیں‘ ناقابل تسخیر نیوی ہے۔ لاجواب فضائیہ ہے‘ دنیا کی بہترین فوج کے طور پر عالم میں اس کی ایک پہچان ہے۔ لیکن قیام پاکستان کے وقت حوصلہ‘ ہمت‘ خلوص اور ایمانی قوت کے سوا افواج پاکستان کے پاس کچھ بھی نہ تھا۔ جب کہ بھارت نے برطانوی فوج سے ساز باز کر کے قیام پاکستان سے پہلے ہی جن علاقوں میں پاکستان بننا تھا‘ وہاں انڈین فوج متعین کر دی گئی تھی۔ برٹش آرمی اور رائل ائیر فورس کے دستے بھی کراچی اور کوئٹہ میں تھے۔ انڈین آرمی کا پورا آرمرڈ ڈویژن کوئٹہ میں تھا جبکہ پاکستانی فوج کا ایک دستہ بھی پاکستانی علاقوں میں نہ تھا۔ پاکستان کے علاقوں میں ہندی اور برطانوی فوج کے مسلح دستوں کی موجودگی کسی طور بھی سازش سے کم نہ تھی کیونکہ طے ہوا تھا کہ ہر قسم کا فوجی سامان‘ گاڑیاں‘ اسلحہ سب کا ایک حصہ پاکستان اور دو حصے بھارت لے گا۔ مگر بھارت نے کسی قسم کا لاجسٹک یا اسلحہ گاڑیاں یا بارود نہ دیا۔ جبکہ اسلحہ فیکٹریاں‘ مشینری‘ گولہ بارود‘ بحری اور ہوائی سازوسامان سارے کا سارا بھارتی ڈپوؤں میں پڑا تھا۔ اس کے اسلحہ خانے لبالب تھے۔ بحری اور ہوائی جہازوں کی مرمت کی فیکٹریاں بھی بھارت میں تھیں۔ بھارت کا خیال تھا کہ خالی ہاتھ پاکستانی فوج کا شیرازہ بہت جلد بکھر جائے گا اور پھر جس طرح 26اکتوبر 1947 کو ہوائی جہاز کے ذریعے جموں کشمیر میں فوجیں اتاریں یا 8نومبر 1947 کو جس طرح ریاست جوناگڑھ پر شب خون مارا‘ ریاست حیدرآباد پر قبضہ کیا وہ آزادکشمیر اور پاکستان پر بھی قبضے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ سردار پٹیل نے لارڈ ویول سے کہا بھی تھا کہ تم حکومت ہند کو ہمارے حوالے کر دو‘ اگر مسلمانوں نے مزاحمت کی تو ہم ان سے بزور شمشیر نمٹ لیں گے۔ مگر قائداعظم کی ثابت قدمی اور افواج پاکستان کی بلند ہمتی کے سامنے لارڈ ویول تو کیا لارڈ مونٹ بیٹن بھی بے بس دکھائی دیا۔ دنیا کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو محض جذبے‘ ہمت اور ثابت قدمی کی بنیاد پر کوئی ملک وجود میں نہیں آیا۔ اور نہ ہی نہتی اور تہی داماں فوج نے اپنے سے بڑے دشمن اور ہر قسم کے اسلحہ سے لیس فوج کو اس طرح بے دست و پا کیا ہو گا جس طرح پاکستانی فوج نے بھارت کے خواب خاک میں ملائے تھے۔ پاکستان کا قیام جس طرح کسی معجزے سے کم نہیں ہے اسی طرح افواج پاکستان کا اس وقت کا وہ ایثار بھی رہتی دنیا تک دھرایا جاتا رہے گا۔

اِ س مضمون کی تیاری میں درج ذیل کتب سے استفادہ کیا گیا

وقت کے ساتھ ساتھ (کالموں کا مجموعہ) بریگیڈیئر شمس الحق اسلم

تحریک پاکستان پروفیسر محمد اسلم

پاکستان کا قومی ترانہ عقیل عباس جعفری

قائداعظم کی ازدواجی زندگی عقیل عباس جعفری

پاکستان کرونیکل عقیل عباس جعفری

پاکستان کی کہانی میجر امیر افضل خان

تنہائیاں بولتی ہیں (اسلام آباد کا قبرستان) ڈاکٹر منیر احمد سلیم

روداد (سوانح) نوابزادہ محمد شیرعلی خان ہلال جرأت میجر جنرل

ارباب سیف و قلم (خاکے) بریگیڈیئر (ر) آئی آر صدیقی

یادوں کی دھنک (سوانح) بریگیڈیئر ظفر اقبال چوہدری

آخری کمانڈر انچیف (سوانح) لیفٹیننٹ جنرل گل حسن خان

تگ و تاز جاودانہ (تاریخ) میجر جنرل فضل مقیم خان

قائداعظم کے آخری ایام (یادداشتیں) ڈاکٹر کرنل الہٰی بخش

جس رزق سے آئی ہو پرواز میں کوتاہی فیلڈ مارشل ایوب خان

میری آخری منزل (سوانح) جنرل محمد اکبر خان (رنگروٹ ARMY PA NO,1

قائداعظم بحیثیت گورنرجنرل قیوم نظامی

The Emergence Of pakistan (CH Muhammad Ali)

نوٹ: سید ضمیر جعفری‘ بریگیڈیئر گلستان جنجوعہ‘ بریگیڈیئر ابراہیم قریشی‘ بریگیڈیئر گلزار احمد‘ بریگیڈیئر شمس الحق قاضی اور بریگیڈیئر سلیمان سے ملاقاتیں ‘ گفتگواور انٹرویوز۔

یہ تحریر 162مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP