متفرقات

قِصَّہ ایک حیاتِ بے ثبات کا

 حاجی قدوس پاکستان کے شمالی نیم پہاڑی علاقے کے ایک چھوٹے سے گائوں میں کریانہ کی دوکان چلا کر اپنا گزر بسر کرتے تھے۔ حاجی صاحب کی 4 بیٹیاں اور ایک نومولودبیٹاتھا۔ جس کے آنے پر جہاں گھرانا مسرت وشادمانی کے نقارے بجا رہا تھا وہیں حاجی صاحب کے خاندان کا شیرازہ بھی مکمل ہونے کو آیا۔شرجیل چونکہ گھر میں چھوٹا تھا لہٰذا اُسے شروع سے ہی لاڈ اور پیار سے پالا گیا۔شرجیل بھی قسمت کا سکندر نکلا جس کو چار پیار کرنے والی بہنیں اوربے حد پیارے ہر دل عزیز والدین کا سایہ نصیب ہوا۔ وقت گزرا، حاجی صاحب کی داڑھی سفید اورشرجیل کی ہلکی بھورے رنگ کی داڑھی نکلنے کو آئی، حاجی صاحب کے پائوں کا جوتا اب نوجوان شرجیل کو بھی آنے لگا۔ میٹرک امتیازی نمبروں سے پاس کرنا اور بڑی بہن کی شادی کی تقریب،دونوں مسرتوں کا ایک ہی دن میں آنا گویا حاجی صاحب اور ماں جی کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہ تھا۔
 شرجیل بڑا ہی فرمانبردار اور خاموش طبیعت کا حامل لڑکا تھا۔ صرف گھر میں ہی نہیں بلکہ اڑوس پڑوس میں بھی اس کی شرافت اور نیک طبع کے چرچے تھے۔ اپنی والدہ سے خصوصی لگا ئوتھا ہر بات ماں جی سے بیان کرتا۔ کبھی کبھی حاجی صاحب کی سختی سے بچنے کے لئے ماں کی ممتاکی آڑلے لیاکرتا۔FSc کی توساتھ ہی دوسری ہمشیرہ کی بھی رخصتی ہوئی۔ دو بہنوں کے جانے کے بعد اب گھر کچھ ادھورا اور سنسان ہوچلا تھا۔ بیاہی بہنوں کے ساتھ ماضی میں کی گئی نوک جھونک، لڑائیاں اور محبت بھرے گزرے ایام جب یاد آتے تو اس کی آنکھیں نم ہو جاتیں وہ خود کو کمرے میں بند کر کے کچھ دیر سنبھلنے کے بعد ماں جی اور حاجی صاحب کے پاس جا بیٹھتا اور ہر ممکن کوشش کرتا کہ ان کوبیٹیوں کی جدائی اور ان کی کمی محسوس نہ ہو۔
 شرجیل کو بچپن سے ہی خاکی وردی والے پسند تھے، فوجی آلاتِ حرب، ٹینک اور بکتربند گاڑیاں دیکھ کراس کے دل کے اندر چھپی ترنگ جاگ اٹھتی تھی اور وہ دعا کرتا تھا کہ اللہ اسے بھی ایک دِن اس عظیم پیشے کے لئے چن لے، شرجیل کے گھر لڑکپن کے زمانے میں جو بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی ہوا کرتا تھا اس میں 23 مارچ کو فوجی پریڈ اور 6 ستمبر کو دفاع وطن پر بنائے ہوئے ملی نغمے ہی گونجتے تھے۔ اللہ نے اس کی نیک نیتی، سچی طلب، محنت اور والدین کی دعائوں کے عوض سپاہ گری کا عظیم پیشہ اس کے مقدر میں لکھ دیا۔ عسکری تربیت کے سلسلے میں اسے گھر چھوڑنا پڑا۔ 17 سال کی عمرمیں جب کہ اس کے ساتھ کے دوست اپنی ماں کی آغوش میں ممتا کی آسودگی سے لطف اندوز ہو رہے تھے، شرجیل ماں جی اور حاجی صاحب سے گلے مل کراپنارخت سفرباندھ رہا تھا۔شرجیل کے جانے کے بعد جہاں گھر والوں کو اس کی یاد ستاتی رہی، وہیں گھر کے روز مرہ کاموں کا بوجھ حاجی صاحب کے اوپر پھر سے آن پڑا تھا۔ حاجی صاحب اور ماں جی اب بیمار رہنے لگے تھے۔ شرجیل کے دوستوں نے اس کی غیر موجودگی میں خوب ساتھ دیا۔ سودا سلف ہو یا دونوں چھوٹی بہنوں کی شادیوں کی ایک ساتھ تیاریاں،شرجیل کے دوستوں نے کوئی کمی محسوس نہ ہونے دی۔ سبھی حاجی صاحب کو کہتے تھے بس یہ دو سال ہی مشکل ہیں۔ اس کے بعد آپ کا بیٹا ہمیشہ آپ کا خیال رکھنے کے لئے موجود ہو گا۔ دراصل چاروں بیٹیوں کی شادی ہو جانے کے بعد دونوں میاں بیوی تنہائی اور اداسی کا شکار ہو گئے تھے۔ مگر جدائی کا یہ عرصہ شرجیل کی کامیاب عسکری تربیت اور اعزازی اسناد کے آگے پارہ پارہ ہو گیا اور اس فتح پر اس کے بوڑھے ماں باپ کے جذبات ایک مرتبہ پھر تروتازہ ہوگئے۔خوشی کے مارے دوستوں نے بھی خوب جیب ہلکی کروائی اور اس چھوٹے سے گائوں کے ہر فرد نے حاجی صاحب اور ماں جی کی قسمت پر رشک کیا۔
 خاندان میں اپنے چچا کی بیٹی سے شرجیل کے رشتے کی بات چلی۔ حاجی صاحب نے شرجیل کی رضا مندی پوچھی تو اس نے والدین کی رضا کے آگے سر تسلیم خم کیا کیونکہ اسے اِس چیز کا شدت سے احساس تھا کہ بہنوں کے جانے کے بعد بہو کا ہونا والدین کی دیکھ بھال کے لئے ناگزیر ہو چکاہے۔ چنانچہ سادگی سے ہی لیکن بڑے اہتمام کے ساتھ نو بیاہتا جوڑاگھر کو زینت بخشنے آن پہنچا۔ ماں جی نے جو پیسے جوڑے تھے وہ شرجیل کو دے کر کہا کہ جا بیٹا کچھ دن بہو کے ہمراہ سیروتفریح کر آ۔ واپس لوٹنے پرشرجیل واپس اپنی یونٹ روانہ ہوگیا۔
 ایک سال گزرا، گھر کے آنگن میں نئے مہمان کی آمد ہوئی۔اللہ نے چاندجیسی بیٹی سے نوازا، دادا، دادی کو تو جیسے کوئی کھِلونا مل گیاہو۔ بہو بھی خیال کرنے والی، بیٹا بھی اپنے پائوں پر کھڑا، بیٹیاں اپنے گھروں میںخوشی خوشی زیست کے ایام گزار رہی تھیں،گھر میں نئے مہمان کی رونقیں۔حاجی صاحب اور ماں جی کو اب اور کسی خواہش کی طلب نہ تھی وہ ہر روزا للہ کے حضور لاکھ لاکھ مرتبہ شکر گزاررہتے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا خصوصی فضل وکرم کیا اور دنیا کی ہر نعمت اور خوشی سے ان کو بہرومند کیا۔
 شرجیل کے گھر آنے تک اس کی بیٹی3 ماہ کی ہو چکی تھی اسے یقین نہیں آ رہا تھاکہ وقت کیسے گزر گیا۔ ابھی کل کی بات لگتی کہ وہ ماں جی کی گود میں کھیلا کرتا اور آج اس کی اپنی گود میں اس کی ننھی سی جان ہنس کھیل رہی ہے۔شرجیل نے اپنی بیٹی کی خوشی میں ساری یونٹ میں مٹھائی تقسیم کی۔ آفیسرز اور جوانوں کی مبارک بھی قبول کی۔ شام کو بیچلرآفیسرز نے چھوٹی سی تقریب رکھی جس کے اختتام میں ڈھول کی تھاپ پر رقص بھی کیا گیا۔شرجیل کے یونٹ فیلوز اس کی شخصیت کے معترف تھے، جب یونٹ آپریشن ایریا کے لئے منتخب ہوئی تو جہاں سارے جوانوں میں جوش وجذبے کی لہردوڑی وہیں شرجیل کی آنکھوں میں عجیب اطمینان کی چمک دکھائی دے رہی تھی۔
شرجیل کے دو سال آپریشن ایریا میں گزرے اور اب واپسی کی تیاری ہو رہی تھی۔شرجیل کی سلیکشن UN مشن کے لئے ہو چکی تھی وہ اس بار گھر جا کریہ خوشخبری خود والدین کو دے گا۔UN مشن سے واپسی پر اپنے گھر کی مرمت، والدین کو عمرہ کے لئے بھیجے گا اور ایک مناسب سواری کا انتظام بھی کرے گا۔اب وہ دن آن پہنچا جب اس کی یونٹ De-induct ہور ہی تھی تین گھنٹے بعدشرجیل افغانستان سے جڑی پوسٹ سے اتر کر کمپنی ہیڈکوارٹر سے ہوتا ہوا بٹا لین ہیڈکوارٹرکی طرف روانہ ہوگا۔ اسے Ops Area میں گزرے شب وروز یاد آئیں گے۔ اسے اِس بات کی خوشی اور اطمینان ہے کہ جہاں اس کی پلٹن نے دشمن کو مار بھگانے اور ملکی سرحد کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کیا وہیں اسے اپنی رجمنٹ کے 23 جوانوں کو کھو دینے کا غم بھی ہے۔ مگر اسے اِس بات کی شادمانی تھی کہ وہ اللہ کے ایسے چنے ہوئے لوگ تھے جنہیں اللہ نے ہمیشہ کے لئے زندہ وجاوید کر دیا، لیکن ان کی یاد نے اس کی آنکھیں نم ضرور کر دی تھیں۔
 حاجی صاحب کے سادا سے موبائل پر رِنگ بجی۔ انھوں نے ماں جی کو آواز دی ارے شرجیل کی کال آئی ہے۔ چونکہ شرجیل جس جگہ تعینات تھا وہاں موبائل سگنلز نہیں تھے تو گھر والوں کو پی ٹی سی ایل کا نمبر یاد ہو چکا تھا۔
 ماں جی نے کہا ''جلدی اٹھا ئیں اور میری بھی بات کروائیں 2 ماہ سے بات نہیں ہوئی آج خوب دیر تک باتیں کروں گی'' اور حاجی صاحب ہنستے ہوئے سر اثبات میں ہلا کر بولے  ''کیوں نہیں کیوں نہیں۔''
حاجی صاحب: ''ہیلو!شرجیل بیٹا کیسے ہو''
یہ سنتے ہی شرجیل کی زوجہ اپنی بیٹی کو اٹھا کر باہر لے آئی اور اس کی طرف دیکھ کر بولی'' بے بی!  بابا کا فون آیا ہے آپ بات کریں گی''؟
 دوسری طرف''السلام علیکم حاجی صاحب کرنل ا عجازبات کررہا ہوں۔''
حاجی صاحب: ''وعلیکم السلام کیسے ہیں آپ کرنل صاحب اورشرجیل کیسا ہے کہیں پھر سے آپ اسے کسی نئے کورس پر تو نہیں بھیج رہے ؟''
مسکراتے ہوئے بولے
کرنل صاحب کا سن کر ماں جی اور بہو کی نظروں میں حیرت اور غیر یقینی کی سی صورت حال تھی۔
کرنل صاحب: ''حاجی صاحب! اللہ اکبر اللہ اکبر'' 
  حاجی صاحب اللہ نے آپ کے بیٹے کو اس اعزاز سے نوازا جس کی خواہش ہر مجاہد کے دل میں ہوتی ہے۔ شرجیل کو اللہ نے شہادت کے رتبے پر فائز کر کے ہمیشہ ہمیشہ کے زندہ جاوید کر دیا ہے۔
حاجی صاحب کانپتے ہاتھوں، بہتی آنکھوں اورلڑکھڑاتی ہوئی آواز کے ساتھ  الحمدللہ، الحمدللہ کہہ رہے تھے شرجیل نے ہمارے سر فخر سے بلند کر دئیے۔ اللہ اس کی شہادت قبول کرے۔ 
 یہ سن کر ماں جی پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گئی۔ اور بولی میرا بچہ اللہ کی امانت اسی کے سپرد، بہو نے خوب حوصلہ دکھانے کی کوشش کی مگر جب اس کی نظر شیر خوار بچی پر پڑی تو اس کی آنکھوں سے بھی زارو قطار آنسو جاری ہوگئے، اور ہلکی سسکتی آواز میں بولی
I am widow of  a Shaheed, it's an  honour, it's indeed a great honour
 بچی کی طرف دیکھا اور کہا
.Don't you worry little soul! Your baba will always be watching you from Jannah 
 کرنل اعجاز بولے ، حاجی صاحب ہمیں یہ بتاتے ہوئے فخر ہے کہ شرجیل نے دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور بہادری و جرأت کی اعلیٰ مثال قائم کی ہے۔
 حاجی صاحب نے کہا ''بسم اللہ میرا پتر، میر فخر۔ اور ساتھ ہی فون رکھ دیا۔''

 شام ڈھل رہی تھی، گھر کے راستے کے سامنے سے سبز ہلالی پرچم میں لپٹا ایک صندوق نظر آرہا تھا۔ حاجی صاحب کو وہ وقت یاد آرہا تھا کہ جب شرجیل اسی راستے پر چل کر گھر آتا تھا، اسی راستے پرتو چل کراس کی بارات گئی تھی مگرجس شان وشوکت سے آج اس کا جنازہ آرہا تھا اس کی بارات بھی ویسی نہ تھی۔
 شرجیل کی یونٹ سے اس کاقریبی ساتھی ماں جی کے سامنے موجود تھا۔ ہاتھ میں سبز ہلالی جھنڈا جو کیپٹن زوہیب نے شرجیل کے جسد خاکی سے اٹھایا تھا ماں جی کے حوالے کیا اور ماں جی کوسلیوٹ کر کے بولا :
!We are proud of our Brother Aunty
 ماں جی آپ کو بیٹے کی شہادت کا رتبہ مبارک ہو۔
 ماں جی نے زوہیب کو دیکھا اورکہا بیٹا اس کے جانے کا دکھ تو رہے گامگر جس اعزاز سے اس نے ہمیں نواز ا ہے میرے 10 بیٹے بھی اگر ہوتے تو میں وطن پروار دیتی۔ شہید کی ماں ہونا میرے لئے سب سے بڑاسرمایہ افتخار ہے۔ 
 شرجیل کی بیوہ اپنی 11 ماہ کی بیٹی کے ہمراہ شرجیل کی لاش کے ساتھ بیٹھی قرآن کی تلاوت کر رہی تھی جبکہ بیٹی تابوت کے اوپر لگے شیشے سے اپنے بابا کو حیرت سے دیکھ رہی تھی وہ کہاں اس حقیقت سے آشنا تھی کہ یہ دیدار اب اسے کبھی حاصل نہیں ہوگا۔ اس کو اِس بات کا اندازہ بھی نہ تھاکہ وہ کچھ سالوں بعد جب بولنے لگے کی تو اپنی سہیلی سے اس کے بابا کی باتیں سن کر اپنے بابا کو یاد کرکے رویا کرے گی۔ عیدوں پر جب سارے بچے اپنے والدین سے عیدیاں لیں گے تووہ بابا کے ہاتھ سے عیدی لینے سے محروم رہے گی ۔مگر شہید باپ کی بیٹی ہونے کا منفرد اعزاز جو اس کو حاصل ہوچکا وہ کسی اور کو شایدحاصل نہ ہو گااور یہی وہ مرہم ہے جو اس کے سارے زخم بھرنے کے لئے کافی ہے۔
 چاروں بہنیں سوگ میں بیٹھی ماضی کے خوشگوار دِنوں کو یاد کر رہی تھیں جب شرجیل چھوٹا سا ان کی گود میں کھیلتااور شرارتیں کر تا تھا۔ 
 دوست بھی پاس کھڑے سکتے میں بچپن اور سکول کے دِنوں کو سوچ رہے تھے کہ کل کی بات جب اکٹھے سکول آنا جانا تھا اور کرکٹ کھیلناتھا،اور آج ان کا دوست دائمی سفر کو نکل گیا تھا۔
 یونٹ آفیسرز کوشرجیل کی یونٹ رپورٹنگ کا دن اور اس کے ساتھ یونٹ آمد پر مذاق کی یادیں گھیرے ہوئے تھیں۔ اور ان کو ساتھ میں گزرے اچھے برے وقتوں میں ڈٹ کر ہمت سے کھڑے رہنا بھی یاد تھا۔
 شہید کو منو ں مٹی تلے دفن کر دیاگیا۔ سوگواروں کے ساتھ تعزیت کر کے سب واپس ہو چلے۔ شرجیل کی پوسٹ پر نیا آفیسر آگیا جو دیوار پرشرجیل کے خون کے چھینٹے دیکھ کر اِسے ابھی بھی یاد کرتا ہے
 گھر کی مرمت اور والدین کے عمرے کی حسرت دل ہی میں رہ گئی۔ دوست شرجیل کی قبر کے پاس آ کر فاتحہ پڑھتے اور پھرتلاش روزگار میں مصروف ہو جاتے۔
 حاجی صاحب اور ماں جی دن کا ایک حصہ اپنے بیٹے کی قبرکے ساتھ گزارتے۔ بہو نے پھر شادی نہ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ شہید کی بیوہ کا اعزاز اس سے الگ نہ ہو سکے اور بیٹی بابا کی یونیفارم والی تصویر کو دیکھ کر روزانہ دن میں کئی باراسے بوسہ دیتی۔
 زندگی نہ رکنے کا نام ہے چنانچہ حاجی صاحب، ماں جی، بہو اور بچی کی زندگی بھی گزر رہی مگر شرجیل کی یادیں ہر گزرتے دن کے ساتھ اور گہری ہوتی چلی جارہی تھیں۔ 
 ماں جی اپنے گلے میں ڈالے اس ڈسک کو روز چومتی ہیں جس میں شرجیل کا نام،بلڈ گروپ نقش تھا۔ ابھی بھی اس ڈسک پر شرجیل کے خون کے چھینٹے موجود ہیں جو ماں جی کو اس کی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔ اب ماں جی کہتی ہیں کہ میں جب اِس دنیا سے جائوں تو اسے میرے ساتھ ہی دفن کر دینا۔
 حاجی صاحب بھی گھر کے کاموں سے فرصت نکال کر سٹور میں جاتے ہیں اور اپنے بیٹے کا صندوق کھولتے ہیں جو وہ پی ایم اے جاتے ہوئے ساتھ لے کر گیا تھا اس کی پھٹی ہوئی وردی ابھی بھی مشک بار ہے، پی ایم اے سے لکھے ہوئے خطوط بھی سامنے دھرے ہوئے ہیں اس کی ہنستی مسکراتی تصاویر پر حسرت بھری نگاہیں ڈالے یہ بے بس باپ سوچ رہا تھاکہیں میں اس کے غم میں شہادت کے مرتبے کی پامالی تو نہیں کر رہا پھر اسے یاد آیا کہ یہ غم تو قدرتی ہے۔ حاجی صاحب کو یاد آیا کہ صبح ان کی پوتی کے سکول کا پہلا دن ہے اور وہ اس کا لنچ باکس بھول آئے ہیں۔ صندوق کو بند کیا آنسو پونچھے اور بیساکھی کے سہارے بازار کو  چل پڑے۔
 شہید کی بیوہ اپنی ننھی بچی کی یتیمی اور اپنی جوانی میں سہاگ سے محرومی اور بستے ہوئے گھرکے اجڑنے کا شکوہ دل میں لاتی ہی ہے کہ دوسرے پل اس کے دل سے صدا آئی اے خوش نصیب تو وہ بھاگوں والی ہے جس کے سرتاج نے اپنی جان کی قربانی دے کر بہت سے گھروں کے چراغ بجھنے سے بچائے اور ان تمام گھر والوں کی دعائیں اس کے ساتھ ہمیشہ رہیں گی۔وہ پُر عزم ہے کہ اپنی بیٹی کو پڑھا لکھا کر ایک دن اپنے باپ کے مانند خاکی لباس میں ڈھالے گی تاکہ بیٹی بھی باپ کے نقش قدم پر چل کر ملک وقوم کے دفاع کی ایک مضبوط کڑی ثابت ہو۔
 ماں جی کی آواز آئی کہ کھانے کا وقت ہو چلا سب آجائیں دستر خوان پر۔ ماں جی کی آواز بہو کو ارمانوں اور یادوں کے جھروکوں سے باہر لے آئی۔ گود میں سوئی ہوئی گڑیا کو آرام سے بستر پر لٹا کر کمبل اوڑھایا اور اپنے دکھی تاثرات کو چھپاتے ہوئے باہر کو چل پڑی۔ حاجی صاحب بھی ہاتھ میں بچی کا ٹفن اٹھائے گھر کی دہلیز سے اندر آتے دکھائی دیئے۔ بہونے کھانا لگایااور اب تینوں بیٹھے ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے بے معنی گفتگو کر رہے ہیں۔ ساتھ میں شرجیل کی جگہ ہمیشہ کی طرح آج بھی خالی ہے۔ جیسے دل ہی دل میں سبھی کو ایک یقین سا ہے کہ وہ مسکراتا ہوا کہیں سے آئے گااور ان کے دستر خوان پر آملے گا۔ ||


 [email protected]

یہ تحریر 77مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP