ہمارے غازی وشہداء

قوم نہیں بھولے گی

پشاور کو پھولوں کا شہر کہتے ہیں۔ اس شہر کے پھول جیسے بچوں کو جس طرح مَسلا گیا۔وہ صرف پشاوری ہی نہیں‘ساری پاکستانی قوم نہیں بھولے گی۔ان پھول جیسے معصوم بچوں کے لہو کی خوشبو پکار پکار کر یہ کہہ رہی ہے ۔۔۔ کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ،ان کے خلاف یہ جنگ،یہ ضرب جاری رہے۔

پشاور کے مشہور قصہ خوانی بازارمیں چوک شہیداں پر کھڑا میں سوچ رہا تھا کہ آزادی سے پہلے انگریزوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے مجاہدینِ آزادی کو تو ہم نے بھلا دیا۔۔۔ کیا سانحہ 16 دسمبر کے شہدا ء کو بھی یہ قوم بھلا دے گی؟

قصہ خوانی بازار میں شام کے آخری پہر میں کھوے سے کھوا چھلتے بازار کی تنگ شاہراہ پر ڈھیروں ٹھیلوں ،رہڑیوں اور دکانوں پر بیٹھے خریداری کرتے پشاوریوں سے میں نے جب یہی سوال کیا ، تو سب کی زبا ن پر ایک ہی جواب تھا۔۔۔’’نہیں ، کبھی نہیں‘شہدائے آرمی پبلک اسکول کبھی نہیں بھولیں گے۔‘‘ جنوری کی ایک خنک شام قصہ خوانی کے پر ہجوم ،پر رونق بازارمیں یہ بات میرے لئے بہر حال خود باعث حیرت تھی۔۔۔کہ کہیں سے بھی اس بات کا شائبہ بھی نہیں مل رہا تھا کہ اس شہر پر گزشتہ ایک دہائی سے خود کش حملوں ،خوں ریز دھماکوں کی کیا کیا قیامتیں نہ ٹوٹیں۔خود قصہ خوانی بازار 18 بار خونریز دھماکوں ،خود کش حملوں سے خون میں نہلا یا گیا۔مگر نہ تو اس بازار کی رونق میں کمی آئی اورنہ ہی روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں آنے والے پشاوری خوفزدہ ہوئے۔زیادہ خوشگوار حیرت مجھے اس وقت ہوئی جب ان پشاوریوں میں سے‘ جن میں ہر عمر ،ہر مکتبہ فکر کے پشاوری شامل تھے،کسی ایک کی سوچ میں بھی دہشت گردوں کے حوالے سے کوئی ابہام نہ تھا۔جو بدقسمتی ایک عرصے سے ہماری بعض سیاسی و دینی جماعتوں میں اپنے اپنے تعصبات اور مفادات کے سبب نہ صرف برسوں موجو د رہا بلکہ جسے وہ propagate بھی کرتے رہے۔ گو کہ قوم بڑی حد تک سانحہ دسمبر کے بعد اس بات پر متفق ہوگئی ہے کہ دہشت گردوں کی ایک ہی سزا ہے اور وہ ہے۔۔۔ خون بہانے پر سزائے موت۔ شریعت کے نام پر اپنی ہی قوم،مسلک اور مذہب کے لوگوں کاخون بہانے والے کسی بھی طرح کے رحم کے مستحق نہیں۔کتنا بڑا المیہ ہے کہ آٹھ ہزار سے زائد تخریب کار، سفاک قاتل ،گزشتہ آٹھ سال سے اپنے کئے کا بھگتنے کے بجائے جیلوں میں پکنک منا رہے ہیں۔ اور اُس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ اُن کے لئے انسانی حقوق کی تنظیمیں اورا نصاف جیسے مقدس پیشے سے وابستہ وکلاء انُ کی بے گناہی کا مقدمہ لڑ رہے ہیں۔کسی بھی جمہوری ملک میں یقیناًملٹری کورٹس کی گنجائش نہیں ۔۔۔مگر دہشت گرد اگر اتنے طاقتور ہوجائیں کہ اُن کے خوف سے گواہ عدالتوں میں پیش نہ ہوں۔۔۔ جج فیصلے دیتے ہوئے خوفزدہ ہوں۔۔۔ایک نہیں، دو نہیں، چھوٹی بڑی عدالتوں کے درجنوں ججز اور گواہ دن کی روشنی میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں تو پھر آپ ہی بتائیے کہ کون سا راستہ اختیار کیا جائے؟سیکڑوں میں سے صرف ایک مثال دے رہاہوں۔۔۔کہ یہ لشکر اورسپاہ کے سرغنے کتنے طاقت ور ہیں۔اِن میں سے ایک سپہ سالار جو سو سے اوپر قتل کے مقدموں میں بارہ سال سے قید تھا۔۔۔لاہور ہائی کورٹ میں ببانگ دہل اپنے سامنے کھڑے گواہ کو للکارتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’گواہ بولا نہیں کرتے‘‘ چند دن بعد وہ گواہ اپنے شہر کے بیچ بازار میں مار دیا گیا۔بعد میں یہ سپہ سالار عدم ثبوت کی بنا پر جب رہا ہوتا ہے تو اُس کے سیکڑوں حامی پھولوں کے ہار اُس کے گلے میں ڈال کر ایک جلوس کی سی صورت میں اُس کے آبائی شہر لے جاتے ہیں۔

پورے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ہماری سویلین عدالتوں نے اب تک کسی بھی ایک ایسے تخریب کار اور دہشت گردکو سزا نہیں دی کہ جن کے خلاف ٹھوس ثبوت اور گواہی دینے والے نہ تھے۔پھر ہم کیسے یہ یقین کر لیں کہ ہماری اپنی فوج کی بنائی ہوئی عدالتیں کسی بے گناہ ،معصوم پاکستانیوں کو سزا دیں گی۔یہ تو وہ وحشی درندے ہیں جو نہ صرف مسلمان بلکہ انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں۔۔۔جو کلمہ گو مسلمانوں کا نہ صرف گلا کاٹتے ہیں بلکہ اپنے مکروہ ،چہروں اور زبانوں سے اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں۔

میں پہلے بھی لکھ چکاہوں کہ ملٹری کورٹس کسی جمہوری حکومت میں نہیں ہونے چاہئیں۔مگر خوش آئند بات ہے کہ سانحہ 16 دسمبر کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں نے پارلیمنٹ سے ایک ترمیمی بل کی منظوری دے کر ملٹری کورٹس کے قیام کی اجازت دی۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یا غالباً پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی آئینی ترمیم ہے جس کے ذریعے پاکستان کے قومی مفا د کے لئے ملٹری کورٹس کو ضروری قرار دیا گیا۔یہاں ایک اور نئی بحث ایک حلقے کی جانب سے چھیڑی گئی۔۔۔کہ صرف مذہبی دہشتگردی پر ہی زور کیوں دیا جاتا ہے؟ درست۔بلکہ بالکل درست۔۔۔اپنی جگہ یہ حقیقت نہیں کہ 55 ہزار شہریوں اور 5 ہزار فوجی جوانوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنانے والے سارے کے سارے اس کی ذمہ داری ہی قبول نہیں کرتے۔بلکہ بڑے دعوے سے کہتے ہیں کہ وہ اپنی شریعت کی سربلندی کے لئے یہ جہاد جاری رکھیں گے۔پورے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ہماری سویلین عدالتوں نے اب تک کسی بھی ایک ایسے تخریب کار اور دہشت گردکو سزا نہیں دی کہ جن کے خلاف ٹھوس ثبوت اور گواہی دینے والے نہ تھے۔پھر ہم کیسے یہ یقین کر لیں کہ ہماری اپنی فوج کی بنائی ہوئی عدالتیں کسی بے گناہ ،معصوم پاکستانیوں کو سزا دیں گی۔یہ تو وہ وحشی درندے ہیں جو نہ صرف مسلمان بلکہ انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں۔۔۔جو کلمہ گو مسلمانوں کا نہ صرف گلا کاٹتے ہیں بلکہ اپنے مکروہ ،چہروں اور زبانوں سے اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں۔

کتنا بڑا المیہ ہے کہ آٹھ ہزار سے زائد تخریب کار، سفاک قاتل ،گزشتہ آٹھ سال سے اپنے کئے کا بھگتنے کے بجائے جیلوں میں پکنک منا رہے ہیں۔ اور اُس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ اُن کے لئے انسانی حقوق کی تنظیمیں اورا نصاف جیسے مقدس پیشے سے وابستہ وکلاء انُ کی بے گناہی کا مقدمہ لڑ رہے ہیں۔کسی بھی جمہوری ملک میں یقیناًملٹری کورٹس کی گنجائش نہیں ۔۔۔مگر دہشت گرد اگر اتنے طاقتور ہوجائیں کہ اُن کے خوف سے گواہ عدالتوں میں پیش نہ ہوں۔۔۔ جج فیصلے دیتے ہوئے خوفزدہ ہوں۔۔۔ایک نہیں، دو نہیں، چھوٹی بڑی عدالتوں کے درجنوں ججز اور گواہ دن کی روشنی میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

پشاور کو پھولوں کا شہر کہتے ہیں۔ اس شہر کے پھول جیسے بچوں کو جس طرح مَسلا گیا۔وہ صرف پشاوری ہی نہیں‘ساری پاکستانی قوم نہیں بھولے گی۔ان پھول جیسے معصوم بچوں کے لہو کی خوشبو پکار پکار کر یہ کہہ رہی ہے ۔۔۔ کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ،ان کے خلاف یہ جنگ،یہ ضرب جاری رہے۔

[email protected]

یہ تحریر 55مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP