یوم دفاع

قوم فوج کی پشت پر تھی

جنگیں قومیں لڑا کرتی ہیں فوج ہراول دستہ ہوتی ہے، اصول کامیابی کا زینہ ہوا کرتے ہیں1965 کی جنگ میں افواجِ پاکستان نے بلند اخلاق اور اصولوں سے اپنے سے تین گنا بڑے دشمن پر فتح پائی تھی۔
1965 کی جنگ اور1971 کی جنگ کا تجزیہ کریں تو1965 میں ساری قوم افواجِ پاکستان کی پشت پر تھی،  ہر کوئی مورچے میں اُترا ہوا تھا جب کہ 1971 کی جنگ ،خاص طور سے مشرقی پاکستان میں، صرف فوج نے لڑی تھی پشت پر قوم نہیں مکتی باہنی کے غدار کھڑے تھے لیکن 1965 میں ہر کسی نے اپنے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال رکھی تھیں بلدیہ راولپنڈی کے واٹر انجنیئر محترم کریم بخش جنہوں نے 1942 میں مقابلے کے امتحان سے گزرکر راولپنڈی بلدیہ میں بطورِ انجنیئرخدمات کا آغاز کیا اور چیف انجنیئر کے عہدے تک پہنچے وہ1965 میں راولپنڈی شہر اور مضافات میں پانی سپلائی کے ذمہ دار تھے، پانی کا سب سے بڑا ذریعہ سیدپور روڈ کی کالی ٹینکی تھی جو جناب کریم بخش نے1943 میں بنوائی تھی جب جنگِ ستمبر کے آثار نمایاں ہوئے تو انہوں نے فوری طور بلدیہ واٹر مینجمنٹ  گروپ کے لوگوں کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ شہر کو دو زون میں تقسیم کیا، طے پایا کہ اگر دشمن شہرکے بجلی کے نظام کو نقصان پہنچائے تو متبادل کے طور ایک بڑا جنریٹر موجود ہونا چاہئے جو پانی کی فراہمی کی بحالی میں معاون ہو چونکہ وہ جنگ ہر پاکستانی کی تھی۔ اس لئے بلدیہ میں جو اپوزیشن گروپ تھا یا اقتدار گروپ سب اس بات پر متفق ہوگئے تھے کہ بجلی کا متبادل بندوبست بھی ہونا چاہئے یوں فوری طور پر انجنیئرکریم بخش کراچی پہنچے اور ایک دو دنوں کے اندر اندر ہنگامی بنیادوں پر سترہزار روپے کا ایک جنریٹر خرید لائے۔ کالی ٹینکی  جو1942 کے چیف انجنیئر مسٹر ہیلے کی مناسبت سے ہیلے واٹر ورکس کہلاتی تھی۔ اس کو جنریٹر سے جوڑ دیا، اس بہت بڑے آبی ذخیرے کی چھت پر گھاس گملے اور رنگ روغن سے اسے ایک پہاڑی میں تبدیل کردیا یعنی ایسی کیموفلاج کی کہ فضا سے جنگل نما پہاڑ دکھائی دیتی تھی۔ دس بارہ فوجیوں کا دستہ ایئر کرافٹ گنوں کے ساتھ اس پر پہرہ دینے لگ گیا۔ یوں جنگ کے دنوں میں کسی طور بھی راولپنڈی میں پانی کی قلت نہیں ہوئی۔ فوجیوں کے جذبے کا عالم یہ تھا کہ شیلنگ کی وجہ سے ایک سپاہی کا آدھا منہ اُڑ چکا تھا وہ اپنا جبڑا ہاتھ میں لئے زخمیوں میں لیٹا ہوا تھا جب اسے سٹریچر پر ڈال کر آپریشن ٹیبل پر لے جانے لگے تو وہ خود ہی اٹھ کر آپریشن روم تک چلا گیا، جنرل محمود الحسن کو اس سپاہی کا جبڑا جوڑنے اورپلاسٹک سرجری سے منھ پورا کرنے میں ایک سال لگ گیا تھا۔
بریگیڈیئر نصرت جہاں سلیم جو 1965کی پاک بھارت جنگ میں اگلے مورچوں پر جا کر زخمی فوجیوں کی مرہم پٹی کرتی رہی ہیں، وہ اپنی یادداشتوں میں لکھتی ہیں کہ کھیم کرن میں اس قدر گھمسان کا رَن پڑا تھا کہ ہر طرف دشمن کی لاشیں بکھری پڑی تھیں جھاڑیوں،کھائیوں اور گھاٹیوں میں لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔ سارا گائوں خالی ہوچکا تھا، مال مویشی اور قیمتی سامان لے کر سارے گائوں والے جاچکے تھے مگر دو عمررسیدہ خواتین اب بھی گائوں میں موجود تھیں۔ اُن سے جب پوچھا گیا کہ وہ گئی کیوں نہیں پتہ بھی تھا جنگ شروع ہے تو اُس پر اُن خواتین نے کہا کہ ' ہم دونوں بیمار ہیں اٹھائی نہ جاسکیں، اُونٹ، گھوڑااور گائے اگرہوتے بھی تو ہم اُن پر کہاں بیٹھ سکتی تھیں ہمارے گھروالوں کا خیال تھا ہم قریب المرگ ہیں مرنا ہی تو ہے دشمن آکے مار دے گا اور جب پوچھا گیا کہ ابھی تک زندہ کیسے ہو تو اُنہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج نے ہمارا علاج شروع کردیا ہے وہ دوائیں بھی دیتے ہیں اور کھانا بھی، جب کہ بھارت ایسا نہیں کرتا تھا وہ کنوئوں میں مٹی بھردیتا اور مسجدیں گرا دیتا اگرکوئی عمر رسیدہ شہری اس کی فوج کے ہاتھ لگ جاتا تو اسے اذیتیں دے دے کر شہید کردیتا تھا۔ جنگ ستمبر کے دور کے بھارتی آرمی چیف اور افواجِ پاکستان کے آرمی چیف (کمانڈر انچیف) جنرل موسیٰ دونوں نوجوانی کے دنوں کے ساتھی تھے، جب بھارتی آرمی چیف کا بیٹا زخمی ہوکر راولپنڈی لایاگیا تو دوستی اور وضعداری کا خیال کرتے ہوئے جنرل موسیٰ اس زخمی دشمن کو دیکھنے ہسپتال گئے تھے۔
لیفٹیننٹ جنرل محمودالحسن(ر) نے مجھے ایک مرتبہ بتایا کہ1965 کی جنگ میں وہ لیفٹیننٹ کرنل تھے ، ایک بھارتی زخمی فوجی کے ڈی سنگھ ان کے پاس لایاگیا، اُس کی ٹانگ پر گولی کا زخم تھااور بڑی رگ کٹ چکی تھی۔ خون بند ہی نہیں ہو رہا تھا  آپریشن کے دوران کم و بیش دس بوتلیں خون بھی لگایا جب آپریشن کامیاب ہوااور دو تین دن بعد وہ بہتر اور کچھ دنوں بعد بہت بہتر ہواتو اُس نے تہیہ کر لیا تھا کہ اب وہ پاکستان کے خلاف کبھی لڑے گا نہیں، اسے کہا گیا کہ یہ تمہاراارادہ نہیں بلکہ تمہارے اندر پاکستان کا خون بول رہا ہے جو دس بوتلوں کی صورت تمہیں دیا گیاہے گویا ہم نے اخلاقی  محاذ پر بھی وہ جنگ جیتی تھی۔ 
اپریل 1965میں جب رن آف کچھ کے محاذ پر بھارت کو پاکستان سے شکست کا سامنا ہوا وہ قبضہ کی گئی چوکیاں چھوڑ کے بھاگا تھا تواندازہ ہورہا تھا کہ بھارت اپنی تنگ نظری کی وجہ سے چین سے نہیں بیٹھے گا۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت نے رن آف کچھ سے نکلنے کے بعد کشمیر میں چھیڑ چھاڑ شروع کردی، خطرہ موجود تھا کہ وہ مغربی پاکستان پر بھی شب خون مارے گا، ہمارے بڑے بھائی عبدالغفار مرزامکینیکل انجنیئر تھے وہ فوج کے محکمہ EMEمیں تھے جنگِ ستمبر کے آغاز سے ہفتہ عشرہ پہلے اچانک گھر آئے وہ اُن دنوں قصور کے محاذ پر لاہور کے مضافات میں کاہنہ کا چھا کے علاقے میں تھے۔ ہم سب گھروالوں کو بھائی جان نے کہا کہ جنگ کی حالت میں جب خطرے کا سائرن بجے تو منہ میں آر پار پنسل رکھ کے کانوں میں اُنگلیاں دے کے تکئے پر منہ رکھ کر انتظار کرنا ہے جب تک کہ خطرے کے خاتمے کا سائرن نہ بجے کمرے سے باہر نہیں نکلنا، لیکن ہوا کیا کہ جب بھارت نے راولپنڈی کے محلہ صادق آباد میں شادی کے موقع پر آئے ہوئے باراتیوں پر جو باہر سوئے پڑے تھے، تین بم پھینکے جن میں سے ایک ہی پھٹا تھا، ایسے موقع پر سائرن کی آوازیں سُن کر باقی گھر والے تو بھائی جان کی SOP پر عمل پیرا ہوئے مگر میں پہلے بھاگ کر چھت پر گیا پھرگھر سے باہر بنے مورچے میں اُتر گیا۔ وہ مورچہ فوجی مورچوں کی طرح چھت والا نہیں تھا بس چار پانچ فٹ گہرا تین فٹ چوڑا اور چھ سے آٹھ فٹ لمبا ایک گڑھا تھا۔ اس میں بیٹھنا  اور باہر گھومناایک ہی بات تھی۔ بعد میں والد صاحب نے بتایا کہ مورچے میں بیٹھنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دائیں بائیں قرب و جوار میں اگربم گرے تو اس کے ٹکڑے اور پتھر جو اُڑ کر جب دائیں بائیں گرتے ہیں تو مورچوں میں بیٹھے لوگوں کو نقصان نہیں پہنچتا۔ خیر1965 کی جنگ پوری قوم کی جنگ تھی، ساری قوم جنگ میں پیش پیش تھی۔ فوج نے اگر سردھڑ کی بازی لگائی ہوئی تھی تو قوم بھی تن، من، دھن سے قربان ہونے کو فوج کی پشت پر کھڑی تھی۔ ||


مضمون نگارایک معروف صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 101مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP