متفرقات

قومی یکجہتی میں ہی بقا ہے

پاکستان میں اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں بہتر طرز حکمرانی کی بحالی کے لئے سیاسی اور فوجی تعاون کا موجودہ دَور اس لحاظ سے ایک بالکل مختلف مگر خوش آئند طرزِعمل ہے۔ پاکستان کو ایک ریاست

کے طور پر اس طرزِ عمل سے استحکام ملا ہے۔ اس کی نتیجہ خیزی اور کامیابی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ نا مساعد حالات۔ اقتصادی بد حالی کے باوجود فوج کے اندر تربیت‘ تحقیق اور تدریس کا نظام خوب سے خوب تر ہوتا رہا ہے‘ وہاں اصولوں پر سمجھوتہ نہیں ہوتا‘ میرٹ کا قتل نہیں ہوتا۔ آگے وہی جاتا ہے‘ جس کی کارکردگی بہتر ہے۔ فوج کے تعلیمی ادارے‘ علاج معالجے کے انتظامات اس کے شاہد ہیں۔ ان تعلیمی اداروں میں عام شہری بھی اپنی اولاد کو داخلہ دلوانا چاہتے ہیں۔ اسپتالوں میں علاج کی سہولتیں عام پاکستانیوں کو بھی میسّر ہیں۔ فوج کے زیرِ انتظام یونیورسٹیاں بھی سول زیر انتطام یونیورسٹیوں سے اچھا معیار دکھارہی ہیں۔

 

میرا وطن اس وقت تاریخ کے ایک بالکل مختلف دور سے گزر رہا ہے۔ 14اگست 1947ء سے اب تک پاکستان میں بہت سے سیاسی‘ انتظامی‘ عمرانی اور سماجی تجربے ہوئے ہیں‘ مگر موجودہ دور اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس میں سول اور ملٹری کے ادارے مکمل طور پر ہم آہنگ ہو کر وطن عزیز کو دہشت گردی اور کرپشن جیسے ناسوروں سے نجات دلانے کے لئے کمربستہ ہیں۔ اس تعاون کا سب سے خوشگوار اور روشن پہلو یہ ہے کہ خیبر سے گوادر تک 20کروڑ پاکستانیوں کے دلوں میں ایک تسکین کا سماں ہے۔ آنکھوں میں بشارت کی چمک ہے۔ پیشانیوں پر ایک عزم ہے۔ پہلے جتنے ادوار گزرے ہیں‘ ان میں اطمینان اور اعتماد کی یہ سطح کبھی نہیں رہی ہے۔ کسی نہ کسی پہلو سے خدشات لاحق ہوتے تھے۔ اور کہیں نہ کہیں ایک تشنگی اور ایک کمی محسوس ہوتی تھی۔ کبھی یہ فرق اعلیٰ اور ادنیٰ طبقات میں نظر آتا تھا۔ کبھی یہ تضاد مختلف زبانیں بولنے والوں میں دکھائی دیتا تھا۔ کبھی یہ تفاوت مختلف نسلوں کے درمیان نمایا ں ہوتا تھا۔

میں پاکستان کا ہم عمر ہوں۔ بلکہ کچھ سال بڑا۔ ہوش ہم نے ایک مال گاڑی کے کھلے ڈبے میں اپنی والدہ کی آغوش میں اس وقت سنبھالا تھا‘ جب ہم غلامی سے آزادی کی سمت‘ اندھیرے سے روشنی کی جانب‘ ہندوستان سے پاکستان کی طرف سفر کررہے تھے۔ بلوائیوں کی کرپانیں اگست کی دھوپ میں چمک رہی تھیں۔ گھوڑوں کی ٹاپیں گونج رہی تھیں‘ میں مورخ تو نہیں ہوں‘ نہ ہی محقق۔ مگر مجھے حالات نے صحافی بنادیا‘ جو ہر روز کی تاریخ اسی روز قلمبند کرتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ کے ادنیٰ طالب علم‘ پاکستانیت کے ایک شاہد کی حیثیت سے میں نے ایسا دور پہلے نہیں دیکھا‘ جب ایک شخصیت نے محض اپنے عمل‘ اپنی لگن‘ اپنی دُھن سے مختلف خیالات‘ الگ الگ نظریات‘ بالکل جُدا سوچوں والوں کے دلوں میں گھر کرلیا ہو۔


نگاہ برق نہیں‘ چہرہ آفتاب نہیں
وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں
مولانا رومی نے کہا تھا۔
دل بدست آور کہ حج اکبر است
از ہزاراں کعبہ یک دل بہتر است
(دل کو رام کر‘ کہ یہ حج اکبر ہے۔ ہزاروں کعبوں سے ایک دل بہتر ہے۔)
اللہ تعالیٰ کے نائب حضرت انسان کے دل کو اگر مطمئن کرلیا‘ تو اپنے اللہ کو راضی کرلیا اور جب لاکھوں انسان تسکین پارہے ہوں تو کتنے دل آپ کے ہوجاتے ہیں۔


عزت اسی کو ملتی ہے جو ماضی سے سبق سیکھتا ہے‘ حال کو سنوارتا ہے‘ مستقبل کے لئے راستہ ہموار کرتا ہے۔ موقع تو سب کو ملتا ہے‘ اختیارات تو بہت سوں کو نصیب ہوتے ہیں‘ لیکن عالمی تناظر میں اپنے خطّے کے معاملات کا ادراک کسی کسی کو میسّر آتا ہے۔ سوچ آفاقی‘ عمل مقامی‘ کامیابی کی کلید یہی ہے۔


پاکستان کا ایک عام آدمی بھی وہی گراں قدر بات کہتا ہے۔ جن کی طرف دُنیا بھر کے تھنک ٹینک اشارہ کرتے ہیں اور سیاسی فلسفی جس کی راہ دکھاتے ہیں۔ اس کے لئے کہا جاتا ہے‘ ’گڈ گورننس‘ بہتر اندازِ حکمرانی۔ اپنے ہم وطنوں کی زندگی میں آسانی پیدا کرنا‘ انہیں مشکلات سے باہر نکالنا‘ ان کے گھروں میں سکون کا سماں فراہم کرنا۔ ان کو مالی پریشانیوں سے آزاد کروانا‘ کسی حکومت کی نیک نیتی کا اندازہ تو اس امر سے ہوسکتا ہے کہ وہ عوام کے لئے اقتصادی تحفظ کس طرح یقینی بناتی ہے۔ روزگار کے نئے مواقع کس طرح اور کتنی تعداد میں کھولتی ہے‘ غربت کی لکیر سے نیچے چلے جانے والوں کو واپس خوشحالی کے دائرے میں کیسے لاتی ہے۔جمہوری نظام جس سے ہم اپنے والہانہ عشق کا شور روزانہ برپا کرتے ہیں۔ اس میں حکمران منتخب بھی اس لئے کئے جاتے ہیں کہ وہ عوام کی اکثریت کو مالی تحفظ فراہم کریں گے‘ قانون کا نفاذ یکساں کریں گے‘مذہب‘ قبیلوں‘ رنگ‘ نسل زبان کے امتیاز سے بالا تر ہوکر سب کی ایک جیسی خدمت کریں گے۔ کسی بھی مملکت میں پیدا ہونے والا ہر بچہ اس کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس کی پیدائش‘ پرورش‘ تعلیم اور روزگار اس مملکت کا بنیادی فریضہ ہے۔

 

اختیارات کی تقسیم مملکت اور شہریوں کے درمیان عمرانی معاہدہ یعنی آئین۔ انتظامی شعبے‘ عدلیہ‘ سب کچھ اس مملکت میں پیدا ہونے اور رہنے والوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ساری مہذب قومیں انسان کو اپنی قانون سازی‘ آئین میں ترامیم‘ اقتصادی پالیسیوں کا محور سمجھتی ہیں۔ قانون انسانوں کی بھلائی‘ تحفظ اور ترقی کے لئے نہ کہ انسان قانون کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھانے کے لئے۔

 

اس کے ساتھ ساتھ کسی مملکت کی کامرانی یا نا اہلی کا اندازہ اس کی درسگاہوں اور ہسپتالوں سے کیا جاسکتا ہے۔ اس ملک میں رہنے والوں کی اکثریت کے لئے تعلیم کتنی ممکن اور کتنی ارزاں ہے اور اس کا معیار دوسرے ملکوں کے برابر ہے یا نہیں۔ اسی طرح اپنے لوگوں کے علاج معالجے کے لئے انتظامات کس سطح کے ہیں‘ کتنے آسان ہیں‘ کتنے سستے ہیں‘عام شہریوں سے ٹیکس ایک مملکت بنیادی طور پر اسی لئے وصول کرتی ہے کہ اس کے بدلے میں اچھی معیاری تعلیم‘ اور اچھے معیاری علاج معالجے کا اہتمام کرسکے۔


اختیارات کی تقسیم مملکت اور شہریوں کے درمیان عمرانی معاہدہ یعنی آئین۔ انتظامی شعبے‘ عدلیہ‘ سب کچھ اس مملکت میں پیدا ہونے اور رہنے والوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ساری مہذب قومیں انسان کو اپنی قانون سازی‘ آئین میں ترامیم‘ اقتصادی پالیسیوں کا محور سمجھتی ہیں۔ قانون انسانوں کی بھلائی‘ تحفظ اور ترقی کے لئے نہ کہ انسان قانون کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھانے کے لئے۔
میں جس نئے دور کی بات کررہا ہوں‘ اسے سیاسی اور فوجی قیادت کی مشترکہ حکمت عملی اور عملیت کا نظام کہا جاسکتا ہے۔ تاریخ کے مختلف مراحل پر یا خالص سیاسی قیادتیں حکمرانی کرتی رہی ہیں یا پھر فوج کی حکومت رہی ہے۔ لیکن اس عرصے میں خاص طور پر 1988 کے بعد سے بہتر حکمرانی کے خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکے ہیں۔ نا اہلی بھی غالب رہی ہے‘ بد عنوانی کی روایات بھی پختہ ہوتی چلی گئی ہیں‘

حکمرانی یقیناًعوام کا حق ہے۔ جو وہ اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے پورا کرتے ہیں۔ 1985 سے اب تک کئی بار انتخابات ہوچکے ہیں۔ ہر انتخاب پر دھاندلی‘ بد نظمی اور بے قاعدگیوں کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

ملکی امور چلانے کے لئے انتظامیہ کو مختلف وزارتوں میں تقسیم کیا جاتا ہے‘ پھر ایک منتخب سربراہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ان محکموں کے لئے ایسے وزیر مامور کریں جو ان شعبوں کے بارے میں مکمل

مہارت نہ سہی لیکن کچھ معلومات رکھتے ہوں۔ اسی طرح وفاقی سیکرٹری اور دوسرے کلیدی عہدے‘ کارپوریشنوں کے چیئرمین وغیرہ ان شعبوں سے متعلقہ تعلیم حاصل کرنے والوں‘ ملک اور بیرونِ ملک تربیت پانے والوں کے سپرد کئے جائیں نہ کہ اپنے دوست‘ احباب‘ رشتے داروں کو سونے کی یہ کانیں عطا کردی جائیں۔ ان وزارتوں کے حلف کی عبارت ملاحظہ کرلیں۔ سرکاری ملازمین اعلیٰ یا ادنیٰ ان کا حلف دیکھ لیں۔ اس کا مقصد صرف اور صرف یہ ہوتا ہے کہ عوام کی خدمت ملک کی ترقی کے لئے اپنے فرائض کی انجام دہی اور سرکاری ڈیوٹی کی ادائیگی میں کسی ذاتی یا گروہی مفاد کو فوقیت نہیں دی جائے گی۔

 

ہر محکمے سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مسلسل تحقیق کرے گا۔ نگرانی کرے گا کہ کس علاقے میں کن لوگوں کو کن وسائل کی ضرورت ہے۔ تعلیم‘ صحت‘ ٹرانسپورٹ کے لئے کیا کیا نئے اقدامات درکار ہیں‘ قانون کی حکمرانی میں کیا کیا رکاوٹیں ہیں۔ انہیں کیسے دور کیا جائے۔ مرکز میں پلاننگ کمیشن ماضی کے تجربات کی روشنی میں حال کی تعمیر کے راستے متعین کرتا ہے۔ مستقبل کے لئے، کم از کم آئندہ تیس چالیس برس کی ضروریات’ آبادی میں اضافے کے تناسب سے طے کرتا ہے۔ اس کے لئے چھوٹے بڑے منصوبے تیار کئے جاتے ہیں۔ صوبوں میں پلاننگ ڈیپارٹمنٹ اپنی اپنی ضروریات کی نشاندہی کرتے ہیں۔
مرکزی حکومت کے اپنے محدود اختیارات ہیں۔ صوبائی حکومتوں کے اپنے۔ تیسری سطح اور بنیادی مرحلہ ضلعی حکومتوں کا ہے جہاں شہریوں کو ان کے اپنے پڑوس میں انصاف ملتا ہے۔ ان کے روز مرہ کے مسائل اسی سطح پر حل کئے جاتے ہیں ۔ ایک طرف ماضی کی خارجہ اور داخلہ پالیسیوں نے دوسری طرف مختلف حکمرانوں کی اقربا پروریوں نے سارے نظام کو کمزور کردیا تھا۔ پھر 1979سے افغان پالیسی نے ملک میں مذہبی انتہا پسندی کے رُجحانات کو تقویت پہنچائی۔ اس شدت پسندی کے پس منظر میں خراب طرز حکمرانی کا زیادہ دخل تھا۔ روزگار کی عدم فراہمی۔ تعلیم کی عدم اشاعت‘ قبائلی علاقوں کو ملک کے مرکزی اور قومی دھارے میں شامل نہ کرنا۔ ایسے تمام امور نے اور ناجائز آمدنی کے حصول نے بالخصوص حکومت کو کمزور کردیا۔ پریشر گروپ غلبہ پاگئے جن میں مذہبی شدت پسند بھی تھے‘ لسانی‘ قبائلی‘ گروہ بھی۔ اسلحہ اور منشیات کے سوداگر بھی۔ عام پاکستانی انصاف سے محروم ہورہا تھا۔


پاکستان میں اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں بہتر طرز حکمرانی کی بحالی کے لئے سیاسی اور فوجی تعاون کا موجودہ دَور اس لحاظ سے ایک بالکل مختلف مگر خوش آئند طرزِعمل ہے۔ پاکستان کو ایک ریاست کے طور پر اس طرزِ عمل سے استحکام ملا ہے۔ اس کی نتیجہ خیزی اور کامیابی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ نا مساعد حالات۔ اقتصادی بد حالی کے باوجود فوج کے اندر تربیت‘ تحقیق اور تدریس کا نظام خوب سے خوب تر ہوتا رہا ہے‘ وہاں اصولوں پر سمجھوتہ نہیں ہوتا‘ میرٹ کا قتل نہیں ہوتا۔ آگے وہی جاتا ہے‘ جس کی کارکردگی بہتر ہے۔ فوج کے تعلیمی ادارے‘ علاج معالجے کے انتظامات اس کے شاہد ہیں۔ ان تعلیمی اداروں میں عام شہری بھی اپنی اولاد کو داخلہ دلوانا چاہتے ہیں۔ اسپتالوں میں علاج کی سہولتیں عام پاکستانیوں کو بھی میسّر ہیں۔ فوج کے زیرِ انتظام یونیورسٹیاں بھی سول زیر انتطام یونیورسٹیوں سے اچھا معیار دکھارہی ہیں۔
فوجی قیادت عام پاکستانیوں کی مشکلات دیکھتے ہوئے سول حکومت کی اعانت کے لئے آگے آئی ہے۔ پارلیمنٹ نے اس کے لئے باقاعدہ قانون سازی کی ہے۔ آئین میں ترامیم کی ہیں۔ ہمیشہ کے لئے نہیں۔ دو سال کے عرصے کے لئے۔ اس نظامِ حکمرانی کے اچھے نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ ضربِ عضب سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ ہورہاہے۔ کراچی آپریشن سے ملک کے سب سے بڑے تجارتی اور صنعتی مرکز میں سکون اور امن قائم ہورہا ہے۔ نیب اور ایف آئی اے بھی اب پہلے سے زیادہ سرگرم ہے۔ بد عنوانوں کے گرد گھیرا تنگ ہورہا ہے۔ حکمران طبقے میں اب تک اپنے غیر ذمہ دارانہ رویوں کا احساس پیدا ہورہا ہے‘ ایک دباؤ ہے‘ یہ خیال ہے کہ کوئی دیکھ رہا ہے۔ عوام چاہتے ہیں کہ میرٹ کی قدر کی جائے۔ لوگوں کو ان کے گھروں پر انصاف فراہم کیا جائے۔ صبح کے بھولے ہوؤں کو شام کے وقت گھر لانے کا اہتمام ہورہا ہے۔


سب سے خوش کن بات یہ ہے کہ اس صورت حال اور تعاون کو پورا پاکستان پسند کررہا ہے اور ان کی دُعا ہے کہ پاکستان میں قانون کا یکساں نفاذ ہو۔ خود کش بم دھماکے ختم ہوں۔ دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ ہوجائے۔ ایک دوسرے کو کافر قرار دینے کا سلسلہ ختم ہو۔ سارے شہروں میں امن ہو۔ سارے گھر خاندانوں کے لئے محفوظ قلعے بن جائیں۔ مہذب قوموں کی طرح پاکستان میں بھی آئین کی تشکیل‘ قانون سازی‘ منصوبوں‘ میگا پروجیکٹس صرف انسان کے لئے نہیں‘ حکمراں طبقوں اور مفاد پرستوں کے لئے نہیں‘ یہ تجربہ یقیناًکامیاب رہے گا اور پاکستان ایک مضبوط‘ مستحکم ترقی پسند جمہوری ملک بن کر اپنے ہمسایوں اور دوسرے ملکوں سے برابری کی سطح پر بات کرسکے گا۔


اللہ تعالیٰ ہماری حالت بدل رہا ہے۔ کیونکہ ہمیں اپنے آپ کو بدلنے کا خیال آگیا ہے۔
مضمون نگار نامورصحافی‘ تجزیہ نگار‘ شاعر‘ ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 74مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP