قومی و بین الاقوامی ایشوز

قضا سے پنجہ کش ہوا باز

میجر ہمایوں غازی، میجر محمد ذیشان غازی،فلائٹ انجینئرحوالدار ازرم شہید، چیف کرو حوالدار نعیم محی الدین شہیداورنائیک ندیم خان شہید کی سنسنی خیز داستان

فضا میںآگ کا گولہ ،شعلوں میں لپٹا ہوا ’ نائٹ سٹاکر‘ ایم ۔آئی سترہ نواپاس (با جوڑایجنسی)سے خارکی طرف غیر معمولی رفتار سے شہاب ثاقب کی طرح بڑھ رہا تھا۔ غلاف مہیا کرنے والے بیل۴۱۲ (Bell-412) اور کوبرا ہیلی کاپٹر کے پائلٹ حیران تھے کہ ایم آئی-۱۷MI-17) ( نے خلاف معمول بغیر بتائے یکدم ٹیک آف کر لیا تھا۔ بیل-۴۱۲ کے پائلٹ میجر فیصل پراچہ نائٹ سٹاکر ’تھری ‘کو بار بار پکار رہے تھے لیکن جواب نہیں آرہا تھا۔کوبرا کے پائلٹ میجر معظم بھی کوشش کر چکے تھے مگر ایم آئی-۱۷ کے کیپٹن آف دی ائیر کرافٹ میجر محمد ہمایوں جہانزیب کی آواز انھیں سنائی نہیں دے رہی تھی۔ ان کے ریڈیو میں شایدپہلے ہی کوئی فنی خرابی آچکی تھی۔ دونوں پائلٹ ایم آئی۔۱۷ کو بتانا چاہتے تھے کہ ان کے ہیلی کاپٹر کی رفتار انتہائی تیز تھی۔ یہ پرواز اس رسد کا حصہ تھی جس کا آغاز 24اکتوبر2009 کی صبح اس وقت ہوا جب پاک افغان سرحد(ڈیورنڈ لائن) پر نوا پاس کے مقام پر تعینات ایف سی کے جوانوں کے لئے سامان رسد اور ایمونیشن کی سخت کمی کا سامنا تھا اور کئی روز سے خرابیِ موسم کی وجہ سے رسد کی کوئی پرواز آگے نہیں بھیجی جا سکی تھی۔ دہشت گردوں کی مسلسل ہٹ دھرمی اور یکے بعد دیگرے بلااشتعال کارروائیوں نے حکومت کو مجبور کر دیا تھا کہ آپریشن کی راہ اختیار کی جائے۔ چنانچہ جوابی کارروئی میں پاک فوج کاآپریشن راہ نجات جا ری تھا۔ باجوڑ ایجنسی میں پاک افغان سرحد کے قریب بڑی سطح پر آپریشنز کی ذمہ داری پشاور کور کی تھی۔ پشاور کور نے مختلف مقامات پر ہنگامی طور پر اپنی سپاہ کے لئے سامان حرب و ضرب اوراشیائے خوردنوش کے لئے پاکستان ایوی ایشن کی خدمات حاصل کررکھی تھیں۔ باجوڑ سکاؤٹس کے قلعہ خار سے سامان رسد ہیلی کاپٹر پر لاد کر عین پاک افغان سرحد پر نواپاس کے مقام پر ذخیرہ کرنا تھا۔ گرچہ ارباب اختیار کو اس مقام کی حساسیت کا ادراک تھا لیکن خطرات کی پرواہ نہ کرنا اور اپنے وطن کی حفاظت کے لئے سر پر کفن باندھ کر آتش نمرود میں کود جانا ہی پاک فوج کا طرۂ امتیاز ہے۔ چنانچہ یہ ذمہ داری پاکستان آرمی ایوی ایشن کے مایہ ناز سکارڈن’ نائٹ سٹاکرز‘ کے حصے میں آئی تھی۔ نائٹ سٹاکر زکے ایم آئی سترہ پر کیپٹن آف دی ائیر کرافٹ کے فرائض ہواباز میجر ہمایوں جہانزیب انجام دے رہے تھے جبکہ معاون ہوا باز کے طور پرنوجوان ہوابازکیپٹن ذیشان ان کے دست راست تھے ۔ صبح سے اب تک رسد کی تین اڑانیں حساس اور خطرناک علاقے میں پہنچائی جا چکی تھیں اور چوتھی اڑان لینڈ کر کے سامان رسد اتارا جا رہا تھا کہ دہشت گردوں نے راکٹ داغنے شروع کر دیئے تھے۔ پہلا راکٹ دائیں انجن کو لگنے کے بعد اب یہ ہیلی 180 ڈگری کا موڑ کاٹتے ہوئے واپس خار قلعے کی طرف محو پرواز تھا۔ٹیک آف کے تین منٹ بعد ہیلی کے پچھلے حصے میں دھواں بھرنے لگا تھا اور تقریباً مزید تیس سیکنڈ بعد انجن سے شعلے اُٹھنے لگے تھے۔ادھر کیبن کا انٹرکام بھی فیل ہو چکا تھا، کیپٹن ذیشان چیخ چیخ کر اپنے کیپٹن آف دی ائیرکرافٹ کو رفتار کم کرنے اور سطح زمین سے بلندی کم کرنے کے لئے کہہ رہے تھے ۔ فلائٹ انجینئرحوالدار ازرم نے انھیں پچھلے حصے میں لگی آگ میں ہوتے ہوئے مسلسل اضافے سے بھی آگاہ کر دیا تھا۔کیپٹن آف دی ائیرکرافٹ میجر ہمایوں اور معاون ہوا باز کیپٹن ذیشان نے تمام انسٹرومنٹ، وارننگ کاشن لائٹس اور کنٹرول ٹھیک پا کر ٹیک آف کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ ایک بہت ہی نازک اور مشکل فیصلہ تھا جو میجر ہمایوں نے بغیر کوئی وقت ضائع کئے لیا تھا۔ اگر وہ صرف چند سیکنڈ مزید غوروخوض میں صرف کرتے یا جہاز کو چھوڑ کر مناسب فاصلے تک اپنے عملے کو لے جانا چاہتے تو دوسرا راکٹ ہر گز انہیں اس کی مہلت نہ دیتا کیونکہ پہلی دفعہ انجن کو چھوتے ہوئے گزرنے والے راکٹ کے بعد اب دوسرا راکٹ شست میں چند درجوں کی تصحیح کے ساتھ چند ہی سیکنڈز میں ہیلی کاپٹرکے درمیان لگنا تھا اور باقی عملے کے ساتھ ساتھ دونوں ہوا باز وں کے بھی پرخچے اڑ جانے تھے۔ دراصل میجر محمد ہمایوں کے لئے یہ صورت حال کوئی نئی نہ تھی، وہ پہلے بھی متعدد بار قضا سے پنجہ کش رہ چکے تھے اور عین موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اعصاب کو قابو میں رکھنا اور درست فیصلہ کرنا ان کی فطرت ثانیہ بن چکی تھی۔ جب2006 میں وانا کے قریب تیارزہ میں رسد بہم پہنچانے کے مشن کے دوران ان کے ہیلی سے صرف 20 میٹر کی دوری پردو راکٹ پھٹے جن کا ہدف ان کا ہیلی تھا‘ توبھی میجر ہمایوں نے پورے اطمینان سے ٹیک آف کیا تھا اور اگلے ہی لمحے تیسرے راکٹ فائیر کی آواز انھیں عقب میں سنائی دی تھی۔تب میجر ہمایوں کا جہاز خیریت سے وانا میں لینڈ ہوا تھا ۔وانا میں ابھی شکرانے کے نوافل ادا ہی کئے تھے کہ تیارزہ سے ہی دوبارہ ایس او ایس پیغام موصول ہوا کہ دو آفیسرز اور 6-7 سولجرز کی حالت تشویشناک ہے اورجلد از جلد سی ایم ایچ پہنچانے کی ضرورت ہے،اس صورت حال میں یہ سربکف ہوا باز پھر ہیلی کاپٹرلے کر تیارزہ پہنچااور زخمیوں کو اٹھا کر فیلڈ ہسپتال وانا پہنچایا۔ یہاں ڈاکٹروں کی ایک گھنٹے کی سرتوڑ کوشش کے باوجود تین سولجرز شہید ہو گئے اور پھر باقی زخمیوں کو راولپنڈی سی ایم ایچ پہنچانے کا مشن بھی میجر ہمایوں نے پورا کیا تھا۔2006میں چمالئی اور جنڈولہ کے درمیان سے15 شہداء کے جسد خاکی اٹھا کر سی ایم ایچ کھاریاں لانے کا فریضہ بھی اسی ہوا باز نے ادا کیا تھا۔ ایک دفعہ پش زیارت میں جب آپریشن جوبن پر تھا اور خطروں کا یہ کھلاڑی کمانڈوز کو ڈراپ کر رہا تھا تو اچانک 12.7 ملی میٹر اینٹی ائیر کرافٹ گن کا فائیرہیلی پر آنے لگا، با لا کمان سے حکم ملا کہ رزمک کی طرف مڑ جاؤ اور اگلے حکم کا انتظار کرو، اتنے میں رزمک کی شمالی جانب سے بھی 12.7 ملی میٹر اینٹی ائیر کرافٹ گن کا بھاری فائیر آنے لگا، اب حکم ملا کہ دوبارہ ہدف کی طرف جاؤ اور مشن مکمل کرو۔ دوبارہ پلٹ کرلینڈنگ کرنے کے لئے پرواز نیچی کی تو زمین سے صرف دس گزکی بلندی پر اطلاع ملی کہ نیچے دشمن تاک میں ہے اور نشانہ بنائے گا‘ لہٰذا لینڈ نہ کیا جائے۔ یہ مشورہ پہلے سے ہدف پر موجود کمانڈوز نے دیا تھا جو کچھ دیر پہلے اسی ہیلی کاپٹر کی مدد سے ہی اتارے گئے تھے۔ میجر ہمایوں نے یہیں سے جہاز کو سنبھالا اور واپس پلٹے، دوسرے ہی لمحے عقب میں ایک خوفناک دھماکہ سنائی دیا۔ یہ راکٹ بھی یقیناًہیلی کاپٹر کو نشانہ بنانے کے لئے فائیر کیا گیا تھا جو میجر ہمایوں کے بر وقت پلٹنے سے ہیلی کاپٹر کو نہ چھو سکا۔ اس طرح صرف تین گھنٹوں میں میجر ہمایوں اب تیسری بار موت کو مات دے کر بحفاظت واپس میران شاہ میں لینڈ کر رہے تھے۔ 2008 میں ایک بار اقوام متحدہ کے امن مشن کے تحت سوڈان میں شدید موسم نے اس ہوا باز کی صلاحیتوں کاامتحان لینا چاہا تو اس وقت ان کی پرواز کے 500 گھنٹوں کا تجربہ بھی ان کی قوت اعتمادی میں شامل تھا۔ انتہا ئی اعصاب شکن اور مایوس کن صورت حال پر قابو پا کر اپنے ہیلی کاپٹر کو بحفاظت موسم کے خونی پنجوں سے نکالا اور لینڈ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اقوام متحدہ میں مزید 200 گھنٹوں کی پرواز کا تجربہ اپنے پلے باندھا اور اب پھر سے کبھی لواری ٹنل تو کبھی میران شاہ اور کبھی بلوچستان تو کبھی سوات ، باجوڑ اور بونیرمیں قضا اور میجر محمد ہمایوں باہم پنجہ کش تھے۔آج پھرموت سے آنکھ مچولی کھیلنے والے یہ ہوا باز موت سے ہی نبرد آزما تھے ۔نیچے سنگلاخ پہاڑوں کی تیز دھار چوٹیاں اورفضا میں ہر لمحہ گھیرا تنگ کرتے ہوئے آگ کے شعلے ۔ تقریباً آدھا ہیلی کاپٹر منٹوں میں جل کر کوئلہ ہو چکا تھا۔ میجر ہمایوں کے پاس اب کوئی چارہ نہ تھا۔ نواپاس سے خار قلعے کا فاصلہ ساڑھے18نا ٹیکل میل تھا اور میجر ہمایوں اپنے ہیلی کاپٹر کو دہشت گردوں کے نرغے سے زیادہ سے زیادہ دور لے جانا چاہتے تھے اب تک یہ ہیلی کاپٹر نواپاس سے تقریباً16 ناٹیکل میل کا ہوائی سفر خار کی طرف طے کر چکا تھا۔ ہوا بازوں کو اب ہنگامی لینڈنگ کے لئے زمین کے ہموار ٹکڑے کی تلاش تھی ویسے بھی کیپٹن ذیشان کی بھر پور تلاش کے باوجود ابھی تک لینڈنگ کی کوئی جگہ مل نہیں پائی تھی ۔فلائٹ انجنیئرحوالدار ازرم ان کے کیبن میں موجود تھے اور مسلسل تکنیکی اعانت مہیا کر رہے تھے۔ وہ متعدد حربی مشقوں کے علاوہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن المیزان، آپریشن راہ راست اور آپریشن راہ نجات میں بھی حصہ لے چکے تھے ۔ کیپٹن ذیشان زور زور سے چیخے:’’سر وہ سامنے ہنگامی لینڈنگ کی جگہ نظر آ رہی ہے، سر رفتار کم کریں، پرواز نیچی کریں‘‘۔ اس گھڑی میں کیپٹن آف دی ائیر کرافٹ میجر محمد ہمایوں نے اپنے حواس پر مکمل قابو رکھا اور اپنے بھرپور حربی تجربے، کمال ذہانت اور مضبوط اعصاب کو استعمال کرتے ہو ئے اور انتہائی تیز رفتاری سے غوطہ مارتے ہوئے لینڈنگ کے لئے بڑھے۔ جب زمین صرف ایک سو میٹر کے لگ بھگ رہ گئی تو اچانک جہاز کا خود کار ہائیڈرالک سسٹم فیل ہو گیا، میجر ہمایوں نے معاون ہوابازکیپٹن ذیشان کو پکارا کہ فوراً کنٹرول پر آجاؤ، اس طرح دونوں ہوا باز اب میکانکی کنٹرول سے جہاز کو لینڈ کرا رہے تھے۔زمین سے ابھی دس میٹر کی بلندی پر ہونگے کہ یکدم جہاز کاٹیل روٹر بھی فیل ہو گیا۔ اس لمحے بھی اس فولادی اعصاب کے مالک ہواباز نے آخری فیصلہ لیا اور جہاز کو سوئچ آف کر دیا، یہ شاید ہیلی کاپٹر کے پھٹنے میں چند مزید منٹ حاصل کرنے کی تکنیک تھی۔ جہاز نے زمین کو چھوتے ہی پوری قوت سے 360 درجے کا چکر کاٹااوراسی رخ پر رُکا جس پر ہنگامی لینڈنگ کرائی جا رہی تھی۔یہ منظر کچھ فاصلے پر موجود پاک فوج کی چیک پوسٹ کا عملہ بھی دیکھ رہا تھا اور ایک آفیسرنے جہاں زورزور سے اپنی موبائل گشت کو حادثے کے مقام پر پہنچنے کا حکم دیا‘ وہیں یہ منظر اپنے موبائل میں ایک وڈیو کی شکل میں محفوظ بھی کر لیا ۔ فضا میں پہلے سے موجود بیل-۴۱۲ اپنی مجوزہ رفتار سے تیز پرواز کرتے ہوئے جلد ہی حادثے کے مقام پر پہنچ گیا تھا۔ یہ پاک افغان سرحد کے قریب باجوڑ ایجنسی میں نواگئی کے پاس سرکاری قلعہ کا مقام تھا۔ جبری لینڈنگ کرنے والے کیپٹن آف دی ائیر کرافٹ میجر ہمایوں زخمی ہونے کے باوجود پوری طرح ہوش میں تھے اور لینڈنگ کے ساتھ ہی چھلانگ مار کر ہیلی کاپٹر سے الگ ہونے میں کامیاب ہو چکے تھے۔ ان کی ٹھوڑی کے نیچے کٹ تھا جبکہ ٹخنے اور رانوں پر ورم آیا تھا۔ جبکہ معاون ہواباز کیپٹن ذیشان نیم بیہوش تھے ۔جہاز کے خوفناک جھٹکے اور360 درجے کے چکر میں انھیں کمر،کہنی اور پاؤں میں شدید چوٹیں آئی تھیں او ر ان کا پستول نشست کے ساتھ بری طرح الجھا ہوا تھا۔دہشت گرد بھی اس ہیلی کاپٹر پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ ہنگامی لینڈنگ کے ساتھ ہی قریبی گاؤں سے مارٹر کے گولے برسنے لگے تھے۔ بیل ۴۱۲ کے معاون پائلٹ میجر وقا ر تیزی سے آگے بڑھے اور کیپٹن ذیشان کو ایم آئی۔ ۱۷ کی نشست سے آزاد کرا کے بیل۴۱۲ تک پہنچایا ۔اب میجر ہمایوں نے حوالدارازرم کے بارے میں سوچا جو لینڈنگ کرتے ہوئے تو ساتھ ہی تھے اور قبل از لینڈنگ چیک بھی دہرا رہے تھے، لیکن جونہی لینڈ کرچکے تو غائب تھے، انہوں نے میجر وقار سے درخواست کی کہ ایک بار پھر ہیلی کاپٹر کے پائلٹ کیبن کو چیک کریں،حالانکہ میجر وقار نے پہلے بھی چیک کیا تھا اور انھیں کیبن میں کیپٹن ذیشان کے علاوہ کوئی اور نظر نہ آیا تھا۔لیکن کیپٹن آف دی ائیر کرافٹ کے یقین اور خواہش کے احترام میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر پھر پلٹے۔ میجر وقارابھی ایم آئی۔۱۷ کی جانب بڑھے تھے کہ جہاز ایک زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔ کیپٹن ذیشان ابھی تک بیہوشی کی حالت میں تھے، انھیں نیم بیہوشی میں جہاز سے نکال کر باہر لے جاتے ہوئے اتنا یادتھا جیسے کوئی غیبی ہاتھ انہیں کھینچ کر ہیلی کاپٹر سے نکال رہے تھے اور اسی عالم میں وہ مکمل بیہوش ہو گئے۔ بس ایک دھماکے کی موہوم سی آواز لا شعور میں گو نجی تھی۔دوسرے ہی لمحے ایم آئی سترہ ایک خوفناک دھماکے سے پھٹ چکا تھا۔ بیہوشی کی حالت میں کیپٹن ذیشان کے تخیل میں موت اور زندگی سے نبرد آزمائی کی فلمیں یکے بعد دیگرے چلنے لگیں۔اگست2006 کا منظر ان کے سامنے تھا جب بلوچستان میں ان کے ایم آئی سترہ پر کتنی ہی گولیاں لگی تھیں لیکن ماں کی دعا ان کے ساتھ تھی کیونکہ ان کا معمول تھا کہ کسی بھی آپریشن پر جاتے ہوئے فون پر ماں سے دعا کی درخواست ضرور کرتے تھے۔ تب آپریشن کی کامیاب تکمیل پر ان کے کیپٹن آف دی ائیرکرافٹ کو تمغہء بسالت سے نوازا گیا تھا۔منظر بدلا اور اپریل2009کی فلم ان کی آنکھوں کے سامنے چلنے لگی۔ سکواڈرن کمانڈراپنے سکواڈرن کے آفیسرز اور سولجرز سے مخاطب تھے،’’بونیر میں دہشت گردوں کی ایک بڑی تعداد نے ہمیں للکارا ہے۔ وہاں آپریشن میں نقصان کا اندیشہ کافی زیادہ ہے، شاید ہم میں سے آدھے سے زائد لوگ واپس نہ آسکیں‘‘۔ کیپٹن ذیشان نے تب بھی آگے بڑھ کر سب سے پہلی جنگی پرواز کے لئے خود کو رضا کارانہ طور پر پیش کر دیا تھا۔یہ آپریشن کامیابی سے ہمکنار ہوا ہی تھا کہ سوات کا امن معاہدہ ٹوٹ گیا اور اب ایک انتہائی مشکل اور خونخوار آپریشن متوقع تھا۔اس آپریشن میں پاکستان آرمی ایوی ایشن نے دنیا میں بلند ترین مقام پر لینڈنگ کر کے دہشت گردوں کا سامنا کرنا تھا۔آپریشن کی کامیابی کا انحصار ایوی ایشن کی بلاکنگ پوزیشن پر تھا۔ اس آپریشن میں بڑا جانی نقصان ہونا آشکار تھا۔ کیپٹن ذیشان اس موقعے پر بھی سب سے پہلی لینڈنگ کرنے والے تین ہیلی کاپٹرز (ایم آئی سترہ )میں سے ایک کے عملے کا حصہ بنے۔اس آپریشن کے تیسرے ہی دن پاکستان فوج کے چیف آف جنرل سٹاف نے آرمی ایوی ایشن بیس ’غازی‘ میں جا کر فرط جذبات میں کہا تھا،’’میرا جی چاہتا ہے کہ میں اس آپریشن میں حصہ لینے والے ایوی ایشن عملے کو سلیوٹ پیش کروں‘‘۔ اب ان کی آنکھیں جو مشاہدہ کر رہی تھیں وہ بڑا بھیانک تھا، 3جولائی2009اورکزئی ایجنسی میں دہشت گردوں سے نبرد آزما ایم آئی سترہ کریش ہوا اور تمام عملہ ہوا باز سمیت شہید ہو گیا تھا،ایسے موقع پر ایوی ایشن کی سنہری روایات کے مطابق اگلا مشن ہمیشہ سکواڈرن کمانڈرذاتی طور پرلے کر جاتے ہیں۔اگلا درپیش مشن سوات کا تھا،جس میں خطرات سے بھر پور علاقے میں سامان رسد ذخیرہ کرنا تھا۔ ذیشان نے ایک بار پھر خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کرتے ہوئے یہ مشن بھی لے لیا تھا۔ ذیشان کے تخیل کا منظر پھر بدلا۔24اکتوبر2009 کو جب اس ہیلی کاپٹر نے سامان کی3پروازیں نوا پاس تک پہنچا دیں تونماز ظہر کا چھوٹا سا وقفہ کر کے پھر سے عازم پرواز ہوئے۔اس ہیلی کاپٹر کے عملے میں شامل سبھی لوگ اس حقیقت سے واقف تھے کہ وہ کسی’ سٹیلتھ ہیلی کاپٹر ‘ پر سوار نہیں تھے بلکہ ایم آئی ستر ہ جیسے بڑے حجم اور آواز والے کارگو ہیلی کاپٹر کی صورت میں ایک بڑاہدف لئے بار بار دہشت گردوں کے سامنے سینہ سپر تھے۔ایسی صورت میں مسلسل کسی ایک ہی مخصوص علاقے میں چوتھی اڑان لے جانے کا مطلب بلا شبہ جان ہتھیلی پر رکھ کر ہی اپنے بالا حکام کی منصوبہ بندی کو عملی جامہ پہنانا تھا۔ کیپٹن آف دی ائیر کرافٹ میجر ہمایوں کے ساتھ آج پھر کیپٹن ذیشان کو بطور معاون ہوابازاس لئے لگایا گیا تھا کہ وہ اس نوعیت کے کئی آپریشنز کا تجر بہ رکھتے تھے اور آپریشنز اورخطرات میں ہوابازی کے حوالے سے ذیشان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہ تھا۔ پھر انھیں آخری منظر دکھائی دیا جب وہ ہائیڈرالک فیل ہو جانے کے بعداپنے ساتھی ہواباز کے ساتھ جہاز لینڈ کر رہے تھے اوریکایک جہاز گھوما تھا جس میں انھیں شدید چوٹیں لگی تھیں اور پھر کوئی انھیں بیہوشی کی حالت میں ہیلی کاپٹر سے نکال کر لے گیا تھا۔ اب انہیں ہوش آنے لگا تھا،ان کی زبان پر ایک ہی جملہ تھا،’’ میرے ہیلی کاپٹرکا عملہ کہاں ہے؟‘‘،’’ میرے ہیلی کاپٹرکا عملہ کہاں ہے؟‘‘ ان کے لا شعور میں محفوظ ہیلی کاپٹر پھٹنے کا دھماکہ انھیں یہ باور کرا رہا تھا کہ لونہ سیداں، تحصیل کہوٹہ کے رہنے والے فلائٹ انجینئر حوالدار ازرم شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہو چکے تھے،اس ہیلی کاپٹر کے عملے کے مزید دو ارکان بھی شایدچند لمحے پہلے جام شہادت نوش کر چکے تھے، یا پھر جہاز کے آخری360 درجے والے جھٹکے میں دور جاگرے تھے۔ ان میں لانڈھی، کراچی کے رہنے والے چیف کرو حوالدار ندیم محی الدین ایک منجھے ہوئے کوچیف تھے اور کیبن میں لگی ہوئی آگ کے شعلوں میں بھی اپنے حواس بحال رکھتے ہوئے پائلٹ کو ممکنہ لینڈنگ سائٹ کی تلاش میں بھر پور اعانت فراہم کر رہے تھے ۔حوالدار ندیم نے بھی آپریشن المیزان اور آپریشن راہ نجات میں کئی کامیاب مشن کئے تھے۔ عملے کے تیسرے رکن جو شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے وہ بابو محلہ تحصیل وضلع مردان کے نوجوان نائیک ندیم خان تھے جو اس جہاز پر سکینر کے فرائض انجام دیتے ہوئے شہید ہوئے۔جب ان کا کیبن شعلوں میں گھرا ہوا تھا اور ریڈیو رابطہ بھی خراب ہو چکا تھا تو نائیک ندیم خان پوری مہارت سے پائلٹ کے ساتھ ہر ممکن طریقے سے ممکنہ لینڈنگ سائٹ کے بارے میں رابطہ رکھے ہوئے تھے۔جہاز کے پھٹنے کے بعد ان کا جسد خاکی بھی ملبے سے کچھ فاصلے پر ملا تھا۔قضا نے شہادت کا جام ان تینوں جا نباز وں کے لئے مخصوص کر رکھا تھا، جبکہ میجر ہمایوں جہانزیب اور میجر محمد ذیشان آج بھی بطور غازی پاکستا ن آرمی ایوی ایشن کے لئے فخر اور قیمتی سرمایہ ہیں۔

یہ تحریر 59مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP