متفرقات

قصہ ایک بلوچ فراری سے ملاقات کا

قدرتی اور معدنی وسائل سے مالامال صوبہ بلوچستان بہت سارے مسائل میں جکڑا ہوا ہے۔ یہاں کے مسائل کا ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو علاقے میں ترقیاتی کاموں میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ یہاں کے سرداروں اور نوابوں کی 95فیصد لڑائیاں اپنے سوتیلے بھائیوں اور چچازاد بھائیوں کے ساتھ ہیں۔ ایک دوسرے کے وسائل پر قبضہ کرنے کے جھگڑے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک بھائی حکومت میں ہوتا ہے تو دوسرا باغی بن جاتا ہے۔ باغی ہونے کی دو صورتیں ہیں۔ اگر وسائل کافی ہوں یا کوئی پاکستان دشمن سرپرستی قبول کرے تو پھر بیرون ملک بیٹھ کر پاکستان میں حالات خراب کرنے اور کرانے کے مختلف حربے استعمال کئے جاتے ہیں اور اگر وسائل کی کمی ہو تو پھر صوبے کے اندر ہی پہاڑوں میں مفرور ہو کر مختلف تخریبی اور دہشت گردی کی وارداتوں کی سرپرستی کرکے بہت بھیانک وارداتیں کرائی جاتی ہیں۔ بلوچستان میں جب بھی امن وامان کی بات ہوتی ہے تو سب سے پہلے یہ بات کہی جاتی ہے کہ پہاڑوں پر گئے ہوئے لوگوں کو نیچے لاناہوگا۔ان کے ساتھ مذاکرات کرکے ان کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ میں نے بلوچستان میں اپنے قیام کے دوران مختلف سرداروں ، نوابوں اور ان کے بچوں سے ملاقاتیں کیں اور اس نتیجے پر پہنچا کہ بلوچستان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کے اپنے ہی چند سرکردہ لوگ ہیں۔یہ کیوں قتل کراتے اور کرتے ہیں۔ ان پر تو پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ لیکن میں ایک بہت دلچسپ آدمی کی ملاقات کا ذکر کرنا چاہتاہوں ۔


تین دن پہلے مجھے بلوچستان کے ایک سینئر افسر کا فون آیاکہ آپ جلدی آئیں۔آپ کی ایک بہت دلچسپ آدمی سے ملاقات کراتے ہیں۔وہاں پہنچ کر دیکھا ایک 60 سالہ شخص اپنی ڈاڑھی اور بالوں کو تازہ سیاہ کالے رنگ کا خضاب لگا کے بیٹھا ہوا ہے ۔ وہ شکل و صورت سے بالکل 60 سال کا نہیں لگ رہا تھا۔ جوان لگ رہا تھا۔ اس کا قد پانچ فٹ پانچ سے زیادہ نہیں ہوگا۔ مجھے اس سے بات چیت کے لئے ایک ترجمان بھی مہیا کیا گیا۔لیکن جب ہمیں بات چیت کے لئے دوسرے کمرے میں بھیجا گیا۔تو مجھے اس شخص کی چال ڈھال ایک پہاڑی بکرے کی طرح لگی۔ جو پاؤں کو کافی اوپر اٹھا کر آگے قدم اُٹھاتا تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ اس کو ہموار زمین پر چلنے کا طریقہ نہیں آتا یہ صرف پہاڑوں پر چڑھنے اور چلنے کا فن جانتاہے۔

مجاہد ارضِ پاک کے

 

خاکی کفن لہو سے تر
جوان لاشہ خاک پر
یہ انتہائے عاشقی!
ہے دل نثار، جان بھی
مجاہد ارضِ پاک کے
عدن کی راہ کو چلے
من چلے اور سجیلے قافلے
کیسے یہ جوان ہیں
انگشت بدندان ہے
عدو کے بل نکال کر
امن کی رِیت ڈال کر
مجاہد ارضِ پاک کے
عدن کی راہ کو چلے
من چلے اور سجیلے قافلے
ماں کے دل کی حسرتیں
بھائیوں کی طاقتیں
بہنیں تکتی راہ کو
سن ذرا اس آہ کو
مجاہد ارضِ پاک کے
عدن کی راہ کو چلے
من چلے اور سجیلے قافلے
وقت کو گواہ بنا
اے زمیں نظر اٹھا
غبارِ راہ بن گئے
یہ جیالے ماؤں کے
مجاہد ارضِ پاک کے
عدن کی راہ کو چلے
من چلے اور سجیلے قافلے!
سمیعہ نعمت


جب سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو اس نے بتا یا کہ میرانام ولی محمد عرف حاجی قلاتی ہے۔ جب کہ میں نے حج نہیں کیا ہوا۔ اس وقت میری عمر 60 سال ہے اور میر ا تعلق خیربخش مری کے بیٹے زامران مری کی تنظیم یو بی ایل سے ہے۔ میں کوہلو، کلہان ، اور بارکھان کے علاقوں کا کمانڈر تھا۔ آج میں آپ کو سب کچھ سچ سچ بتاؤں گا۔ میں چاہتاہوں کہ میں آپ کو نام نہاد بلوچ آزادی کی سچائی اور اصل چہرے کے بارے میں سب کچھ بتاؤں جومحض ایک دھوکا اور ڈرامہ ہے۔ میں 1970 ء میں جب محض صرف 15 سال کا کم عقل نوجوان تھااس وقت تک میری داڑھی بھی نہیں آئی تھی قوم، قبیلے کے نام پر نام نہاد بلوچ آزادی کی لڑائی میں شامل ہوا ۔ 45/40 سال پہاڑوں میں در بدر ٹھوکریں کھانے اور ذلیل ورسوا ہونے کے بعد آج مجھے چنگیز مری اور میر طارق حسین بگٹی کی وجہ سے اصل حقیقت کی سمجھ آئی ہے کہ یہ لڑائی صرف اور صرف سردار اپنی ذات اور ذاتی فوائد کے لئے کروارہا ہے۔ اس بات کا ثبوت اس بات سے بھی ملتا ہے کہ ہر بیار اور زامران آپس میں لڑرہے ہیں۔ اور ہمیں کہہ رہے ہیں کہ ایک دوسرے کے بندوں کو مارو۔


میں نے 40 سال تک پہاڑوں میں رہنے اور مشکل ترین تجربوں سے گزرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں ہتھیار پھینک دوں اور پاکستان کے قومی دھارے میں شامل ہوجاؤں۔ آج میں سردار چنگیز مر ی اور میر طارق حسین بگٹی کی موجودگی میں ان کی مسلسل کاوشوں اور ملاقاتوں سے متاثر ہو کر پہاڑوں کو چھوڑ کر، نام نہاد بلوچ آزادی کی نام نہاد لڑائی سے الگ ہو کر ایک عام عزت دار پاکستانی کی طرح زندگی گزارنے کا اعلان کر رہا ہوں ۔ مجھے اس بات کا شدت سے احساس ہو گیا ہے اور اپنے تجربے کے مطابق تمام بلوچی، بچوں، جوانوں اور بوڑھوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آزادی کا نعرہ محض ایک ڈرامہ اور دھوکا ہے تاکہ علاقے میں امن نہ ہو۔ کچھ سردار لوگ پاکستان دشمن عناصرسے لاکھوں ڈالروں کے حساب سے پیسے لیتے ہیں اور اس پیسے سے دوبئی اور یورپ کے مختلف ممالک میں مزے کررہے ہیں ۔ان کے بچے بھی بیرون ملک اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں اور ہمارے بچے جاہل اور خونی درندے بن رہے ہیں۔ لوگ ہماری نسلوں کو جہالت اور غربت کی گہرائیوں سے نکالنے کی بجائے مسائل کی دلدل میں پھنساتے چلے جاتے ہیں۔ میں گزشتہ 45 سالوں سے سنتاآرہا ہوں کہ بس اگلے ہفتے آزادی مل رہی ہے، بس اگلے ہفتے بلوچستان آزاد ہو جائے گا۔ اب انقلاب چلتن کے پیچھے کھڑا ہے۔ وہ اگلا ہفتہ پچھلے 45 سال سے نہیں آیااور نہ کبھی آئے گا۔ بلوچستان پاکستان کے ساتھ رہ کر ہی آگے بڑھ سکتاہے۔ جس سے بلوچ عوام کی زندگیوں میں بہتری آئے گی۔ ہم بلوچ قوم تو مہمان نواز مشہور ہیں ۔ جب کہ ابھی کچھ روز پہلے تقریبا 30 معصوم ، بے گناہ اور غریب لوگوں کو بس سے اتار کر قتل کرکے ہماری قوم اور ملک کا منہ کالا کردیا ہے۔یہ صرف اس لئے ہو ا ہے کہ یوبی ایل کے کمانڈ ر زامران پاکستان دشمن ایجنسیوں سے پیسے لے سکیں۔ ان سچائیوں کی روشنی میں تمام بلوچ بھائیوں جونام نہاد بلوچ آزادی کی لڑائی میں اپنی اور اپنے خاندان (جس میں ان کی بیویاں ، نو جوان اور چھوٹے چھوٹے بچے شامل ہیں) کو یہ مشورہ دیتا ہوں کہ پہاڑوں سے نیچے آکر پاکستان کے وفادار شہری کی طرح پرامن اور سکون والی زندگی گزاریں ۔میں آپ کو بتا رہاہوں کہ پاکستان کی حکومت بلوچ قوم کا خاص خیال رکھتی ہے۔ بلوچوں کا سب سے بڑا رونا احساس محرومی تھا۔


موجودہ حکومت نے گوادر کاشغر کوریڈور کا آغاز کرکے صوبہ بلوچستان پر بہت احسان کیا ہے۔ بلکہ اب تو احساس محرومی کے بجائے احساس برتری ہونے لگا ہے۔ اس صورت حال کے پیش نظر پہاڑوں پررہنے والے باغیوں سے میر ی گزارش ہوگی کہ پہاڑوں سے نیچے اُتر کر گوادرکاشغر کوریڈور کے ساتھ اپنے اپنے کاروبار کا آغاز کریں ۔حاجی قلاتی نے اس ملاقات میں یہ بھی بتایا کہ میں آج زندگی میں پہلی بار کوئٹہ آیا ہوں ۔یہاں لوگ کس آسودگی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ اور ہم کتنے بدبخت ہیں کہ اتنے خوبصورت ماحول کو چھوڑ کر ہم نے اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں اور بیویوں کو جنگلوں میں رُلا دیا ہے جہاں کوئی علاج معالجہ کی سہولت نہیں ہے نہ ہی بہتر کھانا میسر ہوتا ہے۔ہمارے ساتھ ہمارے سرداروں نے بہت بڑادھوکا کیاہے۔ وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف پہاڑوں پر رہنے والوں کے ساتھ مذاکرات کرنے والی غیر متنازعہ لوگوں کی کمیٹی تشکیل دیں تو بہت جلد بہت سارے لوگ پہاڑوں سے اُتر کر قومی دھارے میں شامل ہوجائیں گے۔کیونکہ ان میں سے 90/80 فیصد لوگوں کے موجودہ حکومت کے متعلق بہت اچھے خیالات ہیں۔ حاجی قلاتی اپنی دو بیویوں اور بچوں کے ساتھ اپنے ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہونے پر بہت خوش اور مطمئن ہیں۔

 

 


مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 56مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP