متفرقات

قسطنطنیہ کی آغوش میں

میں سلطان احمد چوک استنبول میں کھڑا ہوں۔
پہلے مجھے رومیوں کے گھوڑوں کی ٹاپیں سنائی دے رہی ہیں۔
پھر بازنطینی گرد اڑاتے گزر رہے ہیں۔
اب عثمانی اپنے جاہ و جلال کے ساتھ مسجدیں تعمیر کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
پھر سلطنت عثمانیہ کے محلات سے سلطانوں کو بے دخل کیا جارہا ہے۔
اب جمہور کی سلطانی کا دور آرہا ہے۔ نقش کہن مٹائے جارہے ہیں۔
کتنے زمانے میرے ارد گرد بیت رہے ہیں۔ صدیوں نے مجھے اپنے حصار میں لے لیا ہے۔
ترک گائیڈ کتنے فخر سے ان ساری صدیوں کو اپنا کہہ رہا ہے۔ یہ سارے دور ہمارے تھے۔ یہ ہماری تاریخ ہے۔ ہمارا ماضی ہے۔ شان و شوکت ہماری ہے۔


ایک طرف مسجد سلطان احمد ہے جسے
Blue Mosque
کہا جاتا ہے۔ 400 سال پہلے کی نیلی ٹائلیں آج بھی اسی طرح چمک رہی ہیں۔
یہ پتھر کے مینار انسان کی عظمت کی داستان سناتے ہیں۔ آج سے سیکڑوں سال پہلے دور دراز ملکوں سے یہ بڑے بڑے پتھر کیسے لائے جاتے تھے۔ کرینیں تھیں نہ ٹرالر۔ نہ ریلیں۔ انسان انہیں کندھوں پر اٹھا کر لاتے تھے۔ یہ حکمران تاریخ میں زندہ رہنا چاہتے تھے۔ اس لیے یہ یادگاریں تعمیر کرتے تھے۔ اس چوک میں گھڑ دوڑ ہوتی تھی۔ آس پاس محل تھے جہاں سے بادشاہ دوڑ کا نظارہ کرتے تھے۔ سانپ مینار ہے۔ جرمن چشمہ۔ بازنطینیوں کا سماجی اور تفریحی مرکز۔
بچپن کے دن یاد آرہے ہیں۔ تاریخ اسلام کے اوراق میں جب قسطنطنیہ کی فتح کا ذکر آتا تو ہم سب کے خون کی گردش تیز ہوجاتی تھی۔ چہرے تمتمانے لگتے تھے۔ مسلمانوں نے خلفائے راشدین کے دور سے قسطنطنیہ کو فتح کرنے کی کوششیں شروع کردی تھیں۔ حضرت ابو ایوب انصاریؓ انتہائی برگزیدہ صحابی 674 عیسوی میں ایسے ہی ایک جہاد میں شہادت کے مرتبے سے سرفراز ہوئے۔ ان کا مزار اب مرجع خلائق ہے، مجھے بھی اللہ نے حاضری کا شرف بخشا ہے۔ قسطنطنیہ کو سلطان محمد نے فتح کیا۔ تاریخ اسلام میں وہ سلطان محمد فاتح کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ اس جنگ کی داستان پڑھنے والی ہے، بہت مشکل جنگ تھی۔ قسطنطنیہ کا ذکر بچپن سے پڑھتے آئے ہیں۔ اب یہی استنبول ہے۔ دل نہیں مانتا، مگر حقیقت یہی ہے۔ میں ترکی میں کیوں آیا ہوں۔


کینیڈا تو ہر سال اپنے صاحبزادوں اور ان کی اولاد سے ملنے جانا ہوتا ہے۔ اب کے میں نے اور بیگم نے طے کیا کہ راستے میں استنبول میں رکتے ہوئے چلیں۔ جہاں ہمارے بزرگوں کی قبریں ہیں۔ تنگ گلیاں عظیم اسلامی دور کی یاد دلاتی ہیں۔
پہلے خلافت عثمانیہ اور سلاطین کے حوالے سے برصغیر کے مسلمان ترکی سے محبت کرتے تھے۔ پھر مصطفےٰ کمال پاشا نے جب یورپ کے مرد بیمار ترکی کو صحت مند اور توانا کردیا تو یہ مسلمان جرنیل جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کا ہیرو بن گیا۔ نجانے کتنی ماؤں نے اپنے بچوں کے نام اس کے نام پر رکھ دئیے۔ ترکوں نے اسے ’’اتاترک‘‘ (ترکوں کا باپ) کا خطاب دیا جس طرح ہم قائد اعظم کو بابائے قوم کہتے ہیں۔

 

ترکی سے پہلے ہمارا یہ رشتہ تھا۔ اب جب ترکی میں بننے والے ڈرامے ہمارے ٹی وی چینلوں پر چل رہے ہیں، عشق ممنوع، سلطان وغیرہ وغیرہ، یہ بھی ہمیں ترکی کے قریب لے آئے ہیں۔ اگر کوئی سیکھنا چاہے ۔ ترکی میں سیکھنے کو بہت کچھ ہے۔
استنبول کے افق کو مسجدوں کے مینار ایک عجب تقدس اور شکوہ عطا کرتے ہیں، یہاں کلیسا بھی ہیں، سنی گاگ بھی۔
ہر مسجد کی اپنی کہانی ہے۔ کہیں چار مینار ہیں۔ کہیں تین۔ کہیں ایک۔ کہیں دو۔ ہر ایک کا کچھ نہ کچھ پس منظر ہے۔ ضروری نہیں کہ وہی ہو جو ہمارے ٹورسٹ گائیڈ بتارہے ہیں۔ غیر مسلم سیاح تو ان کی ہر بات دلچسپی سے سنتے ہیں۔ دنیا بھر میں یہ امر مسلّم ہے کہ ٹورسٹ گائیڈ مبالغہ آرائی کرتے ہیں ۔
؂ بڑھا بھی دیتے ہیں کچھ زیب داستاں کے لئے

سلطنت عثمانیہ ایک خاندان کی طویل ترین حکمرانی کا سلسلہ ہے جو 1300 عیسوی سے لے کر 1922 تک جاری رہتا ہے۔ یہ سلطان حکمرانوں اور بادشاہوں والے سب شوق رکھتے تھے۔ بڑے بڑے محلات، قلعے تعمیر کرانے، مساجد بنانے، مگر شفا خانے، یونیورسٹیاں، تربیت گاہیں، تحقیقی اداروں کی روایات نہیں ملتی ہیں۔ اس پر تحقیق ہونی چاہئے کہ ایسا کیوں ہے۔ تاریخ میں ذکر صرف محلات، مساجد اور مقبروں کا ہی آتا ہو۔ ترک سلطانوں کا ایک اور شوق قابل ذکر ہے۔ وہ پینے کے پانی کے مراکز بہت خوبصورت قائم کرتے تھے۔
استنبول میں تاریخ کے آثار 27قبل از مسیح سے سانس لے رہے ہیں۔ رومی 27قبل از مسیح سے پانچویں صدی عیسویں تک، بازنطینی 330عیسوی سے 1300 تک، عثمانی 1300 سے 1922تک استنبول سب کو اپنی آغوش میں لیتا آرہا ہے۔ 1923 سے سلاطین کا دور ختم ہوجاتا ہے۔ جمہوریہ ترکی کی مضبوط بنیادیں رکھ دی جاتی ہیں۔ آج تک یہ جمہوریت چلی آرہی ہے ۔ مصطفےٰ کمال نے ترکی کو سیکولر مملکت قرار دیا۔ لیکن مذہب کی عظمت اپنی جگہ اسی طرح برقرار ہے۔ پاکستان کو توانا اور صحت مند بنانے کے لئے ہم ترکی کے زوال و عروج سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ قومیں بحرانوں سے کیسے نکلتی ہیں۔ اپنے سکّے کی گرتی ہوئی قیمت کو کیسے واپس لاتی ہیں۔ پڑوسی ملکوں کی سازشیں کیسے ناکام بناتی ہیں۔
سلطنت عثمانیہ 1481 سے 1566تک اپنے شباب پر رہی ہے۔ اس وقت اس کی اقلیم اناطولیہ سے جنوب مشرقی یورپ۔ ویانا کی دہلیز تک، ہنگری، بلقان، یونان، یوکرین، عراق، شام، اسرائیل، مصر، شمالی افریقہ اور الجزائر تک رہی ہے۔ اتنی بڑی ایمپائر شاید ہی تاریخ میں کسی اور حکمراں خاندان کو نصیب رہی ہو۔
ہر کمال کو زوال ہے۔ کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔ پھر بھی ہم پاکستانیوں کو سلطنتِ عثمانیہ کا بغور مطالعہ کرنا چاہئے کہ یہ بندوبست کیسے چلتا تھا۔ نظام حکومت کیا تھا۔ معیشت کے کیا انداز تھے۔ دوسری مملکتوں اور سلطنتوں سے روابط کیسے تھے۔ سلاطین کی اولادیں تعلیم کہاں حاصل کرتی تھیں۔ ان سلاطین نے عوام کے روزگار، صحت اور تعلیم کے لئے کیا انتظامات کئے تھے۔
ہم دولمابا سے محل کی مختلف غلام گردشوں اور راہداریوں سے گزر رہے ہیں۔ دولمابا سے آخری محل ہے۔ اس کے بعد سلطانی ختم ہوجاتی ہے۔ دولمابا سے کا مطلب بتایا جارہا ہے جس کا باغ ہرا ہو۔


یہ سلطان عبدالمجید اوّل کے خواب کی تعبیر بتایا جارہا ہے۔ یہ شہزادے پیرس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے گئے تھے۔ یہ انیسویں صدی کی تیسری دہائی کا قصہ ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ وہاں سے کوئی ڈگری لے کر آئے یا نہیں، لیکن ایک محل کی تعمیر کا اشتیاق لے کر آگئے۔ 1839 میں اس کی تعمیر شروع ہوتی ہے۔ 1861میں مکمل ہوتی ہے۔ 285 کمرے ہیں، 44ہال، 6بالکونیاں، 6ترکش حمام، ایک بڑا تقریباتی ہال جس میں ملکہ وکٹوریہ کا تحفے کے طور پر دیا ہوا گرانڈیل فانوس بھی آویزاں ہے۔ اسے دنیا کا دوسرا بڑا فانوس بتایا جارہا ہے۔ وہ پُر شکوہ ہال بھی دکھائے جارہے ہیں جہاں سلطان غیر ملکی سفیروں سے اسنادِ سفارت وصول کرتے تھے۔ پھر ان کے اعزاز میں دعوت کا اہتمام کرتے تھے۔ سب سے زیادہ توجہ سفارتی ہالوں پر دی گئی ہے۔ سیڑھیاں بھی بہت آراستہ وپیراستہ ہیں۔


دروغ برگردن گائیڈ، اس محل کی تعمیر ہی سلطنت عثمانیہ کے زوال کے آغاز کا سبب بنی۔ اس زمانے میں اس پر 2 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ رعایا سراپا احتجاج بن گئی۔ اس وقت یورپ میں جدید علوم کا دور تھا۔ انسانوں کو زندگی کی آسائشیں میسر آرہی تھیں۔ ایجادات ہورہی تھیں اور یہ سلطنت انسانوں کی اکثریت کو سہولتیں بہم پہنچانے کی بجائے سلطانوں کی رہائش گاہوں پر سرکاری خزانے سے اربوں ڈالر خرچ کررہی تھی۔
اب یہ محلات عجائب گھروں میں تبدیل ہورہے ہیں جہاں سے بادشاہ، ملکائیں، شہزادے، شہزادیاں، درباری، وزیر، سفیر گزرتے تھے۔ ان غلام گردشوں میں ہم رواں دواں ہیں۔ عبرت حاصل کرنے والے عبرت حاصل کرتے ہوں گے۔ کتنے ٹن سونا لگ گیا ہے۔ سنگ مرمر، قیمتی لکڑیاں نہ جانے کہاں کہاں سے آتی ہوگی۔ یہ محل دوسرے محلات کی طرح سمندر کے کنارے پر تعمیر کیا گیا۔


اتاترک اور ان کے ساتھیوں نے جب ترکی کا نظم و نسق سنبھالا اور سلطانوں کے دور کا خاتمہ کیا سلطان خاندان کے افراد کو جلا وطن کیا۔ یا محلات میں ہی نظر بند کیا تو بتایا جاتا ہے کہ دولمابا سے محل کو ایوان صدر قرار دیا گیا۔ 15سال تک اپنا دور اقتدار مصطفےٰ کمال نے یہیں بسر کیا۔ان کا انتقال بھی 10نومبر 1938 کو اسی محل میں ہوا تھا۔ ترکوں کے لئے اس محل کی یہ نسبت زیادہ محترم ہے۔
توپ کاپی عجائب گھر بھی پہلے محل ہی تھا۔ بڑی توپ کا یہ محل دنیا کے عظیم عجائب گھروں میں شُمار ہوتا ہے۔ اس پر کافی فلمیں بھی بنی ہیں۔ یہاں وہ برآمدے بھی ہیں جہاں سلطان بیٹھ کر سمندر کا نظارہ کرتے تھے۔ مسلمانوں کے لئے اس عجائب گھر کی تقدیس کا سبب یہ ہے کہ یہاں سرور کائنات فخر موجودات حضور اکرم ﷺ سے منسوب بہت سے تبرکات ہیں۔ موئے مبارک بھی ہے۔ ریش مبارک کا بال، حضور ؐ کی تلوار، چاروں خلفا کی تلواریں، خلیفۂ سوئم حضرت عثمان غنی سے منسوب قرآن پاک کا نسخہ، جس کی تلاوت کرتے ہوئے انہیں شہید کیا گیا۔
روحانی حوالے سے اہم نوادرات کے اس حصّے میں سیاحوں کا ہجوم زیادہ رہتا ہے۔ ایک قاری یہاں مسلسل تلاوت کلام پاک میں مصروف رہتے ہیں۔ ان کی یہ قرأت ماحول کو مزید مقدّس بنادیتی ہے۔


سلاطین کو ملنے والے بیش بہا تحائف، ہیرے، جواہرات کا الگ حصہ ہیں۔ سلطانوں کے خنجر، تلواریں بھی، ہیرے جواہرات سے مزین ہوتی تھیں۔ حالانکہ کام ان سے بھی خون بہانے کا ہی لیا جاتا تھا۔ ایک حصے میں وہ مکتب یا تربیت گاہ ہے جہاں سلاطین کی اولادیں، تعلیم حاصل کرتی تھیں۔
ہر عجائب گھر میں حرم کی اہمیت زیادہ ہے۔ اس کا ٹکٹ الگ سے لیا جاتا ہے۔ شاہی بیگمات کے زیورات، آرائش و زیبائش، خم و کاکل سنوارنے کے نوادرات، کنیزوں کی اقامت گاہیں۔
شاہی مطبخ بھی محفوظ کیا گیا ہے۔
ترکی میں تو محلات عجائب گھروں میں تبدیل کرکے عوام کے لئے کھول دیئے گئے ہیں۔ ہمارے ہاں اکیسویں صدی میں بھی نئے محلات تعمیر کئے جارہے ہیں، اربوں ڈالر خرچ کئے جارہے ہیں۔ دور تو جمہوری ہے، مگر احتجاج کوئی نہیں کرتا۔


مسجد سلطان احمد، نیلی مسجد، میں دو رکعت نفل ادا کرنے سے جو سکون ملتا ہے، اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ مسجد بھی بہت خوبصورت ہے۔ ترکی کی ہر مسجد کی طرح بہت پُر شکوہ الفاظ میں۔اللہج، محمدؐ، ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ، علیؓ،حسنؓ اور حسینؓ کے قطعات سامنے دائیں بائیں اور پیچھے دیکھے جاسکتے ہیں۔ وضو خانہ بھی شاہی ہے۔ مسجد کے ایک حصّے تک سیاحوں کو رسائی کی اجازت ہے۔ خواتین کو سر ڈھانپنے کے لئے سکارف(عبا) دی جاتی ہے۔ سکرٹ وغیرہ پہننے والوں کو غرارہ نما لباس دیا جاتا ہے۔ داخلی دروازے سے حاصل کر کے اوڑھ لیں۔ خارجی دروازے پر واپس کردیں ۔


ایک دور سلطانوں کا تھا، اب سیاحوں کا دور ہے۔ سلاطین نے اربوں ڈالر خرچ کئے اب یہ ڈالر سیاحوں کے ذریعے وصول کئے جارہے ہیں۔ ہر عجائب گھر، ہر مسجد، ہر تاریخی مقام پر دن بھر سیکڑوں سیاح مختلف گروپوں میں نظر آتے ہیں۔ ترک ٹورسٹ گائیڈ انہیں نہایت انہماک اور خلوص سے اپنے ورثے سے آگاہ کرتے ہیں۔ ٹورسٹ گائیڈ باقاعدہ سند یافتہ ہوتے ہیں۔ ان میں نوجوان بھی ہیں، بزرگ بھی، انگریزی بولنے والے، عربی، فرانسیسی، اطالوی، جرمن۔۔۔۔۔ سیاحت باقاعدہ ایک صنعت بن چکی ہے۔
حاجیا صوفیا۔ اب ایک عجائب گھر ہے۔ یہ دنیا کا چوتھا بڑا کلیسا بتایا جاتا ہے۔ چوتھی صدی عیسوی میں اسے تعمیر کیا گیا۔ اپنے طرز تعمیر، ستونوں اور گنبدوں کے حوالے سے یہ نہایت اہم تاریخی مقام ہے۔ 532 عیسوی میں تعمیر کا آغاز ہوا 537 میں تکمیل ہوئی۔ 1453 میں جب قسطنطنیہ فتح ہوا، سلطان محمد فاتح نے اسے مسجد میں تبدیل کردیا۔ چار میناروں کا اضافہ بھی کردیا گیا۔ منبرو محراب بھی تعمیر کئے گئے۔ اللہ، محمدؐ، ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ، علیؓ، حسنؓاور حسینؓ کے قطعات بھی آویزاں کئے گئے۔


1934 میں ترک سیکولر حکومت نے اسے عجائب گھر میں تبدیل کردیا لیکن اللہج، محمدؐ، ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ، علیؓ، حسنؓاور حسینؓ کے طغرے اسی طرح آویزاں رہنے دیئے گئے۔
حاجیا صوفیا سیاحوں کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ ہر روز ہزاروں سیاح اس کا مشاہدہ کرتے ہیں ۔ یہ فن تعمیر اور انجینئرنگ کا نادر نمونہ ہے۔ برسوں سے اس کی تزئین و آرائش جاری ہے۔
استنبول والے اپنے سمندرسے بھی لاکھوں ڈالر کمارہے ہیں۔ بحیرہ اسود اور بحیرہ مرمر کو ملانے والی آبنائے فاسفورس میں بجرے، لانچیں، تیز رفتار کشتیاں سب سیاحوں کے لئے تفریح کا سامان فراہم کرتی ہیں۔ بحیرہ مرمر۔ بحیرہ روم کی ایک توسیع ہے۔


رات دن یہ لانچیں دنیا بھر کے سیاحوں کو لئے استنبول کے ایشیائی اور یورپی حصّے کے درمیان سمندر کے سینے پر رواں رہتی ہیں۔ تاریخ کے اوراق کھلتے رہتے ہیں۔
میں ایک لانچ میں بیٹھا ہوں۔ گائیڈ اپنی رُوداد سنا رہا ہے۔ میں کراچی کے ساحلوں پر گھوم رہا ہوں اُداس، تنہا، ویران، کتنا بڑا قدرتی ساحل ہے۔ گوادر، پسنی، جیوانی، گڈانی، کیماڑی، لانڈھی،ٹھٹھہ، کوئی بجرہ،نہ کشتی نہ جہاز۔۔۔۔ نہ ملکی سیاح نہ غیر ملکی۔
ہماری تاریخ بھی 8ہزار سال پرانی ہے۔ مہر گڑھ ہے۔ 5ہزار سالہ پرانی تہذیب موہنجو ڈرو ہے، ہڑپہ، ٹیکسلا، ہر شہر کی اپنی ایک میراث ہے۔ قلعے ہیں، مقبرے، مسجدیں، محلات، باغات، دریا، پاکستان میں کیا نہیں ہے۔


سیاحت سے ہم پاکستان کا تصوّر بھی حسین بناسکتے ہیں۔لاکھوں ڈالر بھی کما سکتے ہیں۔
گائیڈز کی ایک بڑی تعداد کی تربیت کرکے نوجوانوں کے روزگار کا اہتمام بھی کرسکتے ہیں۔
’’ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی‘‘


مضمون نگار نامورصحافی‘ تجزیہ نگار‘ شاعر‘ ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 144مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP