قومی و بین الاقوامی ایشوز

قرنطینہ اور زندگی

آج کل ساری دنیا چین کے شہر ووہان کی گوشت منڈی سے پھیلنے والے کرونا وائرس کی لپیٹ میں ہے۔۔۔ہر طرف موت کارقص جاری ہے۔۔۔اور بچا ئوکی واحد صورت ہے۔۔۔قید تنہائی۔۔۔یعنی قرنطینہ!
بات کرتے ہیں کہ قرنطینہ ہے کیا اور اس کی ابتدا کیسے، کیوں اور کہاں سے ہوئی؟



قرنطینہ جسے انگریزی زبان میں Quarantine کہا جاتا ہے دراصل اک قیدِ تنہائی ہے۔۔۔اک ایسی تنہائی جو انتخاب بھی ہو سکتی ہو اور جبری بھی۔۔۔یعنی یہ آپ پہ منحصر ہے کہ آپ خود کو محدود کر کے محفوظ ہو جائیں یا آپ کو جبراً قید تنہائی سنا دی جائے۔۔۔دوسری صورت تب پیش آتی ہے جب کوئی پہلی صورت نہ اپنا کر متاثرہ افراد میں شامل ہو جاتا ہے، تب اس پہ طبی بنیادوں پہ جبری حراست کی پابندی لگائی جاتی ہے۔۔۔یہ ایسی پابندی ہے جو وبائی بیماریوں کے پھیلا ئوکی روک تھام کے لیے لگائی جاتی ہے۔۔۔کسی وبا کے پھیلائو کی صورت میں متاثرہ علاقوں سے آنے والے افراد کو اک مخصوص مدت کے لئے طبی عملے کی زیرِ نگرانی  قرنطینہ میں رکھا جاتا ہے تاکہ اگر ان میں کوئی وائرس موجود ہو تو سامنے آ سکے۔
سب سے پہلا قرنطینہ صدیوں پہلے فرانس میں بنایا گیا تھا۔۔۔ہمارے جسم میں تقریباًسینتیس ٹریلین خلیے اورانتالیس ٹریلین بیکٹیریا پائے جاتے ہیں۔۔۔سائنس کے مطابق دل، دماغ اور آنکھوں کے خلیوں کے علاوہ سارے جسم کے خلیوں کی عمر چالیس دن ہوتی ہے۔۔۔پرانے خلیے ٹوٹتے رہتے ہیں اوران کی جگہ نئے خلیے بنتے رہتے ہیں۔۔۔اور شکست و ریخت کا یہ عمل چالیس دن کا ہوتا ہے۔۔۔اسی لئے پرانے وقتوں میں جب کوئی وبا پھیلتی تھی تو وہ لوگوں کو چالیس دن کے لیے الگ کر دیتے تھے۔۔۔تب زیادہ ترسمندری سفر ہوتے تھے تو عموماً بندرگاہوں کے قریب لوگوں کو چالیس دن الگ رکھا جاتا تھا تاکہ جس میں کوئی بیماری موجود ہے وہ مکمل ظاہر ہو جائے اور وہ جب ٹھیک ہو جائے تو شہر میں داخل ہو۔۔۔فرانسیسی زبان میں چالیس کو قروئین اور دن کو ٹائین کہتے ہیں اسی سبب چالیس دن کے اس قیام کو قوارنٹائین یعنی قرنطینہ کہا جانے لگا۔۔۔جو فرانس میں کامیاب ہونے کے بعد ساری دنیا میں اپنایا جانے لگا۔۔۔ پھراینٹی بائیوٹیک کی ایجاد کے بعد بیماری پھیلانے والے بیکٹیریا کا علاج ممکن ہو سکا۔۔۔لیکن وائرس بیکٹیریا سے الگ ہے اس پہ کوئی اینٹی بائیوٹیک اثر نہیں کرتی۔۔۔اس کا واحد علاج احتیاط اور بہترین قوت مدافعت ہے اور بس!
وبائیں کبھی بھی خوبصورت نہیں ہوتیں لیکن یہ ہم پر ہے کہ ہم ان کا سامنا کس خوبصورتی سے کرتے ہیں۔۔۔کرونا وائرس کو ہر شخص اپنے نقطہ نظر سے دیکھ رہا ہے۔۔۔کچھ کے نزدیک یہ عذاب ہے،  سزا ہے۔۔۔کچھ کو لگتا ہے کہ یہ آزمائش ہے۔۔۔حدیثِ پاک کا مفہوم ہے کہ کسی صحابی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حضورِ اقدسۖ سے پوچھا کہ یہ کیسے پتہ چلے کہ کوئی چیز عذاب ہے یا آزمائش؟ توحضورۖ نے فرمایا کہ اگر وہ تمہیں اللہ کے قریب کر دے اور اللہ کی جانب موڑ دے تو آزمائش ہے بصورتِ دیگر عذاب۔۔۔تو یہ وبا بھی ایسی ہی ہے۔۔۔ہمیں انفرادی طور پہ یہ دیکھنا ہے کہ وبا سے پہلے اور وبا کے بعد ہمارا طرزِ زندگی کیسا ہے۔۔۔کیا تبدیلی آئی ہے۔۔۔اسی پہ اس عذاب و آزمائش کے سوال کا جواب منحصر ہے۔ لیکن اگر ہم تھوڑی دیر کے لیے اس وبا کے مہلک پن کو بھلا دیں اس کے عذاب و آزمائش ہونے کی بحث کو چھوڑ دیں تو اس کے کچھ فوائد بھی ہیں۔
یہ قرنطینہ اک انعام بھی ہو سکتا ہے کہ وہ تمام سجدے جو فرصت سے تسلی سے ادا کرنے کی چاہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ سے تھی لیکن اس مشینی زندگی کی الجھنوں نے کبھی اتنی مہلت ہی نہ دی کہ ہماری جبینیں ایسے طویل سجدوں کی لذت سے آشنا ہو پاتیں تو یہ قرنطینہ ان تمام سجدوں کو ادا کرنے کا بہترین وقت ہے، اس وقت کو ضائع مت ہونے دیجیے۔۔۔ہم ہمیشہ تلاوتِ قرآن کو عجلت میں کرتے رہتے ہیں لیکن دل کے نہاں خانوں میں یہ خواہش شدید تر ہوتی رہتی ہے کہ زندگی میں جب بھی کبھی وقت ملا تفسیر سے پڑھیں گے سمجھیں گے اور عمل کریں گے تو یقین مانئے وقت مل چکا ہے اس وقت سے فائدہ اٹھائیے اور دل میں پلتی حسرتوں کو تعبیر کر لیجئے۔
ہم جس دور میں ہیں اس میں زندگی انتہا کی مشینی ہے۔۔۔ایک گھر میں رہتے ہوئے بھی گھر والوں کو ایک دوسرے کی خبر نہیں ہوتی۔۔۔سب اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ کسی کے پاس دوسرے کے لیے وقت ہی نہیں ہوتا۔۔۔وہ جو بچپن میں ساری فیملی کا ایک ساتھ یک جان دو قالب ہوئے رہنے کا منظر ہوتا تھا، وہ کہیں کھو سا گیا ہے۔۔۔لیکن اس قرنطینہ نے ہمیں پھر سے اس منظر کو زندہ کرنے کا موقع دیا ہے۔۔۔ہمیں کوالٹی فیملی ٹائم گزارنے کا موقع دیا ہے۔۔۔اس موقع سے فائدہ اٹھائیے گھر میں رہ کر محدود ہو کر محفوظ رہئے اور فیملی کو وقت دیجیے۔ یہ وقت بہت کم خوش نصیبوں کو ملتا ہے۔ فیملی کی قدر کیجئے۔۔۔اس تنہائی سے فائدہ اٹھا کر اپنے رشتوں اپنے تعلقات کو وقت دیجیے انہیں مزید مضبوط کیجئے۔
قرنطینہ میں آپ بہت سی مثبت چیزیں اپنا کر اس قید تنہائی کو یادگار اور خوشگوار لمحوں میں بدل سکتے ہیں۔۔۔اپنے ذہن سے قید کا لفظ نکال دیں تو باقی بچے گی تنہائی۔۔۔اور تنہائی سے بڑی نعمت کوئی نہیں ہوتی۔۔۔آپ اپنی مرضی کے سارے کام کر سکتے ہیں۔۔۔اگر آپ کو کتابیں پڑھنے سے عشق ہے تو یہ تنہائی اک نعمت  ثابت ہو سکتی ہے۔۔۔اپنی پسند کی کتاب اٹھائیے اور کافی کے کپ کے ساتھ لفظوں کی چسکیاں لیجئے، کوئی مخل نہیں ہو گا۔۔۔اور اگر آپ ایک قاری کے ساتھ ساتھ لکھاری بھی ہیں تو یہ قرنطینہ آپ کے لیے نعمت سے کم نہیں۔۔۔اپنے تمام ادھورے مسودے مکمل کیجئے۔۔۔وہ سارے لفظ جو آپ وقت کی کمی کے باعث یا مصروفیت کی وجہ سے ابھی تک لکھ نہیں پائے اس قرنطینہ میں ان تمام لفظوں کو قلم کی نوک سے کاغذ کے سینے پہ اتار دیجئے، آپ خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کریں گے۔
اگر آپ کو پھولوں سے ،پودوں سے عشق ہے تو قرنطینہ سے فائدہ اٹھائیے اور اپنے گھر کے لان میں نئے پھول لگائیے۔۔۔پرانے پودوں کی دیکھ بھال کیجئے۔۔۔پتہ ہے پودے باتیں کرتے ہیں۔۔۔کبھی یہ تجربہ کیجئے گا، پودوں سے بڑا دوست شاید ہی کوئی ہو۔۔۔یہ آپ کو محسوس کرتے ہیں۔۔۔آپ کی باتیں سنتے ہیں اور ان کا جواب بھی دیتے ہیں۔۔۔یقین نہ آئے تو آزما کے دیکھ لیجئے۔۔۔چند روز مسلسل کسی پودے کے پاس جائیے، اس کی گوڈی کیجئے، پانی دیجئے، اس کے پتوں پہ پیار بھرا ہاتھ پھیرئیے، اس سے اپنے دل کی باتیں کیجئے، اس سے اظہار محبت کیجئے اور اُسے بتائیے کہ وہ کتنا خوبصورت ہے اور آپ کے لیے کتنا اہم ہے۔۔۔اور پھر فقط چند دنوں میں اس پودے کا گروتھ ریٹ دیکھئے کہ یہ سب کرنے سے پہلے وہ پودا کس حال میں تھا اور اس سب کے بعد کس حال میں ہے ،محسوس کیجئے۔۔۔فرق خود نظر آئے گا۔۔۔اور اگر آپ کو باغبانی نہیں آتی تو اس فرصت سے فائدہ اٹھائیے اور سیکھیے اور کچن گارڈ ننگ کیجئے یہ سب سے آسان ہے۔
قرنطینہ میں نئے ہنر سیکھئے۔۔۔ویب برازنگ کیجئے۔۔۔اپنی پسند کی چیزوں پہ تحقیق کیجئے۔۔۔آن لائین کورس کیجئے۔۔۔بہت سی بین الاقوامی یونیورسٹیز مفت آن لائین کورس کرواتی ہیں اور باقاعدہ سرٹیفیکیٹ بھی دیتی ہیں ان سے استفادہ کیجئے اور اپنے قرنطینہ کو منافع بخش بنائیے۔
خوش رہنا ایک فن ہے اور جتنی جلدی ہم یہ فن سیکھ لیں گے، زندگی اتنی ہی سہل ہو جائے گی۔۔۔قرنطینہ میں خوش رہنے کا ہنر سب سے زیادہ کار آمد ہوتا ہے۔۔۔آپ جتنا خوش رہیں گے اتنی قوتِ مدافعت بڑھے گی اور اتنا زیادہ اچھے طریقے سے آپ وبا کے وائرس کو شکست دے پائیں گے۔۔۔اس لیے خوش رہنا اور خوش رکھنا سیکھیے۔۔۔اور ہمارا دین  توکہتا ہے کہ مسکرانا بھی صدقہ ہے۔۔۔تو مسکرائیں اور مسکراہٹیں بانٹیں۔۔۔وبائیں اپنے وقت پہ ہی ختم ہوتی ہیں ہم نے اس وقت کو گزارنا ہی ہوتا ہے چاہے ہنس کے گزاریں یا رو کر تو کوشش کریں کے ہنس کے گزاریں۔۔۔وہ تمام کام جو وقت کی قلت کے باعث ادھورے رہے ہیں ان کی تکمیل کیجئے!
صفائی نصف ایمان ہے اپنے ایمان کو مضبوط بنائیے۔۔۔بار بار ہاتھ دھوئیے۔۔۔صفائی کا خاص خیال رکھئے۔۔۔ تمام احتیاطی تدابیر پر ہر حال میں عمل پیرا رہیں۔۔۔اور گھر سے باہر نکلنے سے حتی المقدور گریز کیجئے۔۔۔ لیکن اگر بوجوہ مجبوری باہر جانا پڑ ہی جائے تو ماسک اور دستانے پہن کے جائیے۔۔۔احتیاط زندگی ہے۔۔۔خدارا احتیاط کیجئے!
خوش رہیں اور خوشیاں بانٹتے رہیں!

یہ تحریر 43مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP