متفرقات

قربانی ۔ احکام و مسائل

شعائر شعیرہ کی جمع ہے۔ جس سے مراد کسی قوم کی وہ امتیازی علامات ہیں جن سے اس قوم کے دین کی پہچان ہوتی ہے۔ عیدالاضحی ‘عید الفطر اور ان دونوں میں کی جانے والی تمام عبادات اﷲ تعالیٰ کے شعائر میں شامل ہیں۔ سورۃ الحج میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’جو اﷲ کے مقرر کردہ شعائر کا احترام کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے۔‘‘ (الحج :32) قربانی ایک اہم شعائراﷲ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ ’’ہر امت کے لئے ہم نے قربانی کا ایک قاعدہ مقرر کر دیا ہے تاکہ لوگ ان جانوروں پر اﷲ کے نام لیں جو اس نے انہیں بخشے ہیں۔‘‘ (الحج :34) سب سے پہلی قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی صورت میں کی جس کا بدل اﷲتعالیٰ نے دنبے کی شکل میں دیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کے طور پر تاقیامت امت مسلمہ کے لئے قربانی کو فرض قرار دیا ہے۔ صحابہ کرام نے حضرت محمدﷺ سے پوچھا کہ یہ قربانیاں کیا ہیں؟ تو آپ نے فرمایا:’’تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت‘‘ قربانی کی اصل روح تقویٰ اور اخلاص ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ ’’نہ ان (قربانیوں) کے گوشت اﷲ کو پہنچتے ہیں نہ خون‘ مگر اُسے تقویٰ پہنچتا ہے۔‘‘

(الحج :37)

قربانی کی کھال ذاتی استعمال میں تو لائی جا سکتی ہے جیسے مصلے یا چٹائی کے طور پر استعمال کرنا یا کوئی چیز مثلا ڈول وغیرہ بنوا لینا‘ لیکن اسے بیچ کر قیمت استعمال نہیں کر سکتے۔ اسے زکوٰۃ کے مصارف میں سے ہی کسی مصرف پر خرچ کیا جائے گا۔ کیونکہ یہ بھی زکوٰۃ کی طرح واجب صدقہ ہے۔ قربانی کی کھال یا گوشت قصائی کو اجرت میں بھی نہیں دے سکتے۔

پیارے نبیﷺ اپنی دس سالہ زندگی میں ہر سال قربانی کرتے رہے۔ قربانی کی استطاعت رکھتے ہوئے بھی قربانی نہ کرنے والوں کے متعلق آپﷺ نے فرمایا کہ وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔ (سنن دارقطنی) قربانی کے جانوروں میں اونٹ‘ گائے‘ بکری اور بھیڑ شامل ہیں۔ آپﷺ کا ارشاد ہے۔ صرف مسنہ جانور ہی ذبح کرو۔ (ابوداؤد) مسنہ سے مراد وہ جانور ہے جس کے دودھ کے دو دانت اکھڑ چکے ہوں۔ بھیڑ کے چھ ماہ سے ایک سال میں دودھ کے دانت اکھڑ جاتے ہیں۔ گائے اور بیل کے دو سال میں اور اونٹ کے چار سال میں۔ اگر تلاش کے باوجود مسنہ نہ ملے یعنی بازار میں دستیاب نہ ہو یا ہو تو قیمت استطاعت سے زیادہ ہو تو بھیڑ کا جذعہ (جسے مقامی طور پر کھیرا کہتے ہیں) بھی قربان کیا جا سکتا ہے۔ (مسلم) جذعہ وہ جانور ہے جس کے دودھ کے دانت تو نہیں گرے لیکن عمر ایک سال ہو چکی ہے۔ حدیث میں صرف بھیڑ کا ذکر ہے لہٰذا مجبوری کی صورت میں بھیڑ ذبح کی جا سکتی ہے۔ بکری‘ گائے یا اونٹ کا جذعہ نہیں۔ قربانی کا جانور عیب سے پاک ہونا چاہئے۔ وہ کانا یا بھینگا ‘بیمار‘ لنگڑا‘ بہت زیادہ کمزور کہ چلنا بھی مشکل ہو‘ کان‘ ہونٹ‘ ناک یا دُم کٹا نہ ہو۔ سینگ نہ ٹوٹا ہوا ہو۔ جانور کا خصی ہونا عیب نہیں۔ قربانی کا افضل وقت نماز عید کے بعد 10ذوالحجہ کا دن ہے۔ اس کے علاوہ گیارہ‘ بارہ کو بھی قربانی کی اجازت ہے۔ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: دس ذوالحجہ کو ہم سب سے پہلے عید کی نماز پڑھیں گے اور اس کے بعد واپس جا کر قربانی کریں گے۔ (بخاری) ہر وہ شخص قربانی کر سکتا ہے جو زندگی کی عمومی ضروریات پوری کرنے کی استطاعت رکھتا ہے۔ اس کے لئے صاحب نصاب ہونا شرط نہیں۔ صحابہ کرامؓ میں سے اکثر صاحب نصاب نہیں تھے لیکن قربانی کیا کرتے تھے۔ امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کئے جائیں‘ ایک حصہ خود کھایا جائے‘ دوسرا رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو ہدیہ دیا جائے اور تیسرا حصہ محتاجوں‘ مسکینوں میں صدقہ کر دیا جائے۔ اگر کوئی شخص مالدار ہے اور سارا سال گوشت کھانے کی استطاعت رکھتا ہے تو اسے چاہئے کہ زیادہ گوشت صدقہ کردے۔ قربانی کی کھال ذاتی استعمال میں تو لائی جا سکتی ہے جیسے مصلے یا چٹائی کے طور پر استعمال کرنا یا کوئی چیز مثلا ڈول وغیرہ بنوا لینا‘ لیکن اسے بیچ کر قیمت استعمال نہیں کر سکتے۔ اسے زکوٰۃ کے مصارف میں سے ہی کسی مصرف پر خرچ کیا جائے گا۔ کیونکہ یہ بھی زکوٰۃ کی طرح واجب صدقہ ہے۔ قربانی کی کھال یا گوشت قصائی کو اجرت میں بھی نہیں دے سکتے۔

پیارے نبیﷺ اپنی دس سالہ زندگی میں ہر سال قربانی کرتے رہے۔ قربانی کی استطاعت رکھتے ہوئے بھی قربانی نہ کرنے والوں کے متعلق آپﷺ نے فرمایا کہ وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔ (سنن دارقطنی) قربانی کے جانوروں میں اونٹ‘ گائے‘ بکری اور بھیڑ شامل ہیں۔ آپﷺ کا ارشاد ہے۔ صرف مسنہ جانور ہی ذبح کرو۔ (ابوداؤد) مسنہ سے مراد وہ جانور ہے جس کے دودھ کے دو دانت اکھڑ چکے ہوں۔ بھیڑ کے چھ ماہ سے ایک سال میں دودھ کے دانت اکھڑ جاتے ہیں۔ گائے اور بیل کے دو سال میں اور اونٹ کے چار سال میں۔

یہ تحریر 34مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP