متفرقات

قدم قدم چھاؤ ں

کوئٹہ کے نوجوانوں پر مشتمل گروپ‘ جس نے شجرکاری کی مہم میں اہم کردار ادا کیا‘ کے بارے میں ایک رپورٹ

اپنی مہم کو ہم نے صرف شجرکاری تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ آئندہ ان پودوں کی دیکھ بھال اور پرورش کے لئے لوگوں کو شعور و آگاہی سے روشناس کرنے کو بھی مہم کا حصہ بنایا۔ اس سلسلے میں اب تک ہم 3ہزار سے زائد پودے کوئٹہ اور اس کے گردنواع میں لگاچکے ہیں اور ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اپنے والنٹیئرزکے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کے بھی سپرد کی ہے۔ہم شجرکاری کے ساتھ ساتھ کوئٹہ میں پھیلے ہوئے کچرے کی جگہ پھول اور پودے دیکھنا چاہتے ہیں۔

 

کسی دانشور کا قول ہے کہ اگر ہم نرسریاں لگانا چھوڑ دیں تو ایک دن بڑے بڑے جنگلات قصہ پارینہ بن جائیں گے۔ زمین اور درخت کے درمیان بہت گہرا رشتہ ہے۔ اگر زمین سے محبت ہے تو درختوں سے الفت اس کا لازمی امر ہے۔ صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت وادی کوئٹہ میں خزاں کے جاتے ہی درختوں پر پھول اور پتے نمودار ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ ہر سال وادی کوئٹہ میں بڑے پیمانے پر شجرکاری کی مہم شروع کرنے کے دعوے تو بہت کئے جاتے ہیں لیکن عملاً پورے نہیں ہوتے اور کچھ ہی عرصے میں اکثر پودے عدم توجہ کے باعث مرجھا جاتے ہیں یا سرے سے ہی غائب ہوجاتے ہیں۔

اللہ کا شکر ہے پچھلے ادوار کی نسبت صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سول اور عسکری قیادت کی جانب سے غیر معمولی اقدامات کے باعث امن وامان کی صورت حال میں بہت بہتری آئی ہے اور خوف کے بادل بھی کافی حد تک چھٹ چکے ہیں۔ حالیہ موسم بہار کے شروع ہوتے ہی وادئ کوئٹہ میں نوجوانوں کی طرف سے ایک منفرد شجرکاری کی مہم نظر آئی‘ جس میں نوجوانوں والنٹیئرز نے حکومتی اورکسی این۔ جی۔او کی مدد کے بغیر سوشل میڈیا پرتشہیر کے ذریعے ایک والنٹیئرز گروپ تشکیل دیا۔ جس نے اپنی مدد آپ کے تحت عملی طور پر شجر کاری اور پودوں کی نگہداشت کا سلسلہ شروع کیاگیا جس میں طلباء وخواتین، بزرگ اور بچے بھی ان کے ہمراہ اس کارخیر میں شامل ہوگئے۔

اس سوشل میڈیا گروپ کے بانی اور روح رواں ضیا ء خان ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ہیں جو 3 سال کی عمر سے پولیو جیسے موذی مرض کا شکار ہونے کے باوجود بہت باہمت اور حوصلہ مند زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیاکے ذریعے کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں نوجوانوں کو مثبت سماجی خدمات کی جانب راغب کیا ۔ آج ان کے گروپ کے تقریباً چھبیس ہزار نوجوان معاشرے میں مثبت سرگرمیوں میں اپنی مدد آپ کے تحت ضیاء خان کے شانہ بشانہ مصروف عمل ہیں۔ گرین اینڈ کلین بلوچستان کے عنوان سے شروع ہونے والی شجرکاری اور پودوں کی نگہداشت کی مہم کے بارے میں جاننے کے لئے راقم کی ضیاء خان اور ان کی ٹیم کے اہم ممبران سے کی جانے والی گفتگو قارئین کے مطالعہ کے لئے پیش خدمت ہے۔

ضیاء خان

(گروپ لیڈر)

میں مسلم باغ کا رہنے والاہوں ۔ میں تین سال کی عمر میں پولیوکا شکار ہوگیا تھا لیکن میرے والدین ودیگر گھر والوں نے زندگی کے سفر میں مجھے کبھی بھی معذوری کا احساس نہیں ہونے دیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میرے اعتماد اور حوصلے میں اضافہ ہوتا گیا۔ میری کمزوری ہی میری طاقت بن گئی۔میں نے اپنے تعلیمی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ماسٹر کیا۔ میں آج کرکٹ کے کھیل میں بھی حصہ لیتا ہوں اپنے دوستوں کے ہمراہ پہاڑوں کو بھی عبورکرتا ہوں۔ اپنی گاڑی بھی خود ڈرائیو کرتا ہوں۔ 2010میں میں نے محسوس کیا کہ سوشل میڈیا کو اکثر نوجوان بے راہ روی کے لئے استعمال کررہے ہیں توکیوں نہ اپنی یوتھ کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کیا جائے ۔ لہٰذا میں نے سوشل میڈیا پرمثبت سماجی خدمات کے لئے ایک گروپ تشکیل دیا ۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ لوگ ملتے گئے اور کارواں بنتا گیا۔ آج ہمارے والنٹیئرز کی تعداد 26ہزارسے تجاوز کرچکی ہے۔ جس میں طلباء و طالبات اور دیگر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور اکثر ہم سب مل کر مختلف سماجی خدمات اور اس سے متعلق آگاہی مہیا کرنے والے پروگرام عملی طور پر منعقد کرتے ہیں۔ وادی کوئٹہ میں ہر سال شجرکاری ہوتی ہے لیکن وہ پودے نہ جانے کہا غائب ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا کوئٹہ میں موسم بہار کے شروع ہوتے ہی دیگر والینٹرز کوشجرکاری مہم کی دعوت دی۔ انہی والنٹیئرز میں سے ایک نوجوان طالب علم اور ایک خاتون کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے شجرکاری مہم کا ٹیم لیڈر منتخب کیا۔ اپنی مہم کو ہم نے صرف شجرکاری تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ آئندہ ان پودوں کی دیکھ بھال اور پرورش کے لئے لوگوں کو شعور و آگاہی سے روشناس کرنے کو بھی مہم کا حصہ بنایا۔ اس سلسلے میں اب تک ہم 3ہزار سے زائد پودے کوئٹہ اور اس کے گردنواع میں لگاچکے ہیں اور ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اپنے والنٹیئرزکے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کے بھی سپرد کی ہے۔ہم شجرکاری کے ساتھ ساتھ کوئٹہ میں پھیلے ہوئے کچرے کی جگہ پھول اور پودے دیکھنا چاہتے ہیں ۔

محمد سمیم

(بوائز ٹیم لیڈر )

محمد سمیم بلوچستان یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنسز میں ایم ایس سی کے طالب علم ہیں۔ انہو ں نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے بتایاکہ پہلے میں سمجھتا تھا کہ زندگی صرف ایک دوڑ کا نام ہے۔ لیکن سوشل میڈیا کے ذریعے جب میری ملاقات ضیا ء خان صاحب سے ہوئی تو زندگی کا مقصد کچھ مختلف نظر آیااور اندازہ ہوا کہ زندگی ایک ایسی جہد مسلسل کانام ہے جس میں اپنی ذات کے ساتھ ساتھ دوسروں کے لئے بھی کچھ کرنا ہوتا ہے۔ جو انسان کے لئے باعثِ سکون ہوتا ہے ۔ میں نے اُن کے ساتھ سماجی خدمات کی کئی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ انہوں نے موجودہ شجرکاری مہم میں مجھے بوائز ٹیم لیڈر منتخب کیا۔ ہم نے مل کر کمپیوٹر پر ایک مفصل پروگرام ترتیب دیا جس کے تحت وادی کوئٹہ اور گرد و نواح میں پودے لگانے اور ان کی نگہداشت کے بارے میںآگاہی مہم میں منظم طریقے سے عام لوگوں کو شامل کیا۔ ہم نے اس سلسلے میں ہزاروں پودے لگائے اور ان کی دیکھ بھال کے لئے وہاں کے مقامی لوگوں کو راغب کیا ۔ ہم مزید پودے بھی لگانا چاہتے تھے لیکن وسائل کی کمی کے باعث ایسا نہیں کرپائے۔ اس مہم میں ہمارے ساتھ بزرگ، بچے اور نوجوان بھرپور انداز سے شامل ہورہے ہیں اور تعاون کررہے ہیں۔ ہمار ا مشن یہی ہے کہ ہم جتنے بھی پودے لگائیں مناسب طریقے سے ان کی دیکھ بھال ہوتی رہے اور وہ پودے پرورش پاکر تناور درخت بن جائیں۔

شمائلہ مری

(گرلز ٹیم لیڈر)

شمائلہ مری نے بتایا کہ انہوں نے میٹرک کے بعد شادی ہونے کے باوجود امور خانہ داری کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم کو جاری رکھتے ہوئے بی بی اے (فیشن ڈیزائن) کی ڈگری حاصل کی ۔ بچپن سے ہی کسی بوڑھے یا مجبور کو دیکھ کر میرا جی چاہتا تھا کہ اس کی مدد کروں اور اسی جذبے کے تحت ضیا ء بھائی کی سوشل میڈیا پر مثبت سرگرمیوں سے متاثر ہوکر میں نے والینٹر کی حیثیت سے یہ گروپ جوائن کیا۔ بلڈ بینک، معذور اوریتیم بچوں اور خواتین کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ حال ہی میں شروع ہونے والی شجرکاری کی مہم میں ضیاء بھائی نے مجھے خواتین گروپ کا لیڈر منتخب کیا۔وادی کوئٹہ کے خشک ماحول کو بہتر کرنے کے لئے یہاں منظم اور مؤثر شجرکاری کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں یہ امر بھی ملوظ خاطر رکھا گیا کہ بعد میں ان پودوں کی دیکھ بھال وہاں کے مقامی لوگ کرسکیں اورہمارے والنٹیئرز بھی پودوں کی دیکھ بھال کے عمل پر نظر رکھ سکیں۔ اس سلسلے میں میں نے سریاب گرلز کالج،دارالامان گرلز سکولزاور گھر گھر جاکر خواتین کو شجرکاری کے ساتھ ساتھ پودوں کی دیکھ بھال کے بارے میںآگاہی دی۔ اس مہم میں خواتین اور بچوں نے بہت دلجمعی سے حصہ لیا ۔سوشل میڈیا کے ذریعے اب ہماری یہ مہم بلوچستان کے دیگر علاقوں‘ جن میں سبی ،ڈیرہ بگٹی،کوہلو اور بارکھان شامل ہیں‘ تک پھیل چکی ہے۔ہم نے یہ مہم اپنی مدد آپ کے تحت شروع کی ہے اگر ہمیں سرکاری سطح پر تعاون حاصل ہو تو ہم اس مہم کو پورے صوبے میں بڑے مؤثر انداز سے انجام دے سکتے ہیں۔ بلوچستان کے ان باہمت نوجوانوں سے گفتگو کرکے ان کے ولولے اور اعتماد کو دیکھ کر علامہ اقبال کا ایک شعر یاد آگیا

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

آج یہ نوجوان ایک مؤثر حکمت عملی کے تحت اپنے لگائے گئے پودوں کی دیکھ بھال کے بارے میں شعور وآگاہی سے عام آدمی کو روشناس کررہے ہیں تاکہ آج کے پودے کل کے تناور درخت بن جائیں۔ کل یہی درخت لوگوں کو دھوپ ، دھول اور مٹی سے محفوظ رکھیں گے۔ برسات کا ذریعہ بھی بنیں گے کیونکہ تناور درخت کی چھاؤں زمین کو مایوس نہیں ہونے دیتی۔ بس ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی اور متعلقہ ادارے اس کارخیر میں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں تاکہ ان نوجوانوں کے سرسبز اور شاداب خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جاسکے۔

[email protected]

یہ تحریر 69مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP